Live Updates: بجٹ 2024-25 ،تنخواہوں میں اضافہ، خالی اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ
تنخواہوں میں 25 فیصد اور پنشن میں 15 فیصد اضافے، پٹرولیم مصنوعات پر لیوی ٹیکس بڑھانے کی تجویز
حکومت پینشن اخراجات میں کمی کیلئے اسکیم لے آئی
حکومت نے پینشن اخراجات میں کمی لانے کے لیے نئے مالی سال کے بجٹ میں اسکیم متعارف کروادی۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ وفاقی حکومت پر کھربوں روپے کی ان فنڈڈ پینشن لائبلیٹی ہے اور پنشن کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ لہذا ان اخراجات میں اضافے کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت نے اس شعبے کی اصلاح کے لیے حکمت عملی ترتیب دی ہے جس پر کافی حد تک مشاورت مکمل ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی معیارات کے مطابق موجودہ پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی جن کے نتیجے میں اگلی تین دہائیوں کی پینشن لائبلیٹی میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ نئے ملازمین کے لیے کونٹریبیوٹری پینشن اسکیم متعارف کروائی جائے گی جس میں حکومت کا حصہ ہر ماہ ادا کیا جائے گا۔ اس سے مستقبل کے ملازمین کی پنشن ان کی ملازمت کے آغاز سے ہی مکمل طور پر فنڈڈ ہوگی۔ وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پشن کی لائبلیٹی کو مینیج کرنے کے لیے پنشن فنڈ قائم کیا جائے گا۔
مقدس گائے وہ ہے جو پیسہ کمائے، ٹیکس نہ دے، وزیرمملکت خزانہ
وزیرمملکت خزانہ علی پرویزملک کا کہنا ہے کہ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے پہلی بار جو اقدام کیے ہیں ان میں مقدس گائے بھی آتی ہیں۔ مقدس گائے وہ ہے جو پیسہ کمائے، ٹیکس نہ دے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران علی پرویزملک نے کہا کہ ایف بی آر کو زرعی ٹیکس لگانے کا اختیار دیا جائے تو استثنیٰ کا خاتمہ ممکن ہے۔ دعویٰ کیا کہ جون میں بجلی کی ڈیمانڈ پوری کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ شعبہ توانائی کی اصلاح کیلئے سرجری درکار ہے۔
اس موقع پر وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ممالک ٹیکس پر چلتے ہیں، ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ناگزیر ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہے جو قابل قبول نہیں۔ محمد اور نگزیب نے کہا ۔زیادہ آمدنی والوں پر زیادہ ٹیکس لگے گا۔ کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مہنگائی شرح سود کے مطابق ہی رہے گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ تمام حکومتی اتحادیوں کوآن بورڈ لے کر بجٹ تیار کیا گیا، بجٹ سیشن میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی موجود تھی، آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے پر امید ہیں، امید ہے جولائی میں آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا، آئی ایم ایف سےبات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ابھی کوئی حتمی بات کرنا مناسب نہیں۔
ممالک ٹیکس پر چلتے ہیں، ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا نا گزیر ہے، وزیرخزانہ
وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ ممالک ٹیکس پر چلتے ہیں، ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ناگزیر ہے۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح 10 فیصد ہے جو قابل قبول نہیں۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کے دوران محمد اور نگزیب نے کہا ۔زیادہ آمدنی والوں پر زیادہ ٹیکس لگے گا۔ کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ مہنگائی شرح سود کے مطابق ہی رہے گی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ تمام حکومتی اتحادیوں کوآن بورڈ لے کر بجٹ تیار کیا گیا، بجٹ سیشن میں پیپلزپارٹی کی نمائندگی موجود تھی، آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے پر امید ہیں، امید ہے جولائی میں آئی ایم ایف سے اسٹاف لیول معاہدہ ہوجائے گا، آئی ایم ایف سےبات چیت مثبت سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ آئی ایم ایف پروگرام کیلئے ابھی کوئی حتمی بات کرنا مناسب نہیں۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ 6،7 اسٹرٹیجک ایس اوایزکونجکاری پلان سےنکال دیا، اسٹرٹیجک ایس او ایز کو نجکاری میں شامل نہیں کیاجارہا، نجکاری کے معاملے پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لےکرچل رہے ہیں، وزیراعظم نے لاہور،کراچی ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کی ہدایت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ریونیو بڑھانے کیلئےصوبوں سےبات چیت جاری ہے، صوبے ریونیو بڑھانے میں کردار اداکریں تو وفاق ریلیف دینے کے قابل ہوگا، امید ہے صوبے اخراجات کے حوالے سے کچھ بوجھ اٹھائیں گے، این ایف سی کے حوالے سے صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔
محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ جو ادارے صوبوں کو منتقل ہوچکے، انہیں بندکردینا چاہیے، ای اوبی آئی خود مختارادارہ ہے، اپنی پنشن سے متعلق ای اوبی آئی خود فیصلہ کرےگا، وزیرخزانہ نے مزید کہا کہ اب تک جتنی باتیں ہوئی ہیں وہ یہ ہیں کہ ادھارلیں گے اور کریں گے، فزیکل اسپیس نہیں ہوگی توسوشل سیکٹرمیں بہتری نہیں لائی جاسکتی، جب تک ٹیکس جمع نہیں ہوگافلاح وبہبود کے کام نہیں ہوسکیں گے۔
وزیرخزانہ کا کہنا تھا کہ سیلزٹیکس سمیت جتناچیزوں کو ڈیجیٹائز کریں گے،معاملات بہترہونگے، سیلزٹیکس کی ڈیجیٹائزیشن اولین ترجیح ہے، سیلزٹیکس میں بہت بڑی لیکج ہے، ٹریک اینڈٹریس سسٹم مختلف شعبوں پرلاگونہ ہوسکا، ٹریک اینڈٹریس سسٹم کومرحلہ وار مختلف شعبوں پرلاگو کیا جاناتھا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ٹیکس بیس کووسیع کرناہے، معیشت کی ڈیجیٹائزیشن پرکام ہورہاہے، مختلف اداروں کے نظام کو بہتر کرنا ہوگا، پروگریسوٹیکس صاحب ثروت لوگوں پرعائد کیا جائے گا، ٹیکس بیس بتدریج آگے بڑھائیں گے۔
محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ پیٹرولیم لیوی میں فوری طور پر اضافہ نہیں ہو رہا، پیٹرولیم لیوی کو مرحلہ وار بڑھایا جائے گا۔ اگلے سال پیٹرولیم لیوی میں بتدریج اضافہ کیا جائےگا، ٹیکس کی شرح45فیصدتک لے گئےہیں، نان فائلرزکی کاروباری ٹرانزیکشن پرٹیکس میں نمایاں اضافہ کیاگیا، ٹیکس قوانین کانفاذپوری طرح نہیں ہوا، تین سال میں ٹیکس ٹوجی ڈی پی13فیصد پرلے کر جاناہے۔ نان فائلرزکی اصطلاح کےخاتمےکی جانب جارہے ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پرٹیکس کےبغیر آگے نہیں بڑھ سکتے، تنخواہ دارطبقے کو ٹیکس نیٹ میں لاناضروری ہے،31 ہزار ریٹیلرز رجسٹرڈ ہوچکےہیں۔ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانا ضروری ہے تاکہ بوجھ بانٹا جائے، جولائی سے ریٹیلرز پرٹیکس کا نفاذہوگا۔
محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ پی ایس ڈی پی میں19فیصد نئے منصوبوں کیلئے فنڈزرکھ رہےہیں، پی ایس ڈی پی میں جاری منصوبوں کو81فیصد فنڈنگ دی جارہی ہے، کوشش ہے پی ایس ڈی پی کےمنصوبوں کومکمل کیا جائے۔ زراعت،آئی ٹی،ایس ایم ای میں فنانسنگ سے متعلق غورکیاگیا، گورنر اسٹیٹ بینک کے ساتھ 2ماہ میں بینکس ایسوسی ایشن کے3، 4اجلاس ہوئے، ایس ایم ای میں بینکوں کومحنت کرنےکی ضرورت ہے۔
وزیرخزانہ کے مطابق آئی ٹی کی ایکسپورٹ3.5ارب ڈالر ہے، آئی ٹی سیکٹرمیں نوجوانوں کو سہولیات فراہم کریں گے، کیش ٹرانزکشن ختم کرکے ڈاکیومنٹ کی طرف جارہے ہیں، فکسڈ ٹیکس کو مرحلہ وار دیکھ رہے ہیں۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا، ایف بی آر
چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) ملک محمد زبیر ٹوانہ کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
بجٹ پر بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر ملک محمد زبیر ٹوانہ کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولیوں میں 3800 ارب روپے سے زائد اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ پالیسی اور انفورسمنٹ کے ذریعے 1800 ارب روپے کے ٹیکسز جمع ہوں گے۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ بجٹ میں ساڑھے 400 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے جبکہ کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 150 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ ختم کی گئی ہے۔
ملک زبیر ٹوانہ کا کہنا تھا کہ تنخواہ دار طبقے پر 75 ارب روپے کا ٹیکس بوجھ ڈالا گیا ہے ، جبکہ غیرتنخواہ دارطبقےپر ڈیڑھ سو ارب روپے کا ٹیکسوں کا بوجھ ہو گا ۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں غیرمنقولہ جائیداد پر پانچ فیصد ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی اور پلاٹس اور کمرشل پراپرٹیز پر بھی ایکسائز ڈیوٹی لگائی گئی ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کو نارمل ٹیکس رجیم میں لایا جا رہا ہے اور ریٹیلرز پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی شرح کو بڑھایا گیا ہے۔
جعلی حکومت نے جعلی بجٹ پیش کیا، مکمل رد کرتے ہیں، عمر ایوب
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا ہے کہ جعلی حکومت نے جعلی بجٹ پیش کیا ہے جسے ہم مکمل رد کرتے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ میں نے اس ایوان میں 4 بجٹ پیش کئے، آج کا بجٹ معنی خیز نہیں ہوسکتا، نہ سی ڈی دی گئی نہ انگریزی میں لکھا پیش کیا گیا، آج اس پارلیمنٹ میں پہلی بار آئینی خلاف ورزی ہوئی، وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر شروع ہوتی ہے تو سارا ریکارڈ پیش کرنا ہوتا ہے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ ملک کی درست گروتھ ریٹ نہیں ہے، پنجاب کے کسانوں کی گندم جل رہی ہے، محسن نقوی تو ٹیکس ریٹرن جمع ہی نہیں کراتے تھے، یہ کہتے ہیں صنعت کی پیداوار بڑھی ہے ، کون سی پیداوار ہوئی ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بجلی پچھلے ہفتے ساڑھے 3 روپے مہنگی ہوئی ہے، حکومت کی کسی سے کوئی مشاورت نہیں، ایران سے جو تیل آئے گا اس کے بدلے چاول سمگل ہو کر وہاں جائے گا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ان کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی کا ردعمل
پی ٹی آئی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان نے بجٹ پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمان میں قانون سازی غیرآئینی طریقے سے ہوئی، الیکشن ہونے کے بعد ٹربیونلز کا قیام غیر آئینی ہے۔
بیرسٹر گوہر علی خان کا کہنا تھا کہ آج ایک فیصد گروتھ کے مطابق 18 ارب روپے کا بجٹ پیش کیا گیا، سیلز،ایکسائز، انکم ٹیکس میں تبدیلیاں کرتے ہیں، آپ نے ہمیں بجٹ کی کاپیاں کیوں نہیں دیں، 20 جون کو بجٹ کے متعلق اپنا کردار کیسے ادا کریں گے؟۔
ان کا کہنا تھا کہ آج کی کارروائی غیر قانونی ہے، اگرسمجھتے ہیں کہ آپ آئینی پارٹی ہیں تواس بجٹ کو ووٹ نہ دیں۔
صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کی بحالی کا اعلان
وفاقی حکومت کی جانب سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کی بحالی کا اعلان کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ یکم جولائی کے بعد فائلر کیلئے 15 فیصد ٹیکس جبکہ یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے آمدن تک برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر کے دوران صحافیوں اور میڈیا ورکرز کے لئے ہیلتھ انشورنس کی بحالی کا اعلان بھی کیا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں 5 ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی ہیلتھ انشورنس ہوگی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دوسرے مرحلے میں 10ہزار صحافیوں اور میڈیا ورکرز کو صحت کا بنیادی حق فراہم کریں گے۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےانکم ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا
آئندہ مالی سال 25-2024 کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کےانکم ٹیکس میں اضافہ کردیا گیا ہے، 50 ہزار روپے ماہانہ آمدن والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ کمانے والوں کا انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ایک لاکھ روپے تک ماہانہ آمدن پر انکم ٹیکس 5 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ انکم ٹیکس 1250 سے بڑھا کر 2500 روپے کر دیا گیا ہے۔
سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپےآمدن پر ٹیکس 15 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ماہانہ 1 لاکھ 83 ہزار 344 روپےتنخواہ والوں پر انکم ٹیکس 15 فیصد عائد کردیا گیا ہے۔ ان افراد کا انکم ٹیکس 11667 سے بڑھا کر 15 ہزار روپے ماہانہ کردیا گیا ہے۔
سالانہ 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 25 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 2 لاکھ67 ہزار 667 روپے تنخواہ پر ٹیکس 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان کا انکم ٹیکس 28 ہزار 770 سے بڑھا کر 35 ہزار 834 ماہانہ کر دیا گیا ہے۔
سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس 30 فیصد عائد کیا گیا ہے۔ ماہانہ 3 لاکھ 41 ہزار 667 تک تنخواہ پر ٹیکس 30 فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان افراد کا ٹیکس 47 ہزار 408 روپے سے بڑھ کر 53 ہزار 333 روپے ماہانہ ہوگیا ہے۔
سالانہ 41 لاکھ روپے تنخواہ پر 35 فیصد ٹیکس لاگو کیا جائےگا۔
دفاع کے لئے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کی رقم مختص
وفاقی حکومت نے نئے مالی سال کے بجٹ میں دفاع کے لئے 2 ہزار ارب روپے سے زائد کی رقم مختص کر دی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ یکم جولائی کے بعد فائلر کیلئے 15 فیصد ٹیکس جبکہ یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے آمدن تک برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دو ہزار ایک سو بائیس ( 2122 ) ارب روپے دفاعی ضروریات کے لئے فراہم کئے جائیں گے۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے مختص رقم میں 27 فیصد اضافے کی تجویز
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق تعلیمی وظائف پروگرام میں مزید 10 لاکھ بچوں کو شامل کیا جائے گا،بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کیلئے مختص رقم میں 27 فیصد اضافے کی تجویز کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں بی آئی ایس پی کے ذریعے کمزور طبقے کی معاونت جاری رہے گی، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کیلئے مختص رقم میں 27 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی کا فنڈ بڑھا کر 593 ارب روپے تک کیا جائے گا، مستحق افراد کی موجودہ تعداد 93 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کی جائے گی، تعلیمی وظائف پروگرام میں مزید 10 لاکھ بچوں کو شامل کیا جائے گا،اس پروگرام میں بچوں کی تعداد ایک کروڑ 4 لاکھ ہو جائے گی۔
آن لائن خریداری سے سرکاری اخراجات میں10سے20فیصد کمی ممکن ہے،وزیر خزانہ
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق موجودہ پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی،آن لائن خریداری سے سرکاری اخراجات میں10سے20فیصد کمی ممکن ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت پر کھربوں روپے پنشن ادائیگی کا بوجھ ہے، پنشن اخراجات کی بڑھتی ہوئی شرح میں کمی ضروری ہے، موجودہ پنشن اسکیم میں اصلاحات لائی جائیں گی۔
بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے آئندہ 3 دہائیوں میں پنشن اخراجات میں خاطر خواہ کمی ہوگی، نئے سرکاری ملازمین کیلئے پنشن کی نئی اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے، نئی اسکیم کے تحت ملازمین کی پنشن کیلئے ماہانہ تنخواہ سے کٹوتی ہوگی، نئے سرکاری ملازمین کی تنخواہ فلی فنڈڈ ہوگی۔
حکومتی اخراجات میں کمی سے سالانہ 45 ارب روپے کی بچت کا امکان ہے، محمد اورنگزیب
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق گریڈ ایک سے 16 تک کی تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز ہےجس سےحکومتی اخراجات میں کمی سے سالانہ 45 ارب روپے کی بچت کا امکان ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مہنگائی 38 فیصد سے 11 اعشاریہ 8 فیصد پر آ گئی ہے، مہنگائی کو سنگل ڈیجٹ کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی، غیر ضروری حکومتی اخراجات میں کمی کیلئے اقدامات کر رہے ہیں۔
بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ پنشن کے نظام میں اصلاحات لائی جا رہی ہیں، گریڈ ایک سے 16 تک کی تمام خالی اسامیاں ختم کرنے کی تجویز ہے، اس اقدام سے سالانہ 45 ارب روپے کی بچت کا امکان ہے۔
نئے ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے 206 ارب روپے مختص، وزیر خزانہ
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق نئے ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے 206 ارب روپے مختص ہیں۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ نئے ترقیاتی بجٹ میں آبی وسائل کیلئے 206 ارب روپے مختص کئے ہیں، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 45 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دیامر بھاشا ڈیم کیلئے 40 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، چشمہ رائٹ بینک کینال کیلئے18ارب روپے ہیں جبکہ پٹ فیڈر کینال کیلئے10ارب روپے مختص ہیں۔
اگلے مالی سال میں بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کیلئے79ارب روپے رکھنے کی تجویز
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق اگلے مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبہ پر خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے،نئے بجٹ میں آئی ٹی سیکٹر کیلئے79ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آئی ٹی شعبے کیلئے 79ارب روپے یہ اب تک رکھی جانے والی سب سے زیادہ رقم ہے، ایف بی آر کی ڈیجٹلائزیشن اور اصلاحات کیلئے7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ کراچی میں آئی ٹی پارک کی تعمیر کیلئے 8 ارب روپے رکھے جائیں گے، بجٹ میں ٹیکنالوجی پارک ڈویلپمنٹ پروجیکٹ اسلام آباد کیلئے 11ارب روپے مختص کئے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کیلئے2 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر انفارمیشن کیلئے 20 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز
وفاقی حکومت کی جانب سے یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز پیش کر دی گئی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 877 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ یکم جولائی کے بعد فائلر کیلئے 15 فیصد ٹیکس جبکہ یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے آمدن تک برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنے کی تجویز ہے۔
ایکسپورٹرز کی آمدن پر ایک فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان
وفاقی حکومت کی جانب سے ایکسپورٹرز کی آمدن پر ایک فیصد کی شرح سے ٹیکس عائد کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں بتایا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے آمدن تک برقرار رکھنے کی تجویز ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں مزید اضافہ نہ کرنے کی تجویز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ بجٹ میں کپیٹل گین ٹیکس نظام کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یکم جولائی کے بعد فائلر کیلئے 15 فیصد ٹیکس جبکہ یکم جولائی کے بعد نان فائلر پر ٹیکس کی شرح 45 فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کیلئے آلات کی درآمد پرٹیکس میں رعایت
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق سولر پینل انڈسٹری کے فروغ کیلئے آلات کی درآمد پر ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سولر پینل انڈسٹری پر ٹیکس میں رعایت دی گئی ہے، پلانٹ مشینری اور منسلک آلات، سولر پینل، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری کا خام مال شامل ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ مچھلیوں اور جھینگوں کی افزائش کیلئے سیڈ اور فیڈ کی درآمد پر ٹیکس میں رعایت دینےکا فیصلہ کیا گیا ہے، فاٹا پاٹا کو دی گئی انکم ٹیکس چھوٹ میں ایک سال کی توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس انجن کپیسٹی کے بجائے قیمت کی بنیاد پر ہوگا، نان فائلرز ریٹیلرز اور ہول سیلرز پر ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے، نان فائلرز ریٹیلرز اور ہول سیلرز کیلئے ایڈوانس ود ہولڈنگ ٹیکس ایک فیصد سے بڑھا کر 2.25 فیصد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
وفاقی حکومت کا خالی سرکاری اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے خالی سرکاری اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
حکومت کی جانب سے خالی سرکاری اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ بھی کر لیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ جیسے کہ پہلے ذکر کیا جا چکاہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا دوسرا اہم ستون ہے ، ہم غیر ضروری اخراجات کم کر رہے ہیں۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ حکومت پنشن کے نظام میں اصلاحات لارہی ہے ، وفاقی حکومت کی تما م خالی اسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے ، جس سے 45 ارب روپے کی بچت ہونے کاامکان ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے حجم اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ڈھانچے کا جائزہ لے گی اور اڑھائی میں اپنی سفارشات پیش کرے گی ۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ حکومت نے پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
سیمنٹ پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ( ایف ای ڈی ) کی شرح میں اضافے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتی شرح اور استثنی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ موبائلز فونر کی مختلف کیٹگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا۔
پچاس ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے اور شیشے کی درآمدی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کے بجٹ میں سیمنٹ پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ( ایف ای ڈی ) کی شرح میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
فیصلے کے مطابق سیمنٹ پر ایف ای ڈی 2 روپے کلو سے بڑھا کر 3 روپے کلو کر دیا گیا۔
نئے پلاٹس اور رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق نئے پلاٹس اور رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والےنئےبجٹ اجلاس میںنئے پلاٹس اور رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصدفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ( ایف ای ڈی) عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس میں حکومت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ٹیر ون کے ریٹیلرز پر جی ایس ٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ اجلاس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔
جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کردیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتی شرح اور استثنی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ موبائلز فونر کی مختلف کیٹگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا۔
پچاس ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے اور شیشے کی درآمدی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والی دکانوں کو سیل کر دیا جائے گا۔
اسگریٹس فلٹر کی پیداوار میں استعمال ہونے والے مٹیریل پر 44 ہزار روپے فی کلو ٹیکس کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ 2024-25 ،تنخواہوں میں اضافہ، خالی اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے 18 ہزار ارب سے زائد کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیا ہے جس میں 8 ہزار ارب سے زائد خسارے کا سامنا ہے تاہم حکومت نے بجٹ 2024-25 میں گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ جبکہ 17 سے 22 تک افسران کی تنخواہوں میں 20 سے 22 فیصد تک اور پنشن میں 15 فیصد اضافے کا اعلان کر دیا ہے۔ کم سے کم تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کر دی گئی ہے۔ حکومت نے پیٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کی تجویزدی ہے۔ جبکہ مٹی کے تیل پر پی ڈی ایل 50 روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کی تجویزہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باوجود گزشتہ ایک سال کے دوران معاشی میدان میں پیشرفت مستحکم اور اطمینان بخش رہی ہے ، قدر نے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر چلنے کا موقع فراہم کیاہے ، معزز اراکین سے التماس ہے کہ اراکین حکومت کی کاوشوں میں تعاون کروں ۔کچھ عرصہ قبل معیشت کو مشکل کا سامنا تھا، سٹیٹ بینک کے پاس پیسے کم تھی، اقتصادی ترقی صفر کے قریب تھے ،افراط زر اس سطح پر پہنچ گیا تھا کہ لو گ تیزی سے غربت کی لکیر سے نیچے جارہے تھے ، پچھلے سال جون میں آئی ایم ایف پروگرام اختتام تک پہنچا، نئے پروگرام پر غیر یقینی کیفیت تھی، نئے پروگرام میں تاخیر مشکلات پیدا کر سکتی تھیں ، مجھے شہبازشریف کی گزشتہ حکومت کی تعریف کرنی ہو گی جس نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کیا ، پروگرام کے تحت معاشی استحکام کی راہ ہموار ہوئی ۔
جناب سپیکر گزشتہ چند مہینوں میں مسلسل کاوشوں کے نتائج تسلی دیتے ہیں کہ ہم صحیح سمت میں گامزن ہیں ،مہنگائی کم ہو کر تقریبا 12 فیصدپر آ گئی ہے ، اشیائے خور دونوش عوام کے پہنچ میں ہیں، چیلنجز کوسامنے رکھیں تو یہ معمولی کامیابی نہیں ہے ، ، آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہو گی ، زرمبادلہ کی شرح مستحکم رہی ہے ، سرمایہ کار معیشت کے متعدد شعبوں میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کر رہے ہیں، شرح سود میں کمی کا اعلان اور مہنگائی پر قابو پانے کی کوششیں ثبوت ہیں ۔اتحادی حکومت مبارک باد کی مستحق ہے ۔
گزشتہ سال میں حاصل ہونے والی کامیابیاں معمولی ہیں ، ملک بحرانی صورت سے نکل چکا ہے ، ترقی کا آغاز ہو چکاہے ثمرات عوام تک پہنچیں گے ۔ضرورت یہ ہے کہ ہم ترقی کی رفتار کو تیز کریں اور معاشی خود انحصاری کی منزل کو حاصل کر یں ، اسے رات و رات حاصل نہیں کر سکتے ، اسے عوام سے مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔پاکستان جلد ہی خوشحال ہو گا، ہر کوئی واقف ہے کہ راستہ مشکل ہے ، آپشنز کم ہیں ، یہ اصلاحات کا وقت ہے ،اپنی معیشت میں پرائیویٹ سیکٹر کو مرکزی اہمیت دیں اور چند افراد کی بجائےعوام کو اپنی ترجیح بنائیں ۔
ماضی میں ریاست پر غیر ضروری ذمہ داریوں کا بوجھ ڈالا گیا ، جس کی وجہ سے حکومتی اخڑاجات ناقابل برداشت ہو گئے ، اس کا خمیازہ مہنگائی، کم پیدواری صلاحیت، کم آمدن والی ملازمتوں کی صورت میں عوام کو بھگتنا پڑتاہے ، اس سے باہر آنے کیلئے سٹرکچل ریفارمز کو آگے بڑھانا اور معیشت میں انسنٹیوز کو درست کرنا ہو گا۔ ہماری معاشی نظام کو عالمی معیشت کے ساتھ چلتے ہوئے برآمداد کو فروغ دینا ہوگا۔
معاشی نظام میں تبدیلیاں لاتے ہوئے ہم جرات مندانہ اقدامات کی ضرورت ہے ،مارڈن اکنا میز کی طرح ہمیں بھی وسیع پیمانے پر نجکاری اور اصلاحات کرنا ہوں گی۔ پیداواری صلاحیت میں بہتری لانے کیلئے اندرون ملک اور بیرون ملک سے سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا ہو گی ۔۔
توانائی کی قیمت کم کرنے کیلئے پاور سیکٹر میں مارکیٹ پر مبنی اصلاحات کی ضرورت ہے ، سکل ڈویلپمنٹ کے موثر نظام کی ضرورت ہے ، حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ ایسٹنڈڈ فنڈ فسیلیٹی پر بات کر رہی ہے ۔
ایک سال قبل مہنگائی 38 فیصد تک پہنچ گیا تھا ، فوڈ انفلیشن 48 فیصڈ تھی، کم آمد طبقے کو مشکلا ت تھیں، مہنگائی میں نمایاں کمی آئی ، مئی 2024 کنزیومر پرائس انڈیکس 11.8 فیصد تھا فوڈ انفلیشن صرف 2.2 فیصد تھی ، حکومت نے مہنگائی کو کم کرنے کیلئے انتھک کوششیں کی ہیں ۔
خالی سرکاری اسامیاں ختم کرنے کا فیصلہ
جیسے کہ پہلے ذکر کیا جا چکاہے کہ حکومتی اخراجات میں کمی مالیاتی خسارے کو کم کرنے کی حکمت عملی کا دوسرا اہم ستون ہے ، ہم غیر ضروری اخراجات کم کر رہے ہیں، پنشن کے نظام میں اصلاحات لارہی ہے ، وفاقی حکومت کی تما م خالی اسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے ، جس سے 45 ارب روپے کی بچت ہونے کاامکان ہے ، وفاقی حکومت کے حجم اور وسائل کے ضیاع کو کم کرنے کیلئے کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو ڈھانچے کا جائزہ لے گی اور اڑھائی میں اپنی سفارشات پیش کرے گی، حکومت نے پی ڈبلیو ڈی کے محکمے کو بند کرنے کا اعلان کر دیاہے ۔
اوورسیز پاکستانیوں کیلئے محسن پاکستان کا ایوارڈ
بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے محسن پاکستان ایوارڈ متعارف کرایاجارہاہے،ترسیلات زرکیلئے86.9ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے،اوورسیز پاکستانیوں کیلئے متعدد سہولیات متعارف کرارہے ہیں ۔
طلبہ کیلئے پنک بس سروس
طلبہ کے دیہی اور شہری سفرکیلئے پنک بس سروس شروع کی جارہی ہے،غریب طلباکو معیاری تعلیم تک رسائی کیلئےاسکیم متعارف کرائی جارہی ہے،ای لائبرریاں قائم کی جائیں گی،اسکولوں کواسمارٹ اسکرین اورانٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرینگے،بچوں کی تعلیم کیلئےحکومت سرمایہ کاری کاارادہ رکھتی ہے،حکومت ڈیجیٹل نیشنل کمیشن اور ڈیجیٹل اتھارٹی بنانےکاارادہ رکھتی ہے،بچوں کی تعلیم کیلئےحکومت سرمایہ کاری کاارادہ رکھتی ہے،حکومت ڈیجیٹل نیشنل کمشین اور ڈیجیٹل اتھارٹی بنانےکاارادہ رکھتی ہے۔
آئی ٹی سیکٹر
آئی ٹی سیکٹرکیلئے79ارب روپے رکھے جارہےہیں،پاکستان سوفٹ ویئربورڈکیلئے2ارب روپےرکھنےکی تجویزہے،کراچی میں آئی ٹی پارک کےقیام کیلئے8ارب روپے رکھےجائیں گے،اس سال آئی ٹی برآمدات ساڑھے3ارب ڈالرتک پہنچ جائیں گی،حکومت آئی ٹی شعبے پر خصوصی توجہ دےگی،
آبی وسائل
دیامربھاشاڈیم کیلئے40ارب روپے رکھےگئےہیں،آبی وسائل کیلئے206ارب روپے مختص کئے،این ڈی سی میں بہتری کیلئے11ارب روپے رکھنےکی تجویز،بجلی کی پیداوارونڈ،سولرپرمنتقلی کیلئےاقدامات کئےجارہےہیں،9ڈسکوز،جنکوزکی نجکاری کا منصوبہ ہے،بجلی چوری کیخلاف اقدامات سے50ارب روپےکی بچت ہوگی،بجلی کی صورتحال بہتربنانےکیلئےاقدامات کئےگئے،توانائی شعبےمیں گردشی قرضہ ناقابل برداشت ہوچکا۔
توانائی
توانائی کے شعبے کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 253 ارب روپے کی خطیر رقم رکھی گئی ہے ، اس شعبے کے اہم منصوبوں کیلئے 65 ارب روپے کی رقم تجویز کی گئی ہے ۔جامشورو میں 1200 میگاواٹ کول پاور پلانٹ کیلئے 21 ارب، این ٹی ڈی سی کے سسٹمز میں بہتری کیلئے 11 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے ۔
توانا ئی کا شعبہ گردشی قرضوں کے چیلنج سے دوچار ہے ، یہ قرض اب ناقابل برداشت ہو چکا ہے ، پاور سیکٹر کی پیچیدگیوں کا حل بلاشبہ مشکل ہے ، کیونکہ بجلی پیدا کرنے سے لے کر ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن تک ہر سطح کی اپنی ڈائنامکس ہیں اور ہر سطح پر مشکلات پائی جاتی ہیں، میں یہ بتانا چاہتاہوں کہ حکومت اس شعبے میں کور س کوریکشن اور ان مشکلات کو حل کرنے کیلئے کبھی اتنی پر عزم نہیں تھی، موجودہ مالی سال کے دوران بجلی کی تقسیم کو بہتر بنانے کیلئے کئی اقدامات کیئے گئے ، اور ان اقدامات کے نتیجے میں ہمیں امید ہے کہ سال کے اختتام تک سرکولر ڈیبٹ سٹاک میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا، بجلی چوری کے خلاف مہم ہمیں پچاس ارب روپے کی بچت ہوئی ، اگلے سال چند اصلاحات درج ذیل ہیں ۔
نقصانات کو کم کرنے کیلئے ٹرانسمیشن اور ڈسٹریبیوشن کارکردگی کو بہتر کرنا ہو گا، 9 ڈسکوز اور جینکوز کی نجکاری کو تیز کرنے کا منصوبہ ہے ۔
تنخواہیں اور پنشن
گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ اور گریڈ 17 سے 22 تک افسران کی تنخواہ میں 22 فیصد اضافے کی تجویز ہے ،ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز ، کم از کم ماہانہ تنخواہ 32 سے بڑھا کر 37 ہزار کرنے کی تجویز ہے، مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے، مالی مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمین کی ریلیف کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
17 ترقیاتی منصوبے
نئےبجٹ میں 17 اہم ترین ترقیاتی منصوبےشامل کیئے گئے ہیں ،ہیپاٹائٹس کےخاتمےکیلئے 5 ارب روپے ،قائداعظم ہیلتھ ٹاوراسلام آباد کیلئے5 ارب روپے ،غریب ترین اضلاع میں ترقیاتی کاموں کیلئے 7 ارب روپے ، قراقرم ہائی وےتھاکوٹ کےمنصوبےکیلئے 6 ارب رکھےگئے ہیں ۔ملکی معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنےکیلئے 4 ارب ، اسلام آباد میں دانش سکول کیلئے2ارب ، آزادکشمیراورگلگت بلتستان میں 7 دانش سکولزکیلئے 5 ارب مختص کیئے گئے ہیں ۔
جینکوون جامشورومیں 600 میگاواٹ پاورپلانٹ کیلئے 21 ارب ، لاہور نارتھ میں 500 کے وی کی لائن بچھانےکیلئے 14ارب ، کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ یونٹ ون اورٹوکیلئے 18 ارب ، مہمند ڈیم ہائیڈروپاور پراجیکٹ کیلئے 45 ارب مختص کردئیےگئے۔
گاڑیاں ،موبائل فونز پر سیلز ٹیکس
سیلزٹیکس کی چھوٹ اوررعایتی شرح اوراستثنیٰ ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ، متعدد اشیا پرسیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنےکا فیصلہ کیا گیاہے ، موبائلز فونرکی مختلف کیٹگریز پر 18 فیصد سیلزٹیکس لگےگا، تانبے،کوئلے،کاغذاورپلاسٹک کےاسکریپ پرودہولڈنگ ٹیکس لگانے، درآمدی لگژری گاڑیوں کی درآمد پرٹیکس چھوٹ ختم کرنے ، 50ہزار ڈالرمالیت کی درآمدی گاڑی ٹیکسز اورڈیوٹیزبڑھانے ، شیشےکی درآمدی مصنوعات پردرآمدی ڈیوٹی کوختم کرنے ، سٹیل اورکاغذ کی مصنوعات کی درآمدی ڈیوٹیزکی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
سیلزٹیکس کی چھوٹ اوررعایتی شرح اوراستثنیٰ ختم کرنے ، متعدداشیا پرسیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے ۔
پرسنل انکم ٹیکس
ایف بی آر نے 2019 سے 2023 تک کو رپوریٹ انکم ٹیکس اصلاحات نافذ کیں، اب پرسنل انکم ٹیکس اصلاحات لاگو کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پرسنل انکم ٹیکس کی شرح کو بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جا سکے ۔ اس ضمن میں انکم ٹیکس چھوٹ چھ لاکھ روپے تک کی آمدن پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے اور یہ بھی تجویز ہے کہ تنخواہ دار طبقے میں maximum tax slab میں اضافہ نہ کیا جائے ، جبکہ ٹیکس سلیب میں کچھ ردو بدل تجویز کیا جارہاہے ، تاہم غیر تنخواہ دار افراد کی زیادہ سے زیادہ ٹیکس شرح 45 فیصد رکھنے کی تجویز ہے ۔
گاڑیوں کی رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کیپسیٹی کے بجائے گاڑی کی قیمت کی بنیاد پر تبدیل کرنا
موجودہ قانون کے تحت 2 ہزار سی سی تک گاڑیوں کی خرداری اور رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کیپسیٹی کی بنیاد پر کی جاتی ہے ، گاڑیوں کی قیمت میں کافی اضافہ ہو چکا ہے ، اس لیے ٹیکس کی اصل پوٹینشل سے فائدہ اٹھانے کیلئے یہ تجویز دی جارہی ہے کہ تمام موٹر گاڑیوں کیلئے ٹیکس وصولی کی بنیاد پر انجن کیپسیٹی سے تبدیل کر کے قیمت کے تناسب پر کر دیا جائے ۔
دفاعی بجٹ
وزیر خزانہ نے کہاکہ آئندہ مالی سال میں دفاعی اخراجات کے لیے 2 ہزار 122 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے 75 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پٹرولیم مصنوعات پر لیوی بڑھانے کی تجویز
حکومت نے پیٹرول پر ڈویلپمنٹ لیوی 60 روپے سے بڑھا کر 80 روپے کرنے کی تجویزدی ہے۔ جبکہ مٹی کے تیل پر پی ڈی ایل 50 روپے فی لیٹر برقرار رکھنے کی تجویزہے۔
اسی طرح لائٹ ڈیزل آئل پر لیوی 50 سے بڑھا کر 75 کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
سگریٹس
جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والوں کو سخت سزائیں دینےکافیصلہ کیا گیاہے ، جعلی اسگریٹس فروخت کرنے والی دکانوں کو سیل کر دیا جائےگا، سگریٹس فلٹرکی پیداوارمیں استعمال مٹیریل پر44ہزارروپےفی کلوٹیکس کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
سیمنٹ انڈسٹری
سیمنٹ پر ایف ای ڈی کی شرح میں اضافےکا فیصلہ کیا گیا ہے ، سیمنٹ پرایف ای ڈی 2روپے کلو سے بڑھا کر3روپے کلوکردیا گیا۔
نئے پلاٹس پر ٹیکس
نئے پلاٹس اور رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر نیا ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا، نئے پلاٹس اور رہائشی و کمرشل پراپرٹی پر پانچ فیصدفیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ( ایف ای ڈی) عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
برانڈڈ کپڑوں پر ٹیکس
ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے ٹیر ون کے ریٹیلرز پر جی ایس ٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔برانڈڈ کپڑوں اور جوتوں پر سیلز ٹیکس بڑھا کر 18 فیصد کر دیا گیا ہے۔
کسان پیکج
کسان پیکج کیلئے5ارب روپے رکھنےکی تجویز ہے،وزیراعظم نے کسان پیکج کا اعلان کیاتھا،حکومت اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کا آغاز کرنےجارہی ہے،
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
بی آئی ایس پی کے ذریعے لاکھوں خاندانوں کوامداد ملتی ہے،، بی آئی ایس پی کا بجٹ593ارب روپے کیاجائےگا۔ کفالت پروگرام سے استفادہ کرنے والے افراد کی تعداد کو 93 لاکھ سے بڑھا کر ایک کروڑ کیا جائے گا۔ جبکہ تعلیمی وظائف میں مزید 10 لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا جس سے کل تعداد ایک کروڑ 4 لاکھ ہوجائے گی۔
ایئر پورٹس کی نجکاری کا اعلان
کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹ کی آؤٹ سورسنگ بعد میں ہوگی،سب سے پہلے اسلام آباد ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کیاجائےگا،حکومت ملک کےبڑے ایئرپورٹس کوآؤٹ سورس کررہی ہے،اگست میں بڈز منگوالی جائیں گی،نجکاری کا معاملہ حل ہوگا،موجودہ حکومت نے پی آئی اے کی نجکاری شروع کی،ہم نے نجکاری کو ترجیح بنایا ہے، وزیراعظم نجی شعبے کو فروغ دینےپرتوجہ دےرہےہیں،حکومتوں کو کاروبار نہیں کرناچاہیے۔
ہائبرڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں چھوٹ کا خاتمہ
نئی ٹیکنالوجی کی بدولت ہائی برڈ اور عام گاڑیوں کے درمیان قیمتوں میں بہت زیادہ فرق کی وجہ سے ہائی برڈ گاڑیوں کی درآمد پر کسٹم ڈیوٹی میں 2013 میں رعایت دی گئی تھی ، اس وقت دونوں قسم کی گاڑیوں کی قیمتوں کے درمیان فرق کم ہو چکا ہے اور مقامی طور پر ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری شروع ہو چکی ہے ، اس لیے مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے یہ رعایت اب واپس لی جارہی ہے ۔
سولر پینل انڈسٹری
برآمد کرنے اور مقامی ضروریات پوری کرنے کیلئے سولر پینلز تیار کرنے کی غرض سے پلانٹ، مشینری ، اور اس کے ساتھ منسلک آلات اور سولر پینلز ، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایتیں دی جارہی ہیں تاکہ درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کم کیا جا سکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے ۔
ای بائیکس اور پنکھے
حکومت ای بائیکس کیلئے چار ارب روپے اور توانائی کی بچت کرنے والے پنکھوں کیلئے دو ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
اہم نکات
مالی سال 2024-25 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے ، افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے ، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سر پلس جی ڈی پی کا 1.0 فیصد ہو گا ۔
ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے ، جوکہ رواں مالی سال سے 38 فیصد زیادہ ہے ، چنانچہ وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 7 ہزار 438 ارب روپے ہو گا ۔
وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3 ہزار 587 ارب روپے ہو گا،
وفاقی حکومت کی خاصل آمدنی 9 ہزار 119 ارب روپے ہو گی۔
وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 877 ارب روپے ہے جس میں 9 ہزار 775 ارب روپے انٹرسٹ کی ادائیگی کی جائے گی ۔
پی ایس ڈی پی کیلئے 1400 ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے ، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 100 ارب روپے اضافی مختص کیئے گئے ہیں، مجموعی ترقیاتی بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر یعنی 1500 ارب روپے ہو گا ۔
2 ہزار 122 ارب روپے دفاعی ضروریات کیلئے فراہم کیے جائیں گے اور سول انتظامیہ کے اخرجات کیلئے 839 ارب روپے مختص کیئے جارہے ہیں، پنشن کے اخراجات کیلئے 1014 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔ بجلی ، گیس اور دیگر شعبوں کیلئے سبسڈی کے طور پر ا1363 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔
1777 ارب روپے پر مشتمل کل گرانٹس بنیادی طور پر بی آئی ایس پی ، اے جے کے ، گلگت بلتستان ، کے پی کے میں ضم ہونے والے اضلاع ایچ ای سی ، ریلوے ، ترسیلات زر اور آئی ٹی کے شعبے کو فروغ دینے کیلئے مختص کی گئی ۔
بجٹ2024-25: نئے بجٹ میں17 اہم ترین ترقیاتی منصوبے شامل کر دیئے گئے
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے دستاویزات کے مطابق نئے بجٹ میں17اہم ترین ترقیاتی منصوبے شامل کر دیئے گئے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے نئے بجٹ اجلاس میں17 نئے ترقیاتی منصوبے شامل ہیں ، جن میں ہیپاٹائٹس کے خاتمے کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے، قائد اعظم ہیلتھ ٹاور اسلام آباد کیلئے 5 ارب روپے اور غریب ترین اضلاع میں ترقیاتی کاموں کیلئے7 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق قراقرم ہائی وے تھاکوٹ کے منصوبے کیلئے 6 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ملکی معیشت کو ڈیجیٹلائز کرنے کیلئے 4 ارب روپے اور اسلام آباد میں دانش سکول کیلئے 2 ارب روپے مختص ہیں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں7 دانش سکولز کیلئے 5 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
جینکوون جامشورو میں 600 میگاواٹ پاورپلانٹ کیلئے 21 ارب روپے مختص ہیں جبکہ لاہور نارتھ میں 500 کے وی کی لائن بچھانے کیلئے 14ارب روپے اور کراچی کوسٹل پاور پراجیکٹ یونٹ ون اور ٹو کیلئے 18 ارب روپے مختص کئے ہیں، مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 45 ارب مختص کر دئیے گئے ہیں۔
لگژری گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2024-25 کے بجٹ میں متعدد اشیا پر سیلز ٹیکس کا اسٹینڈرڈ ریٹ عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ پیش کیا۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت کی جانب سے سیلز ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتی شرح اور استثنی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ موبائلز فونر کی مختلف کیٹگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس لگے گا۔
دستاویزات کے مطابق تانبے، کوئلہ، کاغذ اور پلاسٹک کے اسکریپ پر ودہولڈنگ ٹیکس لگانے اور درآمدی لگژری گاڑیوں کی درآمد پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پچاس ہزار ڈالر مالیت کی درآمدی گاڑی ٹیکسز اور ڈیوٹیز بڑھانے اور شیشے کی درآمدی مصنوعات پر درآمدی ڈیوٹی کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے اسٹیل اور کاغذ کی مصنوعات کی درآمدی پر ڈیوٹیز کی شرح بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
حکومت کا غیرتنخواہ دار طبقے کی آمدن پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ
حکومت کی جانب سے غیر تنخواہ دار طبقے کی آمدن پر ٹیکس بڑھانے کا فیصلہ کر لیا گیا۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 بجٹ کی منظوری دے دی ہے ۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کاروبار کی آمدن پر زیادہ سے زیادہ 45 فیصد انکم ٹیکس عائد کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
انکم ٹیکس چھوٹ چھ لاکھ روپے کی آمدن پر اور تنخواہ دار طبقے کے زیادہ سے زیادہ سلیبز کو برقرار رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے تنخواہ دار طبقے کیلئے سلیبز میں کچھ ردوبدل کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
کم سے کم تنخواہ کتنی ہو گی ؟ بجٹ میں حکومت نے عوام کو خوشخبری سنا دی
وفاقی حکومت نے بجٹ 2024-25 میں پنشن میں 15 فیصد اضافے کا فیصلہ کر لیاہے ۔
سماء نیوز نے بجٹ دستاویز حاصل کر لی ہیں ، جس میں ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے لوگوں کی قوت خرید متاثر ہوئی ہے۔ تنخواہ دار طبقہ مہنگائی سے خاص طور پر متاثر ہوا ہے، مالی مشکلات کے باوجود سرکاری ملازمین کی ریلیف کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔
حکومت نے ہمیں اعتماد میں لیانہ بجٹ میں وعدے پورے کئے ، سید خورشید شاہ
قومی اقتصادی بجٹ 2024-25 کے پیش ہونے سے پہلے اتحادی حکومت میں اختلاف سامنے آگیا، سید خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں اعتماد میں نہیں لیا گیا، بجٹ میں تنخواہوں، کسانوں کے حوالے سے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنماءسید خورشید شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کیساتھ اتفاق ہوا تھا چاروں صوبوں کی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) بیٹھ کرطےکریں گے، صوبوں کو فنڈز پر اعتماد میں نہیں لیا گیا۔
اتحادی حکومت کے رہنماء نے بجٹ اجلاس سے پہلے بیان دیتے ہوئے کہا کہ حکومت کہتی ہے ہم نے بریفنگ دی ہے ، بریفنگ میں اور بات چیت میں فرق ہوتا ہے، بجٹ میں تنخواہوں، کسانوں کے حوالے سے وعدے پورے نہیں کیے گئے۔
رہنما پی پی سید خورشید شاہ کا مزید کہنا تھا کہ حکومت اور ہم ایک ہی کشتی کے سوار ہیں دونوں کا نقصان برابر ہوگا، اس نقصان سے بچنے کے لیے ہماری بات مانی جائے۔
پیپلزپارٹی کی رہنما شازیہ مری نے پارلیمنٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے، صدر اور وزیراعظم کی ملاقات کا بجٹ سے کوئی تعلق نہیں۔
پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) نے بجٹ اجلاس کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 بجٹ کی منظوری دے دی ہے ۔
بجٹ اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی رائے دی ہے۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پی پی رہنما شازیہ مری کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس سے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی کابینہ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دیدی : ذرائع
وفاقی کابینہ نے بجٹ 2024-25 میں سرکاری ملاز مین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافے کی منظوری دیدی ۔
ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی منظوری دیدی گئی ہے ،ذرائع کے مطابق گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ جبکہ 17 سے 22 تک افسران کی تنخواہوں میں 20 سے 22 فیصد تک اضافے کی منظوری دی گئی ہے ۔
کابینہ نےفنانس بل 2024-2025ء کو قومی اسمبلی میں پیش کرنےکی منظوری دیدی ، اجلاس میں مالی سال 2024-2025ء کےوفاقی بجٹ کےحوالےسےتجاویز پیش کی گئیں، وفاقی کابینہ کےاجلاس میں بجٹ تجاویز پر بحث کی گئی۔
پیپلز پارٹی اراکین کی بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی رائے
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کی پارلیمانی پارٹی نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی رائے دے دی۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا جس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 بجٹ کی منظوری دے دی ہے ۔
بجٹ اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا جس کی اندرونی کہانی سامنے آگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے اراکین قومی اسمبلی نے بجٹ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی رائے دی ہے۔
وفاقی کابینہ نے مالی سال 2025-24 بجٹ کی منظوری دے دی
وفاقی کابینہ نے مالی سال 2024-25 بجٹ کی منظوری دے دی۔ اجلاس میں کسانوں، نوجوانوں، صعنتوں کے لئے پیکج بھی منظوری دیدی۔
اسکیموں کا اعلان وفاقی وزیر خزانہ بجٹ تقریر میں کریں گے۔ وزیراعظم نے بجٹ تقریر سے قبل دستاویز، تقریر کے مندرجات عام کرنے پر پابندی لگا دی، کابینہ اجلاس میں کسانوں، نوجوانوں، صعنتوں کے لئے پیکج بھی منظور کرلی گئی۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاق کا بجٹ 1500 ارب روپے مختص کیا جائے گا جبکہ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی منصوبہ 2095 ارب روپے مختص کیا جائے گا۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کیلیے 932 ارب روپے کے مزید نئے قرض لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت 316 ارب جبکہ 600 ارب کے بیرونی قرض لیں گے۔ سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا بیرونی قرض لے گی۔
اگلے مالی سال کے دوران سی پیک فیز ٹو میں تیزی لانے کا فیصلہ
اگلے مالی سال سی پیک فیز ٹو میں تیزی لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ چین کے ساتھ صنعتی اور زرعی شعبے میں تعاون ، سماجی اور معاشی ترقی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق اگلے مالی سال کان کنی اور معدنیات کے منصوبے بھی مکمل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ نو میں سے چار خصوصی اقتصادی زونز کی تکمیل کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق رشکئی، علامہ اقبال صنعتی زون، دھابیجی زون اور بوستان خصوصی اقتصادی زون شامل ہیں۔ متعدد صنعتی یونٹس پیداوار جلد شروع کرینگے۔ زرعی پیداوار میں اضافہ کرکے برآمدات بڑھائی جائیں گی۔
زراعت میں جدید ٹیکنالوجی متعارف کرائی جائے گی۔ پاکستان اور چین سائنس و ٹیکنالوجی میں بھی تعاون بڑھائیں گے۔غربت کے خاتمے کے لیے ستائیس اہم منصوبوں کی نشاندہی بھی کرلی گئی۔سترہ ترجیحی منصوبے اگلے سال مکمل کیے جائیں گے۔ 10 منصوبوں پر اگلے سال ایم او یوز سائن کیے جائیں گے۔
سی پیک کے تحت سیکیورٹی کو یقینی بنانا بھی ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ تخفیف غربت کیلئے صحت، تعلیم، زراعت، ووکیشنل ٹریننگ، واٹر سپلائی کے منصوبے شامل ہیں۔ سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے گا۔ سی پیک کے تحت تیل و گیس اور پاور سیکٹر بھی ترجیح قرار دی گئی ہے۔
ملک کو دیوالیہ کرنے کے خواب دیکھنے والوں کی سازشیں دھری کی دھری رہ گئیں، وزیرعظم
وزیر اعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ نے ملک کو معاشی مشکلات کے منجھدار سے نکال کر استحکام کی طرف لائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے اپنی سیاست کو قربان کرکے پاکستان کی معیشت کو بچایا۔
وزیراعظم کی زیرصدارت مسلم لیگ ن کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا۔ شہباز شریف نے بجٹ کے حوالے سے اراکین کو اعتماد میں لیا۔ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا کہ باوقار قومیں محنت،لگن اور حوصلے سے اپنی تقدیریں بدلتی ہیں۔
شہبازشریف نے مزید کہا کہ سرمایہ کاری وہیں آتی ہے جہاں امن اور سیاسی استحکام ہو، دنیا بھر میں جہاں بھی گیا،قرض کی بجائے سرمایہ کاری کا کہا، خواتین کو با اختیار بنانے،باعزت روزگار کی فراہمی کیلئے محنت کرنی ہے۔ نوجوانوں کی آئی ٹی کے شعبےمیں تعلیم وتربیت یقینی بنائیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ باصلاحیت افرادی قوت کوروزگار کی فراہمی اولین ترجیحات میں شامل ہے، قوم کو بنیادی صحت، اعلیٰ تعلیم، ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرناہیں، معاشی استحکام کیلئےہمیں شب وروز محنت کرنی ہے، بجٹ کے حوالے سے جھوٹ، پروپیگنڈے کا مؤثر اور مدلل جواب دیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انتشار سے بھرپور سیاست پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھی، سازشی ٹولے نے ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈالا، شہداکی بے حرمتی کی، ملک دیوالیہ کرنےکا خواب دیکھنے والوں کی سازشیں دھری رہ گئیں، ہم نے سیاست قربان کرکے پاکستان کی معیشت کو بچایا۔
عوام بجٹ سے ریلیف کی امید نہ لگائیں، احسن اقبال نے واضح کردیا
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ عوام بجٹ سے ریلیف کی امید نہ لگائیں۔
احسن اقبال کا کہنا تھا کہ عوام کو ریلیف دینے کیلئے مزید قرض لینے پڑیں گے ۔ پھر ان قرضوں کو ادا کرنے کیلئے نئے ٹیکس لگانے پڑیں گے ۔ حکومت کے وسائل محدود ہے۔ اپنی آمدن سے قرضوں کا بوجھ بھی نہیں اتارسکتے۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا مزید کہنا تھا کہ اگلے سال وفاقی حکومت کو 8 ہزار ارب محاصل ملیں گے جبکہ اگلے مالی سال صرف قرض میں 9 ہزار ارب روپے دینے ہیں۔
خیال رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاق کا بجٹ 1500 ارب روپے مختص کیا جائے گا جبکہ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی منصوبہ 2095 ارب روپے مختص کیا جائے گا۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کیلیے 932 ارب روپے کے مزید نئے قرض لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت 316 ارب جبکہ 600 ارب کے بیرونی قرض لیں گے۔ سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا بیرونی قرض لے گی۔
پاکستان کا ہرشہری کتنے لاکھ کا مقروض ہے؟ اعداد وشمارسامنے آگئے
پاکستان کا ہرشہری کتنے لاکھ کا مقروض ہے ،اس حوالے سے اعدادو شمار سامنے آگئے ہیں۔
تفصیلات کےمطابق گزشتہ روز وزیر خزانہ محمد اور نگزیب نے رواں مالی سال کا اقتصادی سروے جاری کیا،اقتصادی سروےرپورٹ میں بتایا گیا کہ ملک کا مجموعی قرضہ 67 ہزار 525ارب روپےتک پہنچ گیا ہے،جس کے بعد ہر شہری 2لاکھ 80 ہزار روپے کامقروض ہے۔
سروے میں کہا گیا ہےکہ ملک پر بیرونی قرضہ 24093 ارب روپےاور مقامی قرض 43ہزار 432 ارب روپے ہے۔
اقتصادی سروے رپوٹ کےمطابق ملک کا مجموعی قرض جی ڈی پی کا 74.8 فیصد ہےاور بیرونی قرضے جی ڈی پی کا 28.6 فیصد ہیں جبکہ مقامی قرضہ جی ڈی پی کا 46.2 فیصد ہے-
اس سے قبل اپریل میں سابق وزیرخزانہ پنجاب ڈاکٹرعائشہ غوث پاشا نے ایک تقریب سے خطاب میں کہا تھا کہ اس وقت ہر پاکستانی 2 لاکھ 88 ہزار روپے کا مقروض ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق گزشتہ سال 2023 میں ہر پاکستانی شہری 250,000 روپے کا مقروض تھا۔
سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے مختلف تجاویز سامنے آگئیں۔ پہلی تجویز کے مطابق تنخواہ اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد تک جبکہ دوسری تجویز میں چھوٹے ملازمین کو 15 سے 20 فیصد تک ریلیف دینے کی ہے۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق گریڈ ایک سے سولہ تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 20 فیصد اضافے کی بھی تجویز ہے۔ گریڈ 17 سے 22 تک کے افسران کی تنخواہ میں 15 فیصد جبکہ گریڈ ایک سے 16 کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
گریڈ 17 سے 22 تک کے ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 20 فیصد اضافے پر غور کیا جارہا ہے۔ تنخواہ اور پنشن میں اضافے کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ کے اجلاس میں دی جائے گی۔ سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر 62 سال کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔ تجویز کا اطلاق صوبائی حکومتوں کی مشاورت سے کیا جائے گا۔
وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد معاملہ غور کیلئے مشترکہ مفادات کونسل کو بھیجا جائے گا۔ صوبائی حکومتوں کی منظوری کی صورت میں اس کا اطلاق آئندہ مالی سال سے کیا جائے گا۔
وفاقی بجٹ میں کس شعبے کیلئے کتنا بجٹ تجویز کیا گیا؟
آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ نئے بجٹ میں بہت سے شعبوں سے ٹیکس چھوٹ واپس لی جائی گی۔ اضافی ٹیکسوں کی بھرمار سے سیکڑوں کی تعداد میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔
نیشنل ہائی وے اتھارٹی کو آئندہ مالی سال ترقیاتی بجٹ کی مد میں 180 ارب روپے ملیں گے۔ ایوی ایشن کو سات ارب 30 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا جائے گا۔ وزارت توانائی کو این ٹی ڈی سی اور پیپکو کیلئے 175 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وزارت آبی وسائل کو ترقیاتی بجٹ کی مد میں 259 ارب روپے جاری کیے جائیں، آئندہ مالی سال ایوی ایشن کیلئے 7 ارب 30 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ کے تحت دیئے جائیں گے، بورڈ آف انویسٹمنٹ کو 1 ارب 65 کروڑ روپےترقیاتی منصوبوں کیلئے دیے جائیں گے۔
کابینہ ڈویژن کو 75 ارب 77 کروڑ، موسمیاتی تبدیلی ڈویژن کو 6 ارب 25 کروڑ روپے ملیں گے، کامرس ڈویژن کو 2 ارب 20 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے ملیں گے، ڈیفنس ڈویژن کو 5 ارب 63 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے فراہم کیے جائیں گے۔
فیڈرل ایجوکیشن و پروفیشنل ٹریننگ ڈویژن کو 25 ارب 75 کروڑ روپے دیئے جائیں گے، فنانس ڈویژن کو صوبوں اورخصوصی علاقوں کیلئے 226 ارب 91 کروڑ روپے بھی ملیں گے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 66 ارب 31 کروڑ روپے پی ایس ڈی پی میں فراہم کیے جائیں گے۔
ہاؤسنگ اینڈ ورکس کو آئندہ مالی سال 27 ارب 68 کروڑ روپے ترقیاتی منصوبوں کیلئے دیئے جائیں گے، انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کام ڈویژن کیلئے 28 ارب 92 کروڑ روپے ترقیاتی بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پاکستان نیوکلیئر ریگولیٹری اتھارٹی کو 25 کروڑ، پیٹرولیم ڈویژن کو 3 ارب 22 کروڑ روپے ملیں گے، پلاننگ ڈویژن کو تقریبا 59 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ آئندہ مالی سال کے دوران ملنے کی تجویز ہے۔ وزارت ریلوے کو 45 ارب روپے، سپارکو کو 35 ارب 61 کروڑ روپے ملیں گے۔
بجٹ کے حوالے سے پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں معاملات طے
بجٹ کے حوالے سے وفاقی حکومت میں شامل اہم اتحادی جماعتوں پیپلز پارٹی اور ن لیگ میں معاملات طے پاگئے۔ پیپلز پارٹی تحفظات کے باوجود بجٹ کے حق میں ووٹ دے گی۔
ذرائع کے مطابق ن لیگ، پیپلز پارٹی میں معاملات دونوں پارٹیوں کی قیادت کی سطح پر طے پائے، پیپلز پارٹی بجٹ پاس کرانے میں حکومت کی بھرپور حمایت کرے گی۔
پیپلز پارٹی تحفظات کے باوجود بجٹ کے حق میں ووٹ دے گی، پیپلز پارٹی پارلیمان میں احتجاج و تقاریر کے باوجود بجٹ پاس کرائے گی۔ حکومت نے پیپلزپارٹی کی بعض تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنانے کی یقین دہانی کرادی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز صدر آصف زرداری سے وزیراعظم کی ملاقات کے بعد صورتحال تبدیل ہوئی، رات گئے بلاول بھٹو زرداری نے بھی پارٹی قیادت سے مشاورت کا سلسلہ جاری رکھا۔
واضح رہے کہ آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ نئے بجٹ میں بہت سے شعبوں سے ٹیکس چھوٹ واپس لی جائی گی۔ اضافی ٹیکسوں کی بھرمار سے سیکڑوں کی تعداد میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ نئے بجٹ میں دو ہزار ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
بجٹ کے بعد کون کون سی چیزیں مہنگی ہوں گی؟
آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
نئے بجٹ میں بہت سے شعبوں سے ٹیکس چھوٹ واپس لی جائی گی۔ اضافی ٹیکسوں کی بھرمار سے سیکڑوں کی تعداد میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ نئے بجٹ میں دو ہزار ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
پرانی درآمدی گاڑیاں، درآمدی موبائل فون، درآمدی خوراک، چاکلیٹ، دودھ، دہی، کپڑے، صابن، شیمپو، ہیئر کلر، میک اپ، پرفیومز اور لوشن سمیت دیگر کئی اشیاء مہنگی ہوسکتی ہیں۔ امپورٹڈ دودھ ،کپڑے بھی مہنگے ہوسکتے ہیں۔
ایف بی آر کا مجموعی ٹیکس ہدف 12 ہزار 970 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جی ایس ٹی کی شرح 18 فیصد سے بڑھا کر 19 فیصد کی جائے گی، جس سے 100 ارب روپے حکومت کو اضافی آمدنی حاصل ہونے کا امکان ہے، پیٹرولیم مصنوعات پر 6 فیصد جی ایس سی لگانے کی تجویز ہے، جس کی مد میں 180 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ 2025-24: اگلے مالی سال کےلیے اہم معاشی اہداف کا تعین
بجٹ 2025-24 میں اگلے مالی سال کےلیے اہم معاشی اہداف کا تعین کرلیا گیا۔
دستاویزات کے مطابق اگلے مالی سال جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 3.6 فیصد مقرر کرلیا گیا۔ نئے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 12 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔
اگلے سال فی کس آمدنی کا ہدف 5 لاکھ 43 ہزار 968 روپے ہے، زرعی شعبے کی ترقی کا ہدف 2 فیصد مقرر، بڑی اور اہم فصلوں کی پیداوار منفی 4.5 فیصد رہنے کا خدشہ ہے۔ دیگر فصلوں کا پیداواری گروتھ ٹارگٹ 4.3 فیصد طے کر دیا گیا۔
اگلے سال صنعتی شعبے کی ترقی کا ہدف 4.4 فیصد ہے، لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کا ہدف 3.5 فیصد طے کر دیا گیا، چھوٹی اور گھریلو صنعتوں کا گروتھ ٹارگٹ 8.2 فیصد مقرر کردیا گیا۔
خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 4.1 فیصد ہے، ہول سیل اور ری ٹیل سیکٹر کا گروتھ ٹارگٹ 4.1 فیصد جبکہ نئے بجٹ میں ملکی برآمدات کا ہدف 40 ارب 51 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
غیر ملکی درآمدات کا ہدف 68 ارب 18 کروڑ ڈالر، بیرون ملک سے پاکستانیوں کی ترسیلات زر کا ہدف 30 ارب 27 کروڑ ڈالر سے زائد مقرر کردیا گیا۔ اگلے مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا ہدف 3 ارب 70 کروڑ روپے رکھا گیا ہے۔
18 ہزار 900 ارب روپے کا وفاقی بجٹ آج پیش ہوگا، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ متوقع
وفاقی حکومت کی جانب سے آئندہ مالی سال 2025-2024 کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق آئندہ مالی سال 2025ـ2024 کیلئے 18 ہزار 900 ارب روپے کے حجم کا وفاقی بجٹ آج قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 10 سے 15 فیصد اضافے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاق کا بجٹ 1500 ارب روپے مختص کیا جائے گا جبکہ صوبوں کا سالانہ ترقیاتی منصوبہ 2095 ارب روپے مختص کیا جائے گا۔ حکومت نے آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کیلیے 932 ارب روپے کے مزید نئے قرض لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت وفاقی حکومت 316 ارب جبکہ 600 ارب کے بیرونی قرض لیں گے۔ سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا بیرونی قرض لے گی۔
جٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 12.9 ٹریلین روپے مقرر کیے جانے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق بجٹ میں سود اور قرضوں کی ادائیگیوں کا تخمینہ 9.5 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے، توانائی کے شعبے میں سبسڈیز کیلیے 800 ارب روپے مختص کیے جانے اور وفاقی ٹیکس ریونیو 12.9 ٹریلین روپے کے لگ بھگ مقرر کئے جانے کا امکان ہے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ابتدائی تخمینہ 2100 ارب روپے لگایا گیا ہے اور پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1050 ارب روپے سے زائد وصول کرنے کا ہدف متوقع ہے۔
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں امپورٹڈ موبائل فون پر ٹیکس اور جی ایس ٹی مزید بڑھانے کی تجویز و سفارش کی گئی ہے جبکہ ترقیاتی بجٹ میں 1012 ارب روپے کے اضافے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ ترقیاتی منصوبوں کیلیے 3792 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 میں سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کیلیے عمر کی حد بڑھا کر62 سال کرنے اور قومی خزانے پر پنشن بل کا بوجھ کم کرنے کیلیے جامع پنشن اصلاحات متعارف کروانے کا اصولی فیصلہ کیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق 18 ہزار 900 ارب روپے کا نیا مجوزہ وفاقی بجٹ 9800 ارب روپے کے خسارے پر مبنی ہوگا۔ سرکاری خرچ پورے کرنے کے لیے مہنگائی اور اضافی ٹیکسز کا بوجھ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
نئے مالی سال متعدد ترقیاتی منصوبوں کا انحصار بیرونی فنڈنگ پر ہوگا، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 932 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وفاقی حکومت 316 ، چاروں صوبے 616 ارب روپے بیرونی قرض لیں گے۔
آئندہ مالی سال میں شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد، صنعتی ترقی کا ہدف4.4فیصد، زرعی ترقی2 فیصد رکھنے کی منظوری کا امکان ہے۔ برآمدات کا ٹارگٹ40.5 ارب ڈالر، درآمدات68.1ارب ڈالر رکھنے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ میں 27ارب 43 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ کا ترقیاتی بجٹ 21 ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ 27 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ رواں مالی سال آئی ٹی ٹیلی کام کا ترقیاتی بجٹ 6 ارب روپے تھا۔
نئے بجٹ میں نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ، کسانوں کو سستے قرضوں کی فراہمی کیلئے اسکیم کا اعلان متوقع ہے۔ سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ دار طبقے اور غیر تنخواہ دار کاروباری طبقے پر ٹیکس بڑھنے کا امکان ہے۔
سیلزٹیکس کی مدمیں 2 ہزار 858 ارب ٹیکس چھوٹ دینےکاانکشاف
وفاقی حکومت 2024-25 کا بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کرے گی تاہم قومی اقتصادی سروے 2024-25 میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں، رواں مالی سال 3 ہزار 979 ارب روپےکی ٹیکس چھوٹ دی گئی، یہ چھوٹ انکم ٹیکس،سیلزٹیکس،کسٹمزڈیوٹی کی مدمیں دی گئی ۔
تفصیلات کے مطابق سیلزٹیکس کی مدمیں 2 ہزار 858 ارب اور کسٹمز ڈیوٹی کے تحت 543 ارب 52 کروڑکی ٹیکس چھوٹ دیئے جانے کا انکشاف بھی ہواہے ۔اقتصادی سروے کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 476 ارب 96 کروڑ ، گاڑیوں کی صنعت سمیت بعض شعبوں کو 146 ارب 59 کروڑ کا استثنیٰ دیاگیا ، ٹیکس چھوٹ درآمدات، زیروریٹنگ، لوکل سپلائز پردی گئی، موبائل فونزپر 33 ارب روپےسےزیادہ کی ٹیکس چھوٹ دی گئی، فاٹا اورپاٹاکو بھی کسٹمزڈیوٹی کی مدمیں 78 ارب روپےٹیکس چھوٹ دی گئی۔
وفاقی حکومت کا شعبہ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ کم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی
وفاقی حکومت نے شعبہ تعلیم کا ترقیاتی بجٹ کم کرنے کے فیصلے پر نظرثانی کردی۔ تعلیم کے ترقیاتی بجٹ میں مزید اضافہ کردیا گیا۔
دستاویز کےمطابق نئے بجٹ میں تعلیمی شعبے کے لیے 93 ارب روپےبجٹ مختص کیا گیا ہے۔اس سے پہلےترقیاتی بجٹ 83 ارب سے کم کرکے 32 ارب کیا گیا تھا۔
نظرثانی شدہ پی اس ڈی پی کے تحت تعلیمی بجٹ میں 10 ارب روپے کا اضافہ کیا گیا۔اعلٰی تعلیمی کمیشن کا بجٹ 4 ارب روپے اضافے سے 66 ارب تیس کروڑ روپے مختص کیا گیا ہے۔
وفاقی وزارت تعلیم کا ترقیاتی بجٹ 32 ارب 80 کروڑ روپے رکھ دیا گیا۔ سائنس اور آئی ٹی کے شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں پینتالیس ارب کا اضافہ کیا گیا۔سائنس و ٹیکنالوجی کے لیے پی ایس ڈی پی میں اناسی ارب رکھے گئے ہیں۔
صحت کے شعبےکا بجٹ چوبیس ارب سے بڑھا کر 45 ارب روپے مختص کیا گیا ہے۔ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں پر پچھتر ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
بجٹ میں سرکاری ملازمین، پنشنرز، کسانوں اور فری لانسرز کو ریلیف ملنے کا امکان
نئے مالی سال 25ـ2024 کا بجٹ کل قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ چھوٹے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو زیادہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔ بجلی 5 سے 7 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہوگی۔مہنگائی سرکاری ہدف12 فیصد سے بہت بڑھ جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق 18 ہزار 900 ارب روپے کا نیا مجوزہ وفاقی بجٹ 9800 ارب روپے کے خسارے پر مبنی ہوگا۔ سرکاری خرچ پورے کرنے کے لیے مہنگائی اور اضافی ٹیکسز کا بوجھ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔
نئے مالی سال متعدد ترقیاتی منصوبوں کا انحصار بیرونی فنڈنگ پر ہوگا، ترقیاتی منصوبوں کیلئے 932 ارب روپے قرض لینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ وفاقی حکومت 316 ، چاروں صوبے 616 ارب روپے بیرونی قرض لیں گے۔
سندھ حکومت سب سے زیادہ 334 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لے گی، خیبر پختونخوا حکومت 131 ارب روپے کے بیرونی قرض پر انحصار کرے گی، پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں کیلئے 123 ارب روپے کا بیرونی قرضہ لیا جائے گا۔
شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد مقرر
آئندہ مالی سال میں شرح نمو کا ہدف 3.6 فیصد، صنعتی ترقی کا ہدف4.4فیصد، زرعی ترقی2 فیصد رکھنے کی منظوری کا امکان ہے۔ برآمدات کا ٹارگٹ40.5 ارب ڈالر، درآمدات68.1ارب ڈالر رکھنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق 827 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ، توانائی کیلئے 253ارب مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ مواصلات کیلئے 279ارب، تعلیم کا بجٹ93ارب رکھنے کی تجویز ہے۔ ضم شدہ اضلاع کو64ارب، آزاد کشمیر وگلگت بلتستان کو 75ارب ملیں گے۔
آئی ٹی و ٹیلی کام سیکٹر اولین ترجیح
آئندہ مالی سال انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ میں 27ارب 43 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ کا ترقیاتی بجٹ 21 ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ 27 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ رواں مالی سال آئی ٹی ٹیلی کام کا ترقیاتی بجٹ 6 ارب روپے تھا۔
پرانے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 21 ارب جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 6 ارب 28 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے، ڈیجیٹل اکانومی میں اضافے کے منصوبے پر ساڑھے 3 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ڈیجیٹل اکانومی کا منصوبہ عالمی بینک کی فنڈنگ سے مکمل کیا جائے گا۔
آئی ٹی انڈسٹری میں جدت لانے کے منصوبہ کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس منصوبہ پر مجموعی طور پر9 ارب 95کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ قومی اسمبلی کی ڈیجیٹلائزئشن کے 40 کروڑ روپے کے منصوبے کیلئے 5 کروڑ رکھے گئے ہیں، قومی اسمبلی کے براڈکاسٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر 5 کروڑ خرچ ہوں گے۔
تعلیم اور صحت کا بجٹ
تعلیم کے شعبے کا مجموعی ترقیاتی بجٹ 32 ارب روپے، قومی صحت کے منصوبوں کیلئے 17 ارب روپے، انفراسٹرکچر کے وفاقی منصوبوں کیلئے 877 ارب روپے، انرجی سیکٹر کے وفاقی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 378 ارب رکھنے کی تجویز ہے۔
نئے بجٹ میں چھوٹے کسان طبقے کیلئے مراعات کی تجویز زیر غور ہے، صنعتی شعبے کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5 ارب 80 کروڑ مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا ہدف 13ہزار ارب روپے مقرر کرنے کا امکان ہے۔
تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 سے 15 فیصد تک اضافہ متوقع ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں بھی 10 سے 15 فیصد اضافہ متوقع ہے۔ چھوٹے سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو زیادہ ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
نئے بجٹ میں نان فائلرز کیلئے ٹیکس کی شرح میں اضافہ، کسانوں کو سستے قرضوں کی فراہمی کیلئے اسکیم کا اعلان متوقع ہے۔ سالانہ انکم ٹیکس چھوٹ کی حد 6 لاکھ سے بڑھا کر 9 لاکھ کرنے کی تجویز ہے۔ تنخواہ دار طبقے اور غیر تنخواہ دار کاروباری طبقے پر ٹیکس بڑھنے کا امکان ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترقیاتی بجٹ میں 300 فیصد سے زائد اضافہ تجویز
آئندہ مالی سال انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ میں 27ارب 43 کروڑ 50 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ کا ترقیاتی بجٹ 21 ارب روپے سے زائد اضافے کے ساتھ 27 ارب 43 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ رواں مالی سال آئی ٹی ٹیلی کام کا ترقیاتی بجٹ 6 ارب روپے تھا۔
پرانے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 21 ارب جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 6 ارب 28 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے، ڈیجیٹل اکانومی میں اضافے کے منصوبے پر ساڑھے 3 ارب روپے خرچ ہوں گے۔ ڈیجیٹل اکانومی کا منصوبہ عالمی بینک کی فنڈنگ سے مکمل کیا جائے گا۔
آئی ٹی انڈسٹری میں جدت لانے کے منصوبہ کیلئے ایک ارب روپے رکھے گئے ہیں، اس منصوبہ پر مجموعی طور پر9 ارب 95کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ قومی اسمبلی کی ڈیجیٹلائزئشن کے 40 کروڑ روپے کے منصوبے کیلئے 5 کروڑ رکھے گئے ہیں، قومی اسمبلی کے براڈکاسٹ سسٹم کی اپ گریڈیشن کے منصوبہ پر 5 کروڑ خرچ ہوں گے۔
کراچی میں آئی ٹی پارک کے قیام کے پرانے منصوبہ کیلئے 6 ارب 78 کروڑ روپے، اسلام آباد میں ٹیکنالوجی پارک کے منصوبہ کے لیے 9 ارب 92 کروڑ رکھے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے آئی ٹی سٹارٹ اپس منصوبہ کے لیے 1 ارب 80 کروڑ رکھے گئے ہیں، ڈیجیٹل پاکستان کی سائبر سیکیورٹی کے منصوبہ پر ایک ارب روپے خرچ ہوں گے۔
حکومت رواں مالی سال اہم معاشی اہداف حاصل کرنے میں ناکام
مالی سال 2023،24 کا اقتصادی سروے کل جاری کیا جائے گا ۔ رواں مالی سال بعض اہم معاشی اہداف پورے کرنے میں ناکامی کا سامنا رہا۔ معاشی ترقی ساڑھے تین فیصد ہدف کے مقابلے میں دو اعشاریہ تین آٹھ فیصد رہی۔
سروے نکات کے مطابق رواں مالی سال کے دوران معاشی ترقی3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 2.38 فیصد رہی، اوسط مہنگائی21 فیصد سالانہ ہدف کے مقابلے میں23.2 فیصد تک رہی۔
فی کس آمدن، ترسیلات زر، برآمدات، ٹیکس ریونیو میں پہلے سے بہتری ہوئی ہے، زرعی شعبے کی کارکردگی 3.4 فیصد ہدف کے مقابلے 4 فیصد ریکارڈ کی گئی۔ اہم فصلوں کی پیداوار 3 فیصد ہدف کے مقابلے 16.8 فیصد رہی۔ گندم، چاول، مکئی سمیت بڑی فصلوں کی پیداوار میں نمایاں بہتری ریکارڈ کی گئی۔
صنعتی ترقی کا سالانہ 3.4 فیصد ہدف پورا نہ ہوا، گروتھ 1.2 فیصد رہی، مینوفیکچرنگ کا ہدف 4.3 فیصد، کارکردگی 2.4 فیصد ریکارڈ کیا گیا۔ بڑی صنعتوں کی کارکردگی 3.2 فیصد ہدف کے مقابلے 0.1 فیصد رہی۔ رئیل اسٹیٹ، تعلیم، صحت، رہائش، خوراک کے شعبے کی بہتر کارکردگی ہوئی تاہم بجلی، گیس، ہول سیل، ری ٹیل، ٹرانسپورٹ سیکٹر کے اہداف پورے نہ ہوئے۔
خدمات کے شعبے کی ترقی کا ہدف 3.6 فیصد، کارکردگی 1.2 فیصد رہی، فنانشل، انشورنس سیکٹر، مواصلات، قومی بچت کے اہداف بھی حاصل نہ ہوئے۔ ترسیلات زر کا سالانہ ہدف 30 ارب53 کروڑ ڈالر، 11 ماہ میں 27 ارب ڈالر رہیں۔
سالانہ برآمدات 30 ارب ڈالر ہدف کے مقابلے میں 11 ماہ میں 28 ارب ڈالر رہیں، درآمدات 58 ارب 69 کروڑ ڈالر ہدف کے مقابلے 49 ارب 80 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی، تجارتی خسارہ سالانہ ہدف 28 ارب 66 کروڑ ڈالر، 11 ماہ میں 21.73 ارب ڈالر رہا۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا سالانہ ہدف 6 ارب ڈالر، 10 ماہ میں 20 کروڑ 20 لاکھ ڈالر رہا۔
وزارت دفاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 5 ارب 63 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز
نئے بجٹ میں وزارت دفاع کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے پانچ ارب تریسٹھ کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے ۔
دستاویز کے مطابق وزارت دفاع کے پہلے سے جاری نو منصوبوں کیلئے تین ارب بانوے کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ بیس نئی اسکیموں کیلئے ایک ارب اکہتر کروڑ روپے کے فنڈز مختص کئے جائیں گے۔ لا انفورسمنٹ اور ایمرجنسی سرچ اینڈ ریسکیو کیلئے ڈرونز پر چالیس کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔ اسلام آباد میں ریسرچ اینڈ ریجنل سینٹر کی تعمیر کیلئے پانچ کروڑ جبکہ گوادر اور گلگت میں ایف جی جونئیر پبلک اسکولزکی تعمیر کیلئے اڑتیس کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ نیشنل یونیورسٹی آف پاکستان اسلام اباد میں اکیڈمی بلاک کی تعمیر پر تیس کروڑ جبکہ میڈیکل سٹی کے قیام کیلئے زمین خریداری پر باسٹھ کروڑ روپے خرچ ہوں گے۔۔ نیشنل ایئروسپیس سائنس اینڈ ٹیکنالوجی پاک ایوی ایشن سٹی پاکستان کیلئے چھیاسی کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
نئے مالی سال میں بجلی، گیس مہنگی، ٹیکسوں کی بھرمار کا امکان
آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو سامنے رکھ کر بنائے جانے والے بجٹ سے عوام زیادہ ریلیف کی امید نہ رکھیں۔ نئے مالی سال بجلی گیس مزید مہنگی اور ٹیکسز کی بھرمار ہوگی۔ متوسط طبقہ مزید پس جائے گا۔ اقتصادی ماہرین نے خبردار کردیا۔
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 8 ارب ڈالر تک کے بیل آؤٹ پیکج کے حصول کے لیے بجٹ کی صورت میں عوام کے لیے کڑوی گولیوں کی تیاری آخری مرحلے میں پہنچ گئی۔ 18 ہزار ہزار 900 ارب روپے کا نیا مجوزہ وفاقی بجٹ 9800 ارب روپے کے خسارے پر مبنی ہوگا۔
سرکاری خرچ پورے کرنے کے لیے مہنگائی اور اضافی ٹیکسز کا بوجھ عوام کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ بجلی 5 سے 7 روپے فی یونٹ مزید مہنگی ہوگی ۔مہنگائی سرکاری ہدف12 فیصد سے بہت بڑھ جائے گی۔
ماہر اقتصادی امور اشفاق تولہ کا کہنا ہے کہ جن شرائط کی وہ بات ہورہی ہے میرا خیال ہے کہ کافی مشکلات آنے والی ہیں۔ جو 329 روپے ایکسچینج ریٹ استعمال کر رہے ہیں اس کے اثرات بھی آتے ہیں۔
نئے بجٹ میں ایف بی آر کا ممکنہ سالانہ ٹیکس ہدف 13 ہزار ارب روپے ہوگا جسے پورا کرنے کیلئے اضافی ٹیکس لگانا پڑیں گے۔ نان فائلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کیلئے مینوفیکچرنگ سے ری ٹیلرز تک پوری سپلائی چین پر 2.5 فیصد انکم ٹیکس لگانے،ٹھیکیداروں، پروفیشنلز اور کھلاڑیوں کی آمدن پر بھی ٹیکس بڑھانے کی تجویز ہے۔1080 ارب روپے کی پیٹرولیم لیوی سمیت نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 4800 ارب روپے جمع کرنے کا پلان اس کے علاوہ ہے۔
نئے بجٹ میں درآمدی خوراک، بچوں کے دودھ اور اسٹیشنری سمیت سینکڑوں اشیاء پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی تجریز ہے۔ پرانی گاڑیوں پر ٹیکس بڑھانے اور لاکھوں ری ٹیلرز سمیت متعدد شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کا پلان ہے۔
چھوٹے سرکاری ملازمین کوتنخواہوں میں اضافے اورغریب طبقے کو تو بی آئی ایس پی سے کچھ ریلیف مل جائے گا تاہم مڈل کلاس کے لیے مشکلات مزید بڑھنے والی ہیں۔
ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف معاہدے کے پیش ںظر بجٹ میں ریلیف کا امکان بہت کم ہونے کی توقع ہے، جو آپ کا مڈل انکم اور ہائی انکم اینڈ گروپ ہے ان کے اوپر پھر بھی ایڈیشنل ٹیکسز اور ایڈیشنل انرجی کے جو ٹیرف ہیں ان کا سامنا ہوگا۔
نئے بجٹ میں ری ٹیلرز، زرعی آلات، بیجوں، کھاد، ٹریکٹرز اور دیگر آلات پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگانے کی تجویز ہے۔ 60 لاکھ تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کا ہدف ہے۔ ان اقدامات کا مقصد بیل آؤٹ پیکج کے لیے آئی ایم ایف کو رام کرنا ہے۔
ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر عابد سلہری کے مطابق یہ ایک قسم کا پرائر ایکشن ہے کہ پاکستان واقعتاً ان ریفارمز پہ عمل پیرا ہونا چاہے گا اور کسی قسم کی سیاسی کشیدگی جو ہے وہ اس میں آڑے نہیں آئے گی اور جب یہ بجٹ اپروو ہو جاتا ہے تو اس کے بعد پھر آپ کی اگلے پروگرام کیلئے مذاکرات شروع ہونگے مہنگائی تو کم ہوتی نظر نہیں آرہی ہے اور اس وقت حکومت کا سارا فوکس ہونا چاہئے وہ روپے کی قدر میں استحکام ہے۔
نئے مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی پر 9700 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ دفاع پر 2100 ارب روپے، وفاقی پی ایس ڈی پی کا بجٹ 1221 ارب سے بڑھا کر1500 ارب روپے تک لے جانے کی تجویز ہے۔ مختلف شعبوں کیلئے سبسڈیز کا تخمینہ 1300 ارب روپے لگایا گیا ہے۔
نان فائلرز پر بینکوں سے کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد
سیکیوریٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے کارپوریٹ سیکٹر پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز دیدی جبکہ ایف بی آر کے مطابق نان فائلرز پر بینکوں سے کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد کردی گئی۔
تفصیلات کے مطابق بجٹ 2024-25 کیلئے ٹیکس تجاویز پر کام جاری ہے، ایس ای سی پی نے کارپوریٹ سیکٹر پر ودہولڈنگ ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز دیدی، ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد کرنے کی تجویز سامنے آگئی۔
حکام کے مطابق تجویز کا مقصد کارپوریٹ اور نان کارپوریٹ کاروبار میں ٹیکس کا فرق ختم کرنا ہے، کارپوریٹ کمپنیوں کے منافع پر ٹیکس کی مجموعی شرح 39.65 فیصد تک ہے، کارپوریٹ کمپنیوں سے 29 فیصد انکم ٹیکس اور منافع کی تقسیم پر مزید 15 فیصد ٹیکس لیا جارہا ہے۔ نان کارپوریٹ کمپنیوں یا بزنس پر ٹیکس کی شرح صفر سے 35 فیصد تک ہے۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس کی شرح میں فرق ختم کرنے سے معیشت کو دستاویزی شکل دینے میں مدد ملے گی، نان بینک فنانشل کمپنیز سے 5 سال تک کم شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز بھی سامنے آگئی۔
ذرائع کے مطابق ٹیکس کی کم شرح نان پرافٹ آرگنائزیشن سے پرافٹ کمپنی میں تبدیلی کی صورت میں دی جا سکے گی، پہلے دو سال صرف 5 فیصد ٹیکس وصول کرنے کی جبکہ اگلے چار سال ٹیکس میں 5 فیصد سالانہ اضافے کی تجویز ہے۔
ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو سپر ٹیکس وصول کرنے کا اختیار دینے کی تجویز زیر غور ہے، اس وقت ایسٹ مینجمنٹ کمپنیوں کو صرف کیپٹل گین ٹیکس وصولی کا اختیار ہے۔
دوسری جانب ایف بی آر حکام کے مطابق نان فائلرز پر بینکوں سے کیش نکلوانے پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد کردی گئی، نان فائلزرکیلئے 50 ہزار روپے سے زائد رقم نکلوانے پر ٹیکس 0.9فیصد کرنے کی تجویز تھی۔ حکام کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے کیش ٹرانزکشن پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز مسترد کر دی۔
نان فائلرز سے 20 ارب روپے جمع کرنے کا پلان تیار کیا گیا تھا، نان فائلرز پر بینکوں سے 50 ہزار سے زائد رقم نکلوانے پر0.6 فیصد ودہولڈنگ ٹیکس عائد ہے۔
حکومت کو پرانے قرض چکانے کے لیے نئے قرض درکار
پاکستان کو نئے مالی سال بھی ملکی امور چلانے اور 21 ارب ڈالر کی بیرونی فنانسنگ ضروریات پوری کرنے کیلئے مزید قرض درکار ہے ۔ قرضوں اور واجبات کا مجموعی حجم 80 ہزار 862 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ۔ اگلے سال 9700 ارب روپے کی تو صرف سود ادائیگی کرنی ہے۔
قرضوں کی دلدل میں پھنسی معاشی گاڑی کو رفتار پکڑنے کے لیے مزید سہاروں کی ضرورت ہے۔ آئندہ مالی سال بھی پرانے حساب چکانے کے لیے نئے قرضوں کا بوجھ اٹھانا پڑے گا۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2024 تک ملکی قرضوں اور واجبات میں 8400 ارب روپے اضافہ ہوا۔ مجموعی حجم 80 ہزار 862 ارب روپے تک پہنچ چکا، بیرونی ادائیگیاں 130 ارب ڈالر سے بھی زیادہ ہیں۔
ماہرین کہتے ہیں اگلے مالی سال کی 21 ارب ڈالر سے زائد کی بیرونی فنانسنگ ضروریات قرض کے بغیر پوری کرنا ممکن نہیں۔ ماہر اقتصادی امور ڈاکٹر وقار احمد کا کہنا ہے کہ اس وقت جو پاکستان کا ڈیبٹ برڈن ہے آئی ایم ایف اکیلا تو اس کو لے کر آگے نہیں چل سکتا۔ آئی ایم ایف دیکھنا چاہتا ہے کہ جن کو ہم فرینڈز آف پاکستان کہتے ہیں وہ کیا تعاون کرتے ہیں ۔ وہ کمٹمنٹس بھی آئی ایم ایف بہت کلوزلی مانیٹر کر رہا ہوگا کہ ان کا حجم کیا ہے۔
وزارت خزانہ کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں قرضوں پر 5 ہزار 517 ارب روپے سود ادا کیا گیا۔ نئے مالی سال 2024-25 کے بجٹ کے مجموعی حجم کا تخمینہ 18 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔
نئے مالی سال بجٹ خسارے کا تخمینہ 9600 ارب روپے جبکہ صرف قرضوں پر سود ادائیگی کیلئے 9 ہزار 700 ارب روپے درکار ہوں گے۔ ماہرین کہتے ہیں بڑے مسائل کا مستقل حل صرف قرض اٹھانا نہیں، ٹیکس آمدن بھی بڑھانا ہوگی۔
نئی مخلوط حکومت پہلے بجٹ میں سالانہ ٹیکس ہدف 12 ہزار 900 ارب روپے مقرر کرنے پر غور کر رہی ہے جسے پورا کرنا کیلئے 1500 ارب روپے سے زیادہ کے نئے ٹیکسز لگانا پڑیں گے۔
بجٹ 2024-25 میں استعمال شدہ گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ
پرانی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں متوقع اضافے کی صورت میں بجٹ 2024-25 میں استعمال شدہ گاڑیاں مزید مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔
بجٹ میں 1800 سی سی سے بڑی گاڑیوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 30 فیصد اضافہ متوقع ہے البتہ 1800 سی سی تک کی نئی اور پرانی ہائبرڈ گاڑیوں پر زیرو ڈیوٹی برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔
پاکستان میں امپورٹڈ استعمال شدہ بڑی گاڑیوں پر ڈیوٹی کی شرح70 سے بڑھ کر100 فیصد تک ہونے کا امکان ہے۔ خیال رہے کہ پچھلے سال ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی سے گاڑیوں کی درآمد 255فیصد بڑھی ہے۔
ایف بی آر کو ٹیکس ریونیو میں 33 ارب روپے شارٹ فال کا سامنا
فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر) کو ٹیکس ریونیو میں 33 ارب روپے کے شارٹ فال کا سامنا ہے۔
ایف بی آر نے جولائی تا مئی 8 ہزار 126 ارب روپے ٹیکس جمع کیا گیا جبکہ ہدف 8 ہزار 159 ارب روپے تھا۔ گزشتہ مالی سال کے ابتدائی 11 ماہ کے مقابلے میں ریونیو میں 31 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ایف بی آر کے مطابق مئی دوہزار چوبیس میں ہدف سے 15 ارب روپے زیادہ ٹیکس جمع کیا گیا۔ مئی میں 745 ارب روپے ہدف کے مقابلے میں 760 ارب روپے ریونیو جمع ہوا۔
رواں مالی سال ٹیکس کا مجموعی ہدف 9 ہزار 415 ارب روپے ہے۔ سالانہ ٹیکس ہدف پورا کرنے کیلئے جون میں مزید ایک ہزار 289 ارب روپے جمع کرنا ہونگے۔













