Live Updates: وزیر اعظم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے منظور کردہ بل پر دستخط کر دیئے
شہباز شریف کے دستخط کے بعد سمری کو ایوان صدر بھیج دیا گیا
وزیراعظم کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان کل متوقع
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 3 اپریل کو ( کل ) بجلی کی قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان متوقع ہے۔
بجلی صارفین کے لئے بڑی خوشخبری سامنے آئی ہے، بجلی کے ٹیرف میں نمایاں کمی کے لئے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت جاری ہے اور وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے 3 اپریل کو قیمتوں میں بڑی کمی کا اعلان متوقع ہے۔
اس سلسلے میں ملک بھر کے بڑے تاجروں کو پرائم منسٹر آفس میں مدعو کیا گیا ہے جہاں وزیراعظم خود بزنس کمیونٹی کو شعبہ توانائی میں اصلاحات پر اعتماد میں لیں گے۔
ملاقات میں کابینہ کے ارکان اور دیگر اہم شخصیات بھی شریک ہوں گی۔
حکومت نے ٹیرف کے فرق میں ایک روپیہ فی یونٹ کمی کے لئے آئی ایم ایف کو پہلے ہی قائل کر لیا ہے اور اس حوالے سے نیپرا میں درخواست بھی عالمی مالیاتی ادارے کی منظوری کے بعد دائر کی گئی تھی۔
ذرائع کے مطابق، پرائم منسٹر آفس میں سینکڑوں تاجروں کی موجودگی میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی بات چیت ہوگی۔
دوسری جانب ذرائع کا کہنا کہ وزیراعظم شہباز شریف کل قوم سے خطاب کریں گے جس میں وہ حکومت کے ایک بڑے فیصلے کا اعلان کریں گے اور قوم بڑی خوشخبری سنائیں گے۔
صدر مملکت اور وزیر اعظم کی عیدالفطر کے موقع پر قوم کو مبارکباد
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عیدالفطر کے موقع پر قوم کو مبارکباد پیش کی گئی ہے۔
ایوان صدر سے جاری خصوصی بیان میں صدر مملکت آصف زرداری کا کہنا تھا کہ پوری قوم اورعالمِ اسلام کو عیدالفطر پر دلی مبارکباد دیتا ہوں اور خوشی کا یہ دن رمضان المبارک کی برکتوں،عبادات اور تقویٰ کے سفر کے بعد نصیب ہوتا ہے۔
صدر مملکت کا کہنا تھا کہ عیدالفطر اللہ تعالیٰ کا انعام ہے جو اللہ نے ہمیں روزے کی مشقت پرعطا کیا ہے، یہ مہینہ ہمیں صبر ، برداشت، عبادت اور غریبوں کی مدد کا درس دیتا ہے اور اب یہ ہماری ذمہ داری ہے عملی زندگی میں اخلاص ، ایمانداری اور محبت کے جذبات کو برقرار رکھیں۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ عیدالفطر کے موقع پر معاشی مشکلات کے شکار بہن بھائیوں کو یاد رکھنا چاہیے، ہمیں چاہیے زکوٰۃ ، صدقات اور فطرانہ بڑھ چڑھ کر ادا کریں تا کہ کوئی بھی ضرورت مند محروم نہ رہے اور یہ دن ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا بھی درس دیتا ہے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کا سہارابنیں ، پاکستان کو ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ اہل مقبوضہ کشمیر کیلئے بھی دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ انہیں جلدآزادی کے ساتھ عید نصیب فرمائے۔
صدر مملکت نے دعا کی کہ میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے روزے اور عبادات قبول فرمائے اور پاکستان کو امن اور خوشحالی کی راہ پر ڈال دے۔ آمین!۔
وزیر اعظم کا پیغام
اپنے خصوصی بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پوری قوم کو دل کی گہرائیوں سے عید کی مبارکباد پیش کرتا ہوں، یہ دن ہمیں خوشی، شکرگزاری، اخوت اور ہمدردی کا درس دیتا ہے، رمضان المبارک میں ہمیں تقویٰ، صبر اور قربانی کی تربیت ملی، ہمیں چاہیے کہ زندگیوں میں رمضان کے بعد بھی اسے جاری رکھیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کو اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے خطرات لاحق ہیں اور ہمیں ہر قسم کی انتہا پسندی، نفرت اور فرقہ واریت سے بچنا ہوگا جبکہ ملک کی سالمیت اور استحکام کے لیے ہمیں متحد ہونا ہوگا۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ کسی بھی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دینا، معیشت، معاشرت اور قومی یکجہتی کا استحکام سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے، حکومت اقتصادی بحالی،امن و امان اور سماجی استحکام کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں چاہیے کہ متحد ہو کر ملک کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کریں، پاکستان دہشت گردوں کے خلاف ایک جنگ سے گزر رہا ہے، پاک فوج کے افسران اور جوان امن کے لیے جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں، تمام شہدا کی بلندی درجات کے لیے دعاگو اور خاندانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کرتے ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سانحہ جعفر ایکسپریس کے شہیدوں کے لئے بھی دعاگو اور پسماندگان کے غم شریک ہیں، آج کے دن ہمیں فلسطین اور کشمیری مظلوم بھائیوں کو بھی یاد رکھنا چاہیے، پاکستان ہمیشہ فلسطینی اور کشمیری بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے اور ہمیشہ رہے گا، عالمی برادری انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں روکے اور داد رسی کرے۔
وزیراعظم کا قطر، عمان اور تاجکستان کے رہنماؤں سے رابطہ، عید کی مبارکباد اور دوطرفہ تعلقات مضبوط کرنے کا عزم
وزیراعظم شہباز شریف نے قطر، عمان اور تاجکستان کے سربراہان سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے اور انہیں عید الفطر کی مبارکباد دیتے ہوئے نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ ان رابطوں کے دوران انہوں نے دوست برادر اسلامی ممالک کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کی نئی راہیں تلاش کرنے کے اپنے مشن کو آگے بڑھایا۔
قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد الثانی سے گفتگو میں وزیراعظم نے دونوں ممالک کے دیرینہ برادرانہ تعلقات پر اطمینان کا اظہار کیا اور غزہ میں قیام امن کے لیے ان کے کردار کی تعریف کی۔
انہوں نے پاک-قطر ثقافتی تعاون اور تعلقات کی تاریخ کو اجاگر کرنے کے لیے لاہور میں ایک نمائش کے انعقاد کی تجویز پیش کی اور امیر قطر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔
جواب میں شیخ تمیم نے کہا کہ عید کے فوراً بعد سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اعلیٰ سطحی قطری وفد پاکستان کا دورہ کرے گا۔
عمان کے سلطان ہیثم بن طارق سے بات چیت میں شہباز شریف نے دوطرفہ تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، آئی ٹی اور دفاع سمیت دیگر شعبوں میں تعاون بڑھانے کی خواہش ظاہر کی اور سلطان کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔
سلطان ہیثم نے پاکستانی عوام کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
اسی طرح تاجکستان کے صدر امام علی رحمن سے رابطے کے دوران وزیراعظم نے تاجک عوام کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔
شہباز شریف نے کرغز-تاجک سرحد کی حد بندی سے متعلق حالیہ معاہدے پر صدر تاجکستان کو مبارکباد دی اور انہیں بھی پاکستان کے دورے کی دعوت دی۔
وزیراعظم نے ان رابطوں کے ذریعے تینوں رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے اور سرمایہ کاری سمیت مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا جس سے پاکستان کے سفارتی اور معاشی اہداف کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
وزیر اعظم کی زیر صدارت بٹ کوائن مائننگ اور اثاثوں کی ٹوکنائزیشن پر اعلیٰ سطحی اجلاس
وزیر اعظم پاکستان کی زیر صدارت اسلام آباد میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں بٹ کوائن مائننگ اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں اسٹریٹجک سرمایہ کاری پر غور کیا گیا۔ یہ تاریخی اجلاس پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو اپنانے اور بلاک چین ٹیکنالوجی کا عالمی مرکز بننے کے عزم کا اظہار ہے۔
اجلاس میں نمایاں شرکاء میں نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وزیر آئی ٹی شزا فاطمہ خواجہ، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد، پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، اور چیئرمین ایف بی آر راشد محمود شامل تھے۔
اجلاس میں جینیسس گروپ، جو کہ دنیا کی سب سے بڑی بٹ کوائن مائننگ کمپنیوں میں سے ایک ہے اور اب تک ایک ارب ڈالر سے زائد مالیت کے بٹ کوائن مائن کر چکی ہے، کے بانی و سی ای او مارکو اسٹرینگ اور شریک بانی و سی ای او ڈاکٹر مارکو کرون بھی شریک تھے۔ مزید برآں، پولی میتھ کینیڈا کے سی ای او ونسنٹ کادار، جو کہ محفوظ اور قانونی طور پر اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے عالمی ماہر ہیں، نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
ان کمپنیوں کے نمائندوں نے پاکستان میں 3.5 بلین ڈالر کی مضبوط بٹ کوائن مائننگ انفراسٹرکچر کی تعمیر اور جامع اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کے منصوبے شروع کرنے کے لیے قابل عمل حکمت عملیوں کا خاکہ پیش کیا۔ مباحثے میں بلاک چین ٹیکنالوجی کی بے پناہ صلاحیت کو اجاگر کیا گیا، جس سے پاکستان کی معیشت کو استحکام، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، اور مالیاتی نظام کو شفاف اور جدید بنانے کے مواقع حاصل ہو سکیں گے۔
وزیر اعظم پاکستان نے پاکستان کرپٹو کونسل کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر ان کمپنیوں کے ساتھ مل کر ایک عملی منصوبہ تیار کرے تاکہ بٹ کوائن مائننگ اور مختلف شعبوں میں اثاثوں کی ٹوکنائزیشن کا فوری آغاز کیا جا سکے۔
مزید برآں، وزیر اعظم نے کرپٹو کرنسی کے حوالے سے قانونی فریم ورک کو باضابطہ شکل دینے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی بھی ہدایت کی۔
پاکستان کرپٹو کونسل کے سی ای او بلال بن ثاقب نے اس موقع پر کہا، "پاکستان کاروبار کے لیے تیار ہے۔ ہم عالمی کمپنیوں کو دعوت دیتے ہیں کہ وہ بٹ کوائن مائننگ، ڈیٹا سینٹرز، اور حقیقی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن میں سرمایہ کاری کریں۔ یہ اختراع کاروں، سرمایہ کاروں اور بنیادی ڈھانچے کے معماروں کے لیے ایک موقع ہے — پاکستان ڈیجیٹل معیشت میں قیادت کرنے اور ویب 3 انقلاب کا علاقائی مرکز بننے کے لیے تیار ہے۔"
یہ اقدام پاکستان کو کرپٹو دوستانہ ممالک کی صف میں آگے لے جائے گا اور بلاک چین ٹیکنالوجی کی بے پناہ صلاحیتوں سے استفادہ کرتے ہوئے معیشت کی ترقی، شفافیت اور عالمی مسابقت کو فروغ دے گا۔
بولان واقعہ جیسی بزدلانہ کارروائیاں امن کا عزم متزلزل نہیں کر سکتیں، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بولان واقعہ جیسی بزدلانہ کارروائیاں پاکستان کے امن کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کی ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ ان کی وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی سے ٹیلی فون پر بات ہوئی، جنہوں نے انہیں بولان میں پیش آنے والے واقعے کی تازہ صورتحال سے آگاہ کیا۔
وزیراعظم نے سیکورٹی فورسز کی کارروائیوں کی تعریف کرتے ہوئے بتایا کہ آپریشن کے دوران درجنوں دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ بزدلانہ کارروائیاں پاکستان کے امن کے عزم کو متزلزل نہیں کر سکتیں۔
بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد کی وزیر اعظم سے ملاقات، کینالوں سے متعلق اعتراضات پیش
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد نے کینالوں سے متعلق اعتراضات وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے پیش کر دیئے۔
پیر کے روز وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری کے اعزاز میں افطار اور عشائیہ دیا گیا جس کے دوران پی پی چیئرمین نے وزیرِاعظم ہاؤس میں وفد کے ہمراہ شہباز شریف سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نےعام آدمی کی زندگی بہتر بنانے کیلئے فعال اور متحرک کردار ادا کرنے پر پی پی قیادت کو سراہا اور کہا کہ بہتر ملکی مستقبل کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر کام کرنا ہے۔
اس موقع پر بلاول بھٹو کی سربراہی میں وفد نے کینالوں سے متعلق اعتراضات وزیراعظم کے سامنے پیش کیے اور انہیں کرم میں امن وامان کی صورت حال پر خدشات سے بھی آگاہ کیا۔
پیپلز پارٹی وفد نے وزیراعظم شہباز شریف سے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کی اب تک داد رسی نہ ہونے کا شکوہ بھی کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے پیپلز پارٹی کے تحفظات حل کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی۔
اعلامیہ
ملاقات کے اعلامیہ کے مطابق شرکاء نے وزیراعظم کی قیادت میں حکومت کی معاشی پالیسیوں اور ان کے نتیجے میں ملک میں حالیہ معاشی استحکام پر وزیرِ اعظم و انکی ٹیم کی انتھک کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
وفد کے شرکاء کا کہنا تھا کہ پاکستان پیپلز پارٹی حکومت کے ملکی ترقی و معاشی استحکام اور عام آدمی کی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے ہر اقدام میں حکومت سے مکمل تعاون فراہم کرے گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیرِ اعظم کے حکومتی امور میں اتحادیوں سے مشاورت، انکی رائے کے احترام اور انکو اعتماد میں لینے کے اقدام پر وزیرِ اعظم کا شکریہ ادا کیا۔
وفد نے وزیرِ اعظم کی قیادت میں ملکی معیشت کی ترقی کیلئے اپنے بھرپور تعاون کے عزم کا اعادہ کیا۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ہواوے کے ساتھ آئی سی ٹی تربیت کے جائزہ اجلاس کا انعقاد
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ہواوے ٹیکنالوجیز کے ساتھ پاکستانی نوجوانوں کو آئی سی ٹی تربیت کی فراہمی کے حوالے سے ایک اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا۔
اجلاس میں ہواوے ٹیکنالوجیز کے وفد کے ارکان نے شرکت کی اور نوجوانوں کو ڈیجیٹل مہارتوں اور عالمی معیار کی آئی ٹی تربیت دینے کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس کے دوران گزشتہ برس چین میں ہواوے ٹیکنالوجیز کے ساتھ طے شدہ معاہدوں پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا۔
بریفنگ میں بتایا گیا کہ 3 لاکھ پاکستانی نوجوانوں کو آن لائن تربیت فراہم کی جائے گی اور آئی سی ٹی ٹریننگ پورٹل کا باقاعدہ افتتاح وزیراعظم شہباز شریف کریں گے، مزید برآں، ہواوے کی جانب سے اب تک 20 ہزار 315 طلبہ کو تربیت دی جا چکی ہے۔
وزیراعظم نے آئی ٹی تربیت کے منصوبوں پر تیزی سے عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ہدایت دی اور کہا کہ آئی سی ٹی ٹریننگ پورٹل کو زیادہ سے زیادہ افراد تک پہنچایا جائے۔
انہوں نے منصوبے کو تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان تک وسعت دینے کی بھی ہدایت جاری کی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے فروغ اور ڈیجیٹل انقلاب میں نوجوانوں کا کلیدی کردار ہے اور حکومت انہیں جدید مہارتوں سے لیس کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کر رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہواوے کے آئی سی ٹی تربیت پروگرام سے نوجوانوں کو روزگار کے حصول میں مدد ملے گی۔
اجلاس میں ہواوے ٹیکنالوجیز کے نمائندوں نے پاکستان میں جدید تربیتی پروگرام کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اپوزیشن ایک سال میں حکومت کے خلاف کوئی جھوٹا اسکینڈل بھی سامنے نہیں لا سکی، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اپوزیشن ایک سال میں حکومت کے خلاف کوئی جھوٹا اسکینڈل بھی سامنے نہیں لا سکی۔
حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کیا اور کہا کہ آج وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس ہے، آج ہماری حکومت کو آئے ہوئے پورا ایک سال ہوگیا، 4 مارچ 2024 کو ہماری اتحادی حکومت بنی تھی، 2 دن پہلے کابینہ میں اضافہ بھی ہوا، کابینہ کی قابلیت، محنت، کمٹمنٹ کے باعث مجھے ، قوم اور عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ ہمیں درس دیتا ہے کہ خود کو خدمت انسانیت کیلئے وقف کر دیں، اُن لوگوں پر دست شفقت رکھیں تو محنت کرتے ہیں لیکن مفلوق الحال ہیں، حکومت نے اس رمضان میں 20 ارب روپے ریلیف کیلئے مختص کیے گئے، گزشتہ سال رمضان پیکیج 7ارب روپے تھا، اس سال خردبرد ہوگی نہ ہی یوٹیلیٹی اسٹورز کی شکایات آئیں گی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ رمضان میں ہم فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ بھرپور اظہار یکجہتی کریں، کشمیر ، فلسطین کے عوام ظلم اور بربریت برداشت کرر ہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری معیشت ایک سال پہلے ہچکولے کھا رہی تھی، معیشت ڈیفالٹ کے قریب پہنچ چکی تھی، آئی ایم ایف سے گفتگو کررہے تھے تو کون لوگ تھے جو خط لکھ رہے تھے کہ پاکستان کی مدد نہ کریں، آج ہم ڈیفالٹ سے نکل چکے ہیں، آئی ایم ایف، ورلڈبینک، عالمی ادارے خود کہہ رہے ہیں کہ پاکستان استحکام کی طرف جا رہاہے، معیشت کی ترقی کا سفر آیا چاہتا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ معیشت کی بہتری کیلئے نوازشریف کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں، پی ڈی ایم حکومت کے اتحادیوں کی محنت سے مشکل وقت سے نکلے، موجودہ حکومت میں مختلف جماعتوں کی ہمیں حمایت حاصل ہے، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار،وزرا،سیکرٹریز،اعلیٰ حکام کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ ہے، ہم سب ایک ہی کشتی کے سوار ہیں، ہاتھوں میں ہاتھ ملا کر آگے بڑھ رہے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام کیلئے حکومت، حکام نے دن رات محنت کی، راتوں رات آئی ایم ایف کیلئے 5ارب ڈالر کی کمی پوری کرنا مشکل تھی، میں اور آرمی چیف دوست ممالک کے پاس کیلئے مدد کیلئے گئے، سعودی عرب، ابوظہبی نے حالیہ دنوں میں پاکستان کی مدد کی، آج پاکستان میں مہنگائی 1.6فیصد پر آ چکی ہے، شرح سود 22.5 فیصد سے کم ہو کر 12 فیصد پر آگئی۔
ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ایک سال میں حکومت کے خلاف کوئی جھوٹا اسکینڈل بھی سامنے نہیں لا سکی۔
انہوں نے کہا کہ ترقی اور خوشحالی کے سفر تبھی اُڑان پاکستان بنے گا جب تک ہم خوارج کا خاتمہ نہیں کر دیتے، کے پی ، بلوچستان میں آئے روز دہشتگردی کے واقعات ہو رہے ہیں، اس سے بڑی مکمل دشمنی اور کیا ہو سکتی ہے، نوازشریف نے 2018 میں دہشت گردی ختم کی، ان خوارج اور دہشت گردوں کو ملک میں کون واپس لایا؟۔
ان کا کہنا تھا کہ افواج اور فورسز کے جوان اپنے بچوں کو یتیم کر کے ملک کے لاکھوں بچوں کو یتیم ہونے سے بچاتے ہیں، پاکستان اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کر کے رہے گا، اپنا مقام حاصل کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں، وقت آئے گا کہ اس سبز پاسپورٹ کی عزت ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ دہشتگردی کے ساتھ پیدا کیے گئے گالی گلوچ کا کلچر ختم کرنا پڑے گا، نواز شریف کی قیادت میں ہم عظیم بنیں گے، اداروں میں ڈیجیٹلائزیشن کا کام جاری ہے ، ایف بی آر کا نظام مکمل طور پر ڈیجیٹل کر دیا گیا، ملک کو پاؤں پر کھڑا کرنے کیلئے بہانے نہیں چلیں گے، جادو ٹونے نہیں چلیں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہم 9 مئی والے نہیں ،28 مئی والے ہیں، چین کے ساتھ پاکستان کا پہلا ایسٹروناٹک کا منصوبہ جاری ہے، عدالتوں میں 4 ہزار ارب روپے کے کیسز زیرالتوا ہیں، سندھ ہائیکورٹ نے ایک اسٹے خارج کیا، 23ارب روپے خزانے میں آئے۔
آذربائیجان کو جلد جے ایف سیون ٹین تھنڈر کی پہلی کھیپ دی جائے گی: عطا تارڑ
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے کہاہے کہ آذربائیجان کو جلد جے ایف سیون ٹین تھنڈر کی پہلی کھیپ دی جائے گی ۔
سماء نیوز کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے عطا تارڑ کا کہناتھا کہ اس کے بعد مشترکہ پروڈکشن بھی ہو سکتی ہے ، صدر آذربائیجان نے کہا تھا پاکستان میں دو ارب ڈالرسرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں ۔ اب یہ معاملہ آخری مراحل میں ہے ۔ الہام حیدر علیوف اپریل میں پاکستان آئیں گے تو معاہدوں کو حتمی شکل دی جائے گی ۔ صدرآذربائیجان سے ہائی ویز کی تعمیر پر بھی بات ہوئی ہے۔
مزید تفصیلات کیلئے پروگرام دیکھیئے:
وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر آذربائیجان پہنچ گئے
وزیراعظم شہبازشریف دو روزہ سرکاری دورے پرآذر بائیجان کےدارالحکومت باکو پہنچ گئے۔
شہباز شریف اپنے دورے کے دوران وہ صدر الہام علیوف سے ملاقات اور بزنس فورم سے خطاب کریں گے۔ دونوں ممالک کے درمیان متعدد شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط بھی کیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کی دعوت پر دو روزہ سرکاری دورہ کر رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ ۔ مواصلات و نجکاری عبدالعلیم خان بھی ساتھ ہیں۔ وفاقی وزرا جام کمال خان، عطا تارڑ ، چوہدری سالک حسین اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِاعظم کے وفد میں شامل ہیں۔
دورے کے دوران وزیرِاعظم شہباز شریف آذربائیجان کے صدر کے ساتھ دو طرفہ ملاقات کریں گے۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال ہوگا۔ توانائی، تجارت، دفاع، تعلیم اور موسمیاتی تبدیلی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ پر گفتگو ہو گی۔ اس کے علاوہ بزنس فورم سے وزیراعظم کا اہم خطاب بھی شیڈول ہے۔
دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان متعدد شعبوں میں تعاون بڑھانے کیلئے مفاہمت کی یادداشتوں اور معاہدوں پر دستخط کیے جائیں گے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا مارچ دوہزار چوبیس میں وزارت عظمی کا منصب سنبھالنے کے بعد آذربائیجان کا یہ دوسرا دورہ ہے۔
برطانوی وزیراعظم ٹرمپ کو یوکرین میں 30 ہزار فوجی اور امریکی فائٹر جیٹس اسٹینڈ بائی رکھنے پر راضی کریں گے
یورپ میں یوکرین جنگ کے متعلق نیا موڑ سامنے آیا ہے برطانوی وزیراعظم ملاقات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کویوکرین میں 30 ہزار یورپی فوجیوں کی تعیناتی کے منصوبے پر قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔
برطانوی اخبار دی ٹائمز کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مغربی اتحادی یوکرین میں جنگ بندی اور امن معاہدے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں یہ منصوبہ امریکی حمایت کے بغیر مؤثر ثابت نہیں ہو سکتا اور یہی وجہ ہے کہ برطانوی وزیراعظم ٹرمپ سے ملاقات میں اس حوالے سے بات چیت کریں گے۔
مغربی سفارتی ذرائع کے مطابق اگر ٹرمپ اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں تو یہ ایک بڑا سفارتی قدم ہوگا جو روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے یورپ کے عزم کو ظاہر کرے گا لیکن اس تجویز پر امریکہ اور نیٹو اتحادیوں کے درمیان اختلافات بھی پیدا ہو سکتے ہیں، کیونکہ امریکی پالیسی اب تک یوکرین میں براہ راست فوجی مداخلت سے گریز پر مبنی رہی ہے۔
یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یوکرین میں جنگ جاری ہے اور روس مسلسل اپنی عسکری پوزیشن مضبوط کر رہا ہےیورپی رہنماؤں کے لیے یہ ایک نازک لمحہ ہے جہاں انہیں امریکی پالیسی کے مطابق چلتے ہوئے اپنی سیکیورٹی پالیسی بھی ترتیب دینا ہوگی۔
ملکی برآمدات آئندہ5 سال میں 60 ارب ڈالر تک پہنچانے کی حکمت عملی بنائی جائے،وزیر اعظم
وزیراعظم نے آئندہ پانچ سال میں ملکی برآمدات ساٹھ ارب ڈالر تک پہنچانےکیلئے جامع حکمت عملی بنانےکی ہدایت کردی ہے اور کہا ٹیرف کےنظام میں پائیدار اصلاحات بھی متعارف کرائی جائیں ۔
ملکی برآمدات بڑھانے سےمتعلق اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم سے کہا برآمدات پر مبنی معاشی ترقی "اڑان پاکستان" ویژن کا اہم جزو ہے ، ٹیرف ریٹس کم اور نظام کو آسان بنایا جائے ۔ صنعتوں کی پیداواری صلاحیت میں اضافے کی حکمت عملی اپنائی جائے ، برآمدات بڑھانے کیلئے سروسز، آئی ٹی اور زراعت کے شعبوں پرخصوصی توجہ دینے کی ہدایت بھی کی ۔
وزیر اعظم نے برآمدی صنعتوں کی ترقی کیلئےایکسپورٹ ڈیویلپمنٹ فنڈ میں ضروری اصلاحات کرنے کا بھی کہہ دیا ۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا گزشتہ دو سال کے دوران میں ٹیرف میں بتدریج کمی کی گئی ۔ برآمدات بڑھانے کیلئے وزارت تجارت ہرسال بین الا قوامی سطح کی نمائشیں کرواتی ہے ۔ دو ہزار پچیس سے دو ہزار تیس کی اسٹرٹیجک ٹریڈ پالیسی فریم ورک پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کی جا رہی ہے ۔ مشاورت مکمل ہونے پر ای کامرس پالیسی آئندہ ماہ منظوری کیلئےکابینہ میں پیش کی جائیگی ۔
وزیراعظم شہبازشریف سےورلڈ بینک گروپ کےوفدکی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف سے ورلڈ بینک گروپ کے وفد نے ملاقات کی جس دوران وزیراعظم نے ورلڈ بینک گروپ کے دس سالہ کنٹری پارٹنرشپ فریم ورک کے اجرا کو سراہا اور نجی شعبےکی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں آئی ایف سی کے کردار کی تعریف بھی کی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور ورلڈ بینک گروپ کے وفد نے پاکستان میں آئی ایف سی کے جاری اور ممکنہ اور متوقع اقدامات پر تبادلہ خیال کیا ،وزیراعظم نے نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو فروغ دینے میں آئی ایف سی کے کردار کی تعریف کی۔ برآمدات کے ذریعے ملکی ترقی پر توجہ دینے اور ملکی معیشت کے پورے ایکو سسٹم کی ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت پر زور دیا۔ وزیرِاعظم نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی ڈیجیٹلائزیشن کی جاری کوششوں پر بھی روشنی ڈالی۔ ملاقات میں پائیدار اقتصادی ترقی کیلئے نجی سرمایہ کاری کے جامع نظام کی اہمیت پر بھی زور دیا گیا۔ وفد نے آئی ایم ایف کے ساتھ پاکستان کی جاری کامیاب معاشی اصلاحات کے پروگرام کو سراہا۔
وزیر اعظم نے مسئلہ فلسطین کا دو ریاستی حل خطے میں پائیدار امن کی کنجی قرار دیدیا
وزیر اعظم شبہاز شریف نے فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کو خطے میں پائیدار امن کی کنجی قرار دے دیا۔
دبئی میں ورلڈ گورنمنٹس سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ یہ خطہ ابھی تک غزہ جنگ کے آفٹر شاکس سے باہر نہیں آیا اور غزہ کی جنگ میں 50 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی جانیں گئیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین کے مسئلے کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا ہے اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایسی فلسطینی ریاست جو 1967 سے پہلے والی سرحدوں پر مشتمل ہو اور مقبوضہ مشرقی بیت المقدس جس کا دارالحکومت ہو اس مسلئے کا واحد حل ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن صرف دو ریاستی حل سے ہی ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان معاشی تبدیلی کے دوراہے پر کھڑا ہے اور غیر معمولی چیلنجز کے باوجود پاکستانی معیشت بہتری کی جانب گامزن ہے ،مہنگائی کی شرح کم ہوکر 2.4 فیصد تک آگئی ہے جبکہ شرح سود 12 فیصد ہے جو پرائیویٹ سیکٹر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے کافی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترقی کے اہداف کا حصول اور نئے مواقع پیدا کرنا ہماری پہلی ترجیح ہے، پاکستان میں صرف توانائی کے شعبے میں 100ارب ڈالر کی سرمایہ کاری درکار ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان 2030 تک 60 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرے گا جبکہ شمسی توانائی کی صلاحیت کو بڑھانے کے لیے کام کر رہے ہیں، 30 فیصد گاڑیاں تیل سے الیکٹرک ذرائع پر تبدیل ہونگی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی اماراتی صدر سے ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال
وزیراعظم شہباز شریف نے متحدہ عرب امارات ( یو اے ای ) کے صدر محمد بن زاید آل نہیان سے ملاقات کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف اور اماراتی صدر محمد بن زاید آل نہیان کے درمیان ملاقات میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر بھی موجود تھے۔
ملاقات میں دوطرفہ تعلقات اور تعاون کے مزید فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اقتصادی ، تجارتی اور دیگر شعبوں میں موجود اشتراک و تعاون پر بھی بات چیت کی گئی۔
ملاقات میں عالمی چیلینجز سے نمٹنے کیلئے ورلڈ گورنمنٹس سمٹ کی اہمیت پر گفتگو کی گئی اور ترقی کی رفتار میں اضافے اور بہتر مستقبل کی تعمیر کی اہمیت پر زور دیا گیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان مشرق وسطیٰ میں ہونے والی پیشرفت ، علاقائی اور بین الاقوامی امور پر بھی تبادلہ خیال ہوا جبکہ علاقائی سلامتی ، استحکام اور امن کیلئے بین الاقوامی کوششوں کو تیز کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔
ملکی ترقی کا سفر اجتماعی کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملکی ترقی کا سفر اجتماعی کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے۔
ہفتے کے روز اسلام آباد میں یوم تعمیر و ترقی کی مناسبت سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے اندھیروں سے اجالوں کی طرف سفر شروع کیا اور ترقی کا سفر اجتماعی کاوشوں اور کوششوں کا نتیجہ ہے، ملک میں مہنگائی کا طوفان تھا جو عوام نے برداشت کیا اور مہنگائی کی وجہ سے عام آدمی کو مشکلات کا سامنا پڑا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے کو بڑا ٹیکس برداشت کرنا پڑا اور اس نے 300 ارب روپے ٹیکس ادا کیا جس پر سلام پیش کرتا ہوں، میرا بس چلے تو 15 فیصد ٹیکس کم کردوں لیکن اس کا وقت آئے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2023 میں آئی ایم ایف پروگرام خدشات کا شکار تھا لیکن قوم کی دعاؤں اور ٹیم ورک کی وجہ سے ملک ڈیفالٹ سے بچ گیا، ہمارا آئی ایم ایف کے ساتھ 7 ارب ڈالر کا پروگرام طے ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت پر الزام تراشی نہیں کرنا چاہتا لیکن مہنگائی 40 فیصد پر پہنچ گئی تھی اور مشکلات کا سامنا تھا، مجھے خیال آتا تھا ڈیفالٹ کر گئے تو میری قبر پر قطبہ لگے گا اس کی حکومت میں ڈیفالٹ ہوئے اور ڈیفالٹ کا سوچ کر نیند نہیں آتی تھی۔
انہوں نے کہا کہ مشکل فیصلے کر لیے مگر آگے بھی سفر آسان نہیں ہے، قوم دیکھ رہی ہے پاکستان ٹیک آف کی پوزیشن میں آچکا ہے، کاروباری افراد کی مشاورت سے برآمدات بڑھائیں گے اور انڈسٹری آگے لے کرجائیں گے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہماری مصنوعات اسمگل ہو جاتی تھیں اب سختی کی گئی تو اسمگلنگ بند ہوئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ سرمایہ کاروں سے ناانصافی نہیں ہونی چاہیے، کچھ کالی بھیڑیں ہیں تو ان کو باقیوں کے ساتھ کھڑا نہیں کرنا، حکومت کا کام کاروبار کرنا نہیں ، پی آئی اے سمیت دیگر ایس او ایز ہم نے آپ کے حوالے کرنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے جوان روز دہشتگردوں کا مقابلہ کر رہے ہیں، 2018 میں دہشتگردی کا خاتمہ ہوچکا تھا لیکن اب دہشتگرد واپس آگئے ہیں ، اس پر سوال کرنا ہے دہشتگردی واپس کیوں آئی؟، دہشتگردی کا خاتمہ نہ ہو تو ترقی نہیں آسکتی، افواج پاکستان دن رات قربانیاں دے رہی ہیں ، پہلی بار قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اسمگلنگ ختم کی۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم نے مل کر پاکستان بنانا ہے، لوگ مجھے مختلف القابات سے پکارتے ہیں لیکن مجھے پرواہ نہیں، مجھے پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کی پرواہ ہے، ملک کو استحکام ، خوشحالی اور معاشی ترقی کی ضرورت ہے، شرح سود 12 فیصد پر آگئی ہے اور 100 فیصد تک کم ہوئی ہے۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ پہلی بار ایک سیاسی حکومت اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، اس عمر میں میری خواہش ہے کوئی چھوٹی موٹی خدمت کردوں
نو تعمیر شدہ قذافی اسٹیڈیم کا افتتاح،’ انشاء اللہ ! اللہ چیمپئنز ٹرافی قومی ٹیم کی جھولی میں ڈالے گا ‘، وزیراعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے قذافی اسٹیڈیم لاہور کا تعمیراتی کام کے بعد افتتاح کردیا۔
قذافی اسٹیڈیم میں ایل ای ڈی لائٹس کے نئے ٹاورز اور تمام انکلوژرز میں نئی کرسیاں لگائی گئیں ہیں جبکہ دو جدید اسکرینز نصب کی گئی ہیں۔
اسٹیڈیم کی تعمیر نو کا کام 117 دنوں کی ریکارڈ مدت میں مکمل کیا گیا۔
جمعہ کو چیپمئنز ٹرافی 2025 کی افتتاحی تقریب کے موقع پر وزیر اعظم شہباز شریف نے قذافی اسٹیڈیم لاہور کا تعمیراتی کام کے بعد افتتاح کیا اور کہا کہ آج ہم سب کیلئے بڑی خوشی کا دن ہے، اسٹیڈیم کی تعمیر نو بہت ہی شاندار طریقے سے مکمل ہوئی۔
اس موقع پر وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سب نے ایک ٹیم کے طور پر 117 دنوں میں ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا۔
شہباز شریف نے چیئرمین پاکستان کرکٹ بورڈ ( پی سی بی ) کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ محسن نقوی کی عادت ہے جو اچھے کام کرتے ہیں ان کو لندن کی سیر کراتے ہیں میں ان سے کہوں گا 2500 مزدوروں کو بھی لندن کی سیر کرائیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شہباز اسپیڈ تو اب ماضی کی بات ہے، میں اب محسن اسپیڈ کی بات کرتا ہوں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈی جی ایف ڈبلیو او کی بہت تعریف سنی ہے کہ منصوبوں کو اچھے طریقے سے انجام دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چیمپئنز ٹرافی قومی کرکٹ ٹیم کی جیت کی منتظر ہے، انشاء اللہ ! اللہ تعالیٰ کھلاڑیوں کی مدد کریں گے اور ہم اُس وقت کا انتظار کریں گے جب قومی ٹیم بھارت کو شکست دے گی جبکہ انشاء اللہ! اللہ تعالیٰ چیمپئنز ٹرافی قومی ٹیم کی جھولی میں ڈالے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ دن رات کاوشوں کے بعد پاکستان میں معاشی استحکام آیا ہے، امید ہے ہمارے باؤلرز بھی بھارتی کھلاڑیوں کو ٹف ٹائم دیں گے۔
محسن نقوی کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی سی بی محسن نقوی نے کہا کہ قذافی اسٹیڈیم کو ٹارگٹ کے مطابق چیمپئنزٹرافی سے قبل مکمل کیا اور 2500 مزدوروں نے منصوبے پر کام کیا جبکہ آج مزدوروں کے ساتھ ظہرانے کی تقریب تھی۔
چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ بہت سارے مزدور ایسے تھے جو 3،3 ماہ سے گھر نہیں گئے تھے۔
محسن نقوی نے کہا کہ مشکل وقت میں ایک بار پھر پاک فوج ہمارے کام آئی، منصوبے کی تکمیل میں پنجاب حکومت کا تعاون نہیں ہوتا تو اطراف میں کھنڈر نظرآتا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ 30 سال بعد پاکستان میں بڑا ٹورنامنٹ ہونے جا رہا ہے۔
کٹ کی رونمائی
چیمپیئنز ٹرافی 2025 کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کی کٹ کی رونمائی بھی کردی گئی۔
پاکستانی کرکٹرز نے گراؤنڈ میں چیمپیئنز ٹرافی کے حوالے سے تیار جرسی میں انٹری کی۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شاہین آفریدی کا کہنا تھا کہ نئے اسٹیڈیم کی تعمیر پر کرکٹ فینز کو مبارک ہو، دعا کریں کہ چیمپیئنزٹرافی پاکستان جیتے۔
سابق کپتان بابر اعظم کا کہنا تھا کہ لاہور میں فینز نے ہمیشہ سپورٹ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے4ججزکاچیف جسٹس آف پاکستان کو خط ، ججزتعیناتی موخر کرنے کا مطالبہ
سپریم کورٹ آف پاکستان میں ججز تعیناتی کے معاملے پر سپریم کورٹ کے4 ججز نے چیف جسٹس سے ججز تعیناتی موخر کرنے کا مطالبہ کردیا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے 4 ججز کی جانب سے چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ خان آفریدی کو لکھے گئے خط میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف دائردرخواستیں زیر التوا ہونے کا حوالہ دیا گیا ہے خط میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے ججز کی سنیارٹی کے تنازع کا بھی حوالہ دیا گیا۔
چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ خان آفریدی کو خط لکھنے والے ججز میں جسٹس منصورعلی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس اطہرمن اللہ شامل ہیں خط کی نقل جوڈیشل کمیشن کےتمام ارکان کو بھی ارسال کردی گئی ہے۔
سپریم کورٹ کے4 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ 26ویں ترمیم کیس میں آئینی بنچ فل کورٹ کا کہہ سکتا ہے، نئے ججز آئے تو فل کورٹ کون سی ہو گی یہ تنازع بنے گا۔
Letter from 4 Supreme Court judges to the Chief Justice
خط کے متن میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں 3ججز تبادلے کے بعد آئے، آئین کے مطابق نئے ججز کا اسلام آباد ہائیکورٹ میں دوبارہ حلف لازم تھا، حلف کے بغیر ان ججز کا جج ہونا مشکوک ہوجاتا ہے، اس کے باوجود اسلام آباد ہائیکورٹ میں سنیارٹی لسٹ بدلی جاچکی ہے۔
ججز نے چیف جسٹس کو لکھے گئے خط کے متن میں لکھا کہ موجودہ حالات میں ججز لانے سے کورٹ پیکنگ کا تاثر ملے گا، پوچھنا چاہتے ہیں عدالت کو اس صورتحال میں کیوں ڈالا جا رہا ہے؟ کس کے ایجنڈے اور مفاد پر عدالت کو اس صورتحال سے دوچار کیا جا رہا ہے؟26 ویں ترمیم کے فیصلے تک ججز تعیناتی موخر کی جائے۔
سپریم کورٹ کے4 ججز کی جانب سے لکھے گئے خط کے متن میں مزیدکہا گیا ہے کہ کم از کم آئینی بنچ سےفل کورٹ کی درخواست پر فیصلے تک تعیناتی موخر کی جائے، اسلام آباد ہائیکورٹ ججز کی سنیارٹی طے ہونے تک ججز تعیناتی روکی جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے 2025 کی پہلی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال 2025 کی پہلی انسداد پولیو مہم کا افتتاح کردیا۔
اسلام آباد میں منعقدہ تقریب کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے بچوں کو قطرے پلا کر رواں سال کی پہلی پولیو مہم کا افتتاح کیا جبکہ مہم میں 2 کروڑ 33 لاکھ بچوں کو قطرے پلائے جائیں گے اور 2 لاکھ سے زیادہ ورکر ڈیوٹی انجام دیں گے۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ہم آج 2025 کی پہلی انسداد پولیو مہم کا آغاز کر رہے ہیں اور کروڑوں بچوں کو قطرے پلا کر پولیو سے محفوظ بنائیں گے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو ٹیمیں بچوں کو قطرے پلا کر اپنی ذمہ داری نبھائیں گی۔
شہباز شریف نے کہا کہ رواں سال جنوری میں اب تک صرف ایک کیس رپورٹ ہوا ہے اور کاش رواں سال اب تک ایک کیس بھی سامنے نہ آتا تاہم عالمی اداروں اور شراکت داروں کے ساتھ مل کر پولیو کا خاتمہ کریں گے اور بچوں کا مستقبل محفوظ بنائیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال تقریباً77 پولیو کیسز رپورٹ ہوئے ہیں اور پولیو کے خاتمے کیلئے افغانستان کے ساتھ رابطے میں ہیں، مشترکہ کوششوں کی بدولت ہی پولیو کا خاتمہ ممکن ہوگا۔
26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دینے والے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکریٹری معطل
26ویں آئینی ترمیم کیخلاف درخواست دینے والے سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کے سیکریٹری سلمان منصورکومعطل کردیاگیا ہے۔
ذرائع کی جانب سے دی گئی معلومات کے مطابق سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف آئینی درخواست کیوں دی؟سلمان منصورکی معطلی کی منظوری ایگزیکٹو کمیٹی کےاجلاس میں دی گئی ہے،سلمان منصورنےایسوسی ایشن کےعہدے کارولزکےبرعکس غلط استعمال کیا۔
ذرائع کے مطابق سیکرٹری سپریم کورٹ بارایسوسی ایشن کو پہلے بھی وارننگ دی گئی تھی، سلمان منصور نے 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف بطورسیکرٹری آئینی درخواست داخل کررکھی تھی رولز کےتحت صدراورایگزیکٹوکمیٹی کی منظوری لیناضروری تھی جونہیں لی گئی۔
دوسری جانب سیکرٹری سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سلمان منصورنےمعطلی پرردعمل دیتے ہوئے کہاہے کہقواعد میں کسی عہدیدارکومعطل کرنےکی کوئی شق نہیں ہے،کوئی کسی کو معطل نہیں کر سکتا، ایگزیکٹو کمیٹی کسی ایگزیکٹورکن کو بھی معطل نہیں کرسکتی، ایسوسی ایشن کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں ہے، معطلی کا بیان محض صدرکا زبانی بیان ہے۔
وزیراعظم کا ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس جلد طلب کرنے کا فیصلہ
وزیراعظم شہبازشریف کی جانب سے ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس جلد طلب کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس جلد ہوگا جس میں وزیر دفاع خواجہ آصف ، بلاول بھٹو زرداری، وفاقی وزیر اسٹیبلشمنٹ احد چیمہ ، سیکرٹری کابینہ اور سیکرٹری اسٹیبشلمنٹ شریک ہوں گے۔
اجلاس میں گریڈ 21 کے 40 افسران کی گریڈ 22 میں ترقی کی منظوری متوقع ہے۔
ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ سے زیرالتوا ہے اور آخری اجلاس مارچ 2023 میں ہوا تھا۔
،ذرائع نے بتایا کہ ہائی پاورڈ سلیکشن بورڈ کا اجلاس آئندہ ہفتے یا فروری کے شروع میں طلب کرنے پر مشاورت جاری ہے۔
وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری اسد رحمان گیلانی اپنی ترقی کا کیس زیرغور آنے کے باعث اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
جنرل عاصم منیر کی کشمیر کاز سے وابستگی غیر متزلزل ہے، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ، کشمیر ایک دن ضرور آزاد ہوگا اور قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی جبکہ پاک فوج کے سپہ سالار جنرل عاصم منیر کی کشمیر کاز سے وابستگی غیر متزلزل ہے۔
بدھ کے روز وزیر اعظم شہباز شریف نے بھمبر آزاد کشمیرمیں دانش اسکول کا سنگ بنیاد رکھا اور اس موقع پر منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران کشمیریوں کو حق خودارادیت ملنے تک ان کی سفارتی ، اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھنے کا اعلان کیا۔
اپنے خطاب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پچھلی حکومت نے ملک کا دیوالیہ نکال دیا تاہم اب مہنگائی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور ایکسپورٹ بڑھ گئی ہے جبکہ شرح سود میں بھی مزید کمی ہو رہی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کو حق خودارادیت دیا جائے۔
دانش سکول کے حوالے سے شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایک سال کی ریکارڈ مدت میں اسکول کا آغاز کیا جائے گا اور دانش اسکول سسٹم پسماندہ اور مستحق بچوں کے خوابوں کی تعبیر ثابت ہوگا جبکہ ایچی سن کالج میں نہ پڑھ سکنے والوں کی کمی دانش سکول پوری کرے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے دیگر دو اضلاع میں بھی جلد دانش سکول سسٹم کا سنگ بنیاد رکھیں گے۔
وزیر اعظم آزاد کشمیر
اس موقع پر وزیر اعظم آزاد کشمیر چودھری انوار الحق کا کہنا تھا کہ دانش سکول سسٹم غریب لوگوں کا ایچی سن کالج ہے ، سکول کا سنگ بنیاد رکھنے پر وزیراعظم پاکستان کے شکر گزار ہیں۔
چودھری انوار الحق کا کہنا تھا کہ ایل او سی پر فوج موجود ہے تو ہم تعمیر و ترقی کر رہے ہیں، ہمیں محافظ فوج اور قابض فوج میں فرق کرنا ہو گا، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیاں بند نہ ہوئیں تو آزادکشمیر کے نوجوانوں کو سرحد پار کرنے سے مودی کا باپ بھی نہیں روک سکے گا۔
صدر مملکت اور وزیراعظم کی نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف نے نومنتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو عہدے کا حلف اٹھانے پر مبارکباد پیش کی ہے۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں اور دونوں ممالک نے خطے میں امن وخوشحالی کیلئے مل کر کام کیا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ہم مستقبل میں بھی یہ تعاون جاری رکھیں گے۔
شہباز شریف نے اپنے پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔
صدر مملکت
صدر مملکت آصف علی زرادی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کو مبارکباد پیش کی اور ان کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
وزیراعظم شہبازشریف قومی اسمبلی میں بار بار کورم ٹوٹنے پر برہم
وزیراعظم شہباز شریف نے قومی اسمبلی میں بار بار کورم ٹوٹنے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ ( ن ) کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس پیر کو بلانے کا فیصلہ کر لیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بلانے کی تیاریوں کی ہدایت کر دی ہے اور ذرائع کے مطابق تمام وزرا اور مسلم لیگ ن کے اراکین قومی اسمبلی کو اجلاس میں شرکت کی ہدایت کی گئی ہے۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے بھی وزیراعظم شہباز شریف کے سامنے کورم ٹوٹنے کا معاملہ اٹھایا تھا ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم پارلیمانی پارٹی کو تحریک انصاف سے مذاکرات پر بھی اعتماد میں لیں گے۔
اجلاس میں اراکین کو کورم پورا رکھنے اور کارروائی میں حصہ لینے کی ہدایات دی جائیں گی۔
وزیر اعظم کا کشتی حادثوں پر سخت نوٹس، ایف آئی اے میں مزید سینئر افسران کی تعیناتی کا حکم
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں یونان کشی حادثہ کے ملزمان کی گرفتاری اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ایف آئی اے اور انسانی سمگلروں کے خلاف ایکشن لینے کا حکم جاری کر دیا گیا ۔ وزیر اعظم آفس کی طرف سے قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ پر ایف آئی کے 65 افسران و ملازمین بلیک لسٹ قرار دے دئیے گئے۔
بلیک لسٹڈ افسران و ملازمین پر امیگریشن اور انسداد انسانی سمگلنگ ونگز میں تعیناتی پر پابندی عائد کرنے کی سفارش کر دی گئی۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ڈی جی ایف آئی اے ایف آئی اے کو ماتحت افسران و ملازمین کے خلاف ٹھوس شواہد اکٹھے کرنے کے عمل کو حتمی شکل دیں گے تاکہ موثر فوجداری کارروائی کی جاسکے۔ اس کے علاوہ ایف آئی اے کا ایک ایک افسر سعودی عرب کے علاوہ مختلف ممالک کے پاکستان میں موجود سفارتخانوں میں ضرورت کے مطابق تعینات کیا جائے گا۔ ایف ائی اے کی کارکردگی بہتر بنانے کے لئے گریڈ 20 اور 21 کے افسران ایف آئی اے کو ایک ہفتے کے اندر فراہم کیے جائیں گے۔
اجلاس میں مزید طے ہوا کہ سیکرٹری داخلہ اور ڈی جی ایف آئی اے مکمل باہمی قانونی معاونت (ایم ایل اے) کیسز تیار کریں گے اور وزارت امور خارجہ (ایم او ایف اے) کے ساتھ موثر فالو اپ کو یقینی بنائیں گے۔ سیکرٹری داخلہ سے کہا گیا کہ وہ ہوائی اڈوں پر مسافروں کی اسکریننگ کا ایک مؤثر نظام نافذ کرنے کے لیے ایک تجویز تیار کریں گے، جس میں ای گیٹس کی تنصیب اور انسانی اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے مختلف پیرامیٹرز اور چیک/فلٹرز کو مربوط کرکے جدید ٹیکنالوجی کے دیگر ذرائع شامل ہوں گے۔ وزیر اطلاعات و نشریات اگلی میٹنگ میں انسانی اسمگلنگ کی لعنت کو روکنے کے لیے وزارت کی طرف سے اٹھائے گئے بڑے بیداری مہم اور اقدامات کے بارے میں پریزنٹیشن دیں گے۔
ڈی جی ایف آئی اے غیر قانونی تارکین کے نئے بین الاقوامی مراکز کی نشاندہی کریں گے اور ان کے منصوبوں پر نظر رکھیں گے۔ اجلاس میں مزید فیصلہ ہوا کہi وزیر قانون و انصاف ii سیکرٹری قانون و انصاف iii سیکرٹری داخلہ ڈویژن iv سیکرٹری MOFA v. ڈی جی IMPASS vi کوئی دوسرا شریک منتخب ممبر پر مشتمل کمیٹی موجودہ پاسپورٹ رولز 2021 کا جائزہ لے گی اور ان پاکستانی شہریوں کو پاسپورٹ جاری کرنے پر پابندی لگانے کے لیے ترامیم تجویز کرے گی جو میزبان ممالک میں سیاسی پناہ کے متلاشی ہیں۔ سیکرٹری امور خارجہ لیبیا، روس یا کسی دوسرے ملک میں پھنسے ہوئے پاکستانی شہریوں کو واپس لانے کا منصوبہ تیار کریں گے۔ ڈی جی آئی بی اگلی میٹنگ میں ایف آئی اے کی جانب سے شروع کیے گئے کریک ڈاؤن کی افادیت کے ساتھ ساتھ گرفتار کیے گئے مجرموں (کیٹیگری وار) اور ایف آئی اے کے ملوث اہلکاروں کی تفصیلات کے ساتھ پریزنٹیشن دیں گے۔
وزیراعظم کی تمام سے تمام اقدامات کو 2 ہفتوں میں مکمل کرنے کا حکم دیا گیا۔ ادھر ایک علیحدہ ڈیویلپمنٹ میں 14 جون 2023 میں پیش آنے والے یونان کشتی حادثے کی انکوائری رپورٹ وزیر اعظم افس کی طرف بنائی گئی کمیٹی نے جاری کر دی ہے۔ رپورٹ میں ایف آئی اے کے 65 افسران کے خلاف کارروائی کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ بلیک لسٹ ہونے والوں میں 3 ڈپٹی ڈائریکٹرز 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز 4 انسپکٹرز شامل ہیں۔ ایف آئی اے کے15 سب انسپکٹرز 13 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز 20 ہیڈ کانسٹیبلز اور 8 کانسٹیبلز بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بلیک لسٹ ہونے والوں میں ایک کلرک بھی شامل ہے۔
بلیک لسٹ ڈپٹی ڈائریکٹرز میں عمران رانجھا،زاہد محموداور مبشر احمد ترمذی شامل جبکہ 2 اسسٹنٹ ڈائریکٹرز میں ابو بکر عثمان اور عرفان بابر کا نام ہے۔ بلیک لسٹڈ 4 ایف آئی اے انسپکٹرز میں دو خواتین شائستہ امداد اور نازش سحر سمیت عرفان احمد میمن اور ابراہیم خان شامل ہیں۔ 15 سب انسپکٹرز میں بھی 4 خواتین نادیہ پروین،صبا جعفری،شگفتہ اکبر اور ثمینہ صدیق شامل 11 سب انسپکٹرز میں ساجد اسماعیل،عمران ورک،محمود بٹ سلیمان لیاقت اور 13 اسسٹنٹ سب انسپکٹرز میں فیصل عمران،محمد صغیر،سید اسد علی کے نام ہیں۔ 19ہیڈ کانسٹیبلز میں مشتاق خٹک،عاطف شوکت،عرفان جاوید،علی شہریار،راجہ سنیل،عامر علی،یوسف علی،عدنان یونس شامل ہیں۔ 10 کانسٹیبلز میں محمد اقبال، رب نواز،بشری بی بی،مقصود احمد فیصل مشتاق بھی شامل ہیں۔
سپریم کورٹ میں اہم سماعت سے پہلے بینچ میں تبدیلی کر دی گئی
سپریم کورٹ میں 26ویں آئینی ترمیم کے بعد بینچز کے اختیارات کے کیس کی اہم سماعت سے پہلے بینچ میں تبدیلی کر دی گئی۔
عدالت کی جانب سے جاری تحریری حکم نامہ کے مطابق جسٹس عرفان سعادت کی جگہ جسٹس عقیل عباسی بینچ میں شامل ہوں گےجسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں تین رکنی بینچ کل سماعت کرے گا
عدالت نے فریقین سے دائرہ اختیار پر معاونت طلب کر رکھی ہے جسٹس منصور علی شاہ نے گزشتہ روز تحریری حکم جاری کیا تھابینچ میں جسٹس عائشہ ملک اور جسٹس عقیل عباسی شامل ہوں گے۔
آنے والے وقت میں شرح ٹیکس میں کمی لائی جائے گی، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آنے والے وقت میں ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جائے گی۔
فیس لیس کسٹمز اسسمنٹ سسٹم کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) اور کراچی پورٹ کے افسران کی خدمات قابل ستائش ہیں، کسٹم میں جدید نظام متعارف کرانا بڑی کامیابی ہے ، جدید خودکار نظام میں انسانی مداخلت کم سے کم ہوگی جبکہ جدید نظام کے تحت کلیئرنس کا عمل 107 گھنٹے سے کم ہو کر 19 گھنٹے پر آگیا ہے اور امپورٹرز کی 88 فیصد تعداد نئے نظام سے مطمئن ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ ٹیکس سسٹم کے تحت بڑی غیر ملکی سرمایہ کاری نہیں آسکتی، آنے والے وقت میں ٹیکس کی شرح میں کمی لائی جائے گی، ٹیکس سلیب کم کرنے سے چوری بھی کم ہوگی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے ساتھ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح 10 فیصد طے کی تھی، شرح سود 13 فیصد پر آچکی ہے، مہنگائی 38 فیصد سے 4.1 فیصد پر آچکی، آئی ٹی ایکسپورٹس میں 34 فیصد اضافہ ہوا، گزشتہ ہفتے " اُڑان پاکستان " پروگرام شروع کیا گیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی کی قیمت میں کمی کرنی ہے، سندھ حکومت کو وفاق سے ڈسکوز لینے کی پیشکش کی ہے، دیگر صوبوں کو بھی پیشکش کریں گے، ڈسکوز کو صوبوں کے حوالے کرنے کیلئے بیٹھیں گے۔
کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دے دیا
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اپنی جماعت لبرل پارٹی کے اندر بڑھتی ہوئی مخالفت کے باعث استعفیٰ دے دیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ ماہ وزیر خزانہ کرسٹیا فری لینڈ نے ٹروڈو سے اختلافات پراستعفیٰ دیا تھاوزیرخزانہ کے استعفے کی بعد پارٹی کے اندرسے وزیراعظم کے خلاف آوازیں بلند ہوئیں کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے استعفیٰ دے دیا۔
کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے اعلان کیا ہے کہ لبرل پارٹی کی جانب سے نیا سربراہ منتخب کئے جانے تک وہ اپنے عہدے پر کام کرتے رہیں گےاور میں نے اپنے استعفےکا فیصلہ اہل خانہ سے مشاورت کے بعد کیا۔
جسٹن ٹروڈو نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ کینیڈین شہری ہیں اگلے انتخابات میں الیکشن لڑنے کا حق رکھتے ہیں اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے وہ اگلے انتخابات میں لبرل پارٹی کے لیڈر نہیں بن سکتے۔
واضح رہے کہ53 سالہ جسٹن ٹروڈو نے 2015 میں وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تھا اور مسلسل تین انتخابات میں کامیابی حاصل کی۔ تاہم حالیہ مہینوں میں ان کی مقبولیت میں کمی آئی ہے اور پارٹی کے اندر اختلافات بڑھتے جا رہے تھےکینیڈا کی سیاست میں یہ تبدیلی اہمیت کی حامل ہے اور آئندہ دنوں میں لبرل پارٹی کی قیادت اور ملکی سیاست پر اس کے اثرات پر گہری نظر رکھی جائے گی۔
جسٹن ٹروڈو (Justin Trudeau) کینیڈا کے 23 ویں وزیرِاعظم ہیں اور کینیڈا کی لبرل پارٹی کے رہنما ہیں وہ 25 دسمبر 1971 اوٹاوا کینیڈا میں پیدا ہوئے کینیڈا کے ایک مشہور سیاسی خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور سابق وزیرِاعظم پیئر ایلیٹ ٹروڈو کے بیٹے ہیں۔
وزیر اعظم کی انسانی اسمگلروں کو نشان عبرت بنانے کیلئے سخت کارروائی کی ہدایت
وزیر اعظم شہباز شریف نے انسانی اسمگلروں کو نشان عبرت بنانے کے لیے سخت قانونی کارروائی کرنے کی ہدایت کردی۔
پیر کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں انسانی اسمگلنگ کے خلاف اقدامات کا جائزہ اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزرا عطا اللہ تارڑ، امیر مقام اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران شریک ہوئے جبکہ اجلاس میں وزیراعظم کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف لیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا گیا اور سہولت کاروں کے خلاف کارروائی اور قانون سازی کی پیش رفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم نے انسانی اسمگلنگ میں ملوث سرکاری اہلکاروں کے خلاف اقدامات پر ایف آئی اے کی تعریف کی اور کہا کہ انسانی اسمگلروں کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں خوش آئند ہیں اور سہولت کاروں کے خلاف تادیبی کارروائی کے بعد سخت تعزیری اقدامات بھی لیے جائیں۔
شہباز شریف نے ہدایات کیں کہ انسانی اسمگلروں کو نشان عبرت بنانے کے لیے سخت قانونی کارروائی کی جائے، اسمگلروں کی جائیدادوں اور اثاثوں کی فوری ضبطی کی کارروائی شروع کی جائے، مکروہ دھندے میں ملوث افراد کے خلاف استغاثہ کو مزید مؤثر بنایا جائے اور استغاثہ کے لیے وزارت قانون کی مشاورت سے قابل وکلا تعینات کیے جائیں۔
انہوں نے دفتر خارجہ کو دیگر ممالک سے رابطے کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ بیرون ملک سے پاکستانی اسمگلروں کی حوالگی کے اقدامات تیز کئے جائیں۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہوائی اڈوں پر بیرون ملک جانے والے افراد کی سکریننگ مزید مؤثر بنائی جائے۔
حکومت ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ حکومت ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اسمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی سے متعلق اجلاس ہوا جس میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ کا جائزہ لیا گیا اور بریفنگ دی گئی۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کیلئے ماہرین کی خدمات کے حصول کا آغاز کر دیا گیا ہے، متعلقہ اسٹیئرنگ کمیٹی میں گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر چیف سیکرٹریز شامل کردیئے گے ہیں جبکہ اسٹیٹ بینک کی بینکوں کو ایس ایم ایز کو قرض فراہمی کے فارم مزید آسان بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔
وزارت صنعت و پیداوار نے ایس ایم ایز سیکٹر کی ترقی کیلئے صوبوں سے رابطے مزید بہتر بنائے ہیں اور ایس ایم ایز سیکٹرز کے حوالے سے سندھ اور بلوچستان کی حکومتوں نے جامع لائحہ عمل تیار کر لیا ہے جبکہ پنجاب، خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کی حکومتیں جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔
اجلاس کو مزید بریفنگ دی گئی کہ وزیراعظم کی ہدایت پر ملک بھر میں موجود ایس ایم ایز کا ڈیٹا اکھٹا کیا جا رہا ہے۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ چھوٹے و درمیانے درجےکے کاروبار ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں، حکومت ایس ایم ایز کو سہولیات فراہم کرنے کیلئے ہرممکن اقدامات اٹھا رہی ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ایس ایم ایز کی ترقی کے حوالے سے وفاق اور تمام صوبے مل کر کام کریں۔
تاریخ گواہ ہے شہباز شریف نے 3 بار وزارت عظمیٰ کی پیشکش ٹھکرائی،مریم اورنگزیب
سینئرصوبائی وزیرپنجاب مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ شہبازشریف اپنے بھائی کے ساتھ ہرطوفان میں ڈٹ کر کھڑے رہے ہیں تاریخ گواہ ہے شہباز شریف نے 3 بار وزارت عظمیٰ کی پیشکش ٹھکرائی ہے۔
لاہور میں سینئرصوبائی وزیرپنجاب مریم اورنگزیب نےمحمود خان اچکزئی کے بیان پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ محمود اچکزئی صاحب جیسے سینئرسیاستدان سے ایسی گفتگو کی توقع نہیں تھی، محمود اچکزئی گواہ ہیں شہباز شریف نے ہربارنواز شریف سے بے وفائی کرنے سےانکارکیا۔
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ تاریخ گواہ ہے شہباز شریف نے 3 بار وزارت عظمیٰ کی پیشکش ٹھکرائی ہےشہباز شریف اپنے بھائی کے ساتھ ہرطوفان میں ڈٹ کر کھڑے رہے،ہمیشہ ان کے ساتھ جیل بھی گئے، بدترین صعوبتیں برداشت کیں شہبازشریف واحد مثال ہیں جنہوں نے وزیراعظم کی کرسی پر بھائی کی وفاداری کو ترجیح دی۔
ایپکس کمیٹی اجلاس، عزم استحکام کا مشن کامیاب کرنے کیلئے سیاسی استحکام ضروری قرار
نیشنل ایکشن پلان کی اپیکس کمیٹی نے عزم استحکام کا مشن کامیاب کرنے کیلئےملک میں سیاسی استحکام کو ضروری قرار دے دیا ۔
تفصیلات کے مطابق ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں دہشتگردی کےخلاف اتحاد کے فروغ، ہرقسم کی انتہا پسندی کو سختی سےکچلنے اور بلوچستان میں متحرک دہشتگرد تنظیموں کے خلاف جامع سیکیورٹی پلان جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ۔
اجلاس میں خوارج کے گرد گھیرا تنگ کرنےکیلئے علاقائی ممالک کیساتھ فعال سفارتکاری پر زور دیا گیا جبکہ ڈیجیٹل دہشت گردوں سے بھی سختی سے نمٹنے کا فیصلہ کیا گیا ۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا نے ملک میں پائیدار امن کیلئے مکمل تعاون کےعزم کا اعادہ کیا جبکہ وزیر اعظم نے کہا ملکی مسائل کے حل کیلئے سیاسی اتفاق رائے اور قومی بیانیے کو فروغ دینا ہوگا ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے اپیکس کمیٹی کے اجلاس سےخطاب میں کہاڈیجیٹل محاذ پرپاکستان کےخلاف زہر اگلا جارہاہے،دوست نمادشمن پاکستان کے خلاف مہم چلارہےہیں،بلوچستان میں پاکستان مخالف سازشیں کی جارہی ہیں،جھوٹ کوسپورٹ کررہےہیں،حقائق کومسخ کررہےہیں، اسلام آبادپر جو یلغارہوئی سوشل میڈیا نے جھوٹ کاطوفان اٹھایا گیا۔
وزیراعظم نےمزید کہا کہ رینجرزکےجوانوں کےبارےمیں جھوٹی خبریں بنائی گئیں،جوقربانی دےرہےہیں وہ بھی ماوں کے سپوت ہیں،جوان قربانیوں کورائیگاں جانےکاسوچ رہےہیں ان کی بھول ہے۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے عوام کی جان و مال کی حفاظت اور دہشتگردی سےنمٹنے کےعزم کا اعادہ کیا۔انسدادِدہشت گردی مہم سےمتعلق وفاقی حکومت کی ہدایات پر عملدرآمد کیلئے پیشرفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں نیکٹا کو دوبارہ فعال کرنے،قومی و صوبائی انٹیلیجنس فیوژن اور خطرات کی تشخیص کے مراکز کے قیام پرمشاورت کی گئی،ذرائع کےمطابق اپیکس کمیٹی امن وامان سےمتعلق نئے سال کے اہداف اوراسٹریٹیجیزکا تعین بھی کیا۔
اجلاس میں سیکیورٹی صورتحال پراہم فیصلے کیےاوروزیرداخلہ محسن نقوی داخلی سکیورٹی صورتحال پربریفنگ دی،اجلاس میں وفاقی کابینہ،صوبائی وزرائےاعلیٰ،آرمی چیف جنرل عاصم منیراوراعلیٰ سرکاری حکام شریک ہوئے۔
اڑان پاکستان منصوبہ پاکستان کو صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کردیگا، وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے اڑان پاکستان منصوبہ پاکستان کو صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کردےگا۔
اسلام آباد میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے مہنگائی کی شرح 81 ماہ کی کم ترین سطح پر آنے پر اطمینان کا اظہار کیا ہے،اس موقع پر کہا کہ دسمبر 2024 میں مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد پر آنا خوش آئند ہے،میکرو اکنامک استحکام حاصل کرلیا ہے لیکن یہ صرف آغاز ہےحکومت معاشی اصلاحات کی پالیسی پر گامزن ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 24 سال بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہو، افراط زر 38 فیصد سے کم ہو کر 4.1 فیصد پر آ گیا ہے، اسٹاک مارکیٹ دنیا کی دوسری بہترین مارکیٹ بن چکی ہے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 13 فیصد پر آ گیا ہے، حکومتی معاشی اور مالیاتی ٹیم کی محنت سےمعیشت استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ اڑان پاکستان منصوبہ پاکستان کو صف اول ممالک کی صف میں کھڑا کردےگا عوام کی مشکلات کا احساس تھا، جن کے حل کیلئےدن رات کام کیا، انشاء اللہ عوام کی زندگیوں میں مزید بہتری آئے گی۔
پی ٹی اےری آرگنائزیشن ایکٹ کے سیکشن3(7) میں ترامیم پر قانون سازی کی منظوری
وفاقی کابینہ نے پی ٹی اے ری آرگنائزیشن ایکٹ کے سیکشن تین کی سب سیکشن سات میں ترامیم پر قانون سازی کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم میں محمد شہباز شریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا ہے وزیراعظم ہاؤس سے جاری کئے گئے اعلامیے کے مطابق انفارمیشن گروپ افسران کی سفارتی مشنزمیں بطور پریس آفیسرز تعیناتی کیلئے قواعد کی منظوری کی سفارش کی گئی ہے۔
لیاقت یونیورسٹی آف میڈیکل اینڈ ہیلتھ سائنسز ٹھٹھہ کی رجسٹریشن،نیشنل فوڈ سیفٹی اور اینیمل اینڈ پلانٹ ہیلتھ اتھارٹی بل کو پارلیمنٹ بھیجنے کی منظوری بھی ہو گئی وفاقی کابینہ نے کابینہ کمیٹی برائے قانون سازی ، اقتصادی رابطہ کمیٹی اور کابینہ کمیٹی برائے ریاستی ملکیتی ادارہ جات کے فیصلوں کی توثیق بھی کر دی گئی ہے
اعلامیے کے مطابق نائب وزیراعظم اور وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے بریفنگ دی کہ پاکستان کی سلامتی کونسل کےغیرمستقل رکن کےطور پر دو سالہ مدت کا آغاز آج سے ہوگیا ہے وفاقی کابینہ نے سفارتی محاذ پرپاکستان کی اس بڑی کامیابی کو سراہا ہے وزیراعظم نےگوادر بندرگاہ سے پچھلے تین ماہ میں پبلک سیکٹر درآمدات کی تفصیلات پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف سے انسداد پولیو ٹیم کی ملاقات
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھنے پر اظہار تشویش کیا ہے۔
پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے انسداد پولیو ٹیم نے ملاقات کی جس کے دوران وزیر اعظم نے کہا کہ چیئرمین بل اینڈ میلینڈا گیٹس فاؤنڈیشن نے انسداد پولیو مہم اور پولیو ورکرز کی محنت کی تعریف کی ہے اور پولیو کو پاکستان سے ختم کرنے کے لیے مشترکہ کوششیں کی جا رہی ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ بد قسمتی سے پاکستان میں پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد بڑھ رہی ہے،تاہم صحت عامہ اور دیکھ بھال کی نگرانی کے جدید عمل سے بہتر نتائج حاصل کیےجا سکیں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ انسداد پولیو ورکرز کی سکیورٹی کو کسی طور پرنظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
بھارت کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ چل بسے
بھارت کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ 92سال کی عمر میں چل بسے۔
بھارتی مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈاکٹر من موہن سنگھ کو طبیعت خراب ہونے پر دہلی کے آل انڈیا میڈیکل انسٹی ٹیوٹ (ایمس) کے ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹ میں داخل کرایا گیا جہاں وہ چل بسے۔
ڈاکٹر من موہن سنگھ بھارت کے مشہور سیاستدان اور ماہر معاشیات تھے، وہ 2004 سے 2014 تک بھارت کے وزیرِ اعظم رہے جبکہ ان کی قیادت میں بھارت نے معاشی ترقی اور خارجہ پالیسی کے میدان میں اہم کامیابیاں حاصل کیں۔
من موہن سنگھ کانگریس پارٹی کے سینئر رہنما اور بھارت کے پہلے سکھ وزیرِ اعظم بھی تھے۔
ڈاکٹر من موہن سنگھ 26 ستمبر 1932کو ’ گاہ ‘ پنجاب جو کہ اب پاکستان کا حصہ ہے میں پیدا ہوئے اور انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے بیچلرز اور ماسٹرز کی ڈگریاں حاصل کیں۔
بعدازاں، انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی سے معاشیات میں اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے ڈی فل کی ڈگری حاصل کی۔
1991 میں جب بھارت شدید مالیاتی بحران کا شکار تھا تب من موہن سنگھ نے وزیرخزانہ کے طور پر اصلاحات متعارف کرائیں جن کی بدولت بھارتی معیشت میں لبرلائزیشن کا آغاز ہوا۔
2004 میں وہ بھارت کے وزیرِ اعظم بنے اور مسلسل دو مدتوں تک ( 2004 تا 2014 ) انہوں نے خدمات انجام دیں۔
ٹیکنالوجی سے ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنانا اولین ترجیح ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذریعے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کی کارکردگی کو بہتر بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
ہفتے کے روز وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت محصولات میں بہتری کے لئے اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں شوگر انڈسٹری میں وڈیو اینالیٹیکس کی تنصیب اور نگرانی پر بریفنگ دی گئی ۔
وزیر اعظم نے شوگر انڈسٹری کی وڈیو اینالیٹکس کا مرحلہ مکمل ہونے پر اظہار اطمینان کیا اور سمینٹ اور ٹوبیکو انڈسٹری میں بھی کام جلد از جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی۔
اس موقع پر شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ویڈیو اینالیٹیکس سے محصولات بڑھانے اور قیمتوں کے توازن میں بہتری آئے گی اور ذخیرہ اندوزی کا خاتمہ ہو گا۔
شہباز شریف نے ٹیکس نادہندگان کو ٹیکس نیٹ میں لانے اور ٹیکس نہ دینے کی صورت میں سخت کارروائی کی بھی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے وزارت قانون کو آئین کے مطابق عملی اقدام کی ہدایت کر دی : مولانا فضل الرحمان
وزیراعظم شہبازشریف نے مدارس رجسٹریشن کے معاملے پر مولانا فضل الرحمان سے ملاقات کے دوران وزارت قانون کو معاملے کو حل کرنے کیلئے آئین اور قانون کے مطابق اقدامات کا حکم جاری کر دیا
مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات ہوئی جس دوران مولانا فضل الرحمان کی مدارس رجسٹریشن کی تجاویز پر مثبت پیشرفت ہوئی ، وزیراعظم نے معاملات کو جلد حل کرنے کی ہدایت کر دی ہے ۔
جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے وزیراعظم شہبازشریف سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم سے مدارس بل کے حوالے سے بات چیت ہوئی، ہم نے کہا بل پر جو صورتحال پیدا ہوئی اس پر حکومت فیصلہ کرے، میں نے مفتی تقی عثمانی کو اس ملاقات کی خبر دی، مفتی تقی عثمانی کے اعتماد پر میں نے وزیراعظم سے ملاقات کی، وزیراعظم سے ملاقات میں جےیوآئی کا وفد موجود تھا۔
مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ ملاقات میں ن لیگ،پیپلزپارٹی کے رہنما اور اٹارنی جنرل بھی موجود تھے ہم نے اپنا مؤقف دہرایا، ملاقات میں ہمارے مؤقف کا مثبت جواب دیا گیا، وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایات دیں کہ قانون کے مطابق عملی اقدام کریں، امیدہےعملی اقدام ہمارے مطالبے کے مطابق آئے گا۔
ان کا کہناتھا کہ اس حوالے سے امید ہے ایک 2 روز میں اچھی خبرآئےگی، ہمارا مطالبہ آئین اور قانون کے مطابق تھا،تسلیم کیا جائے گا،آج ہماری گفتگو کا موضوع صرف مدارس بل ہی تھا،شاید پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کی ضرورت نہ پڑے،۔
انہوں نے کہا کہ صدر نے ایک اعتراض کرنا تھا،وہ ہو چکا،بل پر دوسرا اعتراض نہیں بنتا، صدرمملکت نےآئینی مدت گزرنے کے بعد اعتراض بھیجا، ملاقات میں حکومت کی طرف سے ہمارے مؤقف کا مثبت جواب دیا گیا، وزیراعظم نے وزارت قانون کو ہدایات دیں کہ قانون کے مطابق عملی اقدام کریں، امید ہے عملی اقدام ہمارے مطالبے کے مطابق آئے گا، مدارس بل پر امید ہے ایک 2 روز میں اچھی خبرآئےگی۔
مولانا فضل الرحمان کا کہناتھا کہ ہمارا مطالبہ آئین اور قانون کے مطابق تھا،تسلیم کیا جائے گا،آج ہماری گفتگو کا موضوع صرف مدارس بل ہی تھا،شاید پارلیمنٹ کے مشترکہ سیشن کی ضرورت نہ پڑے۔ مدارس کے حوالے سے بل دونوں ایوانوں سے منظور ہوا تھا۔
گیارہواں ڈی 8 سمٹ ایس ایم ایز کے حوالے سے اشتراک کا نادر موقع ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ گیارہواں ڈی ایٹ سمٹ ایس ایم ایز کے حوالے سے اشتراک کا ایک نادر موقع ہے۔
ڈی ایٹ ممالک کے گیارہویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ڈی ایٹ سربراہی اجلاس کی میزبانی پر مصری حکومت اور اس کی قیادت کو مبارکباد دیتے ہیں، اپنے برادر ملک آذربائیجان کو ڈی ایٹ کے نئے رکن کے طور پر خوش آمدید کہتے ہیں، مجھے یقین ہے کہ آذربائجان، صدر الہام علییوف کی قابل قیادت میں D8 کے مقاصد کے حصول میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نوجوان اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، معاشی ترقی کے کلیدی محرک ہیں، نوجوان توانائی، نئے خیالات، اور تخلیقی صلاحیتوں سے بھرپور ہیں، ایس ایم ایز ملازمتیں پیدا کرتے ہیں، اختراع کو فروغ دیتے ہیں مقامی کاروبار کو فروغ دیتے ہیں، ڈی ایٹ رکن ممالک کے لیے نوجوانوں کو بااختیار بنانا انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اس سال کے سمٹ کا تھیم، ''نوجوانوں میں سرمایہ کاری، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کے رجحان کا فروغ'' دراصل 21 ویں صدی میں ہماری اجتماعی خوشحالی کے لیے بلیو پرنٹ ہے، نوجوانوں میں سرمایہ کاری اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کی جانب رجحان کا فروغ ہماری سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی آبادی کے 60% سے زیادہ حصہ 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے جو کہ جدت اور ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں، حکومت پاکستان اپنے فلیگ شپ یوتھ پروگرام کے ذریعے، معیاری تعلیم فراہم کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پیداواری مواقع فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2013 سے اب تک اس پروگرام کے ذریعے لائق اور قابل طالب علموں میں 600,000 سے زائد لیپ ٹاپس تقسیم کیے جا چکے ہیں اور ہزاروں اسکالرشپس دی گئی ہیں، لاکھوں نوجوانوں کومصنوعی ذہانت، ڈیٹا اینالیٹکس، اور سائبر سیکورٹی کے حوالے سے فنی تربیت فراہم کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان دنیا کی سب سے بڑی فری لانسر کی کمیونٹیز میں سے ایک ہے، ہم آئی ٹی کے شعبے میں تربیت پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں تاکہ بڑے پیمانے پر اپنے نوجوانوں کو جدید صلاحیتوں سے آراستہ کر سکیں، ڈیجیٹل دنیا کے ساتھ مزید بہتر طرح سے جڑ سکیں اور ملازمتوں کے مزید مواقع فراہم کئے جا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان نے یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر، لون سکیم کے ذریعے اربوں روپوں کے قرضے دیے ہیں جس کا مقصد نوجوان پاکستانیوں اپنے پاؤں پر کھڑا کرنا ہے، ہمارے دیگر اقدامات، جیسے کہ، اسٹارٹ اپ پاکستان اور نیشنل انوویشن ایوارڈز کا مقصد ایک امید افزا، اسٹارٹ اپ ماحول کو فروغ دینا اور انکیوبیشن کے مواقع فراہم کرنا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری کابینہ نے ڈی ایٹ رکن ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدے کے ساتھ ساتھ اس کے پروٹوکول کے نفاذ کی منظوری دے دی ہے۔
وزیراعظم کی اسپیکرایاز صادق سے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت
وزیراعظم شہباز شریف نے اسپیکرقومی اسمبلی ایازصادق سے ملاقات کرکے ان کی ہمشیرہ کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا ۔
وزیر اعظم شہباز شریف منسٹرز اینکلیؤ میں واقع اسپیکر ہاؤس پہنچے ہیں جہاں انھوں نے ملاقات میں اسپیکر ایاز صادق کی ہمشیرہ کے انتقال پردکھ اور افسوس کا اظہار کیا ۔
مرحومہ کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی، درجات کی بلندی اور لواحقین کیلئے صبر جمیل کی دعا کی گئی اسپیکر نے انکی ہمشیرہ کے انتقال پر اظہار تعزیت کرنے پر وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا شکریہ ادا کیا۔
انجینئر محمد البشیر شام میں عبوری حکومت کے وزیر اعظم بن گئے
انجینئر محمد البشیر شام میں عبوری حکومت کے وزیر اعظم بن گئے ہیں۔
عرب میڈیا کے مطابق شام میں عبوری حکومت کی سربراہی محمد البشیر کریں گے، محمد البشیر باغیوں کی تحریک میں اہم کردار ادا کیا تھا البشیر کو عبوری مرحلے کو سنبھالنے کے لیے نئی حکومت کی تشکیل کا کام سونپا گیا ہے۔
انجینئر محمد البشیر کون ہیں؟
سالویشن گورنمنٹ کی طرف سے شائع کردہ رپورٹ کے مطابق انجینئر محمد البشیر 1986 میں ادلب کے جبل زاویہ علاقے میں پیدا ہوئے ان کے پاس انجینئرنگ، قانون اور انتظامی منصوبہ بندی کی متعدد قابلیت کے مالک ہیں۔
انہوں نے 2007 میں حلب یونیورسٹی سے الیکٹریکل اور الیکٹرانک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی، مواصلات میں مہارت حاصل کی۔2010 میں انھوں نے وزارت تعلیم کے زیر انتظام انگریزی زبان کا ایک جدید کورس مکمل کیا۔
2021 میں انجینئر محمد البشیر نے ادلب یونیورسٹی سے شریعہ اور قانون کی ڈگری حاصل کی۔ اسی سال اس نے انتظامی منصوبہ بندی میں سرٹیفکیٹ اور سیریئن انٹرنیشنل اکیڈمی فار ٹریننگ، لینگویجز اور کنسلٹنگ سے پروجیکٹ مینجمنٹ میں سرٹیفیکیشن بھی حاصل کیا۔
انجینئر محمد البشیر نے سیرین گیس کمپنی سے منسلک گیس پلانٹ کے قیام کی نگرانی کرنے والے انجینئر کے طور پر کام کیا۔
شام سے پاکستانیوں کے انخلاء کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں، وزیر اعظم
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ شام میں مقیم پاکستانیوں کے جان و مال کی حفاظت حکومت کی اولین ترجیح ہے اور ان کے انخلاء کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔
پیر کے روز وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس میں شام کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر پاکستانیوں کے محفوظ انخلاء کے لیے اقدامات پر غور کیا گیا۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے ہدایت کی کہ شام سے وطن واپسی کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے ہمسایہ ممالک کے ذریعے محفوظ انخلاء کا لائحہ عمل فوری طور پر تشکیل دیا جائے جبکہ وزیراعظم نے دمشق میں پاکستانی سفارت خانے کو معلوماتی ڈیسک اور ہیلپ لائن قائم کرنے کی بھی ہدایت کی تاکہ شہریوں سے بروقت رابطہ کیا جا سکے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہونے تک دفتر خارجہ کا کرائسس مینجمنٹ یونٹ اور پاکستانی سفارت خانوں میں معلوماتی ڈیسک چوبیس گھنٹے فعال رہیں۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، معاون خصوصی طارق فاطمی اور متعلقہ اداروں کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔
وزیراعظم کی ہفتہ وارمہنگائی کی شرح ساڑھے3 فیصد پر آنے پر قوم کو مبارکباد
وزیراعظم شہباز شریف نے ہفتہ وار مہنگائی کی شرح ساڑھے تین فیصد پر آنے پر پوری قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔
اپنے خصوصی بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ معاشی ٹیم کی کاوشوں کی بدولت مہنگائی کی شرح گزشتہ چھ سال کی کم ترین سطح پر آگئی ہے اور چار اکتوبر 2018 کے بعد آج پرائس انڈیکس کم ترین سطح پر ریکارڈ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ بطور خادم پاکستان وہ اپنے کیے گئے ہرعہد پرقائم ہیں، روزگار کی فراہمی، ملکی صنعتی ترقی اور غیرملکی سرمایہ کاری میں مزید اضافے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک معاشی استحکام کے بعد ترقی کی جانب تیزی سے گامزن ہے۔
انہوں نے کہا کہ بیرون ملک سے ترسیلات زر اور دوست ممالک سے سرمایہ کاری میں اضافہ پاکستان کی ترقی کے سفر کی عکاسی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی ترقی و خوشحالی کیلئے ہماری سیاسی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور ملکی ترقی کے سفر میں تمام اسٹیک ہولڈرز اپنا مثبت کردار ادا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم کی برآمدات بڑھانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کیلئے مزید اقدامات کی ہدایت
وزیراعظم شہباز شریف نے ملکی برآمدات بڑھانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کی ہدایت کردی۔
جمعرات کو وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وزارت تجارت کی کارکردگی پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں انہوں نے ملکی برآمدات بڑھانے اور زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے مزید اقدامات کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ کا اجلاس اگلے ہفتے بلانے اور بلوچستان کے سرحدی اضلاع میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے فوری اقدامات کی ہدایات بھی جاری کیں۔
ملائیشیا کو پاکستانی چاول کی برآمدات بڑھانے کے لیے مزید اقدامات کا حکم دیتے ہوئے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خصوصی اقتصادی زونز کو فعال کیا جائے گا تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔
اجلاس میں وزیراعظم نے گندم، کپاس، کماد، چاول، خوردنی تیل اور دیگر بڑی فصلوں کی پیداوار بڑھانے کے لیے کابینہ کی خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت بھی کی جو ماہرین کی آراء کی روشنی میں سفارشات پیش کرے گی۔
اجلاس میں وزیراعظم کو بتایا گیا کہ روس کے ساتھ بارٹر ٹریڈ کے تحت زرعی اجناس کی تجارت کے لیے دو مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے جا چکے ہیں اور تاجکستان کی حکومت نے پاکستان کے ساتھ ٹیکسٹائل کے شعبے میں تعاون میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔
وزیراعظم کا پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف منصوبوں کی پیشرفت پر اظہار اطمینان
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان جاری مختلف منصوبوں کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ برادر ملک کے ساتھ تعاون کو مزید وسعت دینا چاہتے ہیں۔
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعاون اور سرمایہ کاری کی پیشرفت کے حوالے سے جائزہ اجلاس سے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست ہے جس نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ متعدد شعبوں میں اشتراک جاری ہے جسے مزیدوسعت دینا چاہتے ہیں۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم کو نومبر میں منعقدہ پاکستان سعودی عرب جوائنٹ ٹاسک فورس کے دوسرے اجلاس میں دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی ۔
بریفنگ میں بتایا گیا قلیل عرصے میں دونوں ممالک کے درمیان سرمایہ کاری کے 34 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے جس میں سے 7 کومعاہدوں کی شکل دی جا چکی ہے جس کی مالیت 560 ملین ڈالر ہے۔
کل اسلام آباد میں فساد کا احسن طریقے سے خاتمہ کیا گیا: وزیراعظم
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے کہ ایک شخص اپنی ذات کے لیے پاکستان قربان کرنے پر تلاہوا ہے۔پاکستان کو کسی صورت قربان نہیں کرنے دیں گے،اُس ہاتھ کوتوڑدیں گے جو پاکستان کوقربان کرناچاہتا ہے، عدالتیں 9مئی کے مجرمان کو بروقت سزائیں دیتیں تویہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
وزیراعظم شہبا ز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران پی ٹی آئی کے احتجاج اور وفاقی دارالحکومت میں امن و امان کی صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا ۔
وفاقی کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہناتھا کہ کل اسلام آباد میں فساد کا احسن طریقے سے خاتمہ کیا گیا، احتجاج کےباعث کئی دن سےکاروبارنہ ہونےکےبرابرتھا، اور معمولات زندگی معطل ہوچکے تھے، دیہاڑی دار مزدور اور صنعتکار پریشان تھے،اسپتالوں میں مریضوں کو مشکلات کا سامنا رہا،اسٹاک مارکیٹ 99 ہزار پوائنٹس سے اوپر چلی گئی تھی، صرف ایک دن فساد کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ نے غوطہ کھایا،احتجاج سےملک بھرکی معیشت کانقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ 2014سے پہلے اسلام آباد پرچڑھائی کا تصور بھی نہیں تھا،، 2014بدقسمت سال تھاجس میں یہ خطرناک روش ڈالی گئی، 2014میں 126دن فسادیوں نے گندگی وغلاظت کے ڈھیر جمع کیے، 2014کے دھرنے کی وجہ سے چینی صدر کا دورہ منسوخ ہوا، احتجاج میں شرپسند آتے ہیں جو پاکستانی نہیں،ہمیں اب سخت فیصلے کرنا پڑیں گے،فیصلہ کرنا ہو گا معیشت بہتر کرنی ہے یا دھرنوں کا سامنا کرنا ہے،آج کے بعد ان فسادیوں اور ملک دشمنوں کو مزید موقع نہیں دینا، عدالتیں 9مئی کے مجرمان کو بروقت سزائیں دیتیں تویہ دن نہ دیکھنا پڑتے، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں دہشتگردی نے سر اُٹھا لیا ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کرم کے لوگوں کو چھوڑ کر اسلام آباد پر چڑھائی کرنے آ گئے، کے پی حکومت کو اپنی توجہ پاراچنار پر مرکوز کرنی چاہیےتھی، سپہ سالار نے اسلام آبادمیں لشکر کشی کیخلاف پوری مدد،تعاون کیا، ہمیں انٹیلی جنس ایجنسی کی پوری معاونت رہی،اللہ کےفضل سے سر کشی اور چڑھائی دم توڑ گئی، انہیں تکلیف ہے پاکستان ڈیفالٹ سےکیوں بچ گیا،بہانہ بناتےہیں 2024 کے الیکشن میں دھاندلی ہوئی۔
2018کے الیکشن میں جو ہوا اس کا تو حساب دیں، یہ نہیں ہو سکتا ہمارے لوگ شہید ہوں اور اگلے دن ہم نارمل ہوں، یہ کوئی تحریک نہیں،تخریب کاری ہے،سیاست میں فتنے اور تخریب کاری کی کوئی گنجائش نہیں، یہ جتھہ بندی ہے،اس کا ہرصورت خاتمہ کرنا ہوگا، اسلام آبادہائیکورٹ کےحکم کی دھجیاں اُڑائی گئیں،ایک شخص اپنی ذات کے لیے پاکستان قربان کرنے پر تلاہوا ہے۔پاکستان کو کسی صورت قربان نہیں کرنے دیں گے،اُس ہاتھ کوتوڑدیں گے جو پاکستان کوقربان کرناچاہتا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ کچھ لوگ چاہتے تھے ہم 2018 کے الیکشن کا بائیکاٹ کریں،اکثریت کا خیال تھا ہمیں 2018 کے الیکشن میں جانا چاہیے،بانی نے مجھے 2018 کے الیکشن پر انکوائری کمیٹی بنانے کا کہا تھا،اس کمیٹی کیلئے نام بھی آئے،آج تک صرف ایک یا2میٹنگز ہوئیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ 2018کےالیکشن میں جوہوا اس کا تو حساب دیں، بہانہ بناتےہیں2024کےالیکشن میں دھاندلی ہوئی، انہیں تکلیف ہے پاکستان ڈیفالٹ سےکیوں بچ گیا۔
معیشت کی بہتری میں وفاقی کابینہ اور آرمی چیف کا اہم کردار ہے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ملکی معیشت آہستہ آہستہ استحکام کی طرف بڑھ رہی ہے اور معیشت کی بہتری میں وفاقی کابینہ اور چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کا اہم کردار ہے۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ترقی اور خوشحالی کیلئے معاشی اور سیاسی استحکام انتہائی ضروری ہے، ترقی اور خوشحالی کیلئے ہم سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ معاشی استحکام اور خوشحالی کیلئے ٹھوس اقدامات اٹھانا ہوں گے، آئی ایم ایف پروگرام کی کامیابی میں صوبوں نے وفاق کے ساتھ بھرپور تعاون کیا، اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آگیا ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آئی ٹی کی ایکسپورٹ میں اضافہ ہوا، ترسیلات زرمیں بھی بہتری آرہی ہے، ملک میں استحکام آہستہ آہستہ آتا ہے، اندرونی سرمایہ کار ملک میں انویسٹ کرتے ہیں تو بیرونی سرمایہ کاروں کا حوصلہ بڑھتا ہے، آئی ایم ایف کی حالیہ پروگرام آخری ہوگا، اس کیلئے وفاق اور صوبوں کو مل کر چلنا ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ کہ گزشتہ روز میٹنگ کی، 80 سال کی خاتون کے اکاؤنٹ سے کلوژن کے ذریعے کروڑوں روپے ہڑپ کیے جا چکے تھے، ایک افسر نے ایف بی آر کو بروقت خط لکھا ، اکاؤنٹ سے 80 کروڑ روپے سے زائد کرپشن کی رقم تھی، کرپشن اور لیکج روکنے سے اربوں روپے قومی خزانہ میں جائیں گے تو حالات بہتر ہوں گے، سب نے میرے ساتھ ہاتھ بٹانا ہے تاکہ ملک ترقی کرے۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ ارکان کے خلاف کوئی اسکینڈل نہیں آیا، کوئی جھوٹا اسکینڈل بھی نہیں بنایا گیا، اس پر خراج تحسین پیش کرتا ہوں، وزیراعلیٰ پنجاب نے زرعی ٹیکس میں لیڈ لی، دیگرصوبے بھی ٹیکس کانفاذ کریں گے، کے پی کابینہ نے بھی زرعی ٹیکس کی منظوری دی ہے جلد وہ بھی اسمبلی میں معاملہ لے کر جائیں گے، ریکوڈک، چنیوٹ کے خزانے میں بغیر کچھ نکالے لیگل کیسز کا سامنا کرنا پڑا، کیا اس طریقے سے ملک چل سکتے ہیں، جرمنی اور جاپان نے تباہی کے بعد 60 سال میں ترقی کی منزلیں طے کیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم مل کر ملک کو خوشحال بنا سکتے ہیں، ایسا کرلیا تو دنیا کی کوئی میلی آنکھ پاکستان کی طرف نہیں دیکھ سکتی، 5 آئی پی پیز کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات حل کیے، ایک اور گروپ کے ساتھ بات چیت ہو رہی ہے، چیزیں پایہ تکمیل تک پہنچ رہی ہیں۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ اگر ہم نے قوم کیلئے قربانیاں دینی ہیں تو اشرافیہ نے دینی ہیں ناکہ غریب مسکین نے، آج اشرافیہ کے قربانی دینے کا وقت ہے، بغیر کسی کا نام لیے کہہ سکتا ہوں نوازشریف کے دور میں 2014 میں دہشت گردی کے خاتمے کا پروگرام بنا تو تمام سیاسی اور مذہبی قیادت اکٹھی موجود تھی، 2018 میں ملک کے ماتھے سے دہشت گردی کا نشان مٹ گیا، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 80 ہزار فورسز اور عوام نے قربانیاں دیں، ملک سے دہشت گردی کے ناسور کا خاتمہ کیا گیا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ہر روز دہشت گردی کے واقعات ہو رہے ہیں، دہشتگردی کے ناسور کو ختم نہ کیا تو سیاسی اتحاد کے ساتھ اقدامات کرنا ہوں گے، بلوچستان میں کالعدم بی ایل اے جو کر رہی ہے وہ بدترین ہے، ہماری پہلی دوسری تیسری ترجیح دہشت گردی کا خاتمہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ہر اہم موقع پر دھرنا ہوتا تھا، کسی نے دھرنا اور جلوس کرنے ہیں تواہم موقع کے بعد بھی ہو سکتے ہیں، فیصلہ کرنا ہوگا، دھرنے دینے ہیں یا پھر ترقی اور خوشحالی کے سفرطے کرنے ہیں۔
آرمی چیف جنرل عاصم منیر کا خطاب
آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہم سب نے ملکر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے، آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے۔
آرمی چیف جنرل سید عاصم منیرنےاپیکس کمیٹی کے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کی جنگ میں ہرپاکستانی سپاہی ہے،کوئی یونیفارم میں اور کوئی یونیفارم کے بغیرلڑ رہا ہے،ہم سب نے ملکر دہشت گردی کے ناسور سے لڑنا ہے۔
آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ہم سب پر آئین پاکستان مقدم ہے- آئین ہم پر پاکستان کی اندرونی اور بیرونی سیکورٹی کی ذمہ داری عائد کرتا ہے، جو کوئی بھی پاکستان کی سیکورٹی میں رکاوٹ بنے گا اور ہمیں اپنا کام کرنے سے روکے گا اسے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
اپیکس کمیٹی کے اجلاس سےخطاب کرتے ہوئےآرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے کہا کہ پاکستان آرمی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے گورننس میں موجود خامیوں کو روزانہ کی بنیاد پر اپنے شہیدوں کی قربانی دے کر پورا کر رہے ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف کا شوگر ملوں اور شوگر ڈیلرز سے متعلق بڑا فیصلہ
وزیراعظم محمد شہباز شریف نے چینی کی فروخت پر ٹیکس چوری، غیر دستاویزی سیلز اور قیمتوں میں اضافے کی روک تھام کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر )، وفاقی تحقیقاتی ایجنسی ( ایف آئی اے ) اور انٹیلیجنس بیورو ( آئی بی ) کو مشترکہ کارروائی کا حکم دے دیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے شوگر ملوں اور شوگر ڈیلرز سے متعلق کیے گئے بڑے فیصلے کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے جس کے مطابق شوگر کرشنگ سیزن شروع ہو رہا ہے، شوگر ملوں اور ڈیلرز سے جنرل سیلز ٹیکس ( جی ایس ٹی ) کی 100 فیصد فیصد وصولی یقینی بنائی جائے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ٹیکس چوری اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث شوگر ملز مالکان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
نوٹیفکیشن میں ہدایت کی گئی کہ شوگر ملوں میں کیمرے نصب کیے جائیں تاکہ چینی کی ذخیرہ اندوزی نہ ہو اور قیمتوں میں توازن رہے جبکہ کیمروں کے ذریعے شوگر ملوں کے پیداواری عمل اور ذخیرہ اندوزی پر نظر رکھی جائے گی، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے شوگر سٹہ مافیا کے خلاف بھی سخت کارروائی کی ہدایت کی ہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف کا ملک کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار
وزیراعظم شہباز شریف نے ملک کی معاشی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے کی ہدایت کردی۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت معیشت کی صورتحال پر جائزہ اجلاس ہوا جس میں وزارت خزانہ کی جانب سے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ ( آئی ایم ایف ) کے وفد سے ہونے والی ملاقاتوں پر بریفنگ دی گئی۔
وزیر اعظم نے ٹیکس نادہندگان کیخلاف کارروائیاں مزید تیز کرنے اور عوامی ریلیف کو ہر کسی اقدام پر ترجیح دینے کی ہدایت کی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ملک معاشی استحکام کی جانب گامزن ہے، معیشت کی ترقی کیلئے اقدامات کی بدولت اسٹاک مارکیٹ میں تیزی ہے، عوام سے کئے وعدوں پورا کرنے کیلئے ہر ممکن اقدام کررہے ہیں، مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر 7 فیصد پر آگئی ہے جبکہ شرح سود بھی 22 فیصد سے کم ہو کر 15 فیصد پر آچکی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ شرح سود میں کمی سے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ برآمدات اور ریکارڈ ترسیلات زر کی بدولت ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہوا، زرعی شعبے میں اصلاحات پر وزیراعلیٰ اور پنجاب حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس نادہندگان کے خلاف کاروائیوں میں تیزی لائی جائے، ٹیکس چوروں اور ان کی معاونت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچا کررہیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تمام شعبوں کو ٹیکس ادا کرکے ملکی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا
وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی اپیکس کمیٹی کا اجلاس کل ہوگا۔
نیشنل ایکشن پلان پر مرکزی اپیکس کمیٹی کا اجلاس پیر کو ہوگا جس کی صدارت وزیر اعظم شہباز شریف کریں گے جبکہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل عاصم منیر بھی اجلاس میں شریک ہوں گے۔
وزارت داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق نیشنل ایکشن پلان پر اپیکس کمیٹی کا اجلاس وزیراعظم ہاؤس میں ہوگا جس میں ملک کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال سے متعلق امور پرغورکیا جائے گا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، وفاقی وزرا، وزیراعظم آزاد کشمیر اور چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے ساتھ عسکری قیادت بھی اجلاس میں شریک ہوگی۔
وفاقی وزیر ترقی و منصوبہ بندی، وزیر مذہبی امور کے علاوہ نادرا اور ایف بی آر کے چیئرمین اور چیف کمشنر اسلام آباد کو بھی خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی اپنا کوئی ایک منصوبہ دکھا دے جس پر وہ فخر ہو،عمران خان حکومت کی کارکردگی صفر ہے،نواز شریف
نوازشریف کا کہنا ہے کہ خداخداکرکےمعیشت کوشہبازشریف حکومت ٹھیک کررہی ہے، بانی پی ٹی آئی نےجنرل باجوہ اورفیض حمیدسےملکرہمارےخلاف کیاکچھ نہیں کیا ہے۔
لندن میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کےلیےلوگ کیوں نکلیں گے؟ قوم انکےکس کارنامےپرباہرنکلے،انکی کارکردگئی صفر ہے،میں3مرتبہ وزیراعظم رہا ہوں مجھےجیل میں اطلاع ملی کہ تمہاری بیوی فوت ہوگئی ہے، ہم نے بدترین ظلم برداشت کیے ہیں۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ ہم نے بدترین ظلم برداشت کئے ہیں، یہ کس بات کا طعنہ دیتے ہیں ،پی ٹی آئی اپنا کوئی ایک منصوبہ دکھا دے جس پر وہ فخر کر سکیں،عمران خان حکومت کی کارکردگی صفر ہے،عدلیہ سے ساز باز کر کہ ایک منتخب وزیراعظم کو ہٹایا گیا ہےانہوں نے پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کے علاوہ کچھ نہیں کیا۔
انھوں نے کہا کہ خداخداکرکےمعیشت کوشہبازشریف حکومت ٹھیک کررہی ہے،معاشی اشاریےبہترہورہےہیں چھبیسویں آئینی ترمیم خوش آیند اور بہترین ہے،پارلیمنٹ نےپہلےبھی ایسی ترمیم کی جسےاس وقت کی عدلیہ نےختم کیا،پارلیمنٹ کوماضی میں بھی عدلیہ کےغلط فیصلےکےسامنےکھڑاہوناچاہیےتھااگر دوبارہ خلل نہ ڈالا گیا تو ہم حالات سنوار لیں گے۔
مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے، بلاول بھٹو
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے،26ویں آئینی ترمیم میں مصروف تھا،حکومت نے پیٹھ پیچھے کینالز کی منظوری دی۔
پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری حکومت سے ناراض ہیں شکوؤں کے انبار لگادیئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاق میں نہ عزت دی جاتی ہےنہ سیاست کی جاتی ہے، طے ہوا تھاکہ پی ایس ڈی پی مشاورت سے بنائی جائےگی، مسلم لیگ ن پیپلزپارٹی کےساتھ معاہدے کی خلاف ورزی کررہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ26ویں آئینی ترمیم میں مصروف تھا،حکومت نے پیٹھ پیچھے کینالز کی منظوری دی،قانون سازی پر پوری طرح سے مشاورت ہونی چاہیے،جوڈیشل کمیشن سے احتجاجاً الگ ہوا ہوں،اگر جوڈیشل کمیشن میں ہوتا تو آئینی بینچ میں فرق پر بات کرتا،آئین سازی کے وقت حکومت اپنی باتوں سے پیچھے ہٹ گئی۔
پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ دیہی سندھ سے سپریم کورٹ میں ججز ہوتے تو برابری کی بات کرتا،ہمیں انصاف کے سب سےبڑےادارے میں برابری کی نمائندگی چاہیے، ایک ملک میں دو نظام نہیں چل سکتے،وفاقی آئینی بینچ میں الگ اور سندھ کیلئے الگ طریقہ اختیار کیاگیا ہے ۔
چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کامزید کہنا تھا کہ سندھ کے ساتھ بار بار تفریق اور الگ سلوک نظرآتاہے کچھ ججز کا طریقہ ہے کہ بینچ سے سیاست کریں،چیف جسٹس،آئینی بینچ کے سربراہ کو غیر متنازعہ ہوناچاہیے،وفاقی حکومت نے آئین سازی کے وقت برابری کی باتیں کی تھیں،جب تک لوئرکورٹس میں اصلاحات نہ ہوں مشن نامکمل ہے۔
ماحولیاتی آلودگی کیخلاف اقدامات اکیلے نہیں کرسکتے، عالمی برادری کی مدد کی ضرورت ہوگی، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ہم ماحولیاتی آلودگی کے خلاف جو اقدامات چاہتے ہیں وہ اکیلے نہیں کرسکتے، ہمیں عالمی برادری کی حمایت اور مدد کی ضرورت ہے۔
باکو میں کوپ 29 سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ صدر الہام علیوف کو کوپ 29 کے کامیاب انعقاد پر مبارکباد دیتا ہوں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کئی ممالک ماحولیاتی ممالک سے متاثر ہوچکے ہیں، مزید درجنوں ممالک اس کے تباہ کن اثرات سے متاثر ہونگے، پاکستان کو ماحولیاتی آلودگی کے بدترین اثرات کا سامنا ہے، 2022 میں پاکستان میں لاکھوں ایکڑ زمین اور فصلین تباہ ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ان ممالک میں سے ایک ہے جن کا کاربن کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، اس کے باوجود ہم ماحولیاتی آلودگی سے شدید متاثر ہونے والے دس ممالک میں شامل ہیں، ہم 2030 تک 60 فیصد توانائی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہیں، پاکستان جس تباہی کا سامنا کیا کوئی اور ملک شاید نہ کرسکے، ہم گلوبل کلائمیٹ سلوشن کا حصہ بننے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ماحولیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے 2022 کے سیلاب کا سامنا کرنا پڑا، 2022 سیلاب میں کروڑوں لوگ متاثر ہوئے ، کھلےآسمان تلے رہنے پر مجبور ہوئے، سیلاب کے باعث اسکول، گھر اور فصلوں کو شدید نقصان پہنچا، سیلاب کے باعث پاکستان کو 30 ارب ڈالر کا نقصان ہوا۔
انہوں نے کہا کہ ہم گلوبل وارننگ سے ہونے والے نقصانات کو روکنے میں ناکام رہے ہیں، 2022 میں پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک کو بھی ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث مسائل ہوئے، اس دہائی کے آخر تک پاکستان 30 فیصد گاڑیوں کو متبادل توانائی پر منتقل کرے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ شیری رحمان ماحولیاتی تبدیلیوں سے متعلق بھرپور اقدامات کر رہی ہیں، مستقبل کیلئے اقدامات نہ کیے تو بھاری نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے، 2 سال پہلے کہا تھا مستقبل ہمارے جامع اقدامات کا متقاضی ہے، نہیں چاہتے کہ دیگر ممالک کو بھی پاکستان کی طرح سیلاب جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑے۔
انہوں نے کہا کہ کوپ 27 اور کوپ 28 میں جو وعدے ہوئے آج انہیں پورا کرنے کا موقع ہے، 10 برس پہلے پیرس میں جو وعدے ہوئے تھے ان پر عمل نہیں ہوسکا۔
ان کا کہنا تھا کہ ترقی پذیر ممالک کو 2030 وژن پرعملدرآمد کیلئے 6.8 ٹریلین ڈالر کی ضرورت ہے،میں سمجھتا ہوں کہ کلائمیٹ فنانس کو گرانڈ کی شکل دینی چاہے، ترقی پذیرممالک کلائمٹ فنانس کے نام پر قرض کے متحمل نہیں ہوسکتے۔
وزیراعظم سے انفارمیشن گروپ کے پروبیشنری افسران کی ملاقات
وزیراعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے پروبیشنری افسران نے ملاقات کی ہے جس کے دوران وزیراعظم نے اُمید ظاہر کی کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری،پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی بہبود کے لیے مضبوط عزم کے ساتھ ادا کریں گے۔
ہفتہ کو وزیر اعظم محمد شہباز شریف سے انفارمیشن گروپ کے اکاونویں کامن ٹریننگ پروگرام کے پروبیشنری افسران نے وزیر اعظم ہاؤس میں ملاقات کی جبکہ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ اور وفاقی سیکرٹری اطلاعات و نشریات عنبرین جان بھی ملاقات میں موجود تھیں۔
پروبیشنری افسران، اپنی ٹریننگ مکمل ہونے کے بعد وزارت کے مختلف اداروں میں اپنی تعیناتی کے منتظر ہیں۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم نے کہا کہ حکومت اور عوام کے درمیان فاصلوں کو ختم کرنے، شفافیت کو یقینی بنانے اور اعتماد کو فروغ دینے میں انفارمیشن گروپ کے افسران کا اہم کردار ہے۔
وزیر اعظم نے دور حاضر کے تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے میڈیا کے منظر نامے میں مؤثر ابلاغ کی اہمیت پر زور دیا۔
انہوں نے افسران کی حوصلہ افزائی کی اور اس امید کا اظہار کیا کہ تمام افسران اپنی ذمہ داریوں کو دیانتداری، پیشہ ورانہ مہارت اور عوامی بہبود کے لیے مضبوط عزم کے ساتھ ادا کریں گے۔
اس موقع پر افسران نے ملک کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پاکستان اورابوظہبی کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے 4 ایم او یو سائن
پاکستان اور ابوظہبی پورٹس کمپنی کے درمیان ریلوے ، کسٹمز، ایئر پورٹس، بحری امور سمیت مختلف شعبو ں میں تعاون سے متعلق مفاہمت کی چار یاداشتوں پر دستخط ہوگئے ۔
اسلام آباد وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں وزیراعظم شہباز شریف سمیت پاکستان اور ابو ظہبی کی اعلیٰ سرکاری و سفارتی اور کاروباری شخصیات نے شرکت کی ۔
وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والی تقریب میں چار مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط ہوئے ان میں کوہاٹ، تھر، کھرلاچی ریلوے لائن کی تعمیر ، پاکستان کسٹمز کے محصولات میں اضافہ، ٹرانزٹ کارگو کی ٹریکنگ اور دیگر اصلاحات کے ایم او یوز شامل ہیں۔
شپنگ اور دیگر بحری امور میں تعاون پر پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن کراچی پورٹ ٹرسٹ اور ابو ظہبی پورٹس کمپنی کے مابین مفاہمتی یادداشت پر بھی دستخط ہوئے ۔
تقریب کے دوران پاکستان میں ائیرپورٹس کی تعمیر و توسیع کے لیے پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی اور ابو ظہبی پورٹس کمپنی کے مابین مفاہمتی یادداشت کی دستاویزات کا تبادلہ بھی کیا گیا ۔
وزیر اعظم نے گلگت میں تھاگوس رمدے یونیورسٹی کا سنگ بنیاد رکھ دیا
وزیر اعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان میں تھاگوس رمدے یونیورسٹی کا سنگ بنیاد اسلام آباد میں رکھ دیا ۔
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں منعقدہ سنگ بنیاد کی تقریب سے خطاب میں وزیر اعظم نے جسٹس ریٹائرڈ خلیل الرحمن رمدے اور تمام احباب کو مبارک پیش کی اور کہا آج ہم سب نے مل کر یہاں کے بچوں اور بچیوں کے روشن مستقبل کی بنیاد رکھی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تعلیم کے فروغ میں نجی شعبے کا کردار انتہائی اہم ہے، یقین ہے کہ یونیورسٹی جدید علوم اور تحقیق کے معیار کی بلند چوٹیاں سرکرے گی اور گھانچے جیسے دور دراز علاقے میں اعلیٰ تعلیم کے ادارے کا قیام انتہائی خوش آئند ہے۔
تقریب میں بریفنگ کے دوران جسٹس خیل الرحمان رمدے نے بتایا رمدے یونیورسٹی گلگت بلتستان کےعلاقےتھاگوس میں دو سو کنال رقبے پر قائم کی جارہی ہے جو دنیا کی بلند ترین مقامات پر تعمیر کی جانے والی یونیورسٹیوں میں سے ایک ہوگی۔
رمدے یونیورسٹی کی تعمیراندرون وبیرون ملک مخیر حضرات کے تعاون سے مکمل ہوگی۔
چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے، شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف کی چینی سفارتخانے آمد ہوئی جہاں انہوں نے چینی سفیر جیانگ زائیڈونگ سے ملاقات کی جبکہ اس موقع پر نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وزیرِداخلہ محسن رضا نقوی اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیرِاعظم کے ہمراہ تھے۔
ملاقات کے دوران وزیرِاعظم نے گزشتہ روز کراچی میں چینی شہریوں پر فائرنگ کے واقعے کی مذمت کی اور چینی سفیر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ چینی شہریوں پر حملے کی مذمت کرنے اور زخمیوں کی بیمار پرسی کیلئے آپ سے ملنے آیا ہوں۔
وزیر اعظم نے چینی سفیر کو ذمہ داران کو جلد گرفت میں لے کر انہیں قرار واقعی سزا دلوانے کی یقین دہانی بھی کروائی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ واقعہ میں ملوث افراد کو گرفت میں لینے اور قرار واقعی سزا دلوانے کے عمل کی بذات خود نگرانی کر رہا ہوں، زخمی چینی شہریوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دے چکے ہیں اور ان کی صحت بہتر ہو رہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ چین پاکستان کا دیرینہ دوست ہے اور چینی شہریوں پر حملہ پاک ، چین برادرانہ تعلقات کو نقصان پہنچانے کی مزموم کوشش ہے، پاکستان میں کام کرنے والے چینی شہریوں کی سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
چینی سفیر نے وزیرِاعظم شہبازشریف کی سفارتخانے آمد پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ امید ہے وزیر اعظم واقعہ کے ذمہ داروں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم کا گلگت بلتستان کیلئے 100 میگاواٹ بجلی کی فوری فراہمی کا اعلان
وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کیلئے 100 میگاواٹ بجلی کی فوری فراہمی کا اعلان کرتے ہوئے ضلع غذر میں بجلی ، تعلیمی اداروں اور کھیل کے میدانوں سمیت دیگر سہولیات کی فراہمی کی ہدایت کردی۔
بدھ کو وزیراعظم شہباز شریف نے گلگلت بلتستان کا دورہ کیا جس کے دوران کابینہ کے خصوصی اجلاس کی صدرات بھی کی اور ضلع غذر کے گاؤں بوبر میں سیلاب متاثرین کیلئے گھروں کی تعمیر کی بروقت تکمیل پر اظہار اطمینان کیا۔
وزیر اعظم نے بلتستان یونیورسٹی اور قراقرم یونیورسٹی کے طلباء کیلئے 1 ارب روپے کے اینڈؤمینٹ فنڈ کے قیام کا اعلان بھی کیا جبکہ اجلاس میں وزیراعظم کو گلگت بلتستان میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیشرفت پر بریفنگ دی گئی۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ 2022 کے سیلاب سے متاثرہ بوبر گاؤں میں نئے گھروں کو دیکھ خوشی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ پنجاب کی طرز پر جی بی میں شعبہ تعلیم کی ترقی کیلئے دانش اسکول متعارف کرا رہے ہیں، وفاقی حکومت گلگت بلتستان کی عوام کی فلاح و بہبود کیلئے دن رات سرگرم عمل ہے، ماضی میں بطور وزیر اعلیٰ پنجاب، جی بی شعبہ تعلیم کیلئے بطور تحفہ 1 ارب روپے دیے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ گلگت بلتستان کے تمام شعبوں کی ترقی ہماری اوٌلین ترجیحات میں شامل ہے، حالیہ معاشی استحکام میں وفاقی حکومت کیساتھ تمام صوبوں کا تعاون انتہائی اہم رہا ہے، اسٹاک ایکسچینج 92 ہزار کی تاریخی سطح عبور کر چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملکی ترسیلات زر، ٹیکس فائلرز کی تعداد میں اضافہ اور مہنگائی میں کمی خوش آئند ہے، ملکی ترقی کے سفر میں تمام صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کا تعاون کلیدی ہے، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا فاٹا کے ضم اضلاع اور بلوچستان کی ترقی پر پوری توجہ مرکوز ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت گلگت بلتستان میں شعبہ سیاحت کے فروغ کیلئے اقدامات اٹھا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ قطری سرمایہ کار جی بی شعبہ سیاحت میں سرمایہ کاری کیلئے دلچسپی کا اظہار کر چکے ہیں۔
پارلیمنٹ میں مسلح افواج کے سربراہان کی مدت ملازمت اور سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے کے بل متفقہ طور پر منظور
سینیٹ اور قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد بڑھانے اور سروسزچیفس کی مدت ملازمت 3سے بڑھا کر 5 سال کرنے کا ترمیمی بل 2024 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا، بل کے تحت سپریم کورٹ میں ججز کی تعداد 17سے بڑھا کر 34 کردی گئی، سروسزچیفس کی ریٹائرمنٹ کیلئے 64 سال عمر کی حد بھی ختم کر دی گئی ایوان نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ اور آرمی ایکٹ کی ترمیم کا بل بھی کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے پریکٹس اینڈ پروسیجرترمیمی بل قومی اسمبلی میں پیش کیا ۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے قومی اسمبلی کے اجلاس کی صدارت کی، اجلاس شروع ہوتے ہی وفاقی وزیر قانون اعظم تارڑ نے سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد بڑھانے کی ترمیم کے بل کی تحریک پیش کی اور تحریک کی منظوری کے بعد سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد بڑھانے سے متعلق پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی آرڈینینس ایوان میں پیش کیا ۔اسپیکر قومی اسمبلی کی ووٹنگ کے بعد بل کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔
وزیر قانون نے سپریم کورٹ اور ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد اضافہ کے ترمیمی بل 2024 ضمنی ایجنڈے میں پیش کئے۔ ترمیم کے متن پڑھا کر وزیر قانون نے بتایا کہ سپریم کورٹ میں ججزکی تعدادبڑھاکر34کی جارہی ہے،اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججز کی تعداد9 سے بڑھا کر 12کی جارہی ہے۔
نئے ترمیمی ایکٹ کے مطابق چیف جسٹس ،سینئر ترین جج اور آئینی بینچ کے سربراہ کمیٹی کا حصہ ہوں گےآئینی بینچ کےسینئررکن کےچناؤتک کمیٹی دورکنی ہوگی، آئینی بینچ کےسینئررکن سےپہلےکمیٹی میں چیف جسٹس اورسینئرترین جج ہی شامل ہوں گےکوئی رکن انکارکرےتوچیف جسٹس کسی اورجج کو شامل کرسکیں گے۔
آرمی ایکٹ میں ترمیم
وزیردفاع خواجہ آصف نے آرمی ایکٹ ترمیمی بل2024 پیش کیا آرمی ایکٹ میں ترمیم کابل 2024 قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا،ایئرفورس ایکٹ میں ترمیم کا بل 2024بھی قومی اسمبلی میں منظور ہوگیا، نیوی ایکٹ میں ترمیم کا بل 2024بھی قومی اسمبلی میں منظور کر لیا گیا ہے۔
پاس ہونے والے نئے ترمیمی ایکٹ کے مطابق سروسزچیفس کی مدت ملازمت 3سے بڑھاکر5سال کردی گئی سروسزچیفس کوتوسیع کی مدت بھی3سےبڑھاکر5سال کردی گئی، سروسزچیفس کی ریٹائرمنٹ کیلئے64سال عمرکی حدبھی ختم کردی گئی،سروسزچیفس کی توسیع کےدوران رینک کی مدت یاعمرکی پابندی کااطلاق نہیں ہوگا۔
بل کے تحت پاک فوج میں جنرل کی ریٹائرمنٹ کے قواعد کا اطلاق آرمی چیف پر نہیں ہوگا، تعیناتی، دوبارہ تعیناتی یا ایکسٹینشن کی صورت آرمی چیف بطور جنرل کام کرتا رہے گا۔ بعدازاں ایوان نے پاکستان آرمی ایکٹ ترمیمی بل 2024 بھی کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
قومی اسمبلی میں جھگڑا
قومی اسمبلی اجلاس میں ایک بار لڑائی شدت اختیار کرنے لگی ،پی ٹی آئی اراکین کی حکومتی ارکان سےہاتھا پائی ہوئی،سارجنٹ ایٹ آرمز پی ٹی آئی اراکین کے سامنے دیوار بن گئےعطا تارڑلیگی اراکین اورپی ٹی آئی کےارکان کےدرمیان نعرےبازی بھی کی گئی، اپوزیشن ارکان نے بل کی کاپیاں پھاڑ دیں۔
قومی اسمبلی اجلاس کل صبح 11 بجے تک ملتوی کر دیا گیا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی اجلاس سے قبل ملاقاتیں:۔
قومی اسمبلی کے اجلاس سے پہلے وزیراعظم شہبازشریف سےارکان قومی اسمبلی مبارک زیب اوراورنگزیب کھچی کی الگ الگ ملاقاتیں ہوئیں،دونوں ارکان نےحکومت کی پالیسیوں پرمکمل اعتمادکااظہارکیادونوں ارکان نےحکومت کی حمایت جاری رکھنےکےعزم کااظہارکیاوزیراقتصادی اموراحدچیمہ اوروزیراطلاعات عطاتارڑبھی ملاقات میں موجود تھے۔
اپوزیشن رہنماؤں کی پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نےپارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قانون سازی کایہ طریقہ کاردرست نہیں،مدت ملازمت میں اضافہ نہیں ہوناچاہیے حکومت نےکمیٹی میں کہاججز کی تعداد بڑھانا چاہتے ہیں،اس معاملے پر قومی اسمبلی میں بحث ہونی چاہیے، پارلیمان کے اندر آئین کی دھجیاں اڑائی گئیں ،ہم مذمت کرتے ہیںیہ لوگ ملک قیوم کورٹ بنانا چاہ رہے ہیں۔
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ حکومت نےسپریم کورٹ پریکٹس اینڈپروسیجراورآرمی ایکٹ میں ترمیم کی،اپوزیشن کو ٹائم دیےبغیر بل بلڈوز کیے گئے، یہ ترمیم حکومت اور فوج کیلئے اچھی نہیں، یہی قوانین شہباز شریف اور پی پی کیخلاف استعمال ہوں گے، اُس وقت پی پی اور ن لیگ کے پاس بھاگنے کاراستہ نہیں ہوگا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ کوئی بھی بل رولز کے تحت منظور نہیں ہوا، بل نہ قائمہ کمیٹی میں گئے نہ بحث ہوئی ،سپریم کورٹ کے ججز کی تعداد34 کر دی گئی ہے، بھارت میں اس وقت صرف 33ججز ہیں، یہ سپریم کورٹ میں اپنے ججز بٹھانا چاہ رہے ہیں، یہ ان کی بھول ہے، ریاست کے ایک ستون کو کمزور کرنا حکومت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے، اس وقت ہائی ملک کی ہائی کورٹس کے 96 ججز ہیں ۔
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ کو 3 سال توسیع دی گئی اُس میں جواز موجود تھا، جنرل باجوہ کی مدت ملازمت میں توسیع کیلئے سپریم کورٹ نے قانون سازی کا کہا تھا، اب پہلی تقرری ہی 5 سال کی ہوگی، آئین کا آرٹیکل 243 کچھ اور کہتا ہے ،حکومت کی جانب سے کی جانے والی قانون سازی غلط ہے، ہمارے فیصلے کور کمیٹی اور سیاسی کمیٹی کرے گی۔
ملک میں انتشار پھیلانے اور ملک کو دیوالیہ کرنے کے دہانے پر پہنچانے والوں کے ناپاک منصوبے ناکام ہوئے،وزیراعظم
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے اور آپ سب کی کوششوں سے پاکستان کی معیشت مستحکم ہو رہی ہے، ملک میں انتشار پھیلانے اور خدا نہ خواستہ ملک کو دیوالیہ کرنے کے دہانے پر پہنچانے والوں کے ناپاک منصوبے ناکام ہوئے ہیں۔
اسلام آباد میں وزیراعظم شہباز شریف کی زیرصدارت پاکستان مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اسٹیٹ بینک نے بھی شرح سود میں 250 پوائنٹس کی کمی کردی، شرح سود 17.5 فیصد سے 15 فیصد پر آنا خوش آئند ہے،شرح سود میں کمی سے ملک میں کاروباری سرگرمیوں، برآمدات اور روزگار کے مواقع میں اضافہ ہوگا۔
اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ مہنگائی کی شرح 38 فیصد سے کم ہوکر 7 فیصد تک آگئی، قومی و بین الاقوامی ادارے ملکی معیشت کے استحکام کی گواہی دے رہے ہیں ملک کی بقاء کی خاطر اپنی سیاست کی قربانی دینے والوں کو تاریخ ہمیشہ اچھے الفاظ میں یاد رکھے گی،مؤرخ جب تاریخ لکھے گا تو واضح طور پر ملک کے خیر خواہوں اور آئی ایم ایف کو قرض دینے سے روکنے کیلئے خط لکھنے والوں کے بارے لکھے گا۔
وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آپ سب وہ عظیم لوگ ہیں جنہوں نے اپنی سیاست کی پرواہ کئے بغیر 24 کروڑ عوام کے بارے سوچا،حالیہ دورہِ سعودی عرب میں پاکستان سعودیہ سرمایہ کاری شراکت داری میں نئے باب کا اضافہ ہوا ہے،فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں سعودی قیادت بالخصوص ولی عہد عزت مآب محمد بن سلمان سے تفصیلی گفتگو ہوئی،سعودی عرب پاکستان کا دیرینہ دوست اور شراکت دار ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ سعودی قیادت نے پاکستان کی معیشت کے استحکام اور ترقی کیلئے ہر قسم کی معاونت کی یقین دہانی کروائی ہےسعودیہ کی پاکستان میں حالیہ سرمایہ کاری کا حجم 2.2 ارب ڈالر سے بڑھ کر 2.8 ارب ڈالر ہو جائے گااپنے دورہءِ قطر کے دوران قطری قیادت نے بھی پاکستان میں سرمایہ کاری کے اضافے کی یقین دہانی کروائی ہے، پاکستان میں قطری سرمایہ کاری کے 3 ارب ڈالر کو منصوبوں کی شکل دینے کی بات ہوئی ہے۔
قطر پاکستان کے ہوابازی، ہوٹلنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور توانائی سمیت دیگر مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کرے گا،حکومت پاکستان میں سرمایہ کاری کی سہولت اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہےپاکستان کے ہر شعبے میں اصلاحات کا ایجنڈا نافذ کر رہے ہیں،ایف بی آر کو ہدایت کی ہے کہ ایسے لوگ جو ٹیکس دیتے ہیں وہ پاکستان کے سفیر ہیں، ان کی تکریم کی جائے۔
اجلاس میں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا کہنا تھا کہ ایسے لوگ جو ٹیکس دینے کے اہل ہونے کے باوجود ٹیکس چوری کرتے ہیں اور افسران جو انکی چوری میں معاونت کرتے ہیں انکے خلاف گھیرا تنگ کیا جائےاجلاس میں پارلیمانی پارٹی کو قومی اسمبلی میں مجوزہ قانون سازی کے بِل کے حوالے سے بھی اعتماد میں لیا گیا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف اگلے ہفتے دوبارہ سعودی عرب جائیں گے
وزیر اعظم شہباز شریف اگلے ہفتے دوبارہ سعودی عرب جائیں گے۔
سعودی عرب میں آئندہ ہفتے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر عرب اسلامی سربراہ کانفرنس ہوگی جس میں شرکت کے لئے وزیر اعظم شہباز شریف بھی جائیں گے۔
وزیراعظم کانفرنس میں شرکت کیلئے 10 نومبر کو سعودی دارالحکومت ریاض پہنچیں گے۔
سعودی میزبانی میں دوسری عرب اسلامی سربراہی کانفرنس 11 نومبر کو ہوگی جس میں فلسطین ،لبنان سمیت خطے کی صورتحال کا جائزہ لیا جائے گا۔
کانفرنس کے دوران اسلامی ممالک کے رہنما مشرق وسطی کی صورتحال پر تجاویز دیں گے۔
پاکستان میں قطر 3 ارب ڈالر اور سعودی عرب2.8ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرےگا، وفاقی وزیر اطلاعات
وفاقی وزیر اطلاعات عطاللہ تارڑ کا کہنا ہے کہ قطر پاکستان میں تین ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرےگا اورپاکستان میں سعودی سرمایہ کاری بڑھ کر دو ارب اسی کروڑ ڈالر ہوگئی ہے۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم کے سعودی عرب اور قطر کے دورے انتہائی کامیاب رہے، قطر پاکستان میں 3 ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کرےگا، معاملات کو حتمی شکل دینے کیلئے قطر کا وفد جلد پاکستان کا دورہ کرےگا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ سعودی سرمایہ کاری 2.2ارب ڈالر سے بڑھ کراب 2.8ارب ڈالرہوگئی ہے ،پاکستان کے ساتھ سعودی ایم اویوز27کے بجائے34ہوگئےہیں حکومت ریفارمز کے مرحلے سے نکل کر استحکام کی جانب گامزن ہے، شرح سود اور مہنگائی میں کمی ہو رہی ہےریکارڈ ترسیلات زر آئیں ۔
وزیراطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں دہشت گردوں کو پاکستان واپس لایا گیا، خیبرپختونخوا حکومت کی انسداد دہشتگردی پرکوئی توجہ نہیں ،وزیراعلٰی خیبرپختونخوا معاملات چلانے کےاہل ہی نہیں ہیں۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی قطری قیادت سے اہم ملاقاتیں، مشترکہ اقتصادی اہداف پر تبادلہ خیال
وزیر اعظم شہباز شریف نے دورہ قطر کے دوران امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی اور قطری ہم منصب محمد بن عبدالرحمن الثانی سے ملاقاتیں کی ہیں جن کے دوران غزہ پر اسرائیلی جارحیت روکنے، دوطرفہ تعلقات مضبوط تر بنانے، تجارت ، توانائی ، ثقافت اور دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بات چیت اور علاقائی صورتحال ، اسٹریٹجک تعلقات اور مشترکہ اقتصادی اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت بھی دی ۔
وزیراعظم شہباز شریف کے دورہ قطر کے دوسرے روز دوحہ میں اہم ملاقاتوں کا سلسلہ جاری رہا، امیر قطر اور قطری ہم منصب سے الگ الگ ون آن ون اور پھر وفود کی سطح پر ملاقاتیں ہوئیں جن کے دوران علاقائی صورتحال ، مشترکہ اقتصادی ، تجارتی ، توانائی اور ثقافتی شعبوں میں تعاون پر بات چیت کی گئی۔
وزیراعظم نے فلسطین کے حق میں قطر کی مضبوط حمایت اور اقوام متحدہ میں فلسطینیوں کے حقوق کی وکالت پر قطری امیر کی کوششوں کو سراہا اور متاثرہ فلسطینیوں تک امداد کی فراہمی یقینی بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں جاری ظلم کو روکے بغیر عالمی امن ممکن نہیں۔
وزیراعظم نے علاقائی امن و استحکام کے لیے قطری ثالثی اور دیگر کوششیں ابل تعریف قرار دیں اور امیر قطر کو دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی جسے خوش دلی سے قبول کیا گیا ۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قطری سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی اور بیرونی سرمایہ کاروں کو سازگار ماحول فراہم کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ۔
نمائش " منظر " کی افتتاحی تقریب سے خطاب
وزیراعظم شہبازشریف نے نیشنل میوزم آف قطر میں نمائش " منظر" کی افتتاحی تقریب سے خطاب بھی کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ قطر ہمارا دوسرا گھر ہے ، قطر کے امیرکی جانب سے دورے کی دعوت پر مشکور ہوں ، منظر نمائش کے ذریعے پاکستان کے ثقافتی ورثے کو اُجاگر کرنے کا موقع ملا ، نمائش سے دونوں ممالک کی ثقافت اُجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ نمائش پاکستان اور قطر کے درمیان مضبوط تعلقات کی عکاس ہے ، نمائش کے انعقاد پر قطر میں مقیم پاکستانیوں کومبارکباد پیش کرتا ہوں ، قطری قیادت کے دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط کرنے کے عزم کو سراہتے ہیں۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قطر میں مقیم پاکستانی دونوں ممالک کے تعلقات مستحکم بنانےمیں کردار ادا کر رہے ہیں ، پاکستان 5 ہزار سال کا قدیم تہذیبی ورثہ رکھتا ہے ، قطرمیوزیم کے ذریعے ثقافتی سفارتکاری کو فروغ دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف کا دورہ سعودی عرب مکمل، قطر روانہ
تفصیلات کے مطابق ریاض کے نائب گورنر شہزادہ عبدالرحمن نے وزیراعظم شہبازشریف کو الوداع کیا، سعودی عرب میں پاکستانی سفیر اور اعلی سفارتی افسران و اہلکار بھی موجود تھے، وزیراعظم نے ریاض میں فیوچرانویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں شرکت اور خطاب کیا ، شہباز شریف نے فورم میں پاکستان کی سرمایہ کاری کی استعداد پر روشنی ڈالی ، معاشی اصلاحات اور سرمایہ کاری کیلئے حکومتی اقدامات کو اجاگر کیا۔
دورہ سعودی عرب کے دوران وزیراعظم نے ولی عہد محمد بن سلمان سمیت اعلیٰ قیادت سے دو طرفہ ملاقاتیں کیں، ملاقاتوں میں دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات کے مزید فروغ پر گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم کے وفد میں وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر خزانہ محمد اورنگزیب شامل ہیں جبکہ وزیرنجکاری عبدالعلیم خان، وزیرپیٹرولیم مصدق ملک، وزیرتجارت جام کمال بھی ہمراہ ہیں ۔ وزیر اطلاعات عطاءاللہ تارڑ بھی وزیراعظم کے ہمراہ ریاض سے قطر روانہ ہوئے۔
سعودی عرب سمیت عالمی شراکت داروں کے تعاون سے ترقی کا عمل آگے بڑھائیں گے، وزیر اعظم
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سعودی عرب سمیت عالمی شراکت داروں کے تعاون سے ترقی کا عمل آگے بڑھائیں گے۔
سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں فیوچر انوسٹمنٹ اینیشیٹو سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کانفرنس کے انعقاد پر سعودی فرمانروا اور ولی عہد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں، ان کا ترقی سے متعلق وژن قابل ستائش ہے، پاکستان ترقی اور استحکام کی راہ پرگامزن ہے، عوام کی خوشحالی ہماری اولین ترجیح ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور دوست ملکوں کے تعاون سے معاشی استحکام ممکن ہوا، ہم مل کر ہی مشترکہ مستقبل اور ترقی کی منزل حاصل کرسکتے ہیں، یہ صرف ہماری نہیں بلکہ تمام شراکت داروں کی کامیابی ہے۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ نوجوان نسل ہمارا قیمتی اثاثہ ہے، نوجوانوں کی ترقی کیلئے خصوصی منصوبے شروع کیے۔
انہوں نے کہا کہ نوجوانوں پر سرمایہ کاری مشترکہ مستقبل کیلئے ضروری ہے، علم پر مبنی معیشت پر خصوصی توجہ دے رہے ہیں، ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت نے انقلاب برپا کر دیا، مصنوعی ذہانت سمیت آئی ٹی کی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز ہے،سعودی عرب ، عالمی شراکت داروں کے تعاون سے ترقی کا عمل آگے بڑھائیں گے، تعلیمی اصلاحات کے ساتھ ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر بھی کام کر رہے ہیں، میری حکومت نے معیاری تعلیم کو تمام شہریوں تک پہنچایا۔
ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک دوسرے کی مدد کے بغیر مستقبل کو بہتر نہیں بنا سکتا، آج تمام سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ لگانے کی دعوت دیتا ہوں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ بندی اور امن کے بغیر دنیا ترقی کی راہ پر آگے نہیں بڑھ سکتی۔
فواد چوہدری کے پارٹی میں واپس آنے کے حق میں نہیں ہوں،شیرافضل مروت
رکن قومی اسمبلی شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ فوادچوہدری نے پی ٹی آئی کا مذاق اڑایا ہے،ان کے واپس آنے کے حق میں نہیں ہوں۔
اسلام آباد میں پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی ) کے رکن اسمبلی شیر افضل مروت نے پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اُمیدہےکہ فل کورٹ ریفرنس میں26ویں آئینی ترمیم کا جائزہ لیا جائے گا،سینیٹ مکمل ہے نہ قومی اسمبلی، پارلیمان ترمیم لانے کا مجاز ہی نہیں تھا۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا جمہوریت کی دعوے دار سیاسی جماعتیں کیوں کر ملٹری کورٹس کی بات کریں گی، کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا، پیپلز پارٹی اور ن لیگ ملکر نئی آئینی ترامیم لائیں تو اُن کے پاس لوگوں کو دکھانے کیلئے کوئی چہرہ نہیں ہوگا، یہ لوگ ترامیم کے نام پر مٹی پلیدکر رہے ہیں پارلیمان کی، اب سپریم کورٹ میں جو تبدیلی آئی ہے امید کرتے ہیں کہ ہمارے کیسز لگ جائیں گے۔
پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی ) کے رہنما شیر افضل مروت نے سابق رہنما پی ٹی آئی فواد چودھر ی کے بارے میں کہا کہ فواد چوہدری کے پارٹی میں واپس آنے کے حق میں نہیں ہوں، فوادچوہدری نے پی ٹی آئی کا مذاق اڑایا ہے۔
وزیرقانون اعظم نذیرتارڑ کی27ویں آئینی ترمیم لانے کی تردید
وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نذیر تارڑ نے 27 ویں ترمیم لانے سے متعلق چلنے والی تمام خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ کوئی 27 ویں ترمیم لانے کی تیاری نہیں کی جارہی ہے ۔
اسلام آباد میں وفاقی وزیر قانون و انصاف اعظم نزیر تارڑ نے سماء سے خصوصی گفتگو میں 27ویں آئینی ترمیم کی باتوں کو قیاس آرائیاں قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال کوئی نئی آئینی ترمیم نہیں آرہی، ایسی قیاس آرائیاں نہ کی جائیں۔
وفاقی وزیرقانون وانصاف اعظم نذیرتارڑکاکہنا تھاکہ 26ویں آئینی ترمیم پرعملدرآمدکیاجائےگاتوقوم کونتائج ملیں گے، 26ویں آئینی ترمیم ہوچکی ہے،اس پرعمل درآمدہوگا،27ویں آئینی ترمیم کاکوئی امکان نہیں ہے۔
دوسری جانب مسلم لیگ(ن)کےرکن قومی اسمبلی بیرسٹر دانیال چودھری نے میڈیا سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 27ویں آئینی ترمیم وقت کی ضرورت عوام کو بہترین جوڈیشل سسٹم دےرہےہیں،جب بھی 27 ویں ترمیم آئی، بھاری اکثریت سے منظور ہوگی۔
ایم کیو ایم کے سینیئر رہنما مصطفیٰ کمال نے میڈیاسےگفتگو میں کہا کہ 27ویں ترمیم آئی توایم کیوایم سےکئے گئے وعدے پر آئے گی، ہماری پیش کردہ ترمیم لائی جائے گی، ہمارے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا ہوگا۔
یاد رہے کہ اس سے قبل یہ خبر سامنے آئی تھی کہ مجوزہ 27 ویں ترامیم کیلئے پارلیمان کے استحکام اور ارکان کی تکریم کے لیے حکومت نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہناتھا کہ حکومت آئینی معاملات پر تما م جماعتوں کو اعتماد میں لینے کیلئے پر عزم ہے ، مجوزہ ترمیم کیلئے مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی میں مشاورتی عمل جاری رکھنے پر اتفاق ہوا لیکن اب وزیر قانون نے ایسی کسی بھی مشاورت کی تردید کر دی ہے ۔
یہاں امر قابل ذکر ہے کہ خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے ہی 26 ویں آئینی ترمیم کے مسودے پر اتفاق رائے حاصل کیا تھا اور اس کے بعد مجوزہ مسودہ وفاقی کابینہ کو بھجوایا گیا تھا ۔
آپ کو یہاں یہ بھی بتاتے چلیں کہ گزشتہ رات اپنے ایک انٹرویو میں رانا ثناء اللہ نے موقف اختیار کیا تھا کہ نوازشریف اور شہبازشریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں 27 ویں ترمیم پر بات ضرور ہوئی لیکن اتفاق رائے جیسی کوئی بات نہیں ہوئی۔
وزیراعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ نے دعویٰ کیا تھا کہ 26ویں ترمیم میں جن چیزوں پر اتفاق نہیں ہوسکا تھا 27 ویں ترمیم میں ان پر دوبارہ بات ہوسکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ستائیسویں آئینی ترمیم میں جو کچھ بھی ہوگا وہ متفقہ طور پر ہوگا، انفرادی طور پر کچھ نہیں ہوگا۔
سپریم کورٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف ایک اور درخواست دائر
26 آئینی ترمیم کیخلاف سپریم کورٹ میں ایک اور درخواست دائر ہوگئی جس میں سماعت فل کورٹ میں کرنے کی استدعا بھی کی گئی ہے ۔
درخواستگزار افراسیاب خٹک کی جانب سے دائر کی گئی درخواست میں مسلم لیگ ( ن ) ، پاکستان پیپلز پارٹی سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فریق بنایا گیا ہے ۔
درخواستگزار کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترامیم کے لئے ارکان اسمبلی نے ووٹ رضا کارانہ طور پر دیا یا دباؤ کے تحت ڈالا؟ اس حوالے سے سپریم کورٹ خود یا جوڈیشل کمیشن کے ذریعے انکوائری کرے ۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا کہ 26 ویں ترمیم درست طریقے سے منظور نہیں کی گئی، ججز کی سالانہ کارکردگی کا جائزہ ، چیف جسٹس کی تعیناتی کے طریقہ کار میں تبدیلی اور آئینی بینچوں کا قیام عدلیہ کی آزادی کے منافی ہے، اس ترمیم کے خلاف درخواست پر آئینی بینچز سماعت نہیں کر سکتے۔
درخواست میں استدعا کی گئی ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم عدلیہ کی آزادی کے خلاف قرار دے کر خارج کی جائے ۔
نامزد چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کے کیرئیر پر ایک نظر
خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے جسٹس یحییٰ آفریدی کو خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی جانب سے دوتہائی اکثریت سے چیف جسٹس پاکستان نامزد کردیا گیا ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔
28 جون 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بننے والے جسٹس یحیٰی آفریدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کا حصہ رہے جبکہ مخصوص نشستوں کے کیس میں اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا ۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کیریئر
23 جنوری 1965 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہونے والے یحیٰی آفریدی نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، گورنمٹ کالج لاہور سے گریجویشن جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے معاشایات کی ڈگری لی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کامن ویلتھ اسکالرشپ پر جیسس کالج کیمبرج یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے 1990 میں بطور وکیل پشاور ہائیکورٹ پریکٹس شروع کی، 2004میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طورپر وکالت کا آغاز کیا، خیبر پختونخوا کے لیے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں۔
2010 میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور 15مارچ 2012 کو مستقل جج کا منصب سنبھال لیا۔
30 دسمبر 2016 کو جسٹس یحییٰ آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
جسٹس یحیٰی آفریدی 28 جون 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے اور مختلف مقدمات کی سماعت کی۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں لارجر بنچ کا حصہ رہے، اس کیس سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا ۔
جسٹس یحییٰ آفریدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے بننے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ میں بھی شامل تھے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس سپریم کورٹ نامزد کردیا گیا
خصوصی پارلیمانی کمیٹی نے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس پاکستان نامزد کر دیا ہے۔
26 ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد پاکستان کے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لئے نام فائنل کرنے کے حوالے سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کمیٹی نے دو تہائی اکثریت سے جسٹس یحییٰ آفریدی کو چیف جسٹس پاکستان نامزد کیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی کی تصدیق کی گئی اور بتایا کہ انہیں دو تہائی اکثریت سے نامزد کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں جسٹس یحییٰ آفریدی کی نامزدگی ایک کے مقابلے میں 8 ووٹوں سےہوئی۔
ذرائع نے بتایا کہ جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے جسٹس منصورعلی شاہ کے حق میں ووٹ دیا۔
واضح رہے کہ پاکستان تحریک انصاف نے پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس کا بائیکاٹ کیا تھا۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا تعارف
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے بعد سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججوں میں جسٹس یحییٰ آفریدی بھی شامل ہیں۔
28 جون 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج بننے والے جسٹس یحیٰی آفریدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کرنے والے لارجر بینچ کا حصہ رہے جبکہ مخصوص نشستوں کے کیس میں اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا ۔
جسٹس یحییٰ آفریدی کا کیریئر
23 جنوری 1965 کو ڈیرہ غازی خان میں پیدا ہونے والے یحیٰی آفریدی نے ابتدائی تعلیم ایچی سن کالج لاہور سے حاصل کی، گورنمٹ کالج لاہور سے گریجویشن جبکہ پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے معاشایات کی ڈگری لی۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے کامن ویلتھ اسکالرشپ پر جیسس کالج کیمبرج یونیورسٹی سے ایل ایل ایم کی ڈگری بھی حاصل کر رکھی ہے۔
جسٹس یحییٰ آفریدی نے 1990 میں بطور وکیل پشاور ہائیکورٹ پریکٹس شروع کی، 2004میں سپریم کورٹ کے وکیل کے طورپر وکالت کا آغاز کیا، خیبر پختونخوا کے لیے بطور اسسٹنٹ ایڈووکیٹ جنرل کی خدمات بھی سرانجام دے چکے ہیں۔
2010 میں پشاور ہائیکورٹ کے ایڈیشنل جج مقرر ہوئے اور 15مارچ 2012 کو مستقل جج کا منصب سنبھال لیا۔
30 دسمبر 2016 کو جسٹس یحییٰ آفریدی نے پشاور ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھایا۔
جسٹس یحیٰی آفریدی 28 جون 2018 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج مقرر ہوئے اور مختلف مقدمات کی سماعت کی۔
سنی اتحاد کونسل کی مخصوص نشستوں سے متعلق کیس میں لارجر بنچ کا حصہ رہے، اس کیس سے متعلق فیصلے میں اپنا اختلافی نوٹ بھی تحریر کیا ۔
جسٹس یحییٰ آفریدی سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے خلاف صدارتی ریفرنس کی سماعت کیلئے بننے والے سپریم کورٹ کے 9 رکنی لارجر بینچ میں بھی شامل تھے۔
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لئے 3 ججز کے نام
اس سے قبل رجسٹرار سپریم کورٹ کی جانب سے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کے لئے 3 ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیئے گئے تھے جن میں جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحیٰ آفریدی کے نام شامل تھے۔
خصوصی پارلیمانی کمیٹی میں مسلم لیگ ن کے 4، پاکستان پیپلز پارٹی کے 3، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) اور سنی اتحاد کونسل کے مشترکہ طور پر 3، جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) اور متحدہ قومی موومنٹ ( ایم کیوایم ) کا ایک ایک رکن شامل تھے اور کمیٹی کو دو تہائی اکثریت سے نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کا کام بھی آج ہی مکمل کرنا تھا۔
پی ٹی آئی کو منانے کی کوششیں ناکام
پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جس کے بعد حکومت کی جانب سے انہیں منانے کی کوشش کی گئی جو کہ ناکام رہی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کے چیمبر میں کمیٹی ارکان کی پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کے ساتھ ملاقات بے نتیجہ رہی جبکہ سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے بھی اسد قیصر سے ٹیلی فونک رابطہ کرکے اجلاس میں شرکت کی درخواست کی۔
رابطوں اور ملاقاتوں کے باوجود پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے ارکان نے کمیٹی اجلاس کا حصہ نہ بنے کا فیصلہ کیا۔
بیرسٹر گوہر کی گفتگو
پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
بیرسٹرگوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر ایازصادق کا پیغام ملا، اسپیکرسے ملاقات کیلئے آیا تو خصوصی کمیٹی کا وفد یہاں پر موجود تھا، خصوصی کمیٹی کے وفد نے ہمیں اجلاس میں شرکت کیلئے کہا جس پر کمیٹی کو بتایا اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی نہیں مانی اور وہ خصوصی کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
پارلیمانی کمیٹی کا پس منظر
چھبیسویں ترمیم کے بعد نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی بنائی گئی تھی جس کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے مطابق 8 ایم این ایز اور 4 سینیٹرز کمیٹی کے رکن ہیں۔
متناسب نمائندگی کے لحاظ سے ارکان نامزد کرنے کیلئے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر قومی اسمبلی نے بڑی پارلیمانی جماعتوں کو خطوط لکھے جس کے بعد مسلم لیگ ن کے سینیٹ سے اعظم نذیر تارڑ، قومی اسمبلی سے خواجہ آصف، احسن اقبال اور شائستہ پرویز ملک کو کمیٹی میں شامل کیا گیا۔
پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی سے راجا پرویز اشرف اور نوید قمر جبکہ سینیٹ سے فاروق ایچ نائیک کا نام دیا ۔
پی ٹی آئی کے سینیٹر علی ظفر اور جے یو آئی کے سینیٹر کامران مرتضیٰ بھی کمیٹی کے رکن بنے جبکہ قومی اسمبلی سے ایم کیو ایم کی رعنا انصار اور اپوزیشن سے بیرسٹر گوہر اور حامد رضا پارلیمانی کمیٹی ممبر بنے۔
خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے پی ٹی آئی کو منانے کی کوششیں ناکام
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کو نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تعیناتی کے حوالے سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی اجلاس میں شرکت کیلئے منانے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے لیے نئے چیف جسٹس کیلئے 3 سینئر ترین ججز کے ناموں پر غور کے لئے کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں ساڑھے 8 بجے تک کا وقفہ کیا گیا ۔
پاکستان تحریک انصاف نے نئی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ تھا جس کے بعد انہیں منانے کی کوشش کی گئی۔
تاہم، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہیں کرے گی۔
بیرسٹرگوہرعلی خان کا کہنا تھا کہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اسپیکر ایازصادق کا پیغام ملا، اسپیکرسے ملاقات کیلئے آیا تو خصوصی کمیٹی کا وفد یہاں پر موجود تھا، خصوصی کمیٹی کے وفد نے ہمیں اجلاس میں شرکت کیلئے کہا جس پر کمیٹی کو بتایا اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔
جمعیت علماء اسلام کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ پی ٹی آئی نہیں مانی اور وہ خصوصی کمیٹی اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
چیف جسٹس کی تعیناتی، رجسٹرار سپریم کورٹ نے 3 ججز کے نام بھیج دیئے
رجسٹرار سپریم کورٹ نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی 3 ججز کے نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیج دیئے۔
ذرائع کے مطابق رجسٹرار کے ذریعے چیف جسٹس سے نام مانگے گئے تھے، رجسٹرار سپریم کورٹ نے 3 سینئر ترین ججز کے نام بھیج دیئے۔
ذرائع کے مطابق جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحیٰ آفریدی کے نام شامل ہیں۔ سپریم کورٹ میں 3 سینئر ججز کی تفصیلات کمیٹی کو ارسال کردی گئیں۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان کےلیے نئے چیف جسٹس کیلئے 3 سینئر ترین ججز کے ناموں پر غور آج ہوگا۔ خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی بیٹھک آج شام لگے گی۔ خواجہ آصف، احسن اقبال، بیرسٹر گوہر سمیت 12 ارکان نئے چیف جسٹس کیلئے نام فائنل کریں گے۔
کمیٹی میں ن لیگ کے 4، پیپلزپارٹی کے 3، پی ٹی آئی اور سنی اتحاد کونسل کے مشترکہ طور پر 3، جے یو آئی اور ایم کیوایم کا ایک ایک رکن شامل ہے۔ کمیٹی کو دو تہائی اکثریت سے نئے چیف جسٹس کی نامزدگی کا کام بھی آج ہی مکمل کرنا ہوگا۔
پی ٹی آئی کا خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ
پاکستان تحریک انصاف نے نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کےلیے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
اسلام آباد میں رات گئے پاکستان تحریک انصاف کی سیاسی کمیٹی کااجلاس ہوا۔ پی ٹی آئی کی سیاسی کمیٹی نے آج پارلیمانی خصوصی کمیٹی میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔
پی ٹی آئی رہنماشیخ وقاص اکرم کے مطابق پی ٹی آئی کا کوئی بھی رکن خصوصی کمیٹی میں شرکت نہیں کرے گا۔ اجلاس میں پی ٹی آئی نے خصوصی پارلیمانی کمیٹی اجلاس سے مکمل طور پر الگ رہنے کا اعلان کیا۔
اجلاس میں پارٹی پالیسی کیخلاف ووٹ دینے والے اراکین کیخلاف سخت کارروائی کی منظوری اور ترمیم کوووٹ دینے والے اراکین کی رکنیت منسوخی سمیت تادیبی کارروائی پر اتفاق کیا گیا، اس کے ساتھ ساتھ پارٹی سے روابط منقطع کرنے والے دیگر اراکین کو شوکاز نوٹسز اجرا کی بھی منظوری اور روابط منقطع کرنے، حکومتی حلقوں سے روابط ودیگرمعاملات پرپوزیشن واضح کرنے کا کہا جائےگا۔
شوکاز نوٹس کے جوابات کی روشنی میں ان کے آئندہ کے مستقبل کا تعین کیاجائے گا جبکہ بیرسٹرگوہر نے بھی کہا کہ سیاسی کمیٹی نے پارلیمانی خصوصی کمیٹی اجلاس میں نہ جانے کا فیصلہ کیاہے اور ہم پارٹی کی سیاسی کمیٹی کے فیصلوں پرعمل کریں گے۔
نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی تشکیل مکمل ، نوٹیفیکیشن جاری
نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئےپارلیمانی کمیٹی 12 ارکان پر مشتمل قائم ہوگئی ہے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی سیکریٹریٹ سے جاری کئے گئے نوٹیفیکیشن کے مطابق پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این)پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی ) ، قومی متحدہ موومنٹ ( ایم کیو ایم) ،سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی )اور جمعیت علماء اسلام( جے یو آئی) کے ارکان12 پارلیمانی کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
Notification of Member of Parliamentary Committee by Farhan Malik on Scribd
پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) کی نمائندگی وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف،وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، شائستہ پرویز ملک اور سینیٹر و وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑکریں گے، پاکستان پیپلز پارٹی(پی پی پی) سے سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف، فاروق ایچ نائیک اور سید نوید قمر کمیٹی کے رکن ہوں گے۔
سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی) سے چیئرمین پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) بیرسٹر گوہر علی خان ، سینیٹربیرسٹر علی ظفر اور صاحبزادہ حامد رضا شامل ہوں گے، قومی متحدہ موومنٹ ( ایم کیو ایم)کی جانب سے رعنا انصار کو پارلیمانی کمیٹی کا رکن مقرر کیا گیا ہے، جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی ) کی طرف سے سینیٹر کامران مرتضی رکن ہوں گے۔
ذرائع کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق نئے چیف جسٹس کی تقرری کیلئے قائم خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس کل شام 4 بجے ہو گا۔
چیف جسٹس کی تقرری، پارلیمانی کمیٹی کے اراکین کے نام منظر عام پر
چھبیس ویں آئینی ترمیم کے تحت نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کیلئے 12رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر کام کا آغاز ہوگیا ہے۔
26ویں آئینی ترمیم کےتحت نئےچیف جسٹس کی تقرری کیلئے12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کیلئے قومی اسمبلی سے 8 اور سینیٹ سے4 ارکان شامل ہوں گے، اسپیکر قومی اسمبلی اور چیئرمین سینیٹ نے پارلیمانی جماعتوں سے نام مانگے تھے،تمام جماعتوں نے نام تجویز بھی کر دیئے ہیں۔
سینیٹ سے خصوصی پارلیمانی کمیٹی کیلئے 4نام سامنے آگئے ن لیگ کی جانب سے وفاقی وزیر قانون اعظم نذیرتارڑ ہوں گے اور پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سےفاروق ایچ نائیک کا نام تجویز کیا گیا ہے، پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی کیطرف بیرسٹر علی ظفر اور جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کے کامران مرتضٰی شامل ہیں ۔
پارلیمانی کمیٹی کیلئے قومی اسمبلی ارکان میں پاکستان پیپلزپارٹی (پی پی پی) کیجانب سے راجہ پرویز اشرف اور نوید قمر کو نامزد کردیا گیا ہے، پاکستان مسلم لیگ ن(پی ایم ایل این) کی طرف سےوفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال، وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف اور شائشتہ پرویز ملک کے نام تجویز کئے گئے ہیں۔
سنی اتحاد کونسل (ایس آئی سی)کی طرف سےصاحبزادہ حامد رضا اور پاکستان تحریک انصاف کی جانب سےچیئر میں پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان ہوں گے،متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم )سے پارلیمانی کمیٹی میں رعنا انصا نمائندگی کریں گے۔
قومی اسمبلی اجلاس کل شام 5 بجے دوبارہ ہوگا،قومی اسمبلی اجلاس میں3نئےبل پیش کیےجائیں گےآغارفیع اللہ پاکستان نرسنگ کونسل ترمیمی بل پیش کریں گےشفقت عباس اورایم کیوایم کیجانب سےبھی2آئینی ترمیمی بل پیش ہوں گےقومی اسمبلی اجلاس کےدوران مختلف قراردادیں بھی پیش کی جائیں گی،مختلف معاملات پربحث کی تحاریک،توجہ دلاؤنوٹس بھی ایجنڈےمیں شامل ہے۔
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے وقت کم، پارلیمانی کمیٹی تشکیل دینے کی کوششیں تیز
حکومت کے پاس نئے چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری کے لیے 30 گھنٹے سے بھی کم وقت باقی رہ گیاہے جس کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل آخری مراحل میں داخل ہو گئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق اتحادی حکومت کے پاس پاکستان کے نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے 30 گھنٹے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے، کیونکہ حال ہی میں نافذ کی گئی 26ویں آئینی ترمیم کے مطابق نئے چیف جسٹس کی تقرری موجودہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ سے تین دن قبل کی جانی ضروری ہے۔
چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 25 اکتوبر 2024 کو ریٹائر ہو رہے ہیں،اس لیئے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ 22 اکتوبر کی رات 12 بجے تک تین نام پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کے پابند ہیں ۔
وقت کم ہونے کے باعث ناموں پر غور اور پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کے عمل کا آغاز ہو چکا ہے، جو نئے چیف جسٹس کی تقرری کے لیے نامزدگی کرے گی۔ اس کمیٹی میں قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اراکین شامل ہوں گے، اور کسی بھی فیصلے کے لیے دو تہائی اکثریت ضروری ہو گی۔
پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل
سینیٹ کے اراکین:
پی ٹی آئی: سینیٹر علی ظفر
جے یو آئی: کامران مرتضیٰ
ن لیگ: اعظم نذیر تارڑ
پیپلز پارٹی: فاروق ایچ نائیک
قومی اسمبلی کے اراکین:
ایم کیو ایم: رعنا انصار
پی ٹی آئی : بیرسٹر گوہر
سنی اتحاد کونسل: صاحبزاد حامد رضا
پیپلز پارٹی : راجہ پرویز اشرف ، نوید قمر
ن لیگ : خواجہ آصف ، احسن اقبال
26ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کا عہدہ اب تین سال کر دی گئی ہے جبکہ سپریم کورٹ کے جسٹس کی ریٹائرمنٹ کی عمر 65 سال کر دی گئی ہے ۔
وزیر اعظم شہباز شریف کی تجویز پر صدر آصف علی زرداری نے پیر کے روز 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کر کے اسے قانون کا حصہ بنایا۔
اہم بات یہ ہے کہ اب چیف جسٹس کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ کے تین سینئر ترین ججز پر مشتمل ایک پول تیار کیا جائے گا، جبکہ پہلے صرف سینیارٹی کو بنیاد بنایا جاتا تھا۔
موجودہ سینیارٹی لسٹ کے مطابق جسٹس سید منصور علی شاہ سب سے سینئر ہیں، ان کے بعد جسٹس منیب اختر اور جسٹس یحییٰ آفریدی ہیں۔ اگر ان میں سے کوئی بھی جج عہدہ قبول کرنے سے انکار کرتا ہے تو اگلا سینئر جج اس منصب کے لیے غور کیا جائے گا۔
چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے امیدوار:
جسٹس منصور علی شاہ: سب سے سینئر جج ہیں اور لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔
جسٹس منیب اختر: 2018 میں سپریم کورٹ میں شامل ہوئے اور قابل غور امیدوار ہیں۔
جسٹس یحییٰ آفریدی: وہ پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں اور 2018 میں سپریم کورٹ کا حصہ بنے۔
پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل تیزی سے متوقع ہے تاکہ نئے چیف جسٹس کی تقرری مقررہ وقت سے قبل ممکن ہو سکے۔
چیف جسٹس کی تقرری کیلئے سینیٹ سے نمائندگی کیلئے پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہوگا؟
چیف جسٹس کی تقرری کیلئے پارلیمانی کمیٹی کے قیام کیلئے سینیٹ سے نمائندگی کیلئے پی ٹی آئی کا امیدوار کون ہوگا؟
ذرائع کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) نےسینیٹرعلی ظفرکو12رکنی پارلیمانی کمیٹی کیلئےنامزد کرنےکافیصلہ کر لیا ہے، پی ٹی آئی کمیٹی کیلئے نام آج ہی چیئرمین سینیٹ کو بھجوائے گی،علی ظفرسینیٹ میں پی ٹی آئی کےپارلیمانی لیڈربھی ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کمیٹی کےلیےقومی اسمبلی سےبھی2نام بھجوائےگی،تاہم ابھی تک ناموں کو زیر غور لایا جا رہا ہے حتمی نام سامنے نہیں آیا۔
واضح رہے کہ آج چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے تمام بڑی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کو خط لکھا اور تمام جماعتوں سے آج ہی کمیٹی کے رکن سے نام منگوائے ہیں۔
چیف جسٹس کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی میں 4سینیٹرز کی نامزدگی
چیف جسٹس کی تقرری کے لیے پارلیمانی کمیٹی میں 4سینیٹرز کی نامزدگی کیلئے پارلیمانی لیڈروں کو خط لکھ دیا۔
چیف جسٹس کی تقرری کے لئے پارلیمانی کمیٹی میں سینیٹ سے جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی) کو نمائندگی ملے گی، چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے ایوان میں موجود چار بڑی جماعتوں کے پارلیمانی رہنماؤں کو خط لکھ کر آج ہی نام مانگ لیئے ہیں۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی نے اپنے خط میں لکھا کہ تمام پارلیمانی رہنماء آج ہی کمیٹی کے لیے ایک ایک سینیٹر کا نام تجویز کریں، چیئرمین سینیٹ نے پاکستان پیپلزپارٹی(پی پی پی)، پاکستان مسلم لیگ ن(پی ایم ایل این)، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی) کو خطوط لکھ دیئے ہیں۔
Chairman Senator Letter Parliamentary Leader by Farhan Malik on Scribd
نئے چیف جسٹس کی تعیناتی، سپیکر اسمبلی کا چیئرمین سینیٹ کو خط
سپیکر قومی اسمبلی نے نئے چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کو تشکیل دینے کیلئے چیئرمین سینیٹ کو خط لکھتے ہوئے اراکین کے نام مانگ لیئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق خط کے متن میں کہا گیاہے کہ میرا اعزاز ہےکہ آرٹیکل175Aکی طرف آپکی توجہ مبذول کروا رہا ہوں،آئین کےتحت خصوصی پارلیمانی کمیٹی 3 سینئر ترین ججز سے چیف جسٹس آف پاکستان نامزد کریگی،آئین کے آرٹیکل 175A کی شق (3A) کےتحت کمیٹی چیف جسٹس کا تقررکرےگی، خصوصی پارلیمانی کمیٹی 12 ارکان پرمشتمل ہوگی،خصوصی پارلیمانی کمیٹی قومی اسمبلی کے8اورسینیٹ کے4ارکان پرمشتمل ہوگی
چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع
چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل کا عمل شروع کردیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی لیڈرز سے کمیٹی ارکان کے نام مانگ لئے۔
ذرائع کے مطابق پارلیمانی کمیٹی بنتے ہی وزارت قانون سے3 سینئر ترین ججز کا پینل طلب کیا جائے گا، کمیٹی ججز کے 3رکنی پینل میں سے نئے چیف جسٹس کا انتخاب کرے گی۔
واضح رہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم کے تحت چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دی جانی ہے، کمیٹی کیلئے 8ارکان قومی اسمبلی اور 4ارکان سینیٹ سے لئے جانے ہیں۔ تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں ان کی تعداد کے تناسب سے کمیٹی میں نمائندگی ملے گی قومی اسمبلی تحلیل ہو تو سینیٹ کے 4 ارکان تقرری کے مجاز ہوں گے، کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججز میں سے کسی ایک کو کثرت رائے سے چیف جسٹس مقرر کرے گی۔
چیف جسٹس کی تقرری قبول نہ کرنے پر ان کے بعد کے سینئر جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، کمیٹی کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، اس کی کارروائی ریکارڈ کی جائے گی، کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، آرٹیکل 179 میں ترمیم، چیف جسٹس کی مدت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، 3سال گزرنے پر چیف جسٹس کی عمر 65 برس سے کم بھی ہوگی تو ریٹائرڈ کر دیا جائے گا۔
صدرمملکت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کردی، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
صدر مملکت آصف علی زرداری نے وزیر اعظم شہباز شریف کے سفارش پر 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کردی۔
تفصیلات کے مطابق صدرمملکت نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کردی، آصف علی زرداری کے دستخط کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم باضابطہ آئین کا حصہ بن گیا۔
خیال رہے کہ پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی حتمی منظوری کےلیے وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کی توثیق کیلئے دستخط کرنے کے بعد اپنی ایڈوائس صدر پاکستان آصف علی زرداری کو بھجوائی تھی۔
آئینی ترمیم کے نکات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری 12رکنی پارلیمانی کمیٹی کرےگی، کمیٹی میں قومی اسمبلی کے 8 ،سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں ان کی تعداد کے تناسب سے کمیٹی میں نمائندگی ملے گی قومی اسمبلی تحلیل ہو تو سینیٹ کے 4 ارکان تقرری کے مجاز ہوں گے، کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججز میں سے کسی ایک کو کثرت رائے سے چیف جسٹس مقرر کرے گی۔
چیف جسٹس کی تقرری قبول نہ کرنے پر ان کے بعد کے سینئر جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، کمیٹی کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، اس کی کارروائی ریکارڈ کی جائے گی، کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، آرٹیکل 179 میں ترمیم، چیف جسٹس کی مدت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، 3سال گزرنے پر چیف جسٹس کی عمر 65 برس سے کم بھی ہوگی تو ریٹائرڈ کر دیا جائے گا۔
نیا آرٹیکل 191 اے میں سپریم کورٹ میں“آئینی بینچ”کا قیام، ججز کی تعداد جوڈیشیل کمیشن مقرر کرے گا، آئینی بینچ کے ججز میں ممکنہ حدتک تمام صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے گی، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کا کوئی جج اوریجنل جوریسڈکشن، سوموٹو مقدمات، آئینی اپیلیں یا صدارتی ریفرنس کی سماعت کا مجاز نہیں ہوگا سوموٹو، اوریجنل جوریسڈکشن درخواستوں اور صدارتی ریفرنسز کی سماعت اور فیصلہ“آئینی بینچ” کا 5 رکنی بینچ کرے گا۔
آئینی اپیلوں کی سماعت اور فیصلہ بھی 5 رکنی آئینی بینچ کرے گا، آئینی بینچ کے 3 سینئر ترین جج سماعت کا بینچ تشکیل دیں گے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے دائرہ اختیارمیں آنے والی “زیرالتوا” کیسز اور نظرثانی درخواستیں آئینی بینچ کو منتقل ہوجائیں گی، ہائیکورٹ کو سوموٹو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہوگا، آرٹیکل 175 اے، جوڈیشل کمیشن کے موجودہ ارکان برقرار، 4 ارکان پارلیمنٹ شامل کئے جائیں گے۔
سینیٹ کارکن منتخب ہونے کی مجاز خاتون یا اقلیتی شہری بھی رکن ہوگا، تقرری اسپیکر دو سال کیلئے کرے گا، کمیشن کے ایک تہائی ارکان چیئر پرسن کو تحریری طور پر اجلاس بلانے کی استدعا کر سکتے ہیں، چیئر پرسن 15روز میں اجلاس بلانے کاپابند ہوگا، نہ بلانے پر سیکرٹری کو 7 روز میں اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا، نیا آرٹیکل 9 اے متعارف، صحت مندانہ پائیدار ماحول بنیادی حق قرار جائے گا،آرٹیکل 48 میں سے وزیر اور وزیر مملکت کے الفاظ حذف کئے جائیں۔
اب ہر روز یہ سوال اٹھے گا کہ کیس عام بینچ سنے گا یا آئینی بینچ؟ جسٹس منصور علی شاہ
مسابقتی کمیشن سے متعلق کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ یہ کیس اب آئینی بنیچ میں جائے گا یا ہم بھی سن سکتے ہیں؟ لگتا ہے یہ سوال اب ہر روز اٹھے گا کہ کیس عام بینچ سنے گا یا آئینی بینچ؟۔
تفصیلات کے مطابق مسابقتی کمیشن سے متعلق کیس میں جسٹس منصور علی شاہ نے وکیل درخواسگزار سے استفسار کیا کہ یہ کیس اب آئینی بنیچ میں جائے گا یا ہم بھی سن سکتے ہیں؟ وکیل بیرسٹرفروع نسیم نے جواب دیا کہ سیاسی کیسز اب آئینی کیسز بن چکے ہیں۔ جسٹس عائشہ ملک نے کہا کہ چلیں اب آپ جانیں اور آپ کے آئینی بنچ جانیں۔
جسٹس عائشہ ملک نے ریمارکس دیے کہ نئی ترمیم پڑھ لیں، آرٹیکل 199 والا کیس یہاں نہیں سن سکتے، جسٹس منصور کے مسکراتے ہوئے ریمارکس دیے کہ ہمیں خود سمجھنے میں ذرا وقت لگے گا۔
دوسری جانب موسمیاتی تبدیلی اتھارٹی کیس میں جسٹس منصور کا ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے دلچسپ مکالمہ ہوا ہے، جسٹس منصور کا استفسار کیا کہ کیا موسمیاتی تبدیلی کےچیئرمین کا نوٹیفکیشن جاری ہو چکا؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل جواب دیا کہ نوٹیفکیشن جاری نہیں ہوا،اٹارنی جنرل رات بھر مصروف رہے۔
جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیے کہ اب تو ساری مصروفیت ختم ہو چکی ہوگی، 3 ہفتے تک صورتحال واضح ہوجائے گی۔ سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔
"جمہوریت زندہ باد، پارلیمان پائندہ باد "،وزیراعلی پنجاب مریم نواز
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے26 ویں آئینی ترمیم پاس ہونے پر قوم کو مبارکباد پیش کی ہے۔
وزیراعلی پنجاب مریم نواز نے اپنےپیغام میں کہا "26 ویں آئینی ترمیم عوام کی آواز بلند ہونےکا واضح پیغام ہے،پارلیمنٹ کی بالادستی کیلئے26 ویں آئینی ترمیم ناگزیر تھی،26ویں آئینی ترمیم کی منظوری سےپارلیمنٹ کو وقار واپس ملا ہے،ترمیم سےبروقت انصاف ہوگااورہوتانظربھی آئیگا۔
وزیراعلی نےمزیدکہا 26 ویں ترمیم پاکستان کودنیاکی مثالی جمہوریت کی صف میں کھڑاکریگی،آئینی ترمیم سےعدالتی نظام میں مثبت اصلاحات کاباب کھل گیا،سودکےخاتمےکی شق کاخیرمقدم کرتی ہوں، عدلیہ کوخودمختاراورمزید مستحکم کیاگیا ہے،انصاف تک عوامی رسائی کو یقینی بنایا گیا۔
ایوان صدر میں ہونے والی تقریب کا وقت ایک بار پھر تبدیل،حتمی وقت ابھی نہیں دیا گیا
ایوان صدر میں 26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کی تقریب ملتوی کردی گئی، تقریب آج دن میں ہوگی۔
آئینی ترمیم پر دستخط کی تقریب صبح ساڑھے 6 بجے رکھی گئی تھی تاہم تاخیر کی وجہ سے تقریب اب دن میں کسی بھی وقت منعقد کی جائے گی۔
آئینی ترمیم پر دستخط کی تقریب میں پارلیمنٹرینز بھی شریک ہوں گے۔
واضح رہے کہ سینیٹ میں 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد قومی اسمبلی نے بھی ترمیم کی شق وار منظوری دی تھی۔
وزیر اعظم نے 26 ویں آئینی ترمیم کے منظور کردہ بل پر دستخط کر دیئے
وزیر اعظم شہباز شریف نے 26 ویں آئینی ترمیم کے منظور کردہ بل پر دستخط کر دیئے۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26 واں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا تھا، وفاقی حکومت ایوان بالا میں 65 جبکہ قومی اسمبلی میں 225 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ مخالفت میں 12 ووٹ آئے اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے اراکین نے بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد اسمبلی سیکریٹریٹ نے سمری وزیراعظم ہاﺅس بھجوائی۔
سمری وزارت پارلیمانی امور کے ذریعے وزیراعظم ہاﺅس بھیجی گئی اور وزیر اعظم بھی پارلیمنٹ اجلاس میں شرکت کے بعد وزیر اعظم ہاؤس پہنچے۔
سمری وزیر اعظم آفس پہنچنے کے بعد شہباز شریف کی جانب سے اس پر دستخط کر دیئے گئے۔
اس موقع پر وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی وزیر اعظم آفس میں موجود تھے۔
وزیر اعظم کے دستخط کے بعد سمری کو ایوان صدر بھیج دیا گیا۔
آج طے ہوگیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے، وزیر اعظم شہباز شریف
وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ آج طے ہوگیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔
قومی اسمبلی میں 26 ویں آئینی ترمیم منظور ہونے کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج ایک تاریخی دن ہے، آج آئین میں جو ترمیم ہوئی وہ صرف ترمیم نہیں بلکہ اتفاق رائے کی ایک شاندار مثال قائم ہوئی ہے، آج انشاء اللہ ایک نئی صبح طلوع ہوگی جس سے پورے ملک میں روشنی ہوگی۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جو محلاتی سازش ہوا کرتی تھی اور جس کے ذریعے حکومتوں کو گھر بھجوایا جاتا تھا، جس کے ذریعے وزراء اعظم کی چھٹی کرائی جاتی تھی، جس سے پاکستان کے خزانے کو اربوں ڈالر کے نقصان ہوئے، اس ترامیم کے ذریعے نہ صرف انصاف کا حصول آسان ہوگا بلکہ عام آدمی کو انتظار بھی نہیں کرنا پڑے گا۔
شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج وہ چارٹر آف ڈیموکریسی جو 2006 میں لندن میں سائن کیا گیا تھا، شہید محترمہ بے نظیر اور نواز شریف اور مولانا فضل الرحمان نے اس پر دستخط کئے تھے ، آج وہ ادھورا خواب پایا تکمیل تک پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ نماز فجر کیلئے آذان ہوگئی ہے، اس میں تاخیر کا بوجھ نہیں لوں گا، ایسی آئینی ترامیم کی گئی ہیں جن سے پاکستان کا مستقبل مضبوط اور محفوظ ہوگا۔
انکا کہنا تھا کہ آج جو باتیں اپوزیشن ممبرز نے کیں ان کی تصیح کرنا ضروری ہے ، جنہوں نے اس ترامیم کے حق میں ووٹ دیے ہیں ان میں سے کوئی لوٹا رکن نہیں تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ آج پاکستان کی تاریخ میں ایک مرتبہ پھر بڑا عظیم دن آیا ہے جس کے ذریعے یہ طے ہوگیا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں اتحادی جماعتوں کا شکریہ بھی ادا کیا۔
سینیٹ اور قومی اسمبلی نے 26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی
سینیٹ اور قومی اسمبلی نے26 واں آئینی ترمیمی بل دو تہائی اکثریت سے منظور کرلیا، وفاقی حکومت ایوان بالا میں 65 جبکہ قومی اسمبلی میں 225 ووٹ حاصل کرنے میں کامیاب رہی جبکہ مخالفت میں 12 ووٹ آئے اور پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے اراکین نے بعد میں ایوان سے واک آؤٹ کیا۔
قومی اسمبلی کا اجلاس
اتوار کی رات گئے سپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تاخیر سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان کی جانب سے منظور کرلیا گیا۔
تحریک منظور ہونے کے بعد 20 اور 21 اکتوبر کو معمول کی کارروائی معطل کردی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیمی بل متعارف کرانے کی تحریک ایوان میں پیش کی اور ترامیمی بل کے خدوخال بیان کئے۔
اراکین کے خطاب کے بعد اسپیکر کی جانب سے وزی رقانون کو تحریک پیش کرنےکی ہدایت کی گئی جس پر انہوں نے تحریک پیش کی۔
اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور گنتی کا عمل شروع کیا گیا۔
اپوزیشن کے 4 ارکان
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بھی 4 ارکان پہنچے۔
اپوزیشن ممبرز ایوان میں حکومتی بینچوں پر براجمان تھے جن میں عثمان علی ، مبارک زیب، ظہور قریشی اور اورنگزیب کھچی شامل تھے۔
مسلم لیگ ق کے رکن چوہدری الیاس بھی ایوان میں پہنچے۔
اپوزیشن کے مزید 4 ارکان حکومتی لابی میں بھی موجود رہے جو ایوان میں نہیں آئے۔
ارکان میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ریاض فتیانہ ، مقداد حسین اور اسلم گھمن شامل تھے۔
دو تہائی اکثریت
ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 225 ارکان نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان اسمبلی نے ترمیم پیش کرنے کی مخالفت کی جس کے بعد حکومت سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی دوتہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
شق وار منظوری
آئینی ترمیمی بل کی شق وار منظوری لی گئی اور 225 اراکین کی جانب سے تمام 27 شقوں کی حمایت میں ووٹ دیا گیا جبکہ شق وار منظوری کے دوران پی ٹی آئی اور اتحادی جماعت کا کوئی رکن اسمبلی ہال میں موجود نہیں تھا۔
شق وار منظوری کے بعد وزیر قانون نے ترمیم باضابطہ منظوری کیلئے پیش کی جس کے بعد ڈویژن کے ذریعے آئینی ترمیم کی منظوری لی گئی۔
شق وار منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئےڈویژن کےذریعے ووٹنگ کی گئی، نوازشریف نےڈویژن کے ذریعے ووٹنگ کے عمل میں سب سے پہلے ووٹ دیا۔
بعدازاں، سپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس منگل کی شام 5 بجے تک ملتوی کردیا۔
سینیٹ اجلاس
اس سے قبل ایوان بالا میں 26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کی گئی۔
سینیٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں حکومت کے 58، جمعیت علمائے اسلام کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔
چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت ہونے والے ایوان بالا کے اجلاس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا۔
26 ویں آئینی ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں لایا گیا۔
اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے بعد سینیٹر اسحاق ڈار نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بعدازاں مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اظہار خیال کیا جس کے بعد وزیرقانون نے آئینی ترامیم پر ووٹنگ کیلئے تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
ترمیم کی شق وار منظوری کے دوران پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبیلو ایم کے ارکان ایوان سے چلے گئے۔
تمام 22 شقوں کی مرحلہ وار منظوری کے بعد ترمیم کی مجموعی منظوری ہاؤس میں ڈویژن کے عمل سے ہوئی اور چیئرمین سینیٹ نے لابیز لاک کرنے اور بیل بجانے کا حکم دیا۔
اس کے بعد ارکان لابیز میں چلے گئے اور گنتی کی گئی جس کا اعلان چیئرمین سینیٹ نے کیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھاکہ سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم منظور کرلیں اور ترامیم کے حق میں 65 ووٹ آئے۔
بعد ازاں ، سینیٹ کا اجلاس منگل 22 اکتوبر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
آئینی ترمیم کے اہم نکات
26 ویں آئینی ترمیم کے متعلق سینیٹ میں پیش کئے گئے مسودے کے نکات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری 12رکنی پارلیمانی کمیٹی کرےگی، کمیٹی میں قومی اسمبلی کے 8 ،سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں ان کی تعداد کے تناسب سے کمیٹی میں نمائندگی ملے گی قومی اسمبلی تحلیل ہو تو سینیٹ کے 4 ارکان تقرری کے مجاز ہوں گے، کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججز میں سے کسی ایک کو کثرت رائے سے چیف جسٹس مقرر کرے گی۔
Drafting of the 26th Constitutional Amendment by Farhan Malik on Scribd
چیف جسٹس کی تقرری قبول نہ کرنے پر ان کے بعد کے سینئر جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، کمیٹی کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، اس کی کارروائی ریکارڈ کی جائے گی، کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، آرٹیکل 179 میں ترمیم، چیف جسٹس کی مدت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، 3سال گزرنے پر چیف جسٹس کی عمر 65 برس سے کم بھی ہوگی تو ریٹائرڈ کر دیا جائے گا۔
نیا آرٹیکل 191 اے میں سپریم کورٹ میں“آئینی بینچ”کا قیام، ججز کی تعداد جوڈیشیل کمیشن مقرر کرے گا، آئینی بینچ کے ججز میں ممکنہ حدتک تمام صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے گی، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کا کوئی جج اوریجنل جوریسڈکشن، سوموٹو مقدمات، آئینی اپیلیں یا صدارتی ریفرنس کی سماعت کا مجاز نہیں ہوگا سوموٹو، اوریجنل جوریسڈکشن درخواستوں اور صدارتی ریفرنسز کی سماعت اور فیصلہ“آئینی بینچ” کا 5 رکنی بینچ کرے گا۔
آئینی اپیلوں کی سماعت اور فیصلہ بھی 5 رکنی آئینی بینچ کرے گا، آئینی بینچ کے 3 سینئر ترین جج سماعت کا بینچ تشکیل دیں گے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے دائرہ اختیارمیں آنے والی “زیرالتوا” کیسز اور نظرثانی درخواستیں آئینی بینچ کو منتقل ہوجائیں گی، ہائیکورٹ کو سوموٹو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہوگا، آرٹیکل 175 اے، جوڈیشل کمیشن کے موجودہ ارکان برقرار، 4 ارکان پارلیمنٹ شامل کئے جائیں گے۔
سینیٹ کارکن منتخب ہونے کی مجاز خاتون یا اقلیتی شہری بھی رکن ہوگا، تقرری اسپیکر دو سال کیلئے کرے گا، کمیشن کے ایک تہائی ارکان چیئر پرسن کو تحریری طور پر اجلاس بلانے کی استدعا کر سکتے ہیں، چیئر پرسن 15روز میں اجلاس بلانے کاپابند ہوگا، نہ بلانے پر سیکرٹری کو 7 روز میں اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا، نیا آرٹیکل 9 اے متعارف، صحت مندانہ پائیدار ماحول بنیادی حق قرار جائے گا،آرٹیکل 48 میں سے وزیر اور وزیر مملکت کے الفاظ حذف کئے جائیں۔
صرف کابینہ یا وزیراعظم کی صدر کو بھجوائی گئی سمری کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکےگا، آرٹیکل 81 میں ترمیم، سپریم جوڈیشیل کونسل اور انتخابات کیلئے فنڈز لازمی اخراجات میں شامل ہوں گے آرٹیکل 111 میں ترمیم، صوبائی مشیروں کو بھی اسمبلی میں خطاب کا حق دیا جائے گا، 184(3) کے تحت سو موٹو یا ابتدائی سماعت کے مقدمات میں سپریم کورٹ صرف درخواست میں کی گئی استدعا کی حد تک فیصلہ جاری کر سکے گی۔
سپریم کورٹ اب 50ہزار کے بجائے 10 لاکھ روپے تک کی اپیلیں براہ راست سماعت کی مجاز ہوگی، آرٹیکل 186 اے میں ترمیم سپریم کورٹ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے زیر سماعت مقدمہ اپیل یا دیگر کارروائی کسی اور ہائیکورٹ کو منتقل کرنے کے علاوہ خود کو بھی منتقل کرنے کی بھی مجاز ہو گی ،آرٹیکل 187کے تحت مکمل انصاف کے لئے کوئی بھی حکم جاری کرنے کا اختیار محدود کرنے کی تجویز حکم صرف اپنے آئینی دائرہ اختیار کے اندر ہی جاری کیا جا سکے گا۔
آرٹیکل 209 میں ترمیم چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف ریفرنس ہو تو ان سے نیچے کا سینئر ترین جج سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جا سکے گا،ججز کو ہٹانے کی وجوہات میں ناقص کارکردگی کو بھی شامل کر دیا گیا، اس کے لئے ججز کی کارکردگی پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائےگا سپریم جوڈیشل کونسل کا اپنا سیکریٹریٹ قائم کرنے اور ایک سیکریٹری کی سربراہی میں اسٹاف کے تقرر کی تجویز، ہر کام کونسل کے وائد کی روشنی میں عمل میں آئے گا۔
چیف الیکشن کمشنر اور ارکانِ الیکشن کمیشن مدت مکمل ہونے کے باوجود نئے کمشنر یا ارکان کی تقرری تک کام کرتے رہیں گے، کوئی آئینی عہدیدار کسی دوسرے آئینی عہدیدار سے حلف لینے سے انکار کرے تو چیف جسٹس آف پاکستان یا چیف جسٹس ہائیکورٹ حلف لینے کیلئے کسی کو نامزد کر سکتے ہیں ،وفاقی شرعی عدالت کاجج بھی شریعت کورٹ کاچیف جسٹس بن سکے گا، وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اپیل کی صورت میں صرف ایک سال معطل رہ سکے گا شریعت ایپلٹ بینچ کے فیصلہ نہ کر سکنے کی صورت میں ایک سال بعد شرعی عدالت کا فیصلہ بحال ہو جائے۔
آئینی ترامیم پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گے
پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد 26 ویں آئینی ترامیم پر صدر مملکت آصف علی زرداری آج دستخط کریں گے۔
26 ویں آئینی ترمیم پر دستخط کیلئے ایوان صدر میں تقریب منعقد ہوگی، تقریب میں پارلیمنٹرینز بھی شریک ہوں گے، تقریب کے وقت کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
آئینی ترمیم پر صدر مملکت آصف علی زرداری کے دستخط کی تقریب صبح ساڑھے 6 بجے منعقد ہونی تھی تاہم اب اسے ملتوی کردیا گیا ہے۔
’’ جب میں مرتا ہوں تو کہتے ہیں جینا ہوگا ‘‘، نواز شریف نے عدلیہ کے د کھ میں شعر سنادیا
مسلم لیگ ( ن ) کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے قومی اسمبلی میں عدلیہ کے دکھ میں شعر سنادیا۔
سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے اسمبلی کا اجلاس ہوا جس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف نے بھی شرکت کی۔
نواز شریف اجلاس میں شرکت کے لئے لاہور سے خصوصی طور پر اسلام آباد پہنچے جہاں وزیر اعظم شہباز شریف نے ان کا استقبال کیا۔
اسمبلی سیشن کے دوران وزیر دفاع خواجہ آصف کا خطاب ختم ہونے پر سابق وزیر اعظم اپنی نشست سے اٹھے اور سپیکر سے مکالمہ کیا۔
نواز شریف کا کہنا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ خواجہ آصف اپنے خطاب کے آخر پر ایک شعر پڑھیں جو میں نے پرچی پر تحریر کیا تھا تاہم، وہ نہ پڑھ سکیں اس لئے میں چاہتا ہوں کہ میں پڑھ دوں۔
سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ عدلیہ کے کردار پر شعر کسی نے لکھا ہے کہ
’’ نازو انداز سے کہتے ہیں کہ جینا ہوگا
زہر بھی دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پینا ہوگا
جب میں پیتا ہوں تو کہتے ہیں کہ مرنا نہیں
اور جب میں مرتا ہوں تو کہتے ہیں جینا ہوگا ‘‘۔
نواز شریف کے شعر سنانے پر ایوان میں موجود حکومتی اراکین کی جانب سے ڈیسک بجا کر جذبات کا اظہار کیا گیا۔
مولانا فضل الرحمان نے تصیح کی
سربراہ جے یو آئی مولانا فضل الرحمان نے مسکراتے ہوئے نواز شریف کی جانب سے پیش کیے گئے شعر میں غلطی کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بروقت شعر سنایا لیکن وزن سے متعلق احتیاط کرنی چاہیے۔
مولانا فضل الرحمان نے شعر میں غلطی کی نشاندہی اور درستگی کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے مصرع میں ’زہر بھی دیتے ہیں تو پینا ہوگا‘ نہیں ہوگا بلکہ درست اس طرح ہے کہ’ زہر دیتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پینا ہوگا‘۔
26 ویں آئینی ترمیم آزاد عدلیہ کا گلا گھوٹنے کا عمل ہے، عمر ایوب
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم آزاد عدلیہ کا گلا گھوٹنے کا عمل ہے۔
</p>
قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم کا مسودہ اسٹینڈنگ کمیٹی لا اینڈ جسٹس میں جانا چاہیے تھا، آئینی ترمیم 31 اکتوبر کو پاس کیوں نہیں کرائی جاسکتی تھی؟۔
اپوزیشن لیڈر نے سوال اٹھائے کہ ترمیم بعد میں منظور ہوتی تو کیا ملک بند ہوجاتا؟، آئینی ترامیم منظورکرانے کی اتنی جلدی کیا ہے؟، وزیرقانون کو بھی پتہ نہیں ہوتا تھا کہ مسودہ کہاں ہے، مسودہ وزیر قانون نے بنانا تھا کیا کسی مستری نے بھیجنا تھا؟۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ ان کےعزائم تھے کہ عدلیہ کو ختم کیا جائے۔
پارلیمان ، آئین اور جمہوریت کیلئے کالا سانپ افتخار چوہدری والی عدالت ہے، بلاول بھٹو
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جے یو آئی کی رباع ، سود ، اسلامی نظریاتی کونسل سے متعلق تجویز مانی گئی، پارلیمان ، آئین اور جمہوریت کیلئے کالا سانپ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخارچوہدری والی عدالت ہے۔
قومی اسمبلی سیشن میں خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی پی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ ہم نے ججز کو عادت لگوائی تھی کہ چیف تیرے جاں نثار بے شمار بےشمار، پاکستان کےعدالتی نظام کا دنیا میں مذاق بن گیا، عدلیہ وزیر خارجہ طے کر سکتی ہے ، ڈیم بنا سکتی ہے، پکوڑے اور ٹماٹر کی قیمت بھی عدلیہ طے کرے گی، یہ کام عدلیہ نے کرنے ہیں تو وزیراعظم، وزیرخارجہ اور وزیر خزانہ نے کیا کرنا ہے؟ کسی نہ کسی وقت ہم نے یہ دروازہ بند کرنا تھا ، وہ ہم بند کرنے جا رہے تھے۔
پی پی چیئرمین کا کہنا تھا کہ دنیا میں کہیں نہیں ہوتا کہ جج جج کو لگائے اور جج جج کو ہٹائے، کہتے ہیں سیاستدان کون ہوتے ہیں ، ہم منتخب نمائندےہیں، یہ سمجھتے ہیں ہم نے ان کا اختیار چھینا یہ ہم سے اختیار چھین رہے ہیں، کسی نے ضیاالحق کو نہیں روکا کہ آپ کون ہوتے ہو جج لگانے والے، جج لگانے کا اختیار وزیراعظم سے چھین کر چیف جسٹس کو دیا گیا، خوف تھا خاتون وزیراعظم بینظیر بھٹو جج تعینات کرے گی تو نظام تباہ ہو جائے گا، جب ایک آمر جج لگا رہا تھا تو کیا کسی نے اس کا راستہ روکا؟۔
بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ جمہوریت کے چیمپئن افتخار چوہدری نے کہا 18 ویں ترمیم باہر پھینک دوں گا، افتخارچوہدری کی دھمکی میں آکر 19 ویں ترمیم کی گئی، آئینی عدالت پر تنقید ہوئی تو اب ہم آئینی بینچ بنانے جا رہےہیں، آئینی عدالت ہو یا آئینی بینچ ، عوام کا کام ہونے جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم نے گول میز کانفرنس میں آئینی عدالت کی تجویز دی، قائد اعظم کو ملک کو آئین دینے کا موقع نہیں ملا، قائداعظم نے آئینی عدالت کی سوچ رکھی، اےپی ڈی ایم میں بھی میثاق جمہوریت پیش ہوا تھا ، تمام ارکان نے حمایت کی۔
انہوں نے کہا کہ عدلیہ اپنا اختیار وزرائے اعظم کو فارغ کرنے پر استعمال کرتی ہے، مشرف کویونیفارم میں الیکشن لڑنےکی اجازت عدالت نےدی، ہم آمر کو بھگاتے ہیں تو عدلیہ کو آئین اور جمہوریت یاد آتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ اپوزیشن کے دوست کالے سانپ کی بات کر رہے ہیں، پارلیمان ، آئین اور جمہوریت کیلئے کالا سانپ سابق چیف جسٹس پاکستان افتخارچوہدری والی عدالت ہے، اس آئین میں کچھ ترامیم سو فی صد اتفاق رائے سے منظور کی گئی ہیں، پی ٹی آئی سے کہوں گا کہ کم از کم مولانا فضل الرحمان کی ترامیم کو متفقہ طور پر منظور کریں۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن کے بھی 4 ارکان پہنچ گئے، زین قریشی لابی میں موجود
قومی اسمبلی کے ایوان میں اپوزیشن کے بھی 4 ارکان پہنچ گئے۔
26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے لئے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن کے بھی 4 ارکان پہنچ گئے ہیں۔
اپوزیشن ممبرز ایوان میں حکومتی بینچوں پر براجمان ہیں جن میں عثمان علی ، مبارک زیب، ظہور قریشی اور اورنگزیب کھچی شامل ہیں۔
مسلم لیگ ق کے رکن چوہدری الیاس بھی ایوان میں پہنچ گئے ہیں۔
اپوزیشن کے مزید 4 ارکان حکومتی لابی میں بھی موجود ہیں جو ایوان میں نہیں آئے۔
ارکان میں پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی، ریاض فتیانہ ، مقداد حسین اور اسلم گھمن شامل ہیں۔
کس کس سینیٹرز نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے
سینیٹ سے منطور ہونے والی26 ویں آئینی ترمیم میں کس کس سینیٹرز نے ووٹ دیئے۔
چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا 26 ویں آئینی ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں لایا گیا
سینیٹ میں26ویں آئینی ترامیم کے حق میں حکومتی ارکان مین پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) سے چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کے علاوہ 23 سینیٹرز نے 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے ہیں، پاکستان مسلم لیگ ن(پی ایم ایل این) کے19 ارکان نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
حکومتی اتحادی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے 3 سینیٹرز، بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے 2 ارکان اور پاکستان مسلم لیگ قائد اعظم کے ایک رکن نے اور عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے 3 سینیٹرز نے اور 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
سینیٹ میں 4 آزاد ارکان نے حکومت کی ترمیم میں اپنا رائے حق دیا، ان چار ارکان میں سابق نگران وزیراعظم انوار الحق کاکڑ، وزیر داخلہ محسن نقوی ،فیصل واوڈا اور عبدالقادر نے 26 ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیئے ہیں۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے 4 سینیٹر ز نے ووٹ دیئے جبکہ جمعیت علمائے اسلام(جے یو آئی) کے 5 سینیٹرز نے اور نیشنل پارٹی سینیٹر جان محمد نے بھی حکومتی 26ویں آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے 4سینیٹرز سینیٹ میں موجود تھے جس میں سینیٹر عون عباس بپی،سینیٹر علی ظفر، سینیٹر حامد خان اور سینیٹر علامہ ناصر عباس نقوی موجود تھے۔
سینیٹ کی ٹوٹل 96 ارکان کی تعداد میں سے آج سینیٹ میں 70 لوگ حاضر ہوئے، 2 سینیٹرز چھٹی پر تھے، 13 سینیٹر غیر حاضر رہے، خالی 11 سینیٹر ز ہیں۔
Today's appearance in the Senate by Farhan Malik on Scribd
26 ویں آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کیلئے قومی اسمبلی میں ووٹنگ شروع
اسپیکر سردار ایاز صادق کی زیر صدارت 26 ویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے قومی اسمبلی کا اجلاس جاری ہے جس میں ووٹنگ کا عمل شروع ہوچکا ہے۔
سردار ایاز صادق کی زیر صدارت تاخیر سے شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس میں پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے ایوان کی جانب سے منظور کرلیا گیا۔
تحریک منظور ہونے کے بعد 20 اور 21 اکتوبر کو معمول کی کارروائی معطل کردی گئی۔
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے آئینی ترمیمی بل متعارف کرانے کی تحریک ایوان میں پیش کی۔
وزیر قانون کا خطاب
اجلاس کے دوران خطاب کرتے ہوئے وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ترمیمی بل کے خدو خال بیان کئے اور بتایا کہ آج ایک تاریخ سازدن ہے، 18 ویں ترمیم میں ججز تقرری کےعمل میں بنیادی تبدیلی کی گئی تھی، 19 ویں ترمیم بازو دبا کر اس ایوان سےمنظور کرائی گئی، ہماری عدلیہ کا رینکنگ میں جو نمبر ہے وہ بتانے کے لائق نہیں، میثاق جمہوریت میں سب سے اہم ایجنڈا آئینی عدالت کا تھا، میثاق جمہوریت پر بینظیر بھٹو اور نواز شریف نے دستخط کیے، میثاق جمہوریت کے بہت سے نکات پر عملدرآمد ہوگیا۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ آج 26 ویں آئینی ترمیم سینیٹ نے 2 تہائی اکثریت سے منظور کی، چیف جسٹس کی مدت 3 سال مقرر کی گئی، 6 اور 7 سال والے چیف جسٹس آئے تو سب نے دیکھا کیا ہوا، مانگنے کچھ جاتے ہیں ، دے کر کچھ بھیج دیا جاتا ہے ، یہ کئی بار ہوچکا، اعلیٰ عدلیہ میں ججز کی تعیناتی کیلئے سب کی مشاورت سے فیصلہ کریں گے، ہائیکورٹس کیلئے بھی آئینی بینچز متعارف کرائے گئے ہیں۔
اعظم نذیرتارڑ کا کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمان نے مسودے پر اتفاق رائے کیلئے کردار ادا کیا، آئینی ترمیم کیلئے بلاول بھٹو نے بھی بہت محنت کی، جوڈیشل کمیشن کی سربراہی چیف جسٹس کریں گے، سپریم کورٹ کے 3سینئر ترین ججز جوڈیشل کمیشن میں شامل ہوں گے، اٹارنی جنرل اور پاکستان بار کونسل کے نمائندے بھی جوڈیشل کمیشن میں شامل ہوں گے۔
وزیر قانون کے خطاب کے بعد اجلاس کچھ دیر کے لئے ملتوی کیا اور بعد ازاں دوبارہ شروع کیا ۔
اجلاس دوبارہ شروع ہونے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، وزیر دفاع خواجہ آصف ، مولانا فضل الرحمان ، فاروق ستار اور بیرسٹر گوہر نے خطاب کیا۔
اراکین کے خطاب کے بعد اسپیکر کی جانب سے وزی رقانون کو تحریک پیش کرنےکی ہدایت کی گئی جس پر انہوں نے تحریک پیش کی۔
اراکین اپنی نشستوں پر کھڑے ہوئے اور گنتی کا عمل شروع کیا گیا۔
دو تہائی اکثریت
ترمیم پیش کرنے کی تحریک کے حق میں 225 ارکان نے ووٹ دیے جبکہ 12 ارکان اسمبلی نے ترمیم پیش کرنے کی مخالفت کی جس کے بعد حکومت سینیٹ کے بعد قومی اسمبلی میں بھی دوتہائی اکثریت ثابت کرنے میں کامیاب ہو گئی۔
سینیٹ نے 26 واں آئینی ترمیمی بل دوتہائی اکثریت سے منظور کرلیا
ایوان بالا میں 26 ویں آئینی ترمیم دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی گئی۔
سینیٹ میں آئینی ترامیم کے حق میں حکومت کے 58، جمعیت علمائے اسلام کے 5 اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے 2 ووٹ آئے۔
چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا گیا۔
26 ویں آئینی ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں لایا گیا۔
اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے بعد سینیٹر اسحاق ڈار نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بعدازاں مختلف جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز نے اظہار خیال کیا جس کے بعد وزیرقانون نے آئینی ترامیم پر ووٹنگ کیلئے تحریک پیش کی جسے کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔
حکومت کی دو تہائی اکثریت ثابت
آئینی ترمیم کی شق وار منظوری کیلئے سینیٹ کے ایوان کے دروازے بند کردیے گئے۔
ترمیم کی شق وار منظوری کے دوران پی ٹی آئی، سنی اتحاد کونسل اور ایم ڈبیلو ایم کے ارکان ایوان سے چلے گئے۔
آئینی ترمیمی بل کی شق 1 اور 2 ایوان سے 65 ووٹوں کے ساتھ منظور ہوئی جبکہ اپوزیشن کے 4 ارکان نے ترمیم کی مخالفت میں ووٹ دیا جس کے بعد حکومت کی دو تہائی اکثریت ثابت ہوگئی۔
شق نمبر 3، 4، 5 اتفاق رائے سے منظور ہوئیں۔
آئینی ترمیمی بل کی شق نمبر 6 کی حمایت میں 65 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہ دیا جس کے بعد شق 6 اتفاق رائے سے منظور ہوئی۔
بل کی شق 7 اور 8 کی حمایت میں بھی 65 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہ دیا جس کے بعد شق 7 اور 8 اتفاق رائے سے منظور ہوگئی۔
آئینی ترمیمی بل کی شق 9 ، 10، 11، 12 اور 13 بھی ایوان سے منظور ہوئی اور پانچوں شقوں کی حمایت میں 65 ووٹ آئے جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہ دیا۔
شق 15 ، شق 16 ، شق 17 بھی اتفاق رائے سے منظور ہوئیں اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہ آیا۔
شق 18 اور 19 کی مخالفت میں بھی کوئی ووٹ سامنے نہ آیا جس کے بعد 65 ارکان کی حمایت سے متفقہ طور پر منظور کرلی گئیں۔
تمام 22 شقوں کی مرحلہ وار منظوری کے بعد ترمیم کی مجموعی منظوری ہاؤس میں ڈویژن کے عمل سے ہوئی اور چیئرمین سینیٹ نے لابیز لاک کرنے اور بیل بجانے کا حکم دیا۔
اس کے بعد ارکان لابیز میں چلے گئے اور گنتی کی گئی جس کا اعلان چیئرمین سینیٹ نے کیا۔
چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھاکہ سینیٹ نے 26 ویں آئینی ترامیم منظور کرلیں اور ترامیم کے حق میں 65 ووٹ آئے۔
بعد ازاں ، سینیٹ کا اجلاس منگل 22 اکتوبر کی شام 4 بجے تک ملتوی کردیا گیا۔
26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کیا ہوگا؟
26ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد کیا ہوگا؟
26ویں آئینی ترمیم کی دونوں ایوانوں سے منظوری کے بعد صدر توثیق کریں گے،صدر مملکت کی توثیق کے فوری بعد قومی اسمبلی سیکرٹریٹ گزٹ نوٹیفیکیشن جاری کرے گاگزٹ نوٹیفیکیشن کے ساتھ ہی 26 آئینی ترمیمی بل آئین کا حصہ بن جائے گاایکٹ بننے کے بعد چیف جسٹس کی تعیناتی کیلئے پارلیمانی کمیٹی قائم کی جائے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی سیاسی جماعتوں کے پارلیمانی لیڈروں سے ارکان کے نام لیں گے،پارلیمانی کیمیٹی کیلئے قومی اسمبلی سے 8اور 4 ارکان سینیٹ سے لئے جائیں گے،پارلیمانی کمیٹی وزارت قانون سے سینئر ترین ججز کے لئے 3 رکنی پینل طلب کرے گی،پارلیمانی کمیٹی 3 سینئر ججز میں سے ایک کا نام چیف جسٹس کیلئے نامزد کرے گی۔
پارلیمانی کمیٹی کا تجویز کردہ نام وزیراعظم منظوری کے لئے صدر کو بھجوائیں گے۔
ہمیں لاہوری گروپ کی نہیں، فائز عیسیٰ جیسے ججز کی ضرورت ہے، ایمل ولی
عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا ہے کہ ہمیں لاہوری گروپ کی نہیں بلکہ چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ جیسے ججز کی ضرورت ہے۔
ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو چیف جسٹس فائز عیسیٰ جیسے ججز کی ضرورت ہے، ہمیں لاہوری گروپ کی ضرورت نہیں، حکومت عوام کی نمائندہ ہے اور اس کا کام نظام کو سیدھا کرنا ہے۔
سینیٹر ایمل ولی خان کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیم سے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس کھوسہ جیسے ججز کا راستہ رک گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) والے اپنے منتخب چیئرمین کو نہیں مانتے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی اور سرکاری تنصیبات پر حملہ کرنے والے کیخلاف سخت ترین کارروائی ہونی چاہئے، یہ نکات بھی لائیں میں اس کی حمایت کروںگا، کسی ذاتی تنصیبات پر بھی حملے کا کسی کو حق نہیں۔
اگر سینیٹرز کا مسودے کے نکات پر امتحان لوں تو 99 فیصد فیل ہوجائیں، بیرسٹر علی ظفر
پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر علی ظفر نے دعویٰ کیا ہے کہ ارکان سینیٹ نے آئینی ترمیم کا مسودہ پڑھا ہی نہیں اور اگر سینیٹرز کا مسودے کے نکات پر امتحان لوں تو 99 فیصد فیل ہوجائیں گے۔
ایوان بالا کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پی ٹی آئی پارلیمانی لیڈر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئینی ترمیمی بل نے منظور ہو جانا ہے لیکن ہم اس عمل کا حصہ اس لئے نہیں بن رہے کیوںکہ بانی پی ٹی آئی سے مشاورت نہیں کرنے دی گئی۔
سینیٹر علی ظفر کا کہنا تھا کہ آئین میں ترمیم عوام کے مفاد کیلئے ہوتی ہے، ایوان میں ایسے لوگ ہیں جنہوں نے اس بل کو پڑھا تک نہیں ہے، اس طرح بل پاس ہوا تو یہ جمہوریت پر دھبہ ہوگا۔
ان کا کہنا تھا کہ افواہ ہے کہ ہمارے کچھ ساتھی ایوان میں پیش کیے جائیں گے ، وہ زبردستی یا کسی اور وجوہات کے باعث ووٹ دیں گے ، لوگوں سے زبردستی لوٹا بنا کر اور ظلم کرکے ووٹ لینا درست نہیں ، آپ پراعتماد ہیں کہ آج آئینی ترمیم بل منظور کرالیں شائد کرا بھی لیں ۔
انہوں نے کہا کہ ہماری پارلیمانی پارٹی کا فیصلہ ہے کہ ہم آئینی ترمیمی بل کی حمایت نہیں کریں گے ، اگر پی ٹی آئی کا کوئی رکن آئینی ترمیم کے لیے ووٹ ڈالتا ہے تو اسے شمار نہ کیا جائے ، ہم نے پارلیمانی کمیٹی میں شرکت کی لیکن مسودہ میں ایک بھی ترمیم تجویز نہیں کی ۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ابتدائی مسودہ میں 80 سے زائد ترامیم تھیں ، ان ترامیم کا مقصد بہت خطرناک تھا ، فیئر ٹرائل سمیت بنیادی حقوق کو ختم کرنا تھا ، آئین کے آرٹیکل 8 میں ترمیم کی جارہی تھی ، کسی کو اٹھائے پر کسی عدالت میں نہیں جا سکتے تھے ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمارے کچھ ساتھی اس خوف سے اجلاس میں نہیں آئے کہ انہیں اٹھا لیا جائے گا ۔
26ویں آئینی ترمیم کے متعلق سینیٹ میں پیش کئے گئے مسودے کے نکات سامنے آگئے
26ویں آئینی ترمیم کے متعلق کابینہ کی منظوری کے بعد سینیٹ میں پیش کئے گئے مسودے کے نکات سامنے آگئے ہیں۔
چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت ایوان بالا کا اجلاس ہوا، جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل سینٹ میں پیش کیا 26 ویں آئینی ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں لایا گیا۔وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا۔
26ویں آئینی ترمیم کے متعلق سینیٹ میں پیش کئے گئے مسودے کے نکات کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کی تقرری 12رکنی پارلیمانی کمیٹی کرےگی، کمیٹی میں قومی اسمبلی کے 8 ،سینیٹ کے 4 ارکان شامل ہوں گے، تمام جماعتوں کو پارلیمنٹ میں ان کی تعداد کے تناسب سے کمیٹی میں نمائندگی ملے گی قومی اسمبلی تحلیل ہو تو سینیٹ کے 4 ارکان تقرری کے مجاز ہوں گے، کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینیئر ترین ججز میں سے کسی ایک کو کثرت رائے سے چیف جسٹس مقرر کرے گی۔
چیف جسٹس کی تقرری قبول نہ کرنے پر ان کے بعد کے سینئر جج کا نام زیر غور لایا جائے گا، کمیٹی کا اجلاس بند کمرے میں ہوگا، اس کی کارروائی ریکارڈ کی جائے گی، کمیٹی اور جوڈیشل کمیشن کے فیصلوں کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا، آرٹیکل 179 میں ترمیم، چیف جسٹس کی مدت زیادہ سے زیادہ 3 سال ہوگی، 3سال گزرنے پر چیف جسٹس کی عمر 65 برس سے کم بھی ہوگی تو ریٹائرڈ کر دیا جائے گا۔
Draft of the 26th Constitutional Amendment by Farhan Malik on Scribd
نیا آرٹیکل 191 اے میں سپریم کورٹ میں“آئینی بینچ”کا قیام، ججز کی تعداد جوڈیشیل کمیشن مقرر کرے گا، آئینی بینچ کے ججز میں ممکنہ حدتک تمام صوبوں کو برابر کی نمائندگی دی جائے گی، آئینی بینچ کے علاوہ سپریم کورٹ کا کوئی جج اوریجنل جوریسڈکشن، سوموٹو مقدمات، آئینی اپیلیں یا صدارتی ریفرنس کی سماعت کا مجاز نہیں ہوگا سوموٹو، اوریجنل جوریسڈکشن درخواستوں اور صدارتی ریفرنسز کی سماعت اور فیصلہ“آئینی بینچ” کا 5 رکنی بینچ کرے گا۔
آئینی اپیلوں کی سماعت اور فیصلہ بھی 5 رکنی آئینی بینچ کرے گا، آئینی بینچ کے 3 سینئر ترین جج سماعت کا بینچ تشکیل دیں گے، سپریم کورٹ میں آئینی بینچ کے دائرہ اختیارمیں آنے والی “زیرالتوا” کیسز اور نظرثانی درخواستیں آئینی بینچ کو منتقل ہوجائیں گی، ہائیکورٹ کو سوموٹو نوٹس لینے کا اختیار نہیں ہوگا، آرٹیکل 175 اے، جوڈیشل کمیشن کے موجودہ ارکان برقرار، 4 ارکان پارلیمنٹ شامل کئے جائیں گے۔
سینیٹ کارکن منتخب ہونے کی مجاز خاتون یا اقلیتی شہری بھی رکن ہوگا، تقرری اسپیکر دو سال کیلئے کرے گا، کمیشن کے ایک تہائی ارکان چیئر پرسن کو تحریری طور پر اجلاس بلانے کی استدعا کر سکتے ہیں، چیئر پرسن 15روز میں اجلاس بلانے کاپابند ہوگا، نہ بلانے پر سیکرٹری کو 7 روز میں اجلاس بلانے کا اختیار ہوگا، نیا آرٹیکل 9 اے متعارف، صحت مندانہ پائیدار ماحول بنیادی حق قرار جائے گا،آرٹیکل 48 میں سے وزیر اور وزیر مملکت کے الفاظ حذف کئے جائیں۔
صرف کابینہ یا وزیراعظم کی صدر کو بھجوائی گئی سمری کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکےگا، آرٹیکل 81 میں ترمیم، سپریم جوڈیشیل کونسل اور انتخابات کیلئے فنڈز لازمی اخراجات میں شامل ہوں گے آرٹیکل 111 میں ترمیم، صوبائی مشیروں کو بھی اسمبلی میں خطاب کا حق دیا جائے گا، 184(3) کے تحت سو موٹو یا ابتدائی سماعت کے مقدمات میں سپریم کورٹ صرف درخواست میں کی گئی استدعا کی حد تک فیصلہ جاری کر سکے گی۔
سپریم کورٹ اب 50ہزار کے بجائے 10 لاکھ روپے تک کی اپیلیں براہ راست سماعت کی مجاز ہوگی، آرٹیکل 186 اے میں ترمیم سپریم کورٹ انصاف کے تقاضے پورے کرنے کے لئے زیر سماعت مقدمہ اپیل یا دیگر کارروائی کسی اور ہائیکورٹ کو منتقل کرنے کے علاوہ خود کو بھی منتقل کرنے کی بھی مجاز ہو گی ،آرٹیکل 187کے تحت مکمل انصاف کے لئے کوئی بھی حکم جاری کرنے کا اختیار محدود کرنے کی تجویز حکم صرف اپنے آئینی دائرہ اختیار کے اندر ہی جاری کیا جا سکے گا۔
آرٹیکل 209 میں ترمیم چیف جسٹس آف پاکستان کیخلاف ریفرنس ہو تو ان سے نیچے کا سینئر ترین جج سپریم جوڈیشل کونسل کا حصہ بنایا جا سکے گا،ججز کو ہٹانے کی وجوہات میں ناقص کارکردگی کو بھی شامل کر دیا گیا، اس کے لئے ججز کی کارکردگی پر جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کی رپورٹ کو بنیاد بنایا جائےگا سپریم جوڈیشل کونسل کا اپنا سیکریٹریٹ قائم کرنے اور ایک سیکریٹری کی سربراہی میں اسٹاف کے تقرر کی تجویز، ہر کام کونسل کے وائد کی روشنی میں عمل میں آئے گا۔
چیف الیکشن کمشنر اور ارکانِ الیکشن کمیشن مدت مکمل ہونے کے باوجود نئے کمشنر یا ارکان کی تقرری تک کام کرتے رہیں گے، کوئی آئینی عہدیدار کسی دوسرے آئینی عہدیدار سے حلف لینے سے انکار کرے تو چیف جسٹس آف پاکستان یا چیف جسٹس ہائیکورٹ حلف لینے کیلئے کسی کو نامزد کر سکتے ہیں ،وفاقی شرعی عدالت کاجج بھی شریعت کورٹ کاچیف جسٹس بن سکے گا، وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ اپیل کی صورت میں صرف ایک سال معطل رہ سکے گا شریعت ایپلٹ بینچ کے فیصلہ نہ کر سکنے کی صورت میں ایک سال بعد شرعی عدالت کا فیصلہ بحال ہو جائے۔
سینیٹ نے26ویں آئینی ترمیمی بل دوتہائی اکثریت سےمنظورکرلیا
- سپریم کورٹ کاآئینی بینچ تشکیل دیاجائیگا،بل
- جوڈیشل کمیشن آئینی بینچزاورججزکی تعدادکاتقررکرےگا۔
- آئینی بینچزمیں جتناممکن ہوتمام صوبوں سےمساوی ججزتعینات کیے جائیں گے۔
- آرٹیکل184کےتحت ازخودنوٹس کااختیارآئینی بینچزکےپاس ہوگا۔
- آرٹیکل185کےتحت آئین کی تشریح سےمتعلق کیسزآئینی بینچزکےدائرہ اختیارمیں آئیں گے۔
- آئینی بینچ کم سےکم پانچ ججزپرمشتمل ہوگا۔
- آئینی بینچزکےججزکاتقرر3سینیئرترین ججزکی کمیٹی کریگی۔
- چیف جسٹس کا تقررخصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پرکیاجائےگا۔
- پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے3سینیئرترین ججزمیں سےچیف جسٹس کاتقررکرےگی۔
- کمیٹی کی سفارش پرچیف جسٹس کانام وزیراعظم صدرمملکت کو بھجوائیں گے۔
- پارلیمانی کمیٹی چیف جسٹس کی تعیناتی دوتہائی اکثریت سےکریگی۔
- کسی جج کےانکارکی صورت میں اگلےسینیئرترین جج کانام زیرغورلایا جائےگا۔
- چیف جسٹس کےتقررکےلئے12رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنائی جائےگی۔
- پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی پارٹیوں کی متناسب نمائندگی ہوگی۔
- پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی چار ارکان سینٹ ہوں گے۔
- چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت3سال ہوگی۔
- چیف جسٹس کےلیےعمرکی بالائی حد65سال مقرر۔
- آرٹیکل184تین کےتحت سپریم کورٹ کوئی ہدایت یاڈیکلریشن نہیں دے سکتی۔
- آرٹیکل186اےکےتحت سپریم کورٹ ہائیکورٹ کےکسی بھی کیس کومنتقل کرسکتی ہے۔
- ججزتقرری کمیشن ہائیکورٹ کےججزکی سالانہ کارکردگی کاجائزہ لے گا۔
- سپریم کورٹ کےججزکاتقررجوڈیشل کمیشن کرےگا۔
- چیف جسٹس کی سربراہی میں کمیشن میں4سینیئرترین ججزشامل ہوں گے۔
- وفاقی وزیرقانون اٹارنی جنرل بھی کمیشن کےارکان ہوں گے۔
- کم سے کم 15 سال تجربےکاحامل پاکستان بارکونسل کانامزدکردہ وکیل2سال کےلیےکمیشن کا رکن ہوگا۔
- 2ارکان قومی اسمبلی اور2ارکان سینٹ کمیشن کاحصہ ہوں گے۔
- سینیٹ میں ٹیکنوکریٹ خاتون رکن یاغیرمسلم رکن کو بھی2سال کےلیے کمیشن کارکن بنایاجائے گا۔
- آرٹیکل38میں ترمیم کےتحت جس حدتک ممکن ہوسکے1جنوری2028 تک سودکاخاتمہ کیاجائےگا۔
- آرٹیکل48میں ترمیم منظور۔
- وزیراعظم یاکابینہ کی جانب سےصدرمملکت کوبھجوائی گئی ایڈوائس پر کوئی عدالت،ٹریبیونل یااتھارٹی سوال نہیں اٹھاسکتی۔
- شریعت کورٹ میں سپریم کورٹ جج لگایا جاسکے گا۔
سینیٹ میں آئینی ترمیمی بل کی شق وار منظوری کا عمل جاری
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل سینٹ میں پیش کردیا۔
چیئرمین سید یوسف رضا گیلانی کی صدارت ایوان بالا کا اجلاس جاری ہے جس میں وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے 26 ویں آئینی ترمیمی بل سینٹ میں پیش کردیا گیا ہے۔
26 ویں آئینی ترمیمی بل ضمنی ایجنڈے کے طور پر سینیٹ میں لایا گیا۔
اجلاس تاخیر سے شروع ہونے کے بعد سینیٹر اسحاق ڈار نے وقفہ سوالات معطل کرنے کی تحریک پیش کی جسے اکثریتی رائے سے منظور کر لیا گیا۔
بعدازاں، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے 26 ویں آئینی ترمیمی بل پیش کیا۔
وزیر قانون کا اظہار خیال
وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ نے سیینٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینی ترمیمی بل پر اپوزیشن سمیت تمام جماعتوں سے مشاورت کی گئی اور سینیٹ میں ضمنی ایجنڈا تمام ارکان کے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔
19 ویں ترمیم عجلت میں کی گئی،19 ویں آئینی ترمیم کی منظوری سے ججز تقرری عمل کا توازن عدلیہ کے حق میں چلا گیا تھا، نئی ترامیم کے تحت چیف جسٹس آف پاکستان کی مدت تین سال ہوگی ، کوشش کی گئی ہےاعلیٰ عدالتوں میں ججز کے تقرر کا عمل شفاف بنایا جائے۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس کے تقرر کے لیے 12 رکنی خصوصی پارلیمانی کمیٹی بنے گی، چیف جسٹس کا تقرر خصوصی پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر کیا جائے گا، پارلیمانی کمیٹی سپریم کورٹ کے 3 سینئر ججز میں سے چیف جسٹس کا تقرر کرے گی، پارلیمانی کمیٹی کی سفارش پر چیف جسٹس کا نام وزیراعظم اور صدرمملکت کو بھجوائیں گے۔
وزیر قانون نے بتایا کہ پارلیمانی کمیٹی میں 8 ارکان قومی اسمبلی اور چار سینیٹرز ہوں گے ، پارلیمانی کمیٹی میں تمام پارلیمانی جماعتوں کی نمائندگی ہوگی ، سپریم کورٹ کے ججز کا تقرر جوڈیشل کمیشن کرے گا، وفاقی وزیرقانون اور اٹارنی جنرل بھی کمیشن کے رکن ہوں گے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماضی میں پارلیمانی کمیٹی میں ہم نے کئی فیصلوں کو آٹھ صفر سے کیا، صرف ایک جج نے پارلیمانی کمیٹی کے متفقہ فیصلے کو اٹھا کر پھینک دیا اس سلسلے کو بند کرنا ہے، آئینی بینچز کا تقرر جوڈیشل کمیشن کرے گا۔
انہوں نے بتایا کہ چیف جسٹس قاضی فائر عیسی سے تین ملاقاتیں ہوئیں ، انہوں نے کہا کہ ایکسٹینشن میں دلچسپی نہیں رکھتے، وہ مدت مکمل کر کے چلے جائیں گے۔
وزیر قانون کا کہنا تھا کہ بند دروازوں کے پیچھے جو معاملات ہوتے ہیں ہم انہیں نہیں مانتے، بر وقت انصاف نہیں ملتا ، مقدمات پر سالہا سال لگ جاتے ہیں، ججز تقرری میں شفافیت کے لیے سب ایک کمیشن میں بیٹھ کر فیصلہ کریں گے، جوڈیشل کمیشن کے پاس ججز کی کارکردگی جانچنے کا بھی اختیار ہوگا، جو ججز کام نہیں کرتے اور جن کی کارکردگی درست نہیں کمیشن کو رپورٹ کریں گے۔
جے یو آئی ف کی 5 مزید ترامیم کو بھی تسلیم کرنے کا اعلان
حکومت نے آئینی ترمیمی بل کے متفقہ مسودہ میں جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کی پانچ مزید ترامیم کو بھی تسلیم کرنے کا اعلان کیا اور وزیر قانون نے کہا کہ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پانچ ترامیم آج جمع کرائی ہیں، ان پانچوں ترامیم پر بھی ہمارا اتفاق رائے ہے ۔
اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل کے حوالے سے ترامیم ہیں ، 26 ویں آئینی ترمیمی بل کو آج منظور کیا جائے ، آئین میں ترمیم کا اختیار صرف پارلیمنٹ کو حاصل ہے۔