حکومت نے نئے بجٹ میں گاڑیوں درآمدی دودھ، دہی سمیت 6980 اشیاء پر ڈیوٹی اور ٹیکس میں کمی کردی۔ نئے مالی سال کے آغاز کے ساتھ ہی نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق امپورٹڈ جیپوں پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 سے کم کر کے 10 فیصد کردی گئی ہے جبکہ نئی امپورٹڈ اسپورٹس گاڑیوں پر ڈیوٹی بھی 5 فیصد کمی کے بعد 10 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ امپورٹڈ نئی اسپورٹس جیپوں پر ڈیوٹی 90 سے کم کرکے 50 فیصد مقرر کردی گئی ہے، نئے بجٹ میں لگژری شپس، کروز اور بوٹس پر ڈیوٹی 5 فیصد کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق امپورٹڈ برانڈڈ سن گلاسز پر ڈیوٹی 30 سے کم کرکے 24 فیصد، امپورٹڈ کاسمیٹکس پر ڈیوٹی 50 فیصد سے کم کرکے 40 فیصد، امپورٹڈ واش بیسن پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 24 فیصد کردی گئی۔
نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ امپورٹڈ باتھ ٹب پر ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کرکے 16 فیصد، امپورٹڈ باتھ واشنگ ٹینک پر ڈیوٹی 30 سے کم کرکے 24 فیصد، امپورٹڈ میز پوش اور نیٹ ویئر پر ڈیوٹی 30 فیصد سے کم کرکے 24 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
حکومت نے نئے مالی سال کیلئے امپورٹڈ آرٹیفیشل جیولری پر ڈیوٹی 40 فیصد سے کم کرکے 36 فیصد، امپورٹڈ پرفیوم پر ڈیوٹی 50 فیصد کے بجائے اب 40 فیصد اور امپورٹڈ برانڈڈ گھڑیوں پر ڈیوٹی 30 سے کم کرکے 24 فیصد کردی گئی۔
رپورٹ کے مطابق موبائل فون سم کارڈز پر ریگولیٹری ڈیوٹی 15 سے 12 فیصد کردی گئی، مرغی اور مچھلیوں پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی بھی 5 فیصد کردی گئی، پرندوں کے انڈوں پر عائد ڈیوٹی 15 فیصد سے کم کرکے 10 فیصد ہوگئی، کتے، بلی اور پالتو جانوروں کے کھانوں پر ڈیوٹی 5 فیصد کم کرکے 40 فیصد کردی گئی۔
فنانس بل کے تحت تمباکو پر عائد ڈیوٹی 40 فیصد تک کم کردی گئی، کھجور، ناریل، برازیلی میوے اور کاجو پر ڈیوٹی میں 16 فیصد تک کمی، انجیر، انناس، ایواکاڈو، امرود اور آم پر ڈیوٹی میں 20 فیصد تک کمی کردی گئی، پپیتا اور سیب پر ڈیوٹی 45 فیصد سے کم کرکے 36 فیصد کر دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق گری دار میووں پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی میں 4 فیصد کمی کی گئی، فروزن مچھلی پر عائد ڈیوٹی نصف کرکے 17.5 فیصد، میک اپ کے سامان پر درآمدی ڈیوٹی 55 سے کم کرکے 44 فیصد، بیوٹی پارلر کے خام مال، امپورٹڈ سن بلاک اور سن اسکرین پر بھی ڈیوٹی میں کمی کی گئی ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق شیونگ کریم، آفٹر شیو لوشن اور کریم پر ڈیوٹی 50 سے کم کرکے 40 فیصد، فیس واش، صابن اور دیگر خام مال پر ڈیوٹی بھی کم کرکے 40 فیصد، صنعتی شعبے کے خام مال پر ریگولیٹری ڈیوٹی کم کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق امپورٹڈ دودھ ، پاوٴڈر ملک اور دہی پر ڈیوٹی اب 20 فیصد ہوگی، امپورٹڈ کواڈ فش، مچھلی پرریگولیٹری ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد، امپورٹڈ ملک کریم، مکھن اور ملک فیٹس پر ڈیوٹی 20 فیصد، امپورٹڈ پنیر پر ڈیوٹی کم کرکے 40 فیصد اور شہد پر 24 فیصد جبکہ ڈبے میں بند امپورٹڈ سبزیوں پر عائد ڈیوٹی کم کرکے 5 فیصد کردی گئی۔
نوٹیفکیشن کے مطابق نئے مالی سالی میں امپورٹڈ خشک کیلوں پر ڈیوٹی کم کرکے 10 فیصد، امپورٹڈ تازہ آڑو پر ڈیوٹی کم کرکے 36 فیصد، امپورٹڈ گندم کے آٹے اور میدے پر بھی ڈیوٹی کمی کے بعد 20 فیصد ہوگئی، امپورٹڈ مکئی پر عائد ڈیوٹی بھی 20 فیصد کردی گئی۔
پنجاب اسمبلی نے مالی سال 2025-26 کے لیے 5300 ارب روپے سے زائد مالیت کے بجٹ اور فنانس بل 2025-26 کو کثرت رائے سے منظور کر لیا۔
ایوان نے مختلف محکموں کے لیے 4306 ارب روپے سے زائد کے 41 مطالبات زر کی منظوری دی جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام آٹھ تحاریک مسترد کر دی گئیں۔
بجٹ میں صحت کے لیے 258 ارب، تعلیم کے لیے 137 ارب، پولیس کے لیے 200 ارب اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے 910 ارب روپے سے زائد مختص کیے گئے ہیں۔
اجلاس کے دوران اسپیکر پنجاب اسمبلی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان نوک جھونک دیکھنے میں آئی۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پنجاب آٹزم اسکول اینڈ ریسورس سینٹر بل 2025، ضروری اشیا کی قیمتوں پر کنٹرول کے ترمیمی بل سمیت چار بل پیش کیے جو ایوان نے منظور کر لیے۔
ایجنڈا مکمل ہونے پر ڈپٹی اسپیکر ظہیر اقبال چنڑ نے اجلاس جمعہ دوپہر 2 بجے تک ملتوی کر دیا۔
قومی اسمبلی نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے لیے 17,573 ارب روپے کے وفاقی بجٹ کو کثرت رائے سے منظور کرلیا۔
جمعرات کو اسمبلی اجلاس کے دوران فنانس بل کی شق وار منظوری دی گئی جبکہ اپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) کا ٹیکس ہدف 14,131 ارب روپے اور نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5,147 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو 8,206 ارب روپے ملیں گے۔
سود کی ادائیگی کے لیے 8,207 ارب اور دفاع کے لیے 2,550 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
انکم ٹیکس سے استثنیٰ
نئے فنانس بل میں 106 اداروں کو انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے جبکہ ان اداروں نے بطور ٹرسٹ اور فاونڈیشن رجسٹریشن کروا کے ٹیکس سے استثنیٰ حاصل کیا۔
فنانس بل کے مطابق سابق صدور یا ان کی بیواوں کی پنشنز پر بھی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے، ایف بی آر فاونڈیشن، واپڈا، پی اے آرسی اور وزیراعظم کے خصوصی فنڈز بھی ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیے گئے ہیں۔
ایس ای سی پی، نجکاری کمیشن، فوجی فاؤنڈیشن، کارانداز پاکستان، الشفا ٹرسٹ، الشفا آئی ٹرسٹ اور پاکستان بار کونسل کو بھی ٹیکس استثنیٰ حاصل ہوگا جبکہ غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، لمز، اخوت فاونڈیشن ، الخدمت فاونڈیشن اور بزنس مین ہاسپٹل ٹرسٹ بھی لسٹ میں شامل ہیں۔
دعوت اسلامی ٹرسٹ، اسلام آباد سمیت چاروں صوبائی بار کونسلز بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گی۔
شوکت خانم میموریل ٹرسٹ، انڈس اسپتال، زابسٹ یونیورسٹی اور کامسیٹس، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کے ادارے اور آرمی ویلفیئر ٹرسٹ بھی ٹیکس سےمستثنیٰ قرار دیے گئے۔
سپریم کورٹ ڈیمز فنڈ اور وزیراعظم فلڈ ریلیف فنڈ بھی ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔
سولر پینل
سولر پینل پر مجوزہ 18 فیصد کے بجائے سیلز ٹیکس کی شرح 10 فیصد مقرر کی گئی۔
کاربن لیوی
کاربن لیوی عائد کرنے اور کسٹمز ایکٹ میں 14 حکومتی ترامیم بھی منظور کرلی گئیں۔
کسٹمز ایکٹ
اپوزیشن نے کسٹمز ایکٹ کی ترامیم پر ووٹنگ چیلنج کی لیکن گنتی کے بعد حکومتی ارکان کی تعداد 201 جبکہ اپوزیشن کی 57 رہی، اس دوران اپوزیشن نے نعرے بازی کی۔
انکم ٹکیس
انکم ٹیکس کے حوالے سے وزیر خزانہ کی پیش کردہ ترامیم منظور اور اپوزیشن کی ترامیم مسترد کردی گئیں۔
ترامیم کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک تنخواہ لینے والے افراد انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار پائیں گے جبکہ 6 سے 12 لاکھ تک سالانہ تنخواہ پر 1 فیصد ٹیکس، 12 سے 22 لاکھ تک تنخواہ پر 6,000 روپے فکسڈ ٹیکس اور 11 فیصد انکم ٹیکس عائد ہوگا۔
22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 1 لاکھ 16 ہزار فکسڈ اور 22 لاکھ سے زائد رقم پر 23 فیصد ٹیکس جبکہ 32 سے 41 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر 3 لاکھ 46 ہزار فکسڈ اور 30 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
41 لاکھ روپے سے زائد سالانہ تنخواہ پر 6 لاکھ 16 ہزار فکسڈ ٹیکس اور 35 فیصد انکم ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن پر 5 فیصد انکم ٹیکس متعارف کرایا گیا ہے۔
ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری
ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری کے اختیارات ایک کمیٹی کے سپرد کردیے گئے جو 5 کروڑ روپے سے زائد ٹیکس فراڈ کی صورت میں گرفتاری کی اجازت دے گی۔
شواہد مٹانے، غلط معلومات دینے یا ٹیکس انوائس میں گڑبڑ کو سیلز ٹیکس فراڈ تصور کیا جائے گا، انکوائری خفیہ نہیں ہوگی اور اگر ملزم انکوائری میں شامل ہوجاتا ہے تو اسے گرفتار نہیں کیا جائے گا۔
بلوچستان اسمبلی نے بجٹ 25-26ء کی منظوری دیدی، ایوان نے 94 مطالبات زر منظور کرلیے، اپوزیشن کی کٹوتی کی 12 تحاریک مسترد کردی گئیں۔
بلوچستان اسمبلی نے مالی سال 2025-26ء کا بجٹ منظور کرلیا، ایوان نے نئے مالی سال کے 94 مطالبات زر کی منظوری دی، اپوزیشن کی کٹوتی کی 12 تحاریک کثرت رائے سے مسترد کردی گئیں۔
بلوچستان اسمبلی میں بجٹ تجاویز سے متعلق مطالبات زر صوبائی وزیر خزانہ نے پیش کیے، غیرترقیاتی اخراجات کیلئے 53 مطالبات زر جبکہ ترقیاتی اخراجات کیلئے 41 مطالبات زر ایوان میں پیش کیے گئے۔
بجٹ کی منظوری کے بعد خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ اتحادیوں نے ہمیشہ رہنمائی کی اور ساتھ دیا، اپوزیشن نے اختلاف کیا لیکن ان کی سوچ بھی بجٹ کا حصہ ہے، اپنی حکومت کا دوسرا بجٹ پاس کروانے پر ایوان کا شکر گزار ہوں، وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیشہ بلوچستان کو ترجیح دی، افواج پاکستان نے ہمیشہ بلوچستان کی مدد کی، افواج پاکستان ہمیشہ بلوچستان حکومت کے ساتھ کھڑی رہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ 4 چیزوں کے ذریعے بلوچستان کو آگے لے کر جائیں گے، بلوچستان کی گورننس کو لے کر ہر کوئی راگ الاپ رہا ہے، بلوچستان میں شدید قسم کا انتظامی بحران تھا، آج تمام ڈویژنز میں اسسٹنٹ کمشنر موجود ہیں، صوبہ بھر میں بند دفاتر کو کھولا جائے گا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان نے کہا کہ 200 ارب میں پاکستان کو ترقی نہیں دی جاسکتی، پی ایس ڈی پی میں تبدیلیوں پر ساتھ دینے پر ارکان کا شکر گزار ہوں، گزشتہ مالی سال کے دوران 100 فیصد بجٹ استعمال ہوا، اس مالی سال بھی 100 فیصد بجٹ استعمال کیا جائے گا، عوام کو ترقیاتی منصوبوں میں عوام کو کوالٹی ملے گی۔
سرفراز بگٹی کا کہنا ہے کہ چیک اینڈ بیلنس کا مضبوط نظام موجود ہے، ایسی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس سے نوجوانوں کو ریاست سے جوڑا جاسکے، گراؤنڈ لیول پر جا کر عوام کی شکایت سنیں گے، اس سال 3200 بند اسکول کھولے گئے ہیں، دو ماہ میں وزراء اپنے محکموں میں خالی آسامیوں پر بھرتیاں کریں، تین ماہ میں غیرفعال اسپتالوں اور بی ایچ یوز کو فعال کریں گے۔
انہوں نے بتایا کہ آج 95 فیصد شاہراہیں کھلی ہیں، بلاجواز تجزیے بلوچستان کے حالات کو پیچیدہ بناتے ہیں، دہشت گرد رات کے اندھیرے میں وارداتیں کرتے ہیں، دہشت گرد دو گھنٹوں سے زائد واردات نہیں کرسکتے، اپنی فورسز کو جدید سہولیات سے لیس کر رہے ہیں، مانتے ہیں کہ بلوچستان کے حالات بہتر نہیں، سی ٹی ڈی کو مزید مضبوط کرنے کیلئے 20 ارب خرچ کریں گے، تمام سی ٹی ڈی تھانوں کو قلعوں میں تبدیل کریں گے۔
وزیراعلیٰ بلوچستان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے پراسیکیوشن کو مضبوط کریں گے، سزاؤں کی شرح بڑھائی جائے گی، نوجوانوں کو کاروبار کیلئے قرض دیں گے، بلوچستان کے ہر ضلع میں فروٹ منڈیاں بس ٹرمینل بنانے جا رہے ہیں، 6 ارب کی لاگت سے لینڈ سیٹلمنٹ کریں گے، چاغی میں صنعتیں لگائیں گے اور 5 ارب کا سولر سسٹم لگایا جائے گا۔
انہوں نے اعلان کیا کہ کوئٹہ میں پیپلز ٹرین شٹل سروس شروع کریں گے، اپنی گیس کے استعمال کیلئے فرٹیلائزرز سیٹیز بنائیں گے، صوبے کے چار اضلاع میں میٹ پیکنگ پلانٹ بنائے جائیں گے، 164 یونٹس ایک ساتھ کھولنے جارہے ہیں۔
سرفراز بگٹی نے کہا کہ صوبے میں 1200 نئے اسکول بنائے جائیں گے، نیشنل بینک کے ساتھ مل کر خواتین کو اسکوٹیز دیں گے، 10 ارب کی لاگت حب ماسٹر پلان کا کام شروع ہے، مختلف اضلاع میں شاہراتی منصوبے شروع کر رہے ہیں، ہر یونین کونسل میں واٹر فلٹریشن پلانٹ لگایا جائے گا۔
عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری دیدی۔ ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ رقم بلوچستان میں دو مختلف منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
عالمی بینک نے پاکستان کیلئے 19 کروڑ 40 لاکھ ڈالر قرض کی منظوری دیدی۔ عالمی بین کے مطابق رقم صوبہ بلوچستان میں دو مختلف منصوبوں پر خرچ کی جائے گی، جس میں بچوں کیلئے تعلیمی مواقع کو بہتر بنانے اور پانی کے تحفظ کو مضبوط کرنے کا منصوبہ شامل ہے۔
ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بن ہیسن کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں منصوبوں کا مقصد صوبے میں تعلیمی محرومی کو کم کرنا ہے، بلوچستان واٹر سیکیورٹی پراجیکٹ موسمیاتی تبدیلی کیخلاف مزاحمت بڑھانے میں مدد دے گا۔
عالمی بینک نے مزید کہا کہ بلوچستان میں انفرااسٹرکچر اور انسانی ترقی میں سرمایہ کاری سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل آج ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی ) نے پاکستان کیلئے 35 کروڑ ڈالر قرض کی منظوری دی تھی۔ اے ڈی بی اعلامیے کے مطابق یہ فنڈز خواتین کی مالی رسائی بہتر بنانے کیلئے خرچ کیے جائیں گے۔
وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان کا کہنا ہے کہ آٹو پالیسی 2026ء کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں کی رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن لازمی ہوگی، سال 2030ء تک 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر ہوں گی۔
اسلام آباد میں معاون خصوصی ہارون اختر خان کی زیر صدارت کار ڈیلرز امپورٹرز ایسوسی ایشن کا اجلاس ہوا، جس میں آٹو پالیسی 2026ء، درآمدات برآمدات اور کسٹم ڈیوٹیز سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہارون اختر نے کہا کہ کار ڈیلرز ایسوسی ایشن آٹو پالیسی سازی میں اہم اسٹیک ہولڈر ہے، وزیراعظم شہباز شریف کی پالیسی آزادانہ درآمدی نظام کے فروغ پر مرکوز ہے، آزادانہ مقابلے سے مقامی آٹو انڈسٹری میں ایکسپورٹ کا رجحان بڑھے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد کے معیار کو یقینی بنانے کیلئے رجسٹریشن اور سرٹیفکیشن لازمی قرار دی جائے گی، الیکٹرک گاڑیوں کے فروغ کیلئے حکومت نے ای وی پالیسی متعارف کرائی ہے، اس پالیسی کے تحت 2030ء تک ملک میں 22 لاکھ الیکٹرک گاڑیاں سڑکوں پر ہوں گی، الیکٹرک گاڑیاں عوام اور ماحول دونوں کیلئے فائدہ مند اور کم خرچ ہیں۔
معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ کار امپورٹ ڈیلرز ایسوسی ایشن نے اجلاس میں اپنی تجاویز وزارتِ صنعت و پیداوار کو پیش کیں۔ ہارون اختر نے یقین دلایا کہ حکومت ان تجاویز کا جائزہ لے گی اور مکمل تعاون کرے گی۔
حکومت نے نئے مجوزہ فنانس بل میں 36 ارب روپے کے نئے اضافی ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے معاشی ٹیم کے ساتھ بحث کے بعد منظوری بھی دے دی، الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں پر لیوی ٹیکس نہ لگانے کی سفارش کی گئی ہے، کمیٹی کو بتایا گیا سفارش پر عمل آئی ایم ایف شرائط کے باعث مشکل ہے، پھر بھی غور کیا جائے گا۔ اجلاس میں ایران اسرائیل جنگ کے باعث ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر پر بھی بات ہوئی، قائمقام کمیٹی چیئرمین اور وزیر مملکت خزانہ سے اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کی تلخ کلامی بھی ہوگئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ میں نئے مجوزہ فنانس بل پر بحث جاری ہے، حکومتی معاشی ٹیم نے بجٹ میں مزید 36 ارب روپے کے نئے اضافی ٹیکسز عائد کرنے کا فیصلہ سنا دیا۔
کمیٹی ارکان نے مخالفت کی تو بتایا گیا کہ سولر پینلز پر مجوزہ ٹیکس میں 8 فیصد کمی اور تنخواہوں میں مجوزہ شرح سے 4 فیصد زیادہ اضافے سے پیدا خلاء پر کرنے کیلئے فیصلہ کیا گیا۔
چیئرمین ایف بی آر کے مطابق آئی ایم ایف کو متبادل ٹیکس کیلئے 6 تجاویز بجھوائی گئیں، 3 پر اتفاق ہوا، ہیچری انڈسٹری پر فی چوزہ 10 روپے ایف ای ڈی لگے گا، ٹریژری بلز میں سرمایہ کاری پر انکم ٹیکس 15 کے بجائے 20 فیصد ہوگا، میوچل فنڈ کے ذریعے سرمایہ کاری پر ٹیکس 25 فیصد سے بڑھاکر 29 فیصد عائد کیا جائے گا۔ کمیٹی نے نئے اقدامات کے تحت تینوں تجاویز کی متفقہ طور پر منظوری دے دی۔
اجلاس میں کمیٹی ارکان نے الیکٹرک وہیکل پالیسی میں ہائبرڈ گاڑیوں پر لیوی ٹیکس نہ لگانے کی سفارش کی، تو وزیر خزانہ نے کہا آئی ایم ایف شرائط کے تحت ہائبرڈ گاڑیوں پر ٹیکس واپس نہیں ہوسکتا۔
کمیٹی ارکان نے لگژری گاڑیوں پر ٹیکس لگا کر ہائبرڈ گاڑیوں سے واپس لینے کی تجویز دی، جس پر حکومتی معاشی ٹیم نے کہا اب تو آئی ایم ایف سے شرائط طے ہوچکیں، پھر بھی تجویز پر غور کیا جائے گا۔
اجلاس میں کمیٹی رکن عمر ایوب نے ایرانی ایٹمی تنصیات پر امریکی حملے کے بعد پیٹرولیم مصنوعات کے بحران اور بجٹ پر اثرات کا خدشہ ظاہر کیا۔ جس پر وزیر مملکت نے کہا مانیٹرنگ جاری ہے، اوگرا نے ملک میں تیل ذخائر مناسب ہونے کا بتایا ہے۔
قائمقام کمیٹی چیئرمین جاوید حنیف نے کہا عالمی حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں، کوئی بھی فیصلہ حکومت حالات دیکھ کر ہی کرے گی۔ اجلاس میں بجٹ کے اعداد و شمار پر جواد حنیف اور بلال اظہر کیانی سے عمر ایوب کی تلخ کلامی بھی ہوگئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے فنانس بل 2025 میں اہم ترین ترمیم کی منظٖوری دیدی، سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کو گرفتار کیا جا سکے گا۔ کمیٹی ارکان نے ترامیم کو نیب قوانین کے مترادف قرار دیدیا۔
تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا نوید قمر کی زیر صدارت اجلاس ہوا جس دوران سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری سے متعلق ترامیم منظوری دیدی گئی ، چیئرمین کمیٹی و دیگر ارکان نے ان ترامیم کو نیب قوانین کےمترادف قرار دےدیا ہے ۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ ان ترامیم کا تعلق صرف سیلز ٹیکس سے ہے، ایف بی آر کے پاس ملزمان کو رکھنے کیلئےاپنی حوالات موجود ہے، گرفتاری کے بعد دیگر محکموں کی حوالات بھی استعمال کر سکتے ہیں، ہمارے پاس اب بھی ایک دو ملزمان حوالات میں ہیں، ٹیکس فراڈ پر گرفتاری کی اجازت ایف بی آر کے 3 ممبران پر مشتمل کمیٹی دےگی، دو ممبران آپریشن اور ایک ممبر لیگل مستقل کمیٹی کے رکن ہونگے۔
ٹیکس فراڈ پر گرفتاری کیلئے قائمہ کمیٹی خزانہ کی تجویز من وعن منظور کر لی گئی ، بل میں کہا گیاہے کہ سیلز ٹیکس فراڈ کی انکوائری خفیہ نہیں ہوگی، سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث شخص اگر انکوائری میں شامل ہوگیا تو گرفتار نہیں ہوگا، سیلز ٹیکس فراڈ کرنے والا اگر بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش کرے تو روکا جائے گا، سیلز ٹیکس فراڈ میں ٹیکس کی رقم میں جعل سازی اور گڑبڑ شامل ہوگی، سیلز ٹیکس میں ٹمپرنگ کرنا بھی سیلز ٹیکس فراڈ کے زمرے میں آئےگا، ٹیکس انوائس میں فراڈ بھی سیلز ٹیکس فراڈ تصور ہوگا۔
ٹیکس کے شواہد مٹانا بھی ، ٹیکس گوشوارے میں جان بوجھ کر غلط معلومات دینا بھی ٹیکس فراڈ تصور ہوگا، سیلز ٹیکس 1990 سیکشن 37 اے میں شق اے شامل کرنے کیلئےقبل ازگرفتاری کی شرائط کی منظوری بھی دیدی گئی ۔
ٹیکس فراڈ میں ملوث کمپنی کے متعلقہ افسر کو تین نوٹس بھیجنا ہوں گے، اگر سیلز ٹیکس میں فراڈ کے شواہد ضائع کرنے کی کوشش کی گئی تو گرفتاری ہوگی، اگر سیلز ٹیکس فراڈ میں ملوث فرار ہونے کی کوشش کرے تو گرفتاری ہوسکتی ہے، سیلز ٹیکس فراڈ 5 کروڑ یا اس سے زائد ہوا تو گرفتاری ہوگی، گرفتاری سے پہلے ممبر سیلز ، ممبر لیگل اور ٹیکس اے سی پر مشتمل کمیٹی کی اجازت درکارہوگی، سیلز ٹیکس فراڈ پر گرفتار شخص کو 24 گھنٹے میں مجسٹریٹ کے سامنے پیش کرنا ہوگا۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر منافع کیلئے سرمایہ کاری کی کم از کم مدت 3 ماہ کرنے کی سفارش کردی، چھ لاکھ سے بارہ لاکھ سالانہ آمدن پر ٹیکس ڈھائی فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز منظور کر لی گئی، آئی ایم ایف نے اساتذہ کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز مسترد کردی، نان فائلرز کیلئے بینکوں سے کیش نکلوانے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کی تجویز منظور کرلی، کیش آن ڈیلیوری خریداری پر 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کرلی گئی جبکہ آن لائن مارکیٹ پر سالانہ 50 لاکھ روپے کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ ہوگی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں کمیٹی نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس پر منافع کیلئے سرمایہ کاری کی کم از کم مدت 3 ماہ کرنے کی تجویز دیدی، اسٹیٹ بینک نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں سرمایہ کاری کی مدت ایک سال کرنے کی تجویز دی ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار چند دنوں کی سرمایہ کاری پر منافع لے جاتے ہیں۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے کہا کہ ایک سال کی مدت بہت زیادہ ہے، اس کو ایک سہ ماہی کرلیں، سرمایہ کار اتنی دیر انتظار نہیں کرتے۔
کمیٹی رکن مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں اوورسیز پاکستانیوں کی سرمایہ کاری ہے، اس میں کوئی تبدیلی کرنے سے پہلے اچھی طرح غور کیا جائے، اوورسیز پاکستانی رقم واپس بھی لے کر جاسکتے ہیں۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ اس مدت کو چھ ماہ کر دیں، مدت مقرر کرنے سے پہلے بہتر ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو سن لیا جائے۔
نویر قمر نے کہا کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو آن لائن اجلاس میں شرکت کیلئے بلالیں۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں فنانس بل 2025 میں انکم ٹیکس تجاویز کا شق وار جائزہ لیا جارہا ہے، کمیٹی نے تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس کی شرح میں ردو بدل کی تجویز منظور کرلی، 6 لاکھ سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر ٹیکس 2.5 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کرنے کی تجویز منظور، کارپوریٹ سیکٹر پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز بھی منظور کرلی گئی، ساکرا اکاؤنٹس میں 6 ماہ سے کم مدت کیلئے ڈیپازٹ کرانے پر ٹیکس چھوٹ ختم کرنے اور کیش آن ڈیلیوری خریداری پر 2 فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس لگانے کی تجویز منظور کرلی گئی۔
کمیٹی نے ای کامرس بزنس پر ٹیکس لگانے کی تجویز دیدی، آمدن سے زیادہ بینکاری لین دین کرنیوالے افراد کا ڈیٹا بینکوں سے لینے کی تجویز منظور کرلی گئی۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ کمپیوٹرائزڈ الگورتھم کے ذریعے ایک حد سے زیادہ ٹرانزیکشنز کا ڈیٹا بینک کو فراہم کیا جائے گا، کرنٹ اکاؤنٹ میں ہائی ٹرانزیکشنز کرنیوالوں کا ریڈ فلیگ جاری کیا جائے گا۔
قائمہ کیٹی فنانس نے کاروباری احاطے میں نگرانی کیلئے ایف بی آر عملے کی تعیناتی کی تجویز منظور کرلی جبکہ آن لائن مارکیٹ پر غیر رجسٹرڈ افراد کو فروخت پر جرمانے کی تجویز مسترد کردی گئی، آن لائن مارکیٹ پر سالانہ 50 لاکھ روپے کی فروخت پر ٹیکس چھوٹ ہوگی۔
قائمہ کمیٹی نے نان فائلرز کیلئے بینکوں سے کیش نکلوانے کی حد 50 ہزار سے بڑھا کر 75 ہزار روپے کرنے کی تجویز منظور کرلی جبکہ نان فائلرز پر یومیہ 75 ہزار روپے نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس 0.6 فیصد سے بڑھا کر 0.8 فیصد کرنے کی تجویز کی بھی منظوری دیدی۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے اساتذہ کو ٹیکس چھوٹ دینے کی تجویز مسترد کردی، ٹیچرز کو 25 فیصد ٹیکس ری بیٹ دلانے کیلئے آئی ایم ایف سے دوبارہ رجوع کیا گیا، اس حوالے سے آئی ایم ایف کا جواب آگیا ہے، وہ نہیں مانے، اب ہم کچھ نہیں کرسکتے، ویسے یہ زیادتی ہے۔
راشد لنگڑیال کے مطابق آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ کلرک ہو یا ٹیچرز، ٹیکس میں ہم آہنگی ہونی چاہئے۔ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے ارکان نے اساتذہ کو ٹیکس چھوٹ دینے پر اصرار کیا۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ حکومت اپنے بجٹ سے اساتذہ کو سبسڈی دے سکتی ہے۔ وزیر مملکت خزانہ بلال کیانی نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔
عمر ایوب کا کہنا تھا کہ بجٹ میں گنجائش ہے، قرضوں پر سود کی لاگت میں ایک ہزار ارب روپے کی کمی آئی، حکومت یہ پیسہ اساتذہ کو ریلیف دینے کیلئے استعمال کرے۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں بجٹ 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں پھر ردو بدل کرتے ہوئے 6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ والے سیلری سلیب پر انکم ٹیکس کی شرح ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
ذرائع کے مطابق نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس دوران بجٹ 2025-26 میں تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس میں تبدیلی کا فیصلہ کر لیا گیاہے ، نئے بجٹ میں سالانہ6 سے 12 لاکھ والے سیلری سلیب پر انکم ٹیکس کی شرح 2.5 فیصد مقرر کی گئی تھی جسے اب ایک فیصد کرنے کا فیصلہ کر لیا گیاہے ۔
آئی ایم ایف نے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن تک ٹیکس چھوٹ ایک فیصد کرنے پر اتفاق کیا تھا، رواں مالی سال 6 سے 12 لاکھ سالانہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس عائد ہے ، حکومت نے سرکاری ملازمین کا ریلیف 6 فیصد سے بڑھا کر 10 فیصد کرنے کے باعث ٹیکس کی شرح کم کی تھی۔
کمیٹی نے سالانہ 1 کروڑ روپے سے زیادہ پنشن لینے والوں پر ٹیکس کی منظوری دیدی ہے ، ایک کروڑ سے زیادہ آمدن پر 5 فیصد انکم ٹیکس لیا جائے گا، سالانہ ایک کروڑ روپے تک پنشن پر کوئی ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ساڑھے 8 لاکھ ماہانہ پنشن لینے والوں کو ٹیکس میں حصہ ڈالنا چاہیے، چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ بھارت سمیت دنیا کے کئی ممالک میں بھی پنشن پر ٹیکس عائد ہے، عمر ایوب خان نے کہا کہ پھر ایف بی آر کو بھی دنیا کے اصولوں پر چلائیں۔
عمر ایوب سمیت بعض کمیٹی ممبرا ن نے پنشن پر ٹیکس لگانے پر تحفظات کا اظہار کیا ، کمیٹی رکن محمد جاوید نے کہا کہ کل کو ایک لاکھ پنشن پر بھی ٹیکس لگ جائے گا، ججز کے علاوہ کسی کی پنشن ایک کروڑ سے زیادہ نہیں۔
ایف بی آر حکام کے مطابق دس لاکھ روپےممبرشپ فیس وصول کرنے والےکلبزانکم ٹیکس نیٹ میں آئیں گے، وزیر مملکت خزانہ نے کہا یہ کلبز امرا کی عیاشیوں کیلئے ہیں ان کی آمدن پر ٹیکس ہونا چاہیے، آئندہ مالی سال بینکوں کے منافع پر باؤن فیصد انکم ٹیکس عائد ہو گا، رجسٹرڈ بزنس کیلئے کیش ٹو کیش کاروبارکرنے پرسختیاں مزیدسخت کردی گئی، دو لاکھ روپے تک کا بزنس کیش میں کرنے والے پچاس فیصد ان پٹ ایڈجسٹ کرواسکیں گے۔
خزانہ کمیٹی نے پراپرٹی پر ملنے والی آمدن کو باقی بزنسز سے الگ کرنے کی شق منظور کرلی ، پراپرٹی پر ملنے والا منافع دوسرے بزنسز میں نقصان کی صورت میں ایڈجسٹ نہیں ہو سکےگا، رجسٹرڈکاروباروں کونقصان کی صورت میں ٹیکس ایڈجسٹ کرنےکی لمٹ محدودکردی گئی ، ایف بی آر آن لائن سیل پر ایک فیصد اور دکان پر پانچ فیصد ٹیکس وصول کرے گا، ڈیجیٹل مارکیٹ والوں کو ٹرن اوور پر ٹیکس دینا ہو گا ۔ اجلاس میں ٹیکس نادہندہ سے ریکوری سے متعلق قانونی شق پر تفصیلی بحث کے بعد چیئرمین کمیٹی نے قانون کو مزید بہتر بنا کر دوبارہ پیش کرنے کی ہدایت کردی ۔
پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کا کہنا ہے کہ حکومت نے نئے مالی سال کے صوبائی بجٹ میں اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھائے ہیں جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
جمعرات کو پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر نے بجٹ پر اظہار خیال کرتے ہوئے موجودہ حکومت پر شدید تنقید کی اور تعلیم، خواتین کے حقوق اور معاشی پالیسیوں کو ہدف بنایا۔
ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ رواں سال 49 ہزار اسکولوں میں سے 25 ہزار کو آؤٹ سورس کیا گیا جس سے درجہ چہارم کے ملازمین اور اساتذہ بے روزگار ہوئے۔
اپوزیشن لیڈر کا کہنا تھا کہ 33 فیصد بچے پہلے ہی اسکولوں سے باہر ہیں اور حکومت مزید اسکول آؤٹ سورس کر رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے ایک سالہ دور میں 70 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہوئے جبکہ وہ دعویٰ کرتی ہیں کہ ان کا خواب ہے کہ کوئی بچہ اسکول سے باہر نہ رہے۔
انہوں نے کہا کہ اس حکومت کے دور میں سب سے زیادہ بچے تعلیم سے محروم ہوئے۔
خواتین کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ حکومت خواتین کو اپنی "ریڈ لائن" قرار دیتی ہے مگر اس کے باوجود خواتین کی سب سے زیادہ تذلیل اسی دور میں ہوئی۔
انہوں نے بتایا کہ خواتین کے لیے بجٹ میں صرف ایک ارب 44 کروڑ روپے مختص کیے گئے یعنی فی خاتون صرف 8 روپے خرچ ہوں گے۔
انہوں نے طنزاً کہا کہ ایک خاتون وزیراعلیٰ کے ہوتے ہوئے خواتین کے ساتھ یہ سلوک شرمناک ہے۔
معاشی صورتحال پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کی تمام ٹیکسٹائل ملز میں سے 37 کی ریشو بند ہے۔
انہوں نے وزیراعلیٰ آفس کے اخراجات میں اضافے پر بھی اعتراض اٹھایا اور کہا کہ مریم نواز نے خود کو بہترین وزیراعلیٰ قرار دیتے ہوئے اس سال 56 کروڑ روپے اضافی خرچ کیے۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے اپنے اخراجات کم کرنے کے بجائے بڑھائے ہیں جو عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔
وزیر خزانہ بلوچستان نے کہا ہے کہ نئے مالی سال کا بجٹ 51 ارب روپے سر پلس کا ہے، بجٹ میں تعلیم، صحت اور امن و امان کو ترجیحی دی گئی ہے جبکہ 6 ہزار نئی اسامیاں بجٹ کا حصہ ہے۔
کوئٹہ میں وزیر خزانہ بلوچستان شعیب نوشیروانی نے پوسٹ بجٹ بریفنگ میں کہا کہ مالی سال 26-2025ء کے بجٹ کا کل حجم ایک ہزار 28 ارب روپے ہے، کل اخراجات کا تخمینہ 986.5 ارب روپے ہے، بجٹ 51.5 ارب روپے سرپلس کا ہے، وفاقی محاصل 801 ارب، صوبائی محاصل 101 ارب روپے ہیں، بیرونی منصوبہ جات تعاون کی مد میں 37.8 ارب روپے ملیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں مالی سال کا بجٹ 51 ارب روپے سرپلس ہے، رواں مالی سال جاری 3 ہزار 633 ترقیاتی اسکیموں کیلئے 141.9 ارب روپے جبکہ نئی 2 ہزار 550 ترقیاتی اسکیموں کیلئے 137.6 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 149 ارب، صحت کیلئے 87 ارب جبکہ امن و امان کیلئے 86 ارب 70 کروڑ روپے سے زائد کی رقم مختص کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں تعلیم، صحت اور امن و امان کو ترجیحی دی گئی ہے جبکہ 6 ہزار نئی اسامیاں بجٹ کا حصہ ہیں۔
ایف بی آر کے مطابق نئے بجٹ میں آن لائن اکیڈمیز اور ٹیچرز کی آمدن پر ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، فنانس بل میں نئی شق متعارف کرا دی گئی، ای کامرس بزنس میں آن لائن مارکیٹ پلیس استعمال کرنیوالوں پر ٹیکس لاگو ہوگا، اسلام آباد کلب سمیت تفریحی کلبوں سے ٹیکس وصولی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اسلام آباد کلب کی آمدن پر ٹیکس لگانے کی مخالفت اور سالانہ 12 لاکھ روپے آمدن پر ٹیکس چھوٹ کی سفارش کردی جبکہ آن لائن کاروبار کرنیوالے چھوٹے افراد پر ٹیکس کی تجویز مسترد کردی گئی۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس چیئرمین سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت ہوا، جس میں نئے فنانس بل 2025ء کا شق وار جائزہ لیا جارہا ہے۔
ایف بی آر حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ نئے بجٹ میں آن لائن اکیڈمیز اور ٹیچرز کی آمدن پر بھی ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے، ملک بھر میں ٹیچرز آن لائن ڈیجیٹل ایجوکیشن سروسز دے رہے ہیں، ٹیوٹر اکیڈمیز دو سے تین کروڑ روپے کما رہی ہیں، فنانس بل 2025ء میں نئی شق 17 سی متعارف کرا دی گئی ہے۔
فنانس بل کے مطابق ای کامرس بزنس میں آن لائن مارکیٹ پلیس استعمال کرنے والوں پر ٹیکس لاگو ہوگا، انٹرنیٹ اور الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے سروسز دینے والے تمام افراد زد میں آئیں گے، میوزک، آڈیو، ویڈیو اسٹریمنگ سروسز، کلاؤڈ سروسز پر بھی ٹیکس لاگو ہوگا، آن لائن سافٹ ویئر ایپلی کیشنز سروسز، ٹیلی میڈیسن، ای لرننگ سروسز دینے والے بھی ٹیکس کی زد میں آئیں گے۔
فنانس بل کے مطابق آن لائن بینکنگ سروسز، آرکیٹیکچرل ڈیزائن سروسز، ریسرچ اینڈ کنسلٹنسی رپورٹس بھی نئی شق میں شامل ہوں گی جبکہ ڈیجیٹل فائلرز کی شکل میں اکاؤنٹنگ سروسز اور دیگر آن لائن سہولتیں بھی اس کا حصہ ہوں گی۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کے ارکان نے سالانہ 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس چھوٹ کی دینے کی سفارش کر دی۔ چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ سالانہ 12 لاکھ آمدن والے کو پورے سال میں 12 ہزار 500 ٹیکس دینا پڑے گا، ایک کروڑ سے زائد آمدن پر سرچارج 10 فیصد سے کم کرکے 9 فیصد کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے آن لائن کاروبار کرنیوالے چھوٹے افراد پر ٹیکس کی تجویز مسترد کردی۔
چیئرمین ایف بی آر نے بتایا کہ اسلام آباد کلب سمیت تفریحی کلبوں سے ٹیکس وصولی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اس کی بھی مخالفت کردی۔
وزیر خزانہ بلوچستان میر شعیب نوشیروانی نے صوبے کا 2025-26 کا بجٹ پیش کر دیا ہے، جس کا مجموعی حجم 1028 ارب روپے مقرر کیا گیاہے جس میں پی ایس ڈی پی 249.50 ارب روپے ہے اور یہ بجٹ سرپلس بجٹ ہے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ نے بجٹ تقریر میں کہا کہ حکومت نے کئی شعبوں میں اہم کامیابیاں حاصل کیں ہیں اور صوبائی حکومت نے نوجوان کیلئے روزگار پر توجہ دی، صوبے میں تمام اہم فیصلے کابینہ کی منظوری سے کیے گئے، بلوچستان حکومت درست سمت کی جانب گامزن ہے، صوبائی حکومت نے جو فیصلے کیے عمل بھی کیا، وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے عوامی مفاد کو مقدم رکھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم خلوص نیت سے کام کرتے رہیں گے، اللہ نے بلوچستان کو بے پناہ قدرتی وسائل سے نوازا ہے، لوگوں کے معیار زندگی کو بلند کرنے کیلئے اقدامات اٹھائے، رواں مالی سال پی ایس ڈی پی کا 100 فیصد استعمال کیا، بلوچستان کے ترقیاتی کاموں میں نمایاں بہتری آئی ہے، بلوچستان حکومت کے اقدامات عملی طور پر نظر آرہے ہیں، ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے، غیر ترقیاتی اخراجات کو کم کیا، دیہی علاقوں کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی، غیر ضروری 6ہزار اسامیاں ختم کیں۔
انہوں نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ کا کل تخمینہ 1028 ارب روپے ہے، پی ایس ڈ ی پی کیلئے 249.50 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ، یہ بجٹ سرپلس بجٹ ہے، سرپلس بجٹ کا تخمینہ 42 ارب روپے ہے، غیر ترقیاتی بجٹ کا حجم 642 ارب روپے ہے۔ صوبائی آمدنی کا ہدف 226 ارب ہے جبکہ 8 شہروں میں سیف سٹی منصوبے کیلئے 18 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں ۔
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کیلئے 500 ملین روپے ، جامعات کیلئے 8ہزار ملین روپے رکھے گئے ہیں، ایچ ای سی نے بھی 3ہزا ملین روپےبلوچستان کی جامعات کیلئے مختص کیے ہیں ۔بچت اسکیم کے تحت صوبائی حکومت کوئی گاڑی نہیں خریدے گی، صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کیلئے گاڑیاں خریدی جائیں گی، مختلف شعبوں میں 4188 عارضی اور1958 ریگولر اسامیاں پیدا کی جارہی ہیں۔
ان کا کہناتھا کہ شعبہ صحت اولین ترجیحات میں شامل ہے، محکمہ صحت کیلئے ترقیاتی مد میں 16.4 ارب روپے رکھے ہیں، محکمہ صحت کیلئے غیر ترقیاتی کی مد میں71 ارب روپے رکھے ہیں ۔ تعلیم کے شعبے کیلئے 28 ارب روپے مختص کیے ہیں، اسکولوں میں مفت تدریسی کتابوں کے عمل میں ایک ارب کی بچت کی، محکمہ اسکول کے ترقیاتی امور کیلئے 19.8 ارب،غیر ترقیاتی مد میں 101 ارب روپے ، شعبہ کالجز کے غیر ترقیاتی بجٹ کیلئے 24 ارب،ترقیاتی امور کیلئے 5 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ محکمہ خوراک کے ترقیاتی امور کیلئے26.9 ملین،غیر ترقیاتی امور کیلئے ایک ارب 19 کروڑ ، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور دیہی علاقوں کے ترقیاتی امور کیلئے 12.9 ارب روپے ، محکمہ لوکل گورنمنٹ اور دیہی علاقوں کےغیر ترقیاتی امور کیلئے 42 ارب روپے ، محکمہ مواصلات و تعمیرات کے ترقیاتی امور کیلئے 66.8ارب روپے ، محکمہ مواصلات و تعمیرات کےغیر ترقیاتی امور کیلئے 17 ارب 48 کروڑ مختص کیئے گئے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ:محکمہ تعلیم میں 1170 کنٹریکٹ اور 67 ریگولر آسامیاں بنا تخلیق بنائی گئی ہیں، بجٹ میں پرائمری تعلیم کی بہتری کے لیے 28 ارب روپے ، ہائیر ایجوکیشن میں غیرترقیاتی مد میں 24 ارب 1 کروڑ اور ترقیاتی مد میں 5 ارب روپے ، کالجوں کی بسوں کے لیے 5 سو ملین روپے ، ذراعت کے شعبے کے لیے ترقیاتی اخراجات میں 10 ارب مختص کیے گئے ہیں، ذراعت کے شعبے میں غیرترقیاتی مد میں 16 ارب 77 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ٹیوب ویلز کو سولر پر منتقل کرنے کیلئے 52 ارب کی لاگت سے منصوبہ مکمل ہو رہا ہے، زراعت کے شعبے کے لیے ترقیاتی مد میں 26.9 اور غیر ترقیاتی مد میں ایک ارب سے زائد رقم مختص کی گئی ، بلوچستان پولیس اور کانسٹیبلری کو فعال کرنے کے لیے 51 ارب 33 کروڑ روپے کے فنڈز جاری کیے، امن وامان کیلئے غیر ترقیاتی مد میں 83 ارب 70 کروڑ مختص، امن وامان کے لیے ترقیاتی مد میں 3 ارب مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ بلوچستان کا کہناتھا کہ امن وامان کے لیے ترقیاتی مد میں 3 ارب مختص، ترقیاتی بجٹ میں محکمہ صحت کے لیے 16.4 ارب ، محکمہ صحت کے لیے غیر ترقیاتی بجٹ میں 71 ارب مختص کیے گئے ہیں۔ پاکستان ریلویز کے اشتراک سے کوئٹہ میں پیپلز ٹرین سروس چلانے کا فیصلہ کیا ہے، پیپلزٹرین سروس کیلئے تین اسٹٰیشنز کو اپ گریڈ اور دو نئے اسٹیشن قائم کیے جائیں گے ۔
خیبرپختونخوا بجٹ 2025-26ء فنانس بل میں ٹریفک جرمانوں میں اضافہ تجویز کردیا گیا، ٹریفک جرمانوں میں 3 پہیوں والی گاڑیوں کیلئے الگ سلیب شامل کردیا گیا۔
خیبرپختوںخوا حکومت نے نئے مالی سال کے فنانس بل میں ٹریفک سے متعلق جرمانوں میں اضافہ کردیا، پہلی بار تین پہیوں والی گاڑیوں کی کیٹیگری شامل کردی گئی، جس میں رکشہ، چنگ چی اور لوڈرز شامل ہیں، تین پہیوں والی گاڑیوں پر کم سے کم جرمانہ 200، جبکہ زیادہ 10 ہزار روپے تجویز کیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 3 پہیوں والی گاڑیوں پر روٹ پرمٹ کی خلاف ورزی پر 5 ہزار جرمانہ جبکہ دوبارہ روٹ پرمٹ کی خلاف ورزی پر ڈبل جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔
خیبرپختونخوا کے بجٹ میں فیک ڈارئیونگ لائسنس کا سلیب بھی جرمانوں کے شیڈول میں شامل کیا گیا ہے، فیک لائسنس پر گاڑی چلانے والوں پر 5 سے 10 ہزار جرمانہ تجویز کیا گیا ہے، کم عمر ڈرائیورز پر جرمانوں میں بھی اضافہ کیا جانے کا امکان ہے۔
نئے فنانس بل کے مطابق 18 سال سے کم عمر موٹر سائیکل ڈرائیور پر جرمانہ ایک ہزار سے بڑھا کر 3 ہزار جبکہ چھوٹی گاڑی چلانے پر جرمانہ 2 ہزار سے بڑھا کر 5 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نوید قمر کی زیر صدارت قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس دوران چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے تحت چھوٹی گاڑیوں پر 18 فیصد جی ایس ٹی لگایا گیا ہے، چھوٹی گاڑیوں پر اضافی ٹیکس سے کاروں کی قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی آر کا کہناتھا کہ ہو سکتا ہے 850 سی سی کی گاڑی کی قیمت 18 فیصد کے ٹیکس سے زیادہ بڑھ جائے، اس سے پہلے 850 سی سی کی گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح 12.5 فیصد تھی، ہائی برڈ گاڑیوں پر ٹیکس میں اضافہ نہیں کیا گیا، چھوٹی گاڑیوں پر جب رعایتی ٹیکس تھا قیمت 10 لاکھ روپے تھی، اب اس گاڑی کی قیمت 30 لاکھ تک پہنچ چکی ہے، کار مینوفیکچرز کی طرف سے بلند قیمتیں برقرار رکھنے کی وجہ سے مڈل انکم طبقے کو فائدہ نہیں ہوا، کمیٹی ارکان نے چھوٹی گاڑیوں پر ٹیکس میں کمی کی سفارش کر دی۔
پنجاب حکومت نے نئے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پنجاب پولیس کے لیے 200 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کردیا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 14 ارب روپے سے زائد کی اضافی رقم ہے۔
حکام کے مطابق کرائم کنٹرول ڈپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے لیے نئے مالی سال میں 6.54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ گورننس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے 5 ارب 94 کروڑ 66 لاکھ روپے رکھے گئے ہیں۔
آئی ٹی سیکٹر کے لیے مختص اس خطیر رقم سے پنجاب سیف سٹی منصوبوں کی تکمیل کا اہتمام کیا جائے گا۔
لاہور سیف سٹی پروجیکٹ کی اپ گریڈیشن کے لیے 1.2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ اسمارٹ سیف سٹیز پروگرام کی تکمیل کے لیے 2 ارب 54 کروڑ روپے الاٹ کیے گئے ہیں۔
پنجاب پولیس کی بلڈنگز کی تعمیر نو اور دیگر ترقیاتی منصوبوں کے لیے 7 ارب 49 کروڑ 99 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
تنخواہوں کی مد میں 64.92 ارب روپے اور الاؤنسز کی مد میں 102.48 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
پنجاب حکومت نے بجٹ 2025-26 میں سولر پینل سکیم کیلئے فنڈز مختص کرنے کا اعلان کر دیا ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے بتایا کہ سولر پینل اسکیم کیلئے بجٹ 4ارب کے فنڈز مختص کیئے گئے ہیں ، ٹرانسپورٹ کے بجٹ میں 359 فیصد اضافہ کیا گیا ہے ، جھینگا فارمنگ کیلئے8.3 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
بجٹ 2025-26 کے مطابق اقلیتی کارڈ کیلئے3.5ارب روپے، وزیراعلیٰ پنجاب ہمت کارڈ کیلئے 4 ارب روپے ، مریم نواز سوشل سیکیورٹی راشن کارڈ کیلئے 40 ارب روپے، اپنی چھت اپنا پروگرام کے تحت 150 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک سے 22 تک کے صوبائی ملازمین تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ پنجاب میں پنشن کی مد میں 5 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
پنجاب حکومت نے 2025-26 کے بجٹ میں زراعت کے لیے 129.8 ارب روپے مختص کرنے کا اعلان کر دیا۔
پیر کے روز صوبائی وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان نے پنجاب کا 5335 ارب روپے کا تاریخی بجٹ پنجاب اسمبلی میں پیش کیا جس میں ترقیاتی بجٹ 1244 روپے رکھا گیا ہے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا بجٹ تقریر میں کہنا تھا کہ ہماری حکومت آئی تو کسان مسائل کا شکار تھے۔
مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا تھا کہ پنجاب حکومت کسانوں کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف لائی اور ہم نے گرین ٹریکٹر اسکیم کے ذریعے 9 ہزار 500 کسانوں کو جدید مشینری دی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق صوبائی حکومت کی جانب سے ہائی پاور ٹریکٹر پروگرام کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے جبکہ وزیر اعلیٰ ہائی ٹیک فارمز پروگرام کی لاگت 9 ارب اور ایگری فارم پروجیکٹ کی لاگت 7 ارب روپے رکھی گئی۔
دستاویز کے مطابق گرین ٹریکٹر اسکیم کیلئے 5.5 ارب مختص کیے گئے ہیں جبکہ وزیر اعلیٰ پنجاب کسان کارڈ کیلئے 6.3 ارب اور فصل بیمہ پروگرام کیلئے 1.5 ارب مختص کیے گئے۔
دستاویز کے مطابق صوبائی بجٹ 26-2025 میں زراعت پر سبسڈی کا تخمینہ 22 ارب روپے ہے۔
پنجاب حکومت نے بجٹ 2025-26 اسمبلی میں پیش کر دیاہے جس میں مزدوروں کی کم سے کم اجرت 40 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے , گزشتہ برس کم سے کم اجرت 37 ہزار روپے تھی۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمان نے بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ گریڈ ایک سے 22 تک کے صوبائی ملازمین تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیاہے جبکہ پنجاب میں پنشن کی مد میں 5 فیصد اضافے کی تجویز ہے ۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ نے ترقیاتی بجٹ سے 50 ارب دے کر بلوں سے ریلیف دیا، پچھلے سال بجلی کے بلوں سے پنجاب کے عوام پریشان تھے، گجرات،راولپنڈی،سرگودھا،فیصل آباد،دیگرشہروں میں الیکٹرک بسوں کیلئےفنڈز مختص کیئے گئے ہیں، محکمہ ٹرانسپورٹ کی54 نئی اسکیمیں ترقیاتی بجٹ میں شامل ہیں ، 34نئی اسکیموں کیلئے 80 ارب ایک کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے، 20جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 4 ارب 56 کروڑ 99 لاکھ روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
حکومت نے فنانس بل 2025-26 میں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز سے 5 ہزار روپے مالیت تک کی ڈیوٹی فری درآمد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ،اب 5ہزار کے بجائے محض 5 سو روپے کی درآمد پر ڈیوٹی فری کی سہولت ہو گی۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ بڑے درآمد کنندگان چھوٹے باکسز میں 5 ہزار تک ڈیوٹی فری آرڈرز منگوا رہے تھے، بین الاقوامی آن لائن فورمز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، اس سے مقامی ری ٹیل مارکیٹ کا بزنس 15 سے 20 فیصد تک ختم ہو چکا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اجلاس کے دوران کسٹمز ایکٹ میں نئی ترامیم کی منظوری دیدی ، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم کیلئے تجویز منظور کی گئیں ہیں ۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہناتھا کہ ای بیلیٹی کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیوائسز سے اسمگلنگ میں ملوث گاڑیاں پکڑی جا سکیں گی، کارگو گاڑیوں کی ای بیلیٹی شناخت نہ ہونے پر مشکوک ہونے کے باعث پکڑ لیا جائے گا۔
فنانس بل کے مطابق ای بیلیٹی اور ٹریکنگ ڈیوائس پر نہیں ہو گی اس کو پہلی مرتبہ 50 ہزار روپے جرمانہ ہو گا، اگر دوسری مرتبہ بھی ای بیلیٹی اور ٹریکنگ ڈیوائس پر نہیں ہو گی تو 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، جان بوجھ کر ای بیلیٹی، ٹریکنگ ڈیوائس انسٹال نہ کرانے یا ٹمپرینگ پر سزائیں مزید سخت ہوں گی، ایسی صورت میں 10 لاکھ جرمانہ، مال ضبط اور چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی۔
فنانس بل میں کسٹمز کے وئیر ہاؤس سے 20 دن کے اندر سامان نہ اٹھانے پر پینلٹی کی شرح بڑھا دی گئی ہے ، کسٹمز کے وئیرہاؤس سے 20 دن کے اندر سامان نہ اٹھانے پر پینلٹی کی شرح اعشاریہ 25 فیصد ہو گی، فنانس بل میں وئیرہاؤس سے اشیاء کے اٹھانے کیلئے 20 دن کےبجائے 10 دن کی تجویز دی گئی تھی۔
فنانس بل میں اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو بینک لیز پر چھڑوانے کی سہولت ختم کر دی گئی ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اب بینک گارنٹی پر نہیں چھڑوایا جا سکے گا۔
ٹمپرڈ گاڑیوں کو ڈیوٹیز ادائیگیاں ہونے کے باوجود 5 سال بعد لیگل کرنے کا اسٹیٹس ختم کر دیا گیاہے ، اس سے قبل ٹمپرڈ گاڑیوں کو ڈیوٹی ادائیگی کے5سال بعد لیگل اسٹیٹس دے کر کلئیر کیا جاتا تھا۔
آئندہ 5 برس میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کر دیا جائے گا۔
ٹیمپرڈ گاڑیاں قانونی طریقے سے خریدنے والوں کیلئے بُری خبر آ گئی ہے کیونکہ اب ٹیمپرڈ شدہ چیسز نمبر یا نئی مہر والی گاڑی غیر قانوی تصور ہوگی ، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے فنانس بل میں شامل قانونی تجویز کی حمایت کر دی ہے ، ایسی گاڑی پکڑے جانے پر اسمگل شدہ ہی قرار پائے گی اور اسے تلف کر دیا جائے گا۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی اار نے قائمہ کمیٹی میں بریفنگ کے دوران بتایا کہ ٹیمپرڈ شدہ چیسز نمبر یا نئی مہر والی گاڑی غیر قانونی تصور ہوگی، ایسی گاڑی پکڑے جانے پر اسمگل شدہ ہی قرار پائے گی، کسی بھی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی کیساتھ رجسٹریشن غیر قانونی تصور ہوگی، گاڑی ضبط کرنے کے بعد اسےتلف کر دیا جائےگا، ایسی گاڑی کو آگ لگا دینی چاہئے ورنہ سپیئر پارٹس فروخت ہوں گے، ضبط کی گئی گاڑی کو دوبارہ آکشن نہیں کیا جاسکے گا۔ قائمہ کمیٹی نے سفارش کی کہ گاڑی ضبط کرکے اسے اگلے 30 دن میں تلف کر دیا جائے۔
پنجاب اسمبلی کا16 جون کو ہونے والا اجلاس دوسیشنز پر مشتمل ہوگا،پہلے سیشن میں معمول کی کارروائی جبکہ دوسرے سیشن میں بجٹ پیش کیاجائےگا۔
پیر کے روز پنجاب اسمبلی کا اجلاس دس بجے شروع ہوگا۔پہلے سیشن میں ایوان میں معمول کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔رواں اجلاس میں ہی مختصر وقفے کے بعد بجٹ پیش کیا جائے گا، وزیر خزانہ میاں مجتبی شجاع الرحمان مالی سال 2025-26 کابجٹ پیش کریں گے۔
پنجاب اسمبلی کے رولز آف بزنس کےمطابق رواں اجلاس میں ہی بجٹ پیش کیا جاسکتا ہے بجٹ کے لیے ہمیشہ الگ سے اجلاس بلایا جاتا رہاہے ۔حکومتی اراکین اسمبلی کےمطابق قواعدوضوابط رواں اجلاس میں ہی بجٹ پیش کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔
مسلم لیگ ن نے بجٹ اجلاس سے معلق حکمت عملی مرتب کرلی ہے،مسلم لیگ ن اوراتحادی جماعتوں کے ارکان اسمبلی کےلئے پیر کے روز ناشتے کا اہتمام کیا جائے گا۔
وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں کئی ٹیکسز ختم کردیے، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، ہم نے ریسٹورانٹس پر ٹیکس کم کردیا، آئندہ سال سے اںٹرٹینمنٹ ٹیکس، بورڈ آف ریونیو کے لوکل سیس، ڈرینیج سیس ختم کردیے، میوٹیشن ٹیکس آدھا کردیا، وفاق کی جانب سے 422.3 ارب روپے کم ملے ہیں، وفاقی حکومت اپنے وعدے پورے کرے، کراچی کیلئے ایک ہزار بسسز کی اسکیم ہے، کراچی کی اسکیموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 236 ارب روپے رکھے ہیں، پانی کے منصوبے کیلئے 90 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر پینلز پر اگر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کو سپورٹ نہیں کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، اس موقع پر ان کے ہمراہ سینئر صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اسرائیل نے ریاستی دہشت گردی پھیلائی، اس کھلی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں، قانون کے مطابق جس روز بجٹ ہوتا ہے اس روز کوئی اور کارروائی نہیں ہوتی، اسرائیل کے ایران پر حملے کیخلاف قرارداد منظور کی، اپوزیشن ارکان شاید انسانیت پر یقین نہیں رکھتے، میری بجٹ کو دوسری جانب رکھ لیں، اپوزیشن نے جو ہنگامہ آرائی کی پتہ نہیں کس کے کہنے پر کی، ایک ایسی قرارداد جس پر سب کو اکھٹا ہونا چاہئے تھا، اپوزیشن نے ایک ہنگامہ آرائی کی نظر کردیا، ہم نے کل رات ہی قرارداد وزارت خارجہ کو بھیج دی ہے۔
وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ کل پیپلزپارٹی نے اس صوبے کا 17 واں مسلسل بجٹ پیش کیا گیا، وفاقی حکومت سے رابطہ کیا مگر پھر بھی وفاق سے منتقلی پوری نہیں ہوئی، وفاقی حکومت مسلسل کہتی رہی کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں، گزشتہ سال سے آج تک 1478.5 ارب روپے قابل تقسیم پول سے ہمیں ملے، 422.3 ارب روپے اب بھی وفاقی محاصل سے ہمیں کم ملے ہیں، اگر حکومت اپنے وعدے پر پورا اترتی ہے تو انہیں بقیہ پیسے جون میں ہی دے دیں گے، ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، صوبوں کو بڑی رقم بچا کر رکھنی ہے خرچ نہیں کرنی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ زیادہ ٹیکسسز وفاق صوبوں سے جمع کرتا ہے، وفاق وعدوں پر عمل کیا کرے، صوبوں کو جو وسائل فراہم کرنے ہیں اسکا خیال رکھیں، زیادہ تر اثر ڈیولپمنٹ پروجیکٹس اور بجٹ پر پڑتا ہے، 900 ارب روپے کا ڈیولپمنٹ کا بجٹ تھا، اس مالی سال کے اختتام پر ریکارڈ 1460 اسکیمیں مکمل کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال 590 ارب روپے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کریں گے، اس سال ہم ریکارڈ 1460 اسکیمیں مکمل کرنے جا رہے ہیں، الیکشن کے بعد پہلے دو سال اسکیمیں کم ہوتی ہیں، گزشتہ سال 603 اسکیمیں ہوگئی تھیں، آئندہ سال کے بجٹ کا پورا حجم 3.45 کھرب روپے ہے، ایک کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ بنانے جا رہے ہیں، اگر وفاق نے پورے پیسے دیے تو یہ اعداد و شمار زیادہ بھی ہوسکتے ہیں، وفاق نے گزشتہ سال بھی مسلسل محاصل کی منتقلی کم کی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کل بجت ایک ہزار 18 ارب روپے ہے، 2.150 کھرب روپے کے موجودہ مالی اخراجات ہیں، جاری اخراجات میں سب سب سے بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشنز کا ہے، آئندہ سال تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات 1.1 کھرب روپے ہوں گے، ہمارے تنخواہوں کے اخراجات ماہانہ 100 ارب روپے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہ میں 12 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، گریڈ 17 سے 22 کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھیں گی، یہ سب غیرترقیاتی اخراجات ہیں، دوسرا سب سے بڑا بجٹ ہمارا تعلیم کا ہے، اس سال تعلیمی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ کیا ہے، اس کے بعد بڑا بجٹ صحت کے شعبے کو جاتا ہے، صحت کے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مقامی حکومتوں کے بجٹ میں گزشتہ سال اضافہ کیا تھا، اس سال بھی 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کے بجٹ میں ساڑھے 15 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، محکمہ توانائی کے بجٹ میں ساڑھے 16 فیصد اضافہ ہوا ہے، محکمہ آبپاشی کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے، زراعت کے بجٹ میں 16 ارب روپے کا اضافہ کیا، ورکس اینڈ سروسز کے غیرترقیاتی بجٹ کو کم کیا ہے، محکمہ تعلیم میں ترقیاتی اخراجات بڑھائے ہیں، محکمہ آبپاشی میں 43 ارب روپے کے اخراجات ہوں گے، مقامی حکومتوں کو 132 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا جائے گا، محکمہ زراعت کو ترقیاتی بجٹ ساڑھے 22 ارب روپے دیں گے، ٹرانسپورٹ کے محکمے کو 59.6 ارب روپے دیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ سندھ نے کہا کہ کراچی کیلئے ایک ہزار بسسز کی اسکیم ہے، میگا کا نام میں نے رکھا تھا قصوروار میں ہوں، میگا کا مقصد تھا کہ جس سال کام شروع کریں اسی سال ختم کریں، ایک اخبار نے لکھا کہ ’’نو مور میگا اسکیم فار کراچی‘‘، بجٹ کو پڑھے بغیر جو چاہو لکھ دو، کراچی کی اسکیموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 236 ارب روپے رکھے ہیں، شارع بھٹو بنی ہے اسے آج قائد آباد تک کھول رہے ہیں، یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بنا ہے یہ اے ڈی میں نظر نہیں آئے گا، اس وقت آن گوئنگ 95 ارب کے پروجیکٹس پر کام جاری ہے، کراچی کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پورٹ سے شارع بھٹو تک 65 ارب روپے کا پروجیکٹ ہے، 90 ارب روپے پینے کے صاف پانی کیلئے رکھے گئے ہیں، پبلک ہیلتھ میں 50 ارب روپے سے زائد خرچہ کریں گے، وفاق سے روڈ نیٹ ورک بڑھا رہے ہیں، 86 ارب روپے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں رکھا گیا ہے، سندھ کے مختلف اضلاع میں سڑکوں کا جال بچھائیں گے، شاہراہ بھٹو پر 65 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے 5 لاکھ گھر بنا چکے ہیں، ساڑھے 8 لاکھ گھر تکمیل کے قریب ہیں، 13 لاکھ گھر زیر تعمیر ہیں، اس منصوبے کے بارے میں پوری دنیا حیران ہے، ناصرف گھر بناکر دے رہے ہیں بلکہ ان کو مالکانہ حقوق بھی دے رہے ہیں، اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں، عالمی مالیاتی اداروں سے بات جاری ہے، تمام عالمی اداروں نے کہا ہے کہ اس طرح کا مںصوبہ ہم نے دنیا میں نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تعداد ڈھائی سال میں مکمل کرلی، اس منصوبے کے تحت ساڑھے 45 لاکھ دیہات کو سہولت دینے جا رہے ہیں، یہ ساڑھے 600 ارب روپے کا منصوبہ ہوگا، ہم اپنی حکومت میں ہی اس کو مکمل کرکے جائیں گے، اس منصوبے میں بھی کوئی ٹھیکہ نہیں ہوگا، دیہاتی خود ہی کام کریں گے، غیرسرکاری تنظیموں سے نگرانی کی مدد لی جائے گی، دیہاتی خود بنائیں گے اور اسے چلانا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہوگی، اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں، پانی سے متعلق بیماریوں میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم نے کئی ٹیکسز ختم کردیے ہیں، اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں بلکہ ہم نے ٹیکس کم کیے ہیں، آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ٹیکسز کی نیگیٹو لسٹ بھی بنائی ہے، جن پر ٹیکس نہیں لگتا ان کا نام بھی بتادیا جائے گا، ہم نے ریسٹورانٹس پر ٹیکس کم کیا ہے، اگلے سال اںٹرٹینمنٹ ٹیکس ختم کردیا ہے، حیرت ہے اس پر بھی گزشتہ روز نعرے لگ رہے تھے کہ بجٹ نامنظور، بورڈ آف ریونیو کے لوکل سیس، ڈرینیج سیس ختم کردیے ہیں، میوٹیشن ٹیکس آدھا کردیا ہے، ہائرشپ سرٹیفکیٹ کے پیسے آدھے کردیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گاڑی کی رجسٹریشن کیلئے تھرڈ پارٹی انشورنس کا ہونا ضروری ہے، تھرڈ پارٹی انشورنس میں دونمبری ہو رہی تھی، ہم نے تھرڈ پارٹی انشورنس کی اسٹامپ ڈیوٹی کم کرکے 50 روپے کی ہے، موٹرسائیکل سواروں کو تھرڈ پارٹی انشورنش سے مسنتثنیٰ کردیا ہے، تھرڈ پارٹی انشورنس کا ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کو بلاک چین پر منتقل کررہے ہیں، لینڈ ریکارڈ ایک ہی جگہ سے منتقل ہو جائےگا، برتھ رجسٹریشن 100 فیصد کرنے جا رہے ہیں، زراعت میں فارم میکنزم کی طرف جارہے ہیں، اگلے سال 25 ایکڑ تک کے کاشت کاروں کو فری لیزر لیولر دیں گے، کارپوریٹ فارمنگ بینک بنارہے ہیں، کلاسٹر فارمنگ ڈیولپمنٹ کیلئے کام کررہے ہیں، بڑے کاشت کاروں کو لیزر لیولز کی خریداری پر 80 فیصد سبسڈی دیں گے، کلسٹر فارمنگ کی ٹیکنالوجی بھی دیں گے۔
وزیر خزانہ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ کے 4 منصوبے کے 3 حصے ہیں، پانی کینجھر سے کراچی تک لانا وفاق کی ذمہ داری ہے، کراچی میں پانی کی تقسیم اور لائننگ ہماری ذمہ داری ہے، بجلی کی پیداوار کیلئے منصوبے محکمہ توانائی نے بنائے ہیںِ، کے بی فیڈر کی لائننگ کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ہم نے اپنے حصے کے پورے پیسے رکھے ہوئے ہیں، ڈی سلینیشن کیلئے 5 ملین گیلن کا ایک منصوبہ رکھا گیا ہے، ڈی سلینیشن ایک مہنگا عمل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز کو براہ راست بجٹ دیا جائے گا، معذور افراد کیلئے معاون آلات کی خریداری اور کنوینس الاؤنس بڑھا رہے ہیں، ہر ضلع میں یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر بنائیں گے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ 2 سال میں بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے، سندھ ہاری کارڈ کے ذریعے 8 ارب روپے دیے جائیں گے، غریب افراد کی مدد کیلئے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سولر پینلز پر اگر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کو سپورٹ نہیں کرے گی، ہم سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کے خلاف ہیں، یہ تمام منصوبے درست نہیں ہوئے تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت نہیں کرے گی، سندھ کو وفاق کے ذریعے نہیں چلایا جاسکتا، پہلے بھی بہت کوششیں ہوچکی ہیں، ایسا اب بھی نہیں ہوسکتا۔
سندھ نے سرکاری ملازمین کی تنخواہیں 12 فیصد تک اور پنشن 8 فیصد بڑھانے کا اعلان کردیا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ کا حجم 3 ہزار 451.87 ارب روپے رکھا گیا ہے، بجٹ تخمینے 3 ہزار 56.3 ارب روپے کے مقابلے میں 12.9 فیصد زائد ہے۔
سندھ اسمبلی کا بجٹ اجلاس ڈپٹی اسپیکر کی زیر صدارت جاری ہے، جس میں وزیر اعلیٰ و وزیر خزانہ مراد علی شاہ بجٹ پیش کررہے ہیں۔
ایران پر اسرائیلی حملے کیخلاف اپوزیشن نے ایوان میں احتجاج کیا، ایم کیو ایم رکن راشد نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے کہا کہ بجٹ اجلاس مین قرار داد نہیں لاسکتے، اسرائیل نے جو کچھ کیا اس کی ہم سب مذمت کرتے ہیں۔ ایم کوی ایم کے رکن صابر قائم خانی کا کہنا تھا کہ اسرائیل نے شہری آبادی کو نشانہ بنایا۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ بجٹ اجلاس ملتوی کرنے کے فوری بعد اجلاس ہو، جس میں اسرائیل کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کی جائے، ایران پر حملے کی ہم بھی مذمت کرتے ہیں، بجٹ کیلئے الگ سے اجلاس بلایا جاتا ہے، حل یہ ہے کہ بجٹ اجلاس کے بعد اسرائیل کے خلاف مذمتی قرار داد پیش کریں۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایران پر حملہ پورے خطے کیلئے خطرہ ہے، عالمی برادری اسرائیلی جارحیت کا نوٹس لے، بھارت میں طیارہ حادثے پر افسوس کا اظہار کرتا ہوں، طیارہ حادثے میں مرنے والوں کے اہلخانہ سے تعزیت کرتا ہوں۔
وزیراعلیٰ سندھ کی بجٹ تقریر کے دوران اپوزیشن نے ایوان میں شور شرابا کیا۔
وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے دسواں بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی بجٹ کا حجم 3 ہزار 451.87 ارب روپے رکھا گیا، بجٹ تخمینے 3 ہزار 56.3 ارب روپے کے مقابلے میں 12.9 فیصد زائد ہے۔
انہوں نے گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 12 فیصد جبکہ گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کی تنخواہ 10 فیصد بڑھانے کا اعلان کردیا، سندھ کے ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کی پنشن میں 8 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ ایمبولنس سروس، موبائل تشخیصی یونٹس کو دیہی علاقوں تک توسیع دی جائیگی، مالیاتی منتقلی میں متوقع کمی کے باعث سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 20 فیصد کٹوتی کی گئی ہے، اس سال سالانہ ترقیاتی پروگرام 520 ارب روپے تک محدود کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ سیلاب زدہ علاقوں، قابل تجدید توانائی، پسماندہ اضلاع کیلئے 475 نئی اسکیمیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، تعلیم کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کی مد میں 99.6 ارب روپے، صحت کیلئے 45.37 ارب، آبپاشی کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 73.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ سندھ نے کہا کہ بلدیاتی حکومتوں کیلئے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ 132 ارب روپے رکھا گیا،مراد نئے بجٹ میں کراچی کی ترقی پر خصوصی توجہ دی گئی، سڑکوں کی مرمت، سیوریج اور پانی کی فراہمی کے نظام کی بہتری کیلئے رقوم مختص کی گئی ہیں، کراچی میں شہری ٹرانسپورٹ کو وسعت دی جائے گی۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان کی پہلی 50 الیکٹرک بسیں کراچی میں متعارف کرائی جائیں گی، کراچی کی الیکٹرک بسوں کے قافلے میں اگست 2025ء تک مزید 100 بسیں شامل کی جائیں گی، کراچی کے بی آر ٹی منصوبوں میں پیش رفت ہوئی ہے، ییلولائن تکمیل کے قریب ہے، ریڈ لائن 50 فیصد سے زائد مکمل ہوگئی ہے، کورنگی کاز وے پل، شاہراہِ بھٹو کی بہتری کیلئے اقدامات بھی بجٹ کا حصہ ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے 4 آئی بی اے کمیونٹی کالجز کے قیام کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ 34 ہزار 100 سے زائد پرائمری اسکولوں کو علیحدہ بجٹ، اخراجات فراہم کیے جائیں گے، غریب، ہونہار طلبہ کی معاونت کیلئے سندھ ایجوکیشنل انڈوومنٹ فنڈز میں 2 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ ڈیفرنٹلی ایبلڈ پرسنز ڈیولپمنٹ پروگرام کا بجٹ 11.6 ارب روپے سے بڑھا کر 17.3 ارب روپے کردیا گیا ہے، مختص رقم سے معاون آلات، وظائف، این جی اوز کے ساتھ شراکت داری میں مدد فراہم کی جائے گی۔
بجٹ تقریر میں وزیر خزانہ نے کہا کہ صحت کیلئے 326.5 ارب روپے کا بجٹ مختص کیے گئے ہیں، صحت کا بجٹ پچھلے سال کے 302.2 ارب روپے کے مقابلے میں 8 فیصد زیادہ رکھا گیا ہے، 146.9 ارب روپے صحت کے اداروں اور یونٹس کو گرانٹس کی مد میں دیے جائیں گے، ایس آئی یو ٹی کیلئے 19 ارب روپے، پیپلز پرائمری ہیلتھ انیشی ایٹو کیلئے 16.5 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ لاڑکانہ میں ایک نئے اسپتال کیلئے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ تعلیم، صحت، انفرااسٹرکچر اور فلاحی شعبے کیلئے اضافی فنڈز مختص کئے گئے ہیں، گورننس کو جدید بنانے، معیشت کو فروغ دینے کے اقدامات بھی بجٹ میں شامل ہیں، بجٹ میں جاری اخراجات کی مد میں 2 ہزار 149.4 ارب روپے رکھے گئے، گزشتہ سال جاری اخراجات ایک ہزار 912.36 ارب روپے تھے جس میں 12.4 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مہنگائی، اسپتالوں اور جامعات کو دی گئی اضافی گرانٹس جاری اخراجات میں اضافے کی وجہ ہیں، سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف الاؤنس اور بڑھتی ہوئی پنشن بھی اضافے کی وجوہات ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ تعلیم کیلئے بجٹ میں 12.4 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے، تعلیم کیلئے 523.73 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، تعلیمی بجٹ کل جاری اخراجات کا 25.3 فیصد بنتا ہے، پرائمری تعلیم کا بجٹ 136.2 ارب روپے سے بڑھا کر 156.2 ارب روپے کردیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سیکنڈری تعلیم کا بجٹ 68.5 ارب روپے سے بڑھا کر 77.2 ارب روپے کردیا گیا، نئے مالیاتی سال میں 4400 اساتذہ اور عملے کی بھرتی کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نئے مالی سال کے بجٹ میں ڈیجیٹل گورننس کیلئے بھی کئی اقدامات کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کے ریکارڈ کی بلاک چین پر منتقلی سے لین دین میں شفافیت آئے گی، ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے، ڈیجیٹل پیدائشی رجسٹریشن نظام کو صحت و تعلیم کے ڈیٹا سے مربوط کیا جائے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ نئے صوبائی بجٹ میں زرعی اصلاحات پر خصوصی توجہ دی ہے، 2 لاکھ سے زائد کسانوں کو سبسڈی، جدید زرعی مشینری کی فراہمی کیلئے بینظیر ہاری کارڈ کا اجراء ہوگا، ماحولیاتی لحاظ سے محفوظ زراعت کے فروغ کیلئے ڈرپ ایری گیشن پر سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
سندھ حکومت نے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے تحت کلسٹر فارمنگ منصوبے شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ وزیر خزانہ سندھ نے بتایا کہ کسانوں کو بغیر سود قرضے فراہم کرنے کیلئے سندھ کوآپریٹو بینک کے قیام کی فزیبلٹی اسٹڈی جاری ہے۔
مراد علی شاہ نے سماجی فلاح و بااختیاری پر بھی نئے صوبائی بجٹ میں خصوصی توجہ دی گئی، تعلیم کے بجٹ کو مرکز سے اسکولوں کی سطح پر منتقل کر دیا جائے گا، اسکولوں کے ہیڈ ٹیچرز کو انتظامی اخراجات کیلئے براہِ راست فنڈز دستیاب ہوں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبہ بھر میں یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹرز کے قیام کا اعلان اور شہریوں کا مالی بوجھ کم کرنے کیلئے 5 محصولات ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں پروفیشنل ٹیکس اور انٹرٹینمنٹ ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، موٹر وہیکل ٹیکس میں کمی، سیلز ٹیکس میں نیگیٹو لسٹ سسٹم متعارف کرایا جائے گا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے نئے بجٹ میں سرکاری ملازمین کیلئے ریلیف کا اعلان کردیا۔ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ گریڈ ایک سے 16 تک کے ملازمین کو 12 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس ملے گا، گریڈ 17 سے 22 کے ملازمین کو 10 فیصد ایڈہاک ریلیف دیا جائے گا، سندھ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی پنشن میں بھی 8 فیصد اضافہ کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے بتایا کہ معذور ملازمین کیلئے کنوینس الاؤنس میں اضافہ کیا گیا ہے، بجٹ سندھ کی غیراستعمال شدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لانے میں اہم کردار ادا کرے گا، یہ ایک جامع بجٹ ہے، سماجی بہتری، بنیادی ڈھانچے کی جدت اور اقتصادی خودمختاری کیلئے پُرعزم ہیں، سندھ ایک انقلابی سال کیلئے تیار ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ آئی ایم ایف کی پابندیوں کے باوجود ہم نے ریکارڈ ترقیاتی کام کرائے، صحت اور تعلیم کیلئے زیادہ فنڈز مہیا کیے، ہر سال کی طرح اس سال بھی عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنا حکومت ترجیح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ رواں سال صحت پر 344 ارب روپے خرچ کیے گئے، این آئی سی وی ڈی میں پورے پاکستان سے زیادہ مریضوں کا علاج کیا گیا، ایس آئی سی وی ڈی کے پاس اسپتالوں کا وسیع نیٹ ورک ہے، گمبٹ انسٹی ٹیوٹ میں اس سال 308 لیور ٹرانسپلانٹ کیے گئے، ایس آئی سی ایچ میں بچوں کو صحت کی بہترین سہولیات فراہم کی جارہی ہیں، یہ بچوں کی صحت کا دنیا کا سب سے بڑا نیٹ ورک ہے، جے پی ایم سی میں دو سال کے دوران بستروں کی تعداد دگنی کردی گئی ہے، جناح دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں سائبر نائف علاج مفت فراہم کیا جاتا ہے۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بلقیس عبدالستار ایدھی بریسٹ ریڈیولاجی اسپتال کی تعمیر جاری ہے، ایس آئی یو ٹی صحت کا جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا سرکاری ادارہ بن گیا ہے، ایس آئی یو ٹی کے پاس پاکستان کا سب سے بڑا ڈائلاسز سینٹر ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اس سال امن و امان کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، کراچی میں اسٹریٹ کرائم میں کمی واقع ہوئی ہے، کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کیے، کئی وارداتیں ناکام بنائی گئیں، منشیات کے خلاف ہماری جنگ جاری ہے، کئی منشیات فروش گرفتار کیے، صرف منشیات کیخلاف جنگ نہیں بلکہ نوجوانوں کو بچانے کی جنگ لڑرہے ہیں، ہائی ویز پر اے آئی کیمروں کی مدد سے نگرانی کی جارہی ہے، ٹریفک اصلاحات کیلئے کئی اقدامات متعارف کرائے گئے ہیں، پولیس میں 25 ہزار سے زیادہ بھرتیاں کی گئیں، پولیس کیلئے صحت کی سہولیات میں اضافہ کیا گیا ہے، شہداء پیکیج بھی بڑھا دیا گیا ہے، پولیس اسٹیشن کی سطح پر فنڈز فراہم کیے گئے ہیں، ایس ایچ اوز کو مالیاتی اختیارات دیئے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی کے ذریعے نوجوانوں کو تربیت دے کر روزگار کے قابل بنایا جارہا ہے، آئندہ سال 35 ہزار طلبہ کو تربیت دینے کا پروگرام ہے، نئے سال میں تعلیم کیلئے بجٹ میں اضافہ کیا گیا ہے، سندھ ایجوکیشن فاؤنڈیشن کا بجٹ بھی بڑھا دیا گیا ہے، یونیسیف کی مدد سے ہزاروں اسکولوں کی مرمت کی گئی۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کیلئے 1018 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صوبائی اے ڈی پی کا حجم 520 ارب روپے مقرر کیا ہے، ضلعی ترقیاتی پروگرام کیلئے 55 ارب روپے مختص کیے ہیں، غیرملکی منصوبہ جاتی معاونت کی مد میں 366.72 ارب روپے رکھے گئے، وفاقی پی ایس ڈی پی گرانٹس کی مد میں 76.28 ارب روپے کی شمولیت ہوگی۔
انہوں نے بتایا کہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کی مجموعی تعداد 3642 ہے، جاری منصوبوں پر 400.5 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، خصوصی ترقیاتی منصوبوں کیلئے 119.5 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے، نئے منصوبوں کیلئے 17.4 فیصد بجٹ مختص کیا گیا ہے، تعلیم کے شعبے کیلئے 102.8 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، صحت کے شعبے میں 45.4 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آبپاشی کے منصوبوں کیلئے 84 ارب روپے رکھے گئے ہیں، زراعت، لائیو اسٹاک اور فشریز کیلئے 22.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بلدیاتی حکومتوں کیلئے 132 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ورکس اینڈ سروسز کی مد میں 143 ارب روپے مختص کئے ہیں، توانائی منصوبوں تھر کول، قابل تجدید منصوبوں کیلئے 36.3 ارب روپے رکھے گئے، ٹرانسپورٹ اور ماس ٹرانزٹ کیلئے 59.7 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کیلئے 4 لاکھ سے زائد گھر مکمل کیے، مزید تعمیر ہو رہے ہیں، پچھلے مالی سال میں 1460 منصوبے مکمل کیے گئے، مجموعی ترقیاتی اخراجات 468 ارب روپے تک پہنچے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ میں غربت کے خاتمے، صاف پانی کی فراہمی اور گرین انرجی کو ترجیح دی گئی ہے، ترقیاتی منصوبوں کو پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) سے ہم آہنگ کیا گیا ہے، ترقیاتی حکمتِ عملی کے تحت جاری منصوبوں کی تکمیل پر 80 فیصد بجٹ مختص کیا ہے، نئے منصوبوں کیلئے 20 فیصد بجٹ رکھا گیا ہے۔
بجٹ تقریر میں وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ مالی اخراجات کی سخت حکمت عملی اپنائی جائے گی تاکہ منصوبے بروقت مکمل ہوں، جون 2025ء میں مکمل ہونیوالے منصوبوں کی مدت میں ایک سال کی توسیع کی جائے گی تاکہ تسلسل قائم رہے، سیلاب زدگان کی بحالی، توانائی، کراچی کے منصوبوں اور پائیدار ترقیاتی اہداف کو ترجیح دی ہے، سیلاب سے متاثرہ اسکولوں اور انفرااسٹرکچر کی بحالی کرنی ہے تاکہ تعلیم تک رسائی بہتر ہو، صحت کی سہولیات کو جدید بنانا ہے تاکہ سروس ڈیلیوری میں بہتری آئے۔
صوبائی وزیر خزانہ نے موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کو فروغ دیا جائے گا اور آبپاشی نظام کی بحالی کی جائے گی، صاف پانی اور نکاسی آب کی فراہمی کی جائے گی تاکہ عوامی صحت بہتر ہو، کراچی میں سیف سٹی پروجیکٹ، سڑکوں کی بہتری، شہری انفرااسٹرکچر اور ماس ٹرانزٹ منصوبوں پر کام کیا جائے گا، صوبہ بھر میں گرین انرجی اور قابل تجدید توانائی کے منصوبوں کا نفاذ کیا جائے گا، غذائی امداد، کمیونٹی انفرااسٹرکچر اور کم لاگت رہائشی منصوبوں کے ذریعے غربت کا خاتمہ کیا جائے گا۔
مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ کراچی میں 4 انکلوسیو پارکس قائم کر رہے ہیں، وفاق کی مدد سے 5 بڑی شاہراہوں کی تعمیر جاری ہے، وفاق کی مدد سے ہی 45 شاہراہوں کی مرمت بھی جاری ہے، کراچی میں الیکٹرک بسوں کو توسیع دی گئی ہے، پاکستان کا پہلا 50 الیکٹرک بسوں کا قافلہ سندھ میں سڑکوں پر اتارا گیا، الیکٹرک بسوں کو پورے سندھ میں پھیلانے کیلئے پرائیویٹ پارٹنرز کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ بجٹ 2025-26 کے مطابق خصوصی افراد کی خودمختاری کیلئے کئی اقدامات کیے گئے ہیں، سندھ کے ہر ضلع میں سی آرٹس سینٹرز کے قیام کا منصوبہ ہے، آئندہ مالی سال میں 2 نئے منصوبے مکمل کیے جائیں گے، این جی اوز کو معذور افراد کی بحالی کیلئے فنڈز فراہم کیے گئے، ڈائریکٹوریٹ آف انکلوسیو ایجوکیشن قائم کیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نئے مالی سال کے فنانس بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا پچھلے سال منی بجٹ آنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، نئے بجٹ میں 312 ارب کے ٹیکس اقدامات لئے مگر نئے ٹیکس بہت کم ہیں۔ اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر میں تکرار ہوگئی، عمر ایوب کی اجلاس چھوڑ کر جانے کی دھمکی پر نوید قمر بولے کمیٹی سے چلے جانا آپ کا اختیار ہے۔ بعد میں عمر ایوب کو وزیر خزانہ سے سوالات کرنے کی اجازت مل گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی شرکت کی، کمیٹی اراکین کی جانب سے بلال اظہر کیانی کو وزیر مملکت برائے خزانہ بننے پر مبارکباد دی گئی۔
نئے مالی سال 26-2025ء کے فنانس بل میں کئے گئے پالیسی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پچھلے مالی سال منی بجٹ کا ڈھنڈورا پیٹا گیا، ہم نے معاشی کارکردگی ثابت کی اور کوئی منی بجٹ نہیں آیا، رواں مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، توانائی شعبے میں اصلاحات کیں، 7 ہزار میں سے 4 ہزار 700 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی زیرو کی گئی، برآمدات بڑھانے کیلئے خام مال اور درآمدی تیار اشیاء پر ٹیرف میں کمی کی، تعمیراتی شعبے میں مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے جارہے ہیں، زرعی شعبے میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے بھی ہمارے ساتھ اتفاق کیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ ٹیکس لیکیج اور چوری روکیں گے، ملک میں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، آئی ایم ایف نے کہا آپ کرکے دکھائیں تو پھرمان لیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ نئے بجٹ 312 ارب کے ٹیکس اقدامات لئے گئے، اضافی ٹیکس بہت کم ہیں، 389 ارب روپے کے انفورسمنٹ ٹیکس اقدامات شامل ہیں، اگلے سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد، مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد مقرر ہے۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں عمر ایوب اور نوید قمر کے درمیان تکرار ہوگئی، چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے عمر ایوب کو بغیر اجازت بولنے سے روک دیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ اگر آپ بولنے نہیں دیں گے تو ہم چلے جائیں گے، نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی سے جانا آپ کا اختیار ہے۔
عمر ایوب نے دھمکی دی کہ مجھے وزیر خزانہ سے دو سوال کرنے دیں ورنہ چلا جاؤں گا، پھر آپ یہاں بیٹھ کر بجٹ بجٹ کرتے رہیں۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے عمر ایوب کو بات کرنے کی اجازت دے دی۔
سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اگلے مالی سال پیٹرولیم لیوی اس سے زیادہ نہیں ہوگی۔ عمر ایوب نے کہا کہ آپ نے اس سال بھی لیوی نہ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان مزید قرضے لینے کیلئے بے چین نہیں ہے، رواں مالی سال اخراجات میں کمی آئی ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے قرضوں کی لاگت میں کمی آئی ہے، حکومت کے مالی خسارے میں کمی آرہی ہے، اگلے مالی سال مالی خسارے کا ہدف 6.5 فیصد رکھا گیا ہے۔
امداد اللہ بوسال کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی سے ایک ہزار 468 ارب روپے حاصل ہونگے، اس وقت ڈیزل پر 77 روپے اور پیٹرول پر 78 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے، اگلے مالی سال پیٹرول ڈیزل پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد ہوگی، ڈیزل پر لیوی بڑھ کر 79.5 روپے لیٹر ہو جائے گی، پیٹرول پر مجموعی لیوی بڑھ کر 80.5 روپے لیٹر ہو جائے گی۔
عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم کی اسمگلنگ سے 550 ارب روپے نقصان ہورہا ہے، یہ پیٹرولیم مصنوعات 26 پلوں سے گزر کر مارکیٹ میں آتی ہیں، ایف بی آر کو نقصان روکنے کیلئے کسٹمز انٹیلی جنس بہتر بنانا ہوگی۔
قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ٹیکس گزار کو گرفتار کرنے بات کی گئی ہے، اس قانون سازی کو منظور نہ کیا جائے یہ ہتھیاروں سے لیس کرنے والی بات ہوگی، گرفتاریاں پھر سب کی ہوں گی۔
پنجاب کابینہ کا بجٹ اجلاس 16 جون کوطلب کرلیاگیا،وزیراعلی پنجاب بجٹ اجلاس کی صدارت کریں گی۔
کابینہ نےبجٹ اجلاس طلب کرنےکی سمری منظور کرلی،پنجاب کابینہ کا بجٹ اجلاس 16جون کوساڑھے10 بجے ہوگا،پنجاب کابینہ مرتب شدہ بجٹ کی منظوری دے گی،بجٹ منظوری کے بعد وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع ایوان میں پیش کریں گے۔
پنجاب حکومت نے 13 جون کو بجٹ پیش کرنا تھا،فنانس بل کی تیاری میں تاخیر پربجٹ کی تاریخ تبدیل کی گئی۔
پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ مسترد کردیا۔ بجٹ کی منظوری سے قبل ملک گیر احتجاج شروع کرنے کا اعلان کردیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز لیبر بیورو کے انچارج چوہدری منظور احمد کا کہنا تھا امیروں نے امیروں کے بجٹ بنایا جس میں عوام کے لیے کچھ بھی نہیں۔ اشرافیہ کے ہر طبقے کا بجٹ بڑھایا۔ کیا ساری مالی مشکلات غریبوں کے لیے ہے؟ چوہدری منظور کا کہنا تھا کہ احتجاج کے لیے ملک بھر کی ٹریڈ یونینوں سے رابطے کررہے ہیں۔
چوہدری منظور نے کہا کہ حکومتی معاشی پالیسی کے خلاف ملک گیر احتجاج کریں گے، ہر حد تک جائیں گے،تمام ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی، اسپیکر اور چیئرمین کی تنخواہوں میں اضافے کو مالی فحاشی کہا جارہا ہے، کابینہ،ارکان پارلیمنٹ سمیت تمام اشرافیہ کی تنخواہوں میں اضافہ مالی فحاشی ہے۔
رہنما پیپلزپارٹی نے کہا کہ ایک طرف کسان رل رہا ہے اور عالمی بینک غربت کی شرح کا رونا رو رہا ہے، 10 سال کے بعد پنشن بند کرنے کا حکومتی فیصلہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہوگا، حکومت نے ہر شعبے کی 200 فیصد سے زائد تنخواہ بڑھا دی، محنت کش کی باری آئے تو کہتے ہیں مہنگائی کی شرح کے مطابق اضافہ ہوگا۔
وفاقی بجٹ کی بعد سندھ اور خیبر پختونخوا کا بجٹ 13 جبکہ پنجاب اور بلوچستان کا بجٹ 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔
خیبرپختونخوا کے آئندہ مالی سال کے متوقع بجٹ کا حجم دو ہزار 118 ارب روپے سے زائد ہے ۔ محکمہ خزانہ کے ذرائع کے مطابق آئندہ بجٹ میں مجموعی اخراجات کا تخمینہ ایک ہزار 962 ارب روپے لگایا گیا ہے اس طرح صوبے کا بجٹ 157 ستاون ارب روپے سرپلس رکھے جانے کی توقع ہے۔
اگلے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 اور پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویزشامل کی جارہی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کےلئے 680 ارب اور پنشن کےلئے 14 ارب روپے مختص کئے جانے کی توقع ہے ، پنشن فنڈ میں 189.6 ارب بندوبستی اور 4.4 ارب روپے قبائلی اضلاع کےلئے مختص ہونگے ۔
اگلے مالی سال کے بجٹ میں سالانہ ترقیاتی پروگرام کے لئے مجموعی طور پر 547 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جس میں بندوبستی اضلاع کےلئے 21 فیصد اضافے کے ساتھ 195 ارب روپے کے ترقیاتی پروگرام کی تجویزہے۔ قبائلی اضلاع کے اخراجات جاریہ اور ترقیاتی کاموں کے لئے 294 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز رکھے جانے کی توقع ہے۔
اگلے مالی سال میں قرضوں کی اقساط اور سود کی ادائیگی کےلئے فنڈ کو 67 ارب روپے سے کم کرکے 55 ارب روپے کرنے کی تجویزشامل کی جارہی ہے ۔ صوبائی بجٹ کےاہم منصوبوں میں ڈیرہ پشاور موٹر وے ، پشاور ویلی ہاؤسنگ اسکیم ایکسپریس وے ، ڈیرہ اپ لفٹ اور پشاور رنگ روڈ کے نامکمل منصوبے کی تکمیل ہے۔
پنجاب
پنجاب حکومت کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب بجٹ کی تیاری جاری ہے، کچھ وقت لگے گا، بجٹ ٹیکس فری ہوگا، عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔
اس سے قبل پنجاب کا مالی سال 2025-26 کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، سندھ حکومت بھی نئے سال کا بجٹ 136 جون کو ہی پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے تاریخ ساز ترقیاتی بجٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے، اب تک 353 ارب سے زائد کی 853 اسکیمیں نئے بجٹ میں شامل کی جاچکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 520 جاری جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیمیں اب تک نئے بجٹ ڈرافٹ میں شامل کی گئی ہیں، 520 جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیموں کی مد میں 135 ارب 29 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، 6 دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 57 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔
بلوچستان
بلوچستان کا آئندہ مالی سال کا بجٹ 16 جون کو پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق بلوچستان کابینہ کا اجلاس 16 جون کی سہ پہر تین بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس کے لیے باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ اور سالانہ ترقیاتی پروگرام (پی ایس ڈی پی) کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔ کابینہ اجلاس میں بجٹ اور پی ایس ڈی پی کی منظوری دیے جانے کا بھی امکان ہے۔ بجٹ میں عوامی فلاح و بہبود، ترقیاتی منصوبوں اور معاشی بہتری کے لیے اہم اقدامات شامل کیے جائیں گے۔
سندھ
حکومت سندھ کی جانب سے 13 جون کو سندھ اسمبلی میں نئے مالی سال 2025-26ء کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ رپورٹ کے مطابق 57 صوبائی محکموں اور خودمختار اداروں کا ترقیاتی بجٹ 600 ارب روپے کا ہوگا ڈیولپمنٹ کمیٹی نے منظوری دے دی گئی ہے۔
محکمہ خزانہ سندھ نے تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کے لیے تجاویز تیار کر لی ہیں، مزدور کی کم از کم اجرت بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں اضافے کے لیے بھی مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔ سندھ کا بجٹ13 جون کو صوبائی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ مہنگائی کے باعث عوام پر بوجھ بڑھ گیا ہے، بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔
غیر ملکی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی مارکیٹ انٹیلیجنس نے پاکستان کے وفاقی بجٹ برائے مالی دوہزار چھبیس کو ایک متوازن بجٹ قرار دیدیا ہے۔
وفاقی بجٹ پر غیر ملکی ریٹنگ ایجنسی ایس اینڈ پی مارکیٹ انٹیلیجنس نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کیا ۔ دفاعی ساز وسامان اور اسلحے کی خریداری پر اضافی فنڈز خرچ کئے جائیں گے ۔ پاکستان دفاعی آلات میں لڑاکا طیارے اور بیلسٹک میزائل دفاعی نظام میں اخراجات کر سکتا ہے ۔ صحت اور تعلیم پر اخرجات میں کٹوتی کی جائے گی ۔ بجٹ میں ریونیو میں اضافے پر توجہ ہے جبکہ ترقی کے اہداف حاصل نہ ہوسکیں گے ۔ مالی سال دوہزار چھبیس میں پاکستان کا مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا پانچ عشاریہ ایک فیصد رہے گا جبکہ بجٹ میں یہ خسارہ تین عشاریہ چھ فیصد رکھا گیا ہے ۔ ترقی کی شرح تین عشاریہ چھ فیصد تک رہے گی جبکہ حکومت نے بجٹ میں جی ڈی پی کا ہدف چارعشاریہ دو فیصد رکھا ہے ۔
غیر ملکی ریٹنگ ایجنسی کے مطابق کم اور متوسط آمدنی والے گھرانے اور چھوٹے کاروبار مالی مشکلات کا شکار رہیں گے ۔ حکومت آئی ایم ایف پروگرام کو جاری رکھنے کے لئے اصلاحات اور شرائط پر عمل کرے گی ۔ بجٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت آئی ایم ایف کی ٹائم لائین پر عمل کرتی رہے گی تاکہ قرض کی اقساط بر وقت ملتی رہیں ۔ ٹیکس وصولی کے اہداف بہت بڑے ہیں ۔ تاریخی طور پر ایف بی آر ٹیکس وصولی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے ۔ ٹیکس آمدنی میں کمی کو ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی سے پورا کیا جائے گا ۔ ریٹیل اور ہول سیل سیکٹر سے ٹیکس وصولی کے اہداف حاصل نہ ہوسکیں گے ۔ ریٹیل اور ہول سے ٹیکس وصولی میں کمی سے مالیاتی خسارہ بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن نے الٹرا پراسیسڈ فوڈز پر 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ کردیا۔ سیکریٹری جنرل پناہ ثناء اللہ گھمن کا کہنا ہے کہ صحت کے شعبے کیلئے بجٹ میں 16 فیصد کمی قابلِ تشویش ہے، مضرِ صحت غذائی مصنوعات پر ٹیکس نہ لگانا افسوسناک ہے۔
پاکستان نیشنل ہارٹ ایسوسی ایشن (پناہ) کے سیکریٹری جنرل ثناء اللہ گھمن نے اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ مضرِ صحت مصنوعات پر ٹیکس نہ لگانا افسوسناک ہے، وفاقی بجٹ میں فیول پر ٹیکس لیکن جنک فوڈز پر ٹیکس میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔
انہوں نے الٹرا پراسیسڈ فوڈز پر کم از کم 20 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر منٹ میں ایک پاکستانی دل کے دورے کا شکار ہو رہا ہے، روزانہ شوگر سے 1100 سے زائد اموات ہو رہی ہیں، شوگر کی بیماری میں پاکستان پہلے نمبر پر آگیا ہے۔
ثناء اللہ گھمن کا کہنا ہے کہ غلط غذائی عادات سے ذیابیطس، موٹاپا، دل اور گردے کے امراض میں اضافہ ہورہا ہے، بجٹ میں صحت کے بجائے کارپوریٹ مفادات کو ترجیح دی گئی، صحت کے شعبے کیلئے بجٹ میں 16 فیصد کمی قابلِ تشویش ہے، ایس ڈی جیز کے تحت عوامی صحت کے تحفظ کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شوگر سے تیار ڈرنکس اور جنک فوڈز سے ریونیو حاصل کیا جاسکتا ہے، صرف شوگر والے ڈرنکس پر 50 فیصد ٹیکس لگایا جائے تو 8 ارب روپے سے زائد ریونیو مل سکتا ہے۔
سیکریٹری جنرل پناہ کا کہنا ہے کہ آئس کریم، بسکٹ، ٹافیاں، چاکلیٹس عوام کی صحت برباد کر رہی ہیں، جنک فوڈز امراضِ قلب، ذیابیطس اور موٹاپے کا بڑا سبب ہے، حکومت کو جرأت مندانہ فیصلے لینا ہوں گے، بچوں و نوجوانوں کی صحت خطرے میں ہے، فوری اقدام ضروری ہیں، کارپوریٹ مفادات کے بجائے عوامی صحت کو ترجیح دی جائے، الٹرا پراسیسڈ فوڈز پر ٹیکس لگانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
پنجاب حکومت کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔ تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب روپے سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے۔
پنجاب حکومت نے نئے مالی سال کا بجٹ 13 جون کے بجائے 16 جون کو پیش کیا جائے گا۔
وزیر خزانہ مجتبیٰ شجاع الرحمان کا کہنا ہے کہ پنجاب بجٹ کی تیاری جاری ہے، کچھ وقت لگے گا، بجٹ ٹیکس فری ہوگا، عوام پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا جارہا۔
اس سے قبل پنجاب کا مالی سال 2025-26 کا بجٹ 13 جون کو پیش کرنے کا اعلان کیا گیا تھا، سندھ حکومت بھی نئے سال کا بجٹ 136 جون کو ہی پیش کرے گی۔
واضح رہے کہ پنجاب حکومت نے مالی سال 26-2025 کیلئے تاریخ ساز ترقیاتی بجٹ دینے کا اعلان کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق تاریخ میں پہلی بار ایک ہزار ارب سے زائد کا ترقیاتی بجٹ متوقع ہے، اب تک 353 ارب سے زائد کی 853 اسکیمیں نئے بجٹ میں شامل کی جاچکی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق 520 جاری جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیمیں اب تک نئے بجٹ ڈرافٹ میں شامل کی گئی ہیں، 520 جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے 160 ارب 82 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ 333 نئی ترقیاتی اسکیموں کی مد میں 135 ارب 29 کروڑ رکھنے کی تجویز ہے، 6 دیگر ترقیاتی منصوبوں کیلئے 57 ارب 40 کروڑ روپے مختص کیے جائیں گے۔
وزیراعظم نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی پر اظہار اطمینان کرتے ہوئے کہا ہے کہ بجٹ میں عام آدمی پر ٹیکس کا مزید بوجھ نہیں ڈالا گیا، تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس میں کمی سے نوکری پیشہ افراد کو ریلیف ملے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسٹاک مارکیٹ میں تیزی سرمایہ کاروں و کاروباری شخصیات کے عوام دوست بجٹ پر اعتماد کا اظہار ہے، بجٹ میں عام آدمی پر ٹیکس کا مزید بوجھ نہیں ڈالا گیا، تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس میں کمی سے نوکری پیشہ افراد کو ریلیف ملے گا۔
ان کا کہنا ہے کہ الحمداللہ! ملکی معاشی ترقی کا سفر شروع ہوگیا ہے پاکستانی عوام نے قربانیاں دیں، اب ہم سب کو مل کر عام آدمی کی زندگی میں بہتری لانے کیلئے محنت کرنا ہے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ پاکستان کی ڈیفالٹ کے دہانے سے واپسی، معاشی استحکام و ترقی کے سفر کی شروعات ایک معجزہ ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمرایوب کا کہنا ہے کہ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ نے اپنی تنخواہ 6 گنا بڑھا لی، ملازمین کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب نے کہا کہ وزیراعظم ہاؤس اور ایوان صدر کا بجٹ بڑھا دیا گیا۔ اسپیکر اور چیئرمین سینیٹ نے اپنی تنخواہ 6 گنا بڑھا لی۔ خود کیلئے دودھ کی نہریں اور سرکاری ملازمین کا گلا گھونٹ دیا گیا۔
عمرایوب نے کہا کہ پٹرولیم لیوی 100 روپےسےتجاوزکرگئی ہے، ہمارے دور میں پٹرولیم لیوی 20 روپے تھی، آدھےسےزیادہ بجٹ سود کی ادائیگی میں جائے گا۔ بجٹ فیل ہے، ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ نہیں ہوا۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 190پاؤنڈ کیس میں سزا معطلی کی درخواست پر سماعت نہ ہونے پر قائد حزب اختلاف عمر ایوب نے شدید تشویش کا اظہار کیا، کہا اس ملک میں کوئی قانون نہیں، یہاں سرمایہ کاری کون کرے گا۔
حکومت نے آئی ایم ایف کے مطالبے پر بجٹ میں سبسڈیز بل میں 190 ارب روپ کی ریکارڈ کمی کردی۔ نئے بجٹ میں سبسڈی کی مد میں 1186 ارب روپے مختص ہوں گے۔
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں رمضان پیکیج، یوٹیلٹی اسٹورز اور زرعی ٹیوب ویلز پر سسبڈی مکمل ختم تاہم الیکٹرک وہیکل اسکیم کے لئے 9 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
پاور سیکٹر میں سبسڈی کیلئے 1036 ارب روپے کی رقم مختص، یہ سبسڈی واپڈا، پیپکو اور کے ای ایس ای کو دی جائے گی، رواں سال کے مقابلے میں پاور سیکٹر کی سبسڈی میں 154 ارب روپے کم کردیے گئے۔ کے ای ایس ای کو ٹیرف میں فرق کی مد میں 125 ارب کی سبسڈی ملے گی۔
شعبہ صنعت و پیداوار کیلئے سبسڈی کم کرکے 24 ارب روپے کر دی گئی، رواں مالی سال کے دوران صنعت و پیداوار کیلئے 68 ارب سبسڈی دی گئی۔
آئندہ مالی سال رمضان ریلیف پیکیج کیلئے کوئی رقم نہیں رکھی گئی، یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن بھی وزیراعظم پیکیج سمیت فنڈز سے محروم رہیں گے۔ یوٹیلٹی اسٹورز پر چینی کے پرانے واجبات کی ادائیگی کیلئے 15 ارب مختص ہوں گے۔ نئے بجٹ میں کھاد کی سپلائی پر بھی کوئی سبسڈی نہیں دی جائے گی۔
یوریا کھاد کی درآمد پر 7 ارب روپے کی سبسڈی دی جائے گی، اسلام آباد میٹرو بس سبسڈی کیلئے 7.30 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بلوچستان کے زرعی سولر ٹیوب ویلز بھی سبسڈی سے محروم ہوگئے۔ زرعی ترقیاتی بینک کو زرعی قرضوں پر مارک اپ سبسڈی بھی نہیں ملے گی۔
گلگت بلتستان کو گندم کی مد میں 20 ارب کی سبسڈی دی جائے گی، خوراک کے شعبے میں پاسکو کیلئے 20 ارب روپے سبسڈی مقرر، آئندہ سال کےدوران کسان پیکیج کے تحت 7 ارب کی سبسڈی دینے کا فیصلہ کرلیا گیا۔ ہاؤسنگ کیلئے 10 ارب،اسٹیٹ بینک کی ری فنانسنگ اسکیم کیلئے 30 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پیٹرولیم سیکٹر کیلئے بجٹ میں 1.2 ارب روپے کی سبسڈی مقرر کردی گئی جبکہ بجٹ میں ایس ایم ای سیکٹر کیلئے 5.4 ارب کی سبسڈی رکھی گئی ہے۔
بھارتی آبی جارحیت کے تناظر میں بجٹ میں آبی وسائل کےلیے خطیر رقم مختص کردیا گیا۔
وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے بتایا کہ بھارت پانی کو بطور ہتھیار استعمال کررہا ہے۔ ہم کسی صورت سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ وزیرخزانہ نے بتایا جنگی بنیادوں پر آبی ذخائر کیلئے 133 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ ہے ۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ بجٹ میں دیامیربھاشا ڈیم کیلئے32 ارب 70 کروڑ رکھے گئے، مہمند ڈیم کیلئے35 ارب 70 کروڑ روپے، کچھی کنال کی تعمیر کیلئے 69 کروڑ روپے جبکہ کے4 منصوبے کیلئے 3 ارب 20 کروڑ رکھے ہیں۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز وفاقی حکومت نے 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا جس میں ساڑھے 6 ہزار ارب روپے کا خسارہ ہے ۔ دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کر کے 2550 ارب روپے رکھے گئے ہیں ۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہ 10 فیصد بڑھانے کا اعلان کیا گیا ہے ۔ ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن میں 7 فیصد اضافہ ہوگا ۔ تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم پر ٹیکس کی شرح کم کردی گئی ۔ کارپوریٹ سیکٹر میں بھی 20 سے 50 کروڑ سالانہ کمانے والوں پر سپرٹیکس صفر اعشاریہ 5 فیصد کم کردیا گیا۔
مجوزہ فنانس بل میں تنخواہ دار طبقے کیلئے بڑی انکم ٹیکس چھوٹ جبکہ سالانہ 6 لاکھ روپے تک تنخواہ پر زیرو انکم ٹیکس برقرار رہے گی۔
مجوزہ فنانس بل کے مطابق 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک تنخواہ پر ڈھائی فیصد ٹیکس عائد ہوگا۔ اس سلیب پر پہلے 5 فیصد ٹیکس تھا۔ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے تک سالانہ تنخواہ پر ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 11 فیصد کردیا گیا ہے جبکہ 6 ہزار روپے فیکسڈ ٹیکس بھی عائد ہوگا۔
فنانس بل کے مطابق 22 لاکھ سے زیادہ تنخواہ پرانکم ٹیکس 25 سے کم کرکے 23 فیصد مقرر جبکہ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس لاگو ہوگا۔
سالانہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ تنخواہ پر 30 فیصد انکم ٹیکس اور 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس بھی عائد ہوگا۔ 41 لاکھ روپے سالانہ سے زیادہ تنخواہ پر 35 فیصد انکم ٹیکس اور 6 لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس عائد ہوگا۔
بجٹ 2025-26 میں نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 147 ارب روپےآمدن ہوگی۔
دستاویز کےمطابق پیٹرولیم لیوی کی مدمیں صارفین سے 1 ہزار 468 ارب روپےٹیکس لیا جائےگا،اسٹیٹ بینک کےمنافع کی صورت میں 2 ہزار 400 ارب روپےجمع ہوں گے،پراپرٹی کے کاروبار سے حاصل آمدن پر 519 ارب روپے ٹیکس وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا،موبائل لیوی سمیت فیس کی مد میں 29 ارب 79 کروڑ جمع ہوں گے۔
فنانس بل کےمطابق ایف بی آرکو اضافی ٹیکسوں کی مدمیں 400 ارب سے زائد کا ریونیو ملےگا،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پرنئےٹیکس سے 64 ارب روپے آمدن متوقع ہے،نئے بجٹ میں آن لائن کاروبار، سروسز، ای کامرس اورکوریئر پر ٹیکس عائد کیا گیا،ای کامرس پلیٹ فارمز سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا،یہ ٹیکس کوریئر اور لاجسٹکس فراہم کرنے والے ادارے وصول کرکے جمع کرانے کے پابند ہوں گے
ڈیجیٹل سروسز پر 0.25 فیصد سے 5 فیصد تک نیا ٹیکس لگا دیا گیا،غیرملکی آن لائن کمپنیوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا،ویب سائٹس، ایپس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی زد میں آئیں گے، ای لرننگ، ٹیلی میڈیسن، کلاؤڈ سروسز پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا۔
کوریئر کیش آن ڈیلیوری پر 0.25 سے 2 فیصد تک ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے،رجسٹریشن نہ کروانے والے آن لائن وینڈرز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،بینک یا کوریئر ٹیکس نہ کاٹے تو 100 فیصد جرمانہ ہوگا، ڈیجیٹل معیشت پر نئے ٹیکس سے نوجوانوں کیلئے آن لائن کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
نئے مالی سال کی قابل تقسیم آمدن میں سےکس صوبے کوکتناحصہ ملے گا؟بجٹ میں این ایف سی کے تحت قابل تقسیم محاصل 8 ہزار 205 ارب روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
دستاویز کے مطابق پنجاب کو قابل تقسیم محاصل میں سے 4 ہزار 76 ارب روپے ملیں گے،این ایف سی میں صوبہ سندھ کا حصہ 2 ہزار 43 ارب روپے مقررکیاگیا، خیبرپختوانخواہ کو ایک ہزار 342 ارب روپے دیئے جائیں گے۔
اس کے علاوہ خیبرپختونخوا کیلئےدہشت گردی کیخلاف جنگ کا ایک فیصد اضافی شامل ہے،بلوچستان کو این ایف سی میں سے 743 ارب روپے سے زائد ملیں گے،صوبوں کو تیل وگیس کی رائلٹی میں 217 ارب روپے سے زائد دیئے جائیں گے۔
نئے وفاقی بجٹ 26-2025 میں پنشن کی ادائیگی کا بل ایک ہزار 55 ارب روپے تک پہنچ گیا۔
دستاویز کےمطابق سول ملٹری پنشن میں 65 ارب 70 کروڑ روپےکا اضافہ ہوا، مسلح افواج کے ریٹائرڈ ملازمین کی پینشن کیلئے 742 ارب روپےمختص کیے گئے،آئندہ سال میں ملٹری پنشن کے بل میں 66 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
ریٹائرڈ سول سرکاری ملازمین کیلئے 243 ارب رکھے گئے ہیں،سول ملازمین کےپنشن بل میں 9 ارب روپے اضافہ ہوا،وفاقی پنشن فنڈ کی مد میں 4 ارب 30 کروڑ روپےمختص کیے گئے،رواں سال پنشن کی ادائیگی کا بل ایک ہزار 14 ارب روپے مقرر ہے۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں تقریباً 20 فیصد اضافہ کردیا، مجموعی طور پر 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وفاقی حکومت نے 2025-26 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کردیا، جس کے مطابق آئندہ مالی سال کے دفاعی بجٹ میں 20 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، آئندہ سال دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سال دفاع کیلئے 2122 ارب روپے مختص کئے گئے تھے تاہم دفاع پر اخراجات 2181 ارب تک پہنچ جائیں گے۔
بجٹ کے مطابق بری فوج کیلئے آئندہ سال 1165 ارب سے زائد مختص کرنے کی تجویز ہے۔ رواں سال بری فوج کیلئے ایک ہزار 9 ارب روپے مختص کئے گئے تھے جبکہ اس سال بری فوج کے نظرثانی اخراجات کا تخمیہ ایک ہزار 58 ارب روپے لگایا گیا۔؎
رپورٹ کے مطابق پاک فضائیہ کیلئے آئندہ مالی سال 520 ارب 74 کروڑ مختص کرنے کی تجویز ہے جبکہ رواں مالی سال پاک فضائیہ کیلئے 451 ارب روپے مختص کئے گئے تھے۔
بجٹ تجاویز کے مطابق پاک بحریہ کیلئے آئندہ مالی سال 265 ارب 97 کروڑ روپے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، رواں مالی سال پاک بحریہ کیلئے 230 ارب روپے مختص کئے گئے جبکہ اس سال بحریہ کے نظرثانی شدہ اخراجات 238 ارب روپے سے بڑھ جائیں گے۔
وفاقی سیکریٹریٹ کے ملازمین کا احتجاج رنگ لے آیا، تنخواہوں میں اضافے کے بعد احتجاج ختم کردیا گیا۔ وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے احتجاج میں جاکر بتایا کہ سرکاری ملازمین کے 80 فیصد سے زائد مطالبات مان لئے گئے ہیں، باقی مسائل بھی جلد حل کرلئے جائیں گے۔
وفاقی سرکاری ملازمین نے تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے پر حکومت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے احتجاج ختم کردیا۔
سرکاری ملازمین نے صبح 10 بجے احتجاج کا آغاز کیا، مظاہرین مارچ کرتے ہوئے کیبنیٹ سیکریٹریٹ کے گیٹ تک پہنچے، پولیس نے آگے جانے سے روکا تو مظاہرین نے وہیں دھرنا دے دیا۔
وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کیا۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری سرکاری ملازمین کے دھرنے میں پہنچ گئے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے آپ کے 80 فیصد مطالبات مان لیے ہیں، سرکاری ملازمین کی تنظیموں سے مذاکرات جاری رہیں گے، باقی مسائل بھی حل کر لیے جائیں گے۔
حکومت کا آئندہ مالی سال کا 17 ہزار 573 ارب روپے کا بجٹ کاروباری طبقے کو مطمئن نہ کر سکا، بزنس کمیونٹی نے وفاقی بجٹ کو کیمو فلاج بجٹ قرار دے دیا۔
وفاقی بجٹ کے اعداد و شمار پر کراچی کی تاجر برادری نے کڑی تنقید کردی۔ تاجر رہنماؤں نے بجٹ کو ہر بار کی طرح مبہم قرار دے دیا۔
کے سی سی آئی کے صدر جاوید بلوانی کا کہنا تھا کہ لوگ بجلی کے بل بھرنے کے قابل نہیں اور حکومت گروتھ کا دعویٰ کر رہی ہے، پچھلے بجٹ کے اہداف حاصل نہیں ہوسکے اور بجٹ اہداف کا نیا ڈاکیومنٹ پیش کردیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ کراچی میں کے فور منصوبے کیلئے محض 3.2 ارب روپے مختص کرکے شہر کے ساتھ کھلا مذاق کیا گیا۔
تاجر رہنماؤں کا کہنا تھا کہ ٹیکس نیٹ کی وسعت، صنعتی ترقی، کاروباری لاگت کم کرنے، روزگار اور برآمدات بڑھانے جیسے بڑے ایشوز کو بجٹ میں ایڈریس نہیں کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے نئے مالی سال 2025-26 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیاہے جس دوران انہوں نے اعلان کیا کہ غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے خلاف سخت سزاوں کو مزید بڑھانے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیر خزانہ کا بجٹ تقریر کے دوران کا کہناتھا کہ ہم سیلز ٹیکس میں چوری کو روکنے کیلئے سخت اقدامات متعارف کروا رہے ہیں، غیر رجسٹرڈ کاروباروں کے خلاف سخت سزاوں کو مزید بڑھانے کی تجویز ہے ، ان میں بینک اکاونٹس منجمد کرنا ، جائیدا د کی منتقلی پر پابندی اور سنگین جرائم میں کاروباری جگہ کو سیل کرنا اور سامان کو ضبط کرنا شامل ہے ، ان تمام اقدامات سے قبل اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ متعلقہ قانونی تقاضے پورے کیئے جائیں، جن میں پبلک سیکٹر نوٹس ، متعلقہ نگران کمیٹی کے سامنے سماعت کا موقع اور 30 دن کے اندر اپیل کا حق شامل ہو گا۔
قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب، سلمان اکرم راجہ اور سینیٹر شبلی فراز نے وفاقی بجٹ 2025-26 پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غریب طبقے پر بوجھ بڑھانے اور اشرافیہ کو فائدہ پہنچانے والا قرار دیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ یہ بجٹ غریب کو مزید غریب اور امیر کو امیر بنانے کے لیے بنایا گیا ہے۔
سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ گزشتہ سال تنخواہ دار طبقے پر ٹیکس کا بوجھ 100 فیصد بڑھایا گیا جبکہ اس طبقے کی درخواست تھی کہ ان پر بوجھ کم کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں پلاٹس کی خرید و فروخت پر ٹیکس 4 فیصد سے کم کر دیا گیا جبکہ چھوٹی بچت کرنے والے گھرانوں کو بڑے سرمایہ داروں کے آگے قربان کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی بڑھائی گئی ہے، لیکن اسے ٹیکس کا نام نہیں دیا گیا تاکہ اس کا حصہ صوبوں کو نہ ملے۔
سینیٹر شبلی فراز
سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ بجٹ ہمیشہ اشرافیہ کے لیے بنایا جاتا ہے اور اس بار کے بجٹ سمیت گزشتہ تین سالوں کے بجٹ نے ریکارڈ توڑ دیے ہیں۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ مراعات یافتہ طبقے کو 5 کھرب روپے کا فائدہ پہنچایا گیا ہے۔
شبلی فراز نے معاشی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سال جی ڈی پی میں زراعت کا شعبہ منفی رہا، جو حکومتی پالیسیوں کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی ترقی اور خدمات کے شعبے بھی شدید متاثر ہوئے ہیں جبکہ عوام کی 30 فیصد آبادی اس سال قربانی نہیں دے سکی۔
انہوں نے کہا کہ ملک پر 73 کھرب روپے کا قرضہ ہو چکا ہے اور موجودہ حکومت کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر افغان کرنسی سے بھی کم ہو گئی ہے۔
شبلی فراز نے سرکاری ملازمین کے احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ دار طبقے پر ظلم ہو رہا ہے اور وہ ان کی تنخواہوں میں مزید اضافے کی حمایت کرتے ہیں۔
انہوں نے طنزاً کہا کہ جو قوم آئی ایم ایف کی بیساکھیوں پر چلے وہ ترقی کیسے کر سکتی ہے؟۔
عمر ایوب
اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف اور اتحادی اس بجٹ کو مسترد کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جواعدادو شمار گزشتہ روز اقتصادی سروے میں بتائے اس سے ملتے جلتے ہی پیش کیے گئے، حکومت کا انحصار ہی جھوٹ پر مبنی ہے، جی ڈی پی 2.7 فیصد ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ ہر چیز تو منفی ظاہر ہو رہی ہے۔
عمرایوب کا کہنا تھا کہ مارچ 2022 میں پٹرول ڈیڑھ سو روپے لیٹر تھا جو اب 253 روپے فی لیٹر تک پہنچ گیا، ہمارے دور میں چکن 287 روپے فی کلو تھا جو اب 600 روپے تک جا پہنچا، دودھ، انڈے ، پیاز ہر چیز ہمارے دور سے کئی گنا مہنگی ہوچکی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی میں بجٹ 2025-26 پیش کرتے ہوئے نان فائلرز کے خلاف سخت اقدامات کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ تقریر میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ نان فائلرز کے لیے بینک سے نقد رقم نکلوانے پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھا کر 1 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ نئے بجٹ میں فائلرز اور نان فائلرز کے درمیان فرق ختم کرنے کی تجویز شامل ہے جبکہ صرف ٹیکس گوشوارے اور ویلتھ اسٹیٹمنٹ جمع کرانے والوں کو مالی لین دین کی اجازت ہوگی۔
نان فائلرز نہ تو گاڑی خرید سکیں گے، نہ غیر منقولہ جائیداد حاصل کر سکیں گے اور نہ ہی سکیورٹیز یا میوچل فنڈز میں سرمایہ کاری کر سکیں گے۔
مزید برآں، نان فائلرز کو بینک اکاؤنٹ کھولنے کی سہولت سے بھی محروم کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ 2025-26 میں کھیلوں کے فروغ اور بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے خاطر خواہ رقم مختص کی گئی ہے۔
بجٹ میں کھیلوں سے متعلق متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز شامل ہیں جن کا مقصد قومی کھیلوں کو ترقی دینا اور کھلاڑیوں کو بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔
بجٹ کے مطابق ملک بھر میں 250 منی سپورٹس کمپلیکس کی تعمیر کے لیے 30 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
نیشنل گیمز کے انعقاد کے لیے 150 ملین روپے رکھے گئے ہیں جبکہ پاکستان سپورٹس کمپلیکس کے انفراسٹرکچر کی بہتری کے لیے 103 ملین روپے، بائیو مکینیکل لیب کے قیام کے لیے 120 ملین روپے، غیر ملکی کوچز کی خدمات حاصل کرنے کے لیے 100 ملین روپے اور کراچی میں کھیلوں کی سہولیات کی ترقی کے لیے 98 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ، نیشنل سپورٹس یونیورسٹی کے لیے 63.72 کروڑ روپے اور نیشنل سینٹر آف سپورٹس سائنس اینڈ ریسرچ کے لیے 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
بجٹ میں قومی ٹیموں، تربیتی کیمپوں، کھلاڑیوں کے لیے بنیادی ڈھانچے، اور دیگر اہم اقدامات کے لیے بھی فنڈز شامل ہیں۔
وفاقی بجٹ 2025-26 میں 850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اس اقدام کا مقصد پیٹرول، ڈیزل اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں یکسانیت لانا ہے۔
بجٹ میں غیر رجسٹرڈ کاروبار کے خلاف سخت اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔
غیر رجسٹرڈ کاروبار کرنے والوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے اور ان کی جائیداد کی منتقلی پر پابندی عائد ہوگی جبکہ سنگین جرائم کی صورت میں کاروباری جگہ سیل اور سامان ضبط کیا جا سکے گا۔
تاہم، متعلقہ فریق کو 30 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پاکستان میں تیار کردہ سولر پینلز کو فروغ دینے کے لیے اہم تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق یہ اقدام مقامی اور درآمدی سولر پینلز کے درمیان مسابقت کو برابری کی سطح پر لانے کے لیے کیا جا رہا ہے،تاکہ پاکستان میں سولر پینل بنانے والی صنعت کو سہارا دیا جا سکے اور مقامی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے سازوسامان کی تیاری کو فروغ ملے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقامی صنعت عالمی مارکیٹ میں سستی درآمدات کے باعث دباؤ کا شکار تھی، جس کی وجہ سے پاکستان میں سولر پینلز تیار کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کار مشکلات سے دوچار ہو رہے تھے۔ اس تجویز کے ذریعے حکومت مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے روزگار کے مواقع بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس وقت پاکستان میں توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کے باعث سولر انرجی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگراس شعبے میں مقامی صنعت کو درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا مسئلہ کم لاگت پر درآمد شدہ پینلز سے مسابقت کرنا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2025 سے ٹیکس گوشواروں کے نظام کو انتہائی آسان کر دیا جائے گا، جس سے تنخواہ دار افراد اور چھوٹے کاروباری حضرات بغیر کسی وکیل کی مدد کے خود ٹیکس گوشوارے جمع کرا سکیں گے۔
قومی اسمبلی میں وفاقی بجٹ 2025-26 پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں اصلاحات کے بغیر معاشی اہداف کا حصول ممکن نہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایف بی آر کی بہتری کے منصوبے کا بنیادی محور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن ہے جس کے تحت ٹیکس کے عمل کو مزید شفاف اور صارف دوست بنایا جائے گا۔
محمد اورنگزیب نے زور دیا کہ نئے نظام سے ٹیکس دہندگان کو سہولت ہوگی اور وہ باآسانی اپنے گوشوارے جمع کر سکیں گے، جس سے ٹیکس نیٹ ورک کو وسعت دینے میں بھی مدد ملے گی۔
وفاقی حکومت نے بجٹ 2025-26ء میں بعض ریلیف اقدامات کا اعلان کردیا۔
نئے بجٹ کے مطابق مسلح افواج کے افسران، سولجرز کیلئے اسپیشل ریلیف الاؤنس کی تجویز پیش کی گئی ہے، اہل ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق یہ اخراجات مالی سال 2025-26ء کے دفاعی بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
حکومت نے خصوصی ملازمین کیلئے خصوصی کنوینس الاؤنس کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت الاؤنس ماہانہ 4 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔
حکومت نے وفاقی بجٹ 25-26ء میں پیٹرولیم مصنوعات اور فرنس آئل پر کاربن لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ الیکٹرک گاڑیوں کو فروغ دینے کیلئے پیٹرول اور ڈیزل گاڑی پر لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے بجٹ 2025-26ء پیش کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت نے پیٹرول، ہائی اسپیڈ ڈیزل اور فرنس آئل پر فی لیٹر 2.5 روپے کاربن لیوی عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 26-27ء میں کاربن لیوی کی شرح 5 روپے فی لیٹر کی جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی بجٹ کے مطابق ٹیکس کی مہر یا بار کوڈ کے بغیر اشیاء ضبط کی جائیں گی۔
محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ حکومت نے ٹیکس قوانین پر عملدرآمد کیلئے صوبائی افسران کی مدد لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے، نان ڈیوٹی پیڈ سیگریٹ کی اسمگلنگ پر قابو پایا جاسکے گا۔
ان کا کہنا ہے ک وفاقی حکومت نے نئے بجٹ میں کسٹمز اصلاحات متعارف کرانے اور گردشی قرضوں کی ادائیگی کیلئے 10 فیصد سرچارج عائد کرنے فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت کو سرچارج کا ریٹ بڑھانے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔
وفاقی بجٹ کے مطابق انرجی وہیکل پالیسی پر عملدرآمد کیلئے اہم اقدامات کا اعلان کیا گیا ہے، پیٹرول اور ڈیزل کے بجائے الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی، الیکٹرک موٹر سائیکل اور رکشوں کے استعمال کو فروغ دیا جائے گا، پیٹرول اور ڈیزل گاڑیوں پر لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اور درآمد پر انجن کیسپٹی کے مطابق لیوی عائد ہوگی۔
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں دفاع، سول انتظامیہ، پنشن، سبسڈی اور گرانٹس کی مد میں بڑی رقوم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے ملکی دفاع کے لیے 2550 ارب روپے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ پاک فوج، فضائیہ، بحریہ اور دفاعی اداروں کے آپریشنز، سازوسامان اور دیگر ضروریات پر خرچ کیے جائیں گے۔
سول انتظامیہ کے اخراجاتکے لیے 971 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں،جن میں وفاقی وزارتیں، محکمے اور سول بیوروکریسی کے آپریشنل اخراجات شامل ہیں۔
بجٹ میں پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 1055 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ ادائیگیاں ریٹائرڈ سرکاری ملازمین کو کی جائیں گی، اور اس مد میں ہر سال اضافہ حکومتی مالیاتی دباؤ کا اہم جزو بنتا جا رہا ہے۔
سبسڈی کے طور پر حکومت نے مختلف شعبوں، بالخصوص بجلی کے شعبے میں 1186 ارب روپے مختص کیے ہیں۔ یہ سبسڈیز کم آمدنی والے صارفین، زرعی ٹیوب ویلوں، اور صنعتی شعبے کو سہولت فراہم کرنے کے لیے دی جائیں گی۔
گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یہ رقم بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP) آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، اور خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص کی گئی ہے، جن کا مقصد ان علاقوں میں ترقی، فلاحی منصوبوں اور مالی استحکام کو فروغ دینا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور اسکولوں کی تعمیر کے لیے اربوں روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے لیے ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) کے تحت 170 ترقیاتی منصوبوں کے لیے مجموعی طور پر 39.5 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 38.5 ارب روپے جاری منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی پیش رفت جاری رکھنے کے لیے حکومت نے 31 منصوبوں کے لیے 4.8 ارب روپے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان فنڈز کا استعمال سائنسی تحقیق، اختراعات، ٹیکنالوجی پارکس اور لیبارٹریوں کی بہتری کے لیے کیا جائے گا تاکہ پاکستان عالمی سائنسی معیار سے ہم آہنگ ہو سکے۔
تعلیم کے شعبے میں ایک اور اہم قدم کے طور پر حکومت نے دانش اسکولوں کی تعمیر کے لیے 9.8 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 2025-26 کی تقریر میں پنشن اصلاحات کا اعلان کردیا ہے۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے پنشن اسکیم میں تبدیلیوں سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھا جسے کم کرنے کے لیے حکومت نے اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔
نئی اصلاحات کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور پنشن میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک کیا گیا ہے۔
شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کر دی گئی ہے اور اس کے علاوہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت میں ملازم کو پنشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے دوران حکومت نے متعدد نئے ٹیکس اقدامات کی تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد آمدنی میں اضافہ اور معیشت کے مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سود کی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد ہو جائے گی۔ تاہم یہ اضافہ صرف غیر فعال طریقے سے حاصل ہونے والی آمدن پر لاگو ہوگا، جبکہ قومی بچت اسکیموں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔
بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیاء یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ آن لائن آرڈر کی گئی اشیا اور خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ای کامرس کاروباری افراد کو اپنی ماہانہ ٹرانزیکشنز کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ متعلقہ اداروں کو جمع کروانی ہوگی۔
بجٹ میں قرض کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی آمدنی پر بھی 25 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب شیئرز پر حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور موجودہ نظام برقرار رکھا گیا ہے۔
حکومت نے زیادہ پنشن لینے والے افراد کو بھی ٹیکس کے دائرے میں لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایسے افراد جن کی عمر ستر سال سے کم ہے اور جو سالانہ ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن حاصل کرتے ہیں ان پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ مگر کم اور درمیانی پنشن لینے والوں کو اس ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس میں کمی کا فیصلہ کیا ہے، کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کے ٹرانسفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کردی گئی ہے جبکہ وفاقی حکومت نے مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب بجٹ 2025-26 اسمبلی میں پیش کررہے ہیں۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں کارپوریٹ سیکٹر کیلئے ریلیف کا فیصلہ کیا گیا ہے، سالانہ 20 کروڑ سے 50 کروڑ آمدن پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کردی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح میں کمی کردی گئی، ودہولڈنگ ٹیکس 4 فیصد سے کم کرکے ڈھائی فیصد کیا گیا ہے، دوسری سلیب میں 3.5 فیصد سے کمی کی گئی جو اب 2 فیصد ہوگا، تیسرا سلیب 3 فیصد سے کم کرکے 1.5 فیصد کردیا گیا ہے۔
بجٹ 25-26 کے مطابق کمرشل جائیدادوں، پلاٹوں اور گھروں کے ٹرانسفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ گزشتہ بجٹ میں ان پر 7 فیصد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کی گئی تھی۔
وفاقی حکومت نے مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے جس کیلئے بجٹ میں 10 مرلہ تک کے گھروں اور 2 ہزار مربع فٹ کے فلیٹس پر ٹیکس کریڈٹ کا اعلان کردیا گیا۔
وفاقی بجٹ 25-26 میں اسلام آباد میں جائیداد کی خریداری پر اسٹامپ پیپر ڈیوٹی 4 فیصد سے کم کرکے ایک فیصد کردی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کردیا گیا۔
بجٹ کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک تنخواہ والے ملازمین کے لیے زیرو ٹیکس کی پالیسی برقرار رہے گی۔
6 سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن والے ملازمین کے لیے ٹیکس کی شرح 5 فیصد سے کم کر کے 1 فیصد کر دی گئی ہے جبکہ اس سے پہلے اس سلیب پر زیادہ سے زیادہ 30 ہزار روپے ٹیکس ادا کیا جاتا تھا جو اب کم ہو کر صرف 6 ہزار روپے سالانہ ہو گا۔
اسی طرح 12 سے 22 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کر دی گئی ہے۔
اس سے پہلے اس سلیب میں ملازمین زیادہ سے زیادہ 3 لاکھ 30 ہزار روپے ٹیکس ادا کرتے تھے جو اب کم ہو کر 2 لاکھ 42 ہزار روپے ہو جائے گا۔
22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ والوں کے لیے ٹیکس کی شرح 25 فیصد سے کم کر کے 23 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس سے پہلے اس سلیب میں زیادہ سے زیادہ 5 لاکھ 50 ہزار روپے سالانہ ٹیکس کٹتا تھا، جو اب کم ہو کر 5 لاکھ 6 ہزار روپے ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی میں بجٹ اجلاس جاری ہے جس میں اپوزیشن کی جانب سے شور شرابا کیا گیا اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔
اپوزیشن اراکین کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کی قومی اسمبلی آمد کے موقع پر شدید نعرہ بازی کی گئی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2025-26 کا 17 ہزار 273 ارب روپے کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر دیاہے جس میں تنخواہوں میں 10 فیصد، پنشن 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیتے ہوئے ٹیکس میں کمی کا اعلان کیا گیاہے ، دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ معزز ایوان کے سامنے بجٹ پیش کرنا میرے لیئے اعزاز کی بات ہے یہ مخلوط حکومت کا دوسرا بجٹ ہے، اتحادی جماعتوں کی قیادت نوازشریف ، بلاول بھٹو ، خالد مقبول، چوہدری شجاعت ، عبدالعلیم ، خالد مگسی کا رہنمائی کیلئے شکریہ ادا کرتاہوں ۔
یہ بجٹ ایک تاریخی موقع پر پیش کیا جارہاہے ، جب قوم نے غیر معمولی ہمت اور اتحاد کا مظاہرہ کیا ، بھارتی جارحیت کے مقابل ہماری سیاسی قیادت ، افواج پاکستان اور پاکستان کے غیور عوام نے جس دانشمندی اور بہادری کا ثبوت دیا وہ سنہرے الفاظ میں لکھا جائے گا۔
میں پاکستان کی عسکری اور سیاسی قیادت کو مبارکباد پیش کرتاہوں ، ہماری افواج نے پیشہ وارنہ مہارت سے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا ، اس عظیم کامیابی نے پیغام دیا کہ پاکستانی قوم ہر آزمائش میں متحد ہے ۔اب ہماری توجہ معاشی استحکام اور ترقی کے حصول کی جانب مرکوز ہے ۔
ہماری ترجیح ایسی معیشت کی تشکیل ہے جو ہر طبقے کو ترقی کے ثمرات دے ۔ یہی ویژن ہمین ایسے پاکستان کی طرف بڑھاتاہے جہاں ترقی ہر فرد کی دہلیز تک پہنچے ۔ہم نے گزشتہ سال معیشت کی بہتری کیلئے کئی اہم اقدامات کیئے جن کے نتیجے میں مالی نظم و ضبط میں بہتری آئی اور ہمیں کئی کامیابیاں حاصل ہوئیں۔
جی ڈی پی کے 2.4 فیصد کے برابر پرائمری سرپلس کا حصول، افراط زر میں نمایاں کمی 4.7 فیصد ، یاد رہے کہ دو سال قبل افراط زر کی شرح 29.2 فیصد تک پہنچ چکی تھی، پچھلے سال کے 1.7 ارب ڈالر کے خسارے کے مقابلے میں سرپلس کرنٹ اکاونٹ 1.5 ارب ڈالر متوقع ہے ، روپے کی قدر مستحکم ہے، ترسیلات زر موجودہ مالی سال کے 10 ماہ میں 31 فیصد اضافے کے ساتھ 31.2 ارب ڈالر تک پہنچ گئی۔ ہمیں امید ہے کہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک ترسیلات کا حجم 37 سے 38 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گا، سٹیٹ بینک کے زرمبادلہ کے ذخائر میں دو ارب ڈالر کا اضافہ ہو چکاہے ، موجودہ سال کے اختتام تک 14 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گے ، اقتصادی بہتری کیلئے حکومت کو سخت فیصلے کرنے پڑے، عوام نے بھی متعدد قربیانیاں دیں جس کے مثبت نتائج سامنے آئے ۔
تنخواہ اور پنشن میں اضافہ
وفاقی بجٹ 2025-26ء میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کا اعلان کردیا گیا۔ اس سے قبل تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد تک اضافے کی تجویز تھی۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بجٹ 25-26ء پیش کرتے ہوئے کہا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں مین 10 فیصد تک اضافہ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ گریڈ ایک سے 22 تک کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں ایک کروڑ روپے سے زائد پنشن وصول کرنے والوں پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ درمیانے اور نچلے پنشن ہولڈرز ٹیکس سے مستثنیٰ ہوں گے۔ وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ ملازمین کو 30 فیصد ریڈکشن الاؤنس دینے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر
ہمارا سب سے اہم معاشی مسئلہ محصولات کے نظام کی مسلسل کمزوری تھی ، پاکستان کی ٹیکس ٹو جی ڈی پی ریشو 10.0 فیصد تھی جو کہ ترقیاتی اخراجات اور ریاست کے انتظامی معاملات چلانے کیلئے ناکافی تھی، ایف بی آر ٹرانسفورمیشن پلان کا آغاز کیاگیا، اس منصوبے کی بنیاد People, Process and Technology پر رکھی گئی ہے۔
ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن:پاکستان میں پہلی مرتبہ معیشت اور ٹیکس نظام کے درمیان مکمل ڈیجیٹل انضمام (Digital Integration) کا آغاز ہوا ہے۔ٹیکنالوجی کے ساتھ انسانی وسائل کیلئےبھی اقدامات کررہےہیں، ڈیٹا انٹی گریشن کے ذریعے 3 لاکھ 90 ہزار نان فائلرز کی نشاندہی ہوئی جس سے 30 کروڑ روپے کی وصولی ممکن ہوئی، فراڈ اینلیسسز کے ذریعے 9.8 ارب روپے کے جعلی ریفنڈ کلیمز کو بلاک کیا گیا ۔ فائننگ اور ٹیکس کرنے والوں کی تعداد میں 100 فیصد اضافہ ہوا اور محاصل45ارب روپے سے بڑھ کر105ارب روپے تک پہنچ گئے۔
کئی ٹیکس دہندگان مقدمات کے ذریعے ٹیکس سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں ، ان کیسز کی کمزور پیروی کی وجہ سے حکومت محاصل طویل عرصے تک التواء کا شکار رہتے ہیں، موجودہ حکومت کی کامیاب حکمت عملی کی وجہ سے اس سال ایف بی آر نے کامیاب لیجیٹیشن کے ذریعے 78.4 ارب روپے کے محاصل وصول کرلیے ہیں، اس کے علاوہ عدالتوں میں اے ڈی آر سے متعلق ایک مقدمے کو سیٹلمنٹ کے ذریعے حل کیا گیا جس سے قومی خزانے کو 77 ارب روپے حاصل ہوئے ۔
ریکوڈک
ریکوڈک میں واقع تانبے اور سونے کی کانیں ہمارے مستقبل کا ایک اہم اثاثہ ہیں، حکومت اس اثاثے کو مفید بنانے پر توجہ مرکوز کیئے ہوئے ، اس منصوبے کی فزیبلٹی سٹڈی جنوری 2025 میں مکمل کی گئی، اس منصوبے کی متوقع کان کنی کی مدت 37 سال ہے جس کے دوران ملک کو 75 ارب ڈالر سے زائد کے کیش فلو حاصل ہوں گے، اس منصوبے کے تحت تعمیراتی کام میں 41 ہزار 500 ملازمتیں فراہم ہوں گی ۔اس منصوبے سے 7 ارب ڈالر ٹیکس اور 7.8 ارب ڈالر کی رائلٹی متوقع ہے ۔ یہ منصوبہ پاکستان کی معیشت کیلئے ایک گیم چینجر ثابت ہو گا۔
ٹیرف ریفارم
حکومت ساز گار کاروباری ماحول پیدا کرنے، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور برآمدات کو بڑھانے کیلئے پرعزم ہے ، حکومت معاشی ترقی ، کاروبار کو سپورٹ کرنے اور برآمدات کو فروغ دینے کے واضح ویژن کے ذریعے ایک جامع ’ ٹیرف ریفارم پیکج ‘ متعارف کروا رہی ہے جس کا مقصد موجودہ ٹیرف کو مناسب بنانا ہے ، تاکہ برآمدات کو بڑھا کر معاشی ترقی کو تیز کیا جاسکے۔
درج ذیل ٹیرف اصلاحات کو نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کا حصہ بنایا جارہاہے ۔
چار سال میں اضافی کسٹم ڈیوٹی ، پانچ سال میں ریگولیٹری ڈیوٹیز کا خاتمہ، کسٹم ایکٹ 1969 کے پانچویں شیڈول کا پانچ سالوں میں اختتام ، کل چار کسٹمز ڈیوٹی سلیبز ، (0 فیصد، 5 فیصد، 10 فیصد اور 15 فیصد ) اور زیادہ سے زیادہ کسٹم ڈیوٹی کی حد 15 فیصد کی جائے گی ۔
نجکاری
عوامی شعبے کی کارکردگی کو بہتر بنانے ، مالی بوجھ کو کم کرنے، سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے حکومت ایک جدید اور متحرک نجکاری حکمت عملی پر عمل پیرا ہے ، 2025-26 میں ہمار ہدف ہے کہ ہم پی آئی اے اور روز ویلٹ ہوٹل جیسی اہم ٹرانزیکشن مکمل کریں ۔ ڈسکوز اور جنکوز جیسے کلیدی اثاثوں کی نجکاری کیلئے پالیسی اور ضابطہ جاتی اصلاحات کو آ گے بڑھائیں ۔
پنشن ریفارمز
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ گزشتہ چند دہائیوں میں ایگزیکٹو آرڈرز کے ذریعے پنشن اسکیم میں تبدیلیوں سے سرکاری خزانے پر بوجھ بڑھا جسے کم کرنے کے لیے حکومت نے اہم اصلاحات متعارف کرائی ہیں۔نئی اصلاحات کے تحت قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور پنشن میں اضافہ کنزیومر پرائس انڈیکس سے منسلک کیا گیا ہے۔
شریک حیات کے انتقال کے بعد فیملی پنشن کی مدت 10 سال تک محدود کر دی گئی ہے اور اس کے علاوہ ایک سے زائد پنشنز کا خاتمہ کر دیا گیا ہے۔وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ ملازمت کی صورت میں ملازم کو پنشن یا تنخواہ میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ہوگا۔
ماحولیاتی تبدیلی
ماحولیاتی تبدیلی پاکستان کیلئے ایک خظرہ ہے ، یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے ، پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ممالک میں شامل ہے ، ماحولیاتی تبدیلی کے منفی اثرات کا سد باب حکومت کی اہم ترجیحات میں سے ایک ہے ، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے بیش بہا وسائل کی ضرورت ہوتی ہے ، اسی لیے حکومت نے گزشتہ سولہ ماہ میں کلائیمیٹ فنانس پر خصوصی توجہ دی ہے ۔ ورلڈ بینک اور آئی ایف سی ، اپنے کنٹری پارٹنر شپ فرہم ورک کے تحت پاکستان کو اگلے دس سال مین 40 ارب ڈالر کے وسائل مہیا کریں گے ۔ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا اس فریم ورک کی اہم ترجیح ہے ، اسی طرح ایک سال کی انتھک محنت کے بعد آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 1.4 ارب ڈالر کی ریزیلینس اینڈ سسٹینلیبٹی فسیلیٹی فراہم کی ہے ۔
بینظیر انکم سپورٹ پروگرام
حکومت بی آئی ایس پی کو توسیع دینے کا ارادہ رکھتی ہے، بی آئی ایس پی کیلئے 21فیصد اضافے سے716 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے ، کفالت پروگرام کو بڑھا کر ایک کروڑ خاندانوں تک پہنچایا جائے گا۔ تعلیمی وظائف پروگرام کو ایک کروڑ20 لاکھ بچوں تک توسیع دے رہے ہیں۔ہماری حکومت ایک جامع اور موثر سماجی تحفظ کے نظام کے ذریعے معاشرے کے کمزور ترین طبقات کے تحفظ کیلئے پر عزم ہے ، جاری مالی سال 2024-25 کے دوران بینظیر انکم سپورٹ پروگرام نے کم آمدنی والے خاندانوں کو معاشی مشکلات سے بچانے میں اہم کردار ادا کیا، 592 ارب روپے کے مختص فنڈ میں سے ایک کثیر رقم کے ذریعے 99 لاکھ مستحک خاندانوں کو غیر مشروط و نقد امداد فراہم کی گئی ۔
انفارمیشن ٹیکنالوجی
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کی آئی سی ٹی برآمدات میں متاثر کن اضافہ ریکارڈ کیا گیا، سال کے 10 مہینوں میں یہ ایکسپورٹس 3.1 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں ،جو پچھلے سال کی نسبت 21.2 فیصد زیادہ ہیں، یہ نمایاں اضافہ حکومتی پالیسی کےنتیجے میں ہوا، اگلے مالی سال بھی اس شعبے میں ترقی کا سفر جاری رکھا جائے گا۔اگلے پانچ سالوں میں آئی سی ٹی برآمدات کو 25 ارب ڈالر تک بڑھانے کی منصوبہ بندی ہے ۔
توانائی
تمام شہریوں کو سستی اور قابل اعتماد انرجی کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے مالی سال 2025-26 کے ترقیاتی پروگرام میں انرجی سیکٹر کی 47 ترقیاتی سکیموں کیلئے 90.2 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ، اس رقم کا بڑا حصہ پن بجلی منصوبوں سے بجلی کی ترسیل کیلئے مختص ہے، جیسے تربیلا ففتھ ایکسٹینشن ایچ پی پی کیلئے 84 کروڑ روپے، داسو پن بجلی منصوبے کیلئے 10.9 ارب روپے ، سوکی کناری کیلئے 3.5 ارب روپےاور مہمند ڈیم پن بجلی کے منصوبے کیلئے 2 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
صنعتی شعبے کیلئے بجلی 31 فیصد اور ایک کروڑ 80لاکھ مستحقین کیلئے بجلی 50 فیصد سستی ہوگی، فیصل آباد،گوجرانوالہ،اسلام آباد کی تقسیم کار کمپنیوں کی نجکاری کے لوازمات اور50 فیصد کام مکمل ہوچکا، این ٹی ڈی سی کی تنظیم نو کرکے اس 3 نئی کمپنیوں میں تقسیم کردیا ہے۔
مستقبل کے پراجیکٹسو کی منصوبہ بندی اور عملدرآمد ان کمپنیوں کی ذمہ داری ہے ،عالمی معیار کے اہل افراد تعینات ہوں گے، بجلی کے شعبے کیلئے مسبقتی اور آزاد مارکیٹ کیلئے قوانین و ضوابط فائنل،آئندہ 3 ماہ میں عمل شروع ہوگا، سستی بجلی کیلئے 9 ہزار میگا واٹ کے مہنگے بجلی گھروں کی نیشنل گرڈ میں شمولیت ترک کردی گئی ہے، جینکوز کی صورت میں سرکاری ملکیت والے تمام پاور پلانٹس بند،خزانے پر 7 ارب سالانہ کا بوجھ ختم کر دیا گیا ہے ۔
تنخواہ دار طبقے کو ریلیف / ٹیکس سلیب
نئے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا فیصلہ کیا گیاہے ، تنخواہ دار طبقے کیلئے تمام ٹیکس سلیبز میں کمی کر دی گئی، چھ سے بارہ لاکھ تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 1 فیصد ہو گی، 12 لاکھ آمدن پر ٹیکس کی رقم 30 ہزار روپے سے کم کر کے 6 ہزار کی تجویز دی گئی ہے ، 22 لاکھ تک تنخواہ پر ٹیکس کی شرح 15 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ 22 سے 32 لاکھ تنخواہ پر ٹیکس شرح 25 فیصد سےکم کرکے23 فیصد کر دی گئی۔
تنخواہ دار اور چھوٹے کاروباری افراد کیلئے آسان اور صارف دوست ریٹرن فارم متعارف کروایا جائے گا، صرف7 بنیادی معلومات درکار ہوں گی ،صارف دوست ریٹرن فارم بھرنے کیلئے وکیل یا ماہر کی ضرورت نہیں ہوگی،
معیشت
بجٹ مسابقتی معیشت کیلئے ترتیب شدہ حکمت عملی کا آغاز ہے، ہم بنیادی تبدیلیاں لا کر معیشت کا ڈی این اے تبدیل کریں گے، مالی سال2025-26 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح4.2فیصد رہنے کا امکان ہے ، افراط زر کی شرح 7.5فیصد اور بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا3.9فیصد ہوگا، پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.4فیصد ہوگا۔
تعلیم
مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں تعلیم کیلئے 18.5 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، وزیرخزانہ نے بتایا کہسیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر کیلیے 3 ارب مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیر اعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کے تحت 4.3 ارب مختص، 1 لاکھ 61 ہزار 500 نوجوانوں کو تعلیم دی جائے گی۔
اعلٰی تعلیم کی مد میں ایچ ای سی کے 170 منصوبوں کیلئے 39.5 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں ، 38.5 ارب روپے ایچ ای سی کے جاری منصوبوں کیلئے ہیں، سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے بجٹ میں 31 اسکیموں کیلئے 4.8 ارب روپے رکھے گئے ہیں، دانش اسکولوں کی تعمیر کیلئے 9.8 ارب روپے مختص کئے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال وزارت تعلیم کیلئے37 ارب 24 کروڑ سے زائد کا بجٹ مختص کرنے ، ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم کیلئے70 کروڑ 78 لاکھ 2 ہزارمختص کرنے، وزیراعظم پنک بسز برائے خواتین پروگرام کیلئے31 کروڑ 68 لاکھ روپے مختص کرنے ، نیشنل کالج آف آرٹس اسلام آباد کیلئے 23 کروڑ 89 لاکھ ہزار بجٹ مختص کرنےکی تجویز ہے ۔
نیشنل کالج آف آرٹس راولپنڈی کیلئے 13 کروڑ 50 لاکھ کا بجٹ مختص کرنے، ڈائریکٹر جنرل اسپیشل ایجوکیشن کیلئے 20 کروڑ 89 لاکھ 61 ہزار بجٹ مختص کرنے ، نیشنل اسکل یونیورسٹی اسلام آباد کیلئے 10 کروڑ 50 لاکھ روپے کا بجٹ مختص کرنے ، پاکستان اکیڈمی آف لیٹرز کیلئے 65 کروڑ روپےکا بجٹ مختص کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے ۔
ٹیکس محصولات اور اخراجات
ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 14ہزار131 ارب روپے ہے، یہ حجم رواں مالی سال سے 18.7 فیصد زیادہ ہے، وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ8206ارب روپے ہوگا، وفاقی نان ٹیکس روینیو کا ہدف5147 ارب روپے ہوگا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی11ہزار72 ارب روپے ہوگی، وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17ہزار573 ارب روپے ہے، مجموعی اخراجات میں سے8207ارب روپے مارک اپ کی ادائیگیوں کیلئے مختص کیئے گئے ہیں، وفاقی حکومت کا جاری اخراجات کا تخمینہ 16ہزار 286 ارب روپے ہے۔
تیل و گیس
تیل و گیس کی تلاش میں متعلقہ کمپنیوں نے 5 ارب ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کا عزم ظاہر کیا ہے۔
بجٹ کے اہم خدو خال
مالی سال 2025-26 کیلئے اقتصادی ترقی کی شرح 4.2 فیصد رہنے کا امکان ہے ، افراط زر کی اوس شرح 7.5 فیصد متوقع ہے ، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 3.9 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا 2.4 فیصد ہوگا۔
ایف بی آر محصولات کا تخمینہ 14 ہزار 131 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال 18.7 فیصد زیادہ ہے ، وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 8 ہزار 206 ارب روپے ہو گا۔
وفاق نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 147 ارب روپے ہو گا۔
وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 072 ارب روپے ہوگی ۔
وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 17 ہزار 573 ارب روپے ہے ، جس میں سے 8 ہزار 207 ارب روپے مارک اپ کی ادائیگی کیلئے مختص ہوں گے ۔
وفاقی حکومت کے جاریہ اخراجات کا تخمینہ 16 ہزار 286 ارب روپے ہے ۔
وفاق کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے ایک ہزار ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیاہے ۔
دفاع
ملکی دفاع حکومت کی اہم ترین ترجیح ہے ، اس قومی فرض کیلئے 2 ہزار 550 ارب رپوے فراہم کیے جائیں گے، سول انتظامیہ کے اخراجات کیلئے 971 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں، پنشن اخراجات کیلئے 105 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
سبسڈی
بجلی اور دیگر شعبوں کیلئے سبسڈی کے طور پر 1186 ارب روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔
گرانٹس
گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے مختص کیئے جارہے ہیں، جو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر گلگت بلتستان اور خیبرپختون خوا کے نئے ضم شدہ اضلاع وغیر ہ کیلئے ہے ۔
جاریہ اخراجات سے آزاد جموں و کشمیر کیلئے 140 ارب روپے ، گلگت بلتستان کیلئے 80 ارب روپے ، کے پی کے کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 80 ارب روپے اور بلوچستان کیلئے 18 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔
پی ایس ڈی پی / ترقیاتی فنڈز
پی ایس ڈی پی کیلئے 1000 ارب روپے بجٹ مختص کیا گیا ہے، وفاقی ترقیاتی بجٹ میں 328 ارب ٹرانسپورٹ انفرااسٹرکچر کے منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے ، کراچی چمن این 25 شاہراہ کو دو رویہ کرنے کیلئے 100 ارب روپے رکھے گئے ہیں، سکھر حیدرآباد 6 رویہ موٹروے کی تعمیر کیلئے 15 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
تھرکول ریل منصوبے کی بروقت تکمیل کیلئے 7 ارب روپے رکھے گئے ہیں جبکہ گڈانی شپ بریکنگ کی سہولیات کی اپگریڈیشن کیلئےایک ارب 90 کروڑ روپے مختص کیئے گئے ہیں ۔
850 سی سی گاڑیوں پر ٹیکس
وفاقی بجٹ 2025-26 میں 850 سی سی تک کی چھوٹی گاڑیوں پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق اس اقدام کا مقصد پیٹرول، ڈیزل اور ہائبرڈ گاڑیوں پر سیلز ٹیکس میں یکسانیت لانا ہے۔
بجٹ میں غیر رجسٹرڈ کاروبار کے خلاف سخت اقدامات کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔ غیر رجسٹرڈ کاروبار کرنے والوں کے بینک اکاؤنٹس منجمد کیے جائیں گے اور ان کی جائیداد کی منتقلی پر پابندی عائد ہوگی جبکہ سنگین جرائم کی صورت میں کاروباری جگہ سیل اور سامان ضبط کیا جا سکے گا۔
تاہم، متعلقہ فریق کو 30 دن کے اندر اپیل کا حق حاصل ہوگا۔
سولر پینلز
وفاقی حکومت نے مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں پاکستان میں تیار کردہ سولر پینلز کو فروغ دینے کے لیے اہم تجویز پیش کی ہے، جس کے تحت درآمد شدہ سولر پینلز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق یہ اقدام مقامی اور درآمدی سولر پینلز کے درمیان مسابقت کو برابری کی سطح پر لانے کے لیے کیا جا رہا ہے،تاکہ پاکستان میں سولر پینل بنانے والی صنعت کو سہارا دیا جا سکے اور مقامی سطح پر قابلِ تجدید توانائی کے سازوسامان کی تیاری کو فروغ ملے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مقامی صنعت عالمی مارکیٹ میں سستی درآمدات کے باعث دباؤ کا شکار تھی، جس کی وجہ سے پاکستان میں سولر پینلز تیار کرنے والے چھوٹے اور درمیانے درجے کے صنعت کار مشکلات سے دوچار ہو رہے تھے۔ اس تجویز کے ذریعے حکومت مقامی صنعت کو تحفظ فراہم کرتے ہوئے روزگار کے مواقع بڑھانے اور درآمدی انحصار کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
اس وقت پاکستان میں توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی بجلی کی قیمتوں کے باعث سولر انرجی کی مانگ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، مگراس شعبے میں مقامی صنعت کو درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا مسئلہ کم لاگت پر درآمد شدہ پینلز سے مسابقت کرنا ہے۔
سپیشل ریلیف فنڈ فار سولجرز
مسلح افواج کے افسران، سولجرز کیلئے اسپیشل ریلیف الاؤنس کا اعلان کیا گیا ہے، اہل ملازمین کو 30 فیصد ڈسپریٹی ریڈکشن الاؤنس دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق یہ اخراجات مالی سال 2025-26ء کے دفاعی بجٹ سے پورے کیے جائیں گے۔
حکومت نے خصوصی ملازمین کیلئے خصوصی کنوینس الاؤنس کا اعلان بھی کیا ہے، جس کے تحت الاؤنس ماہانہ 4 ہزار سے بڑھا کر 6 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔
آن لائن خریداری پر ٹیکس
مالی سال 2025-26 کا وفاقی بجٹ پیش کیے جانے کے دوران حکومت نے متعدد نئے ٹیکس اقدامات کی تجاویز پیش کی ہیں جن کا مقصد آمدنی میں اضافہ اور معیشت کے مختلف شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سود کی آمدن پر ٹیکس کی شرح میں 5 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس کے بعد یہ شرح 15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد ہو جائے گی۔ تاہم یہ اضافہ صرف غیر فعال طریقے سے حاصل ہونے والی آمدن پر لاگو ہوگا، جبکہ قومی بچت اسکیموں پر اس کا اطلاق نہیں کیا جائے گا۔
بجٹ میں ای کامرس یا آن لائن کاروبار کرنے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ وہ افراد یا کمپنیاں جو آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے اشیاء یا خدمات فروخت کرتے ہیں، ان پر ٹیکس لاگو ہوگا۔ اس کے علاوہ آن لائن آرڈر کی گئی اشیا اور خدمات پر بھی ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ ای کامرس کاروباری افراد کو اپنی ماہانہ ٹرانزیکشنز کا مکمل ڈیٹا اور ٹیکس رپورٹ متعلقہ اداروں کو جمع کروانی ہوگی۔
بجٹ میں قرض کی بنیاد پر حاصل کی جانے والی آمدنی پر بھی 25 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ دوسری جانب شیئرز پر حاصل ہونے والے منافع پر ٹیکس کی شرح میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی اور موجودہ نظام برقرار رکھا گیا ہے۔
آبی وسائل کیلیے 133 ارب روپے مختص
وزیر خزانہ نے بتایا کہ بھارتی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کے پیش نظر پاکستان نے پانی کو اسٹور کرنے اور ضیاع کو روکنے کیلیے وزارت آبی وسائل کیلیے آئندہ مالی میں 133 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
کراچی کے فور کیلیے 3.2 ارب روپے مختص
حکومت نے مالی سال 2025-2026 میں کراچی میں پانی کے منصوبے کے فور کیلیے 3.2 ارب روپے مختص کیے ہیں۔
ڈیموں کیلیے رقم مختص
دیا مر اور بھاشا ڈیم کے لیے 32.7 ارب روپے، مہمند کیلیے 35.7 ارب، آوران پنجگور سمیت بلوچستان کے دیگر 3 ڈیمز کے لیے 5 ارب مختص کیے گئے ہیں۔
سپر ٹیکس میں کمی کا فیصلہ
حکومت نے نئے بجٹ میں سالانہ 20کروڑ سے 50 کروڑ روپے آمدنی پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح
وزیر خزانہ کے مطابق نئی انرجی وہیکل پالیسی منظور کی گئی ہے جس کے تحت الیکٹرک گاڑیوں کو ترجیح دی جائے گی، الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری اور فروخت کو فروغ دینے کیلئے لیوی عائد کرنے کی تجویز ہے۔ لیوی معدنی تیل استعمال کرنے والی گاڑیوں کی فروخت اوردرآمد پرانجن کی طاقت کے مطابق عائد ہوگی۔
پراپرٹی پر ود ہولڈنگ ٹیکس
بجٹ 2025-26 میں جائیداد کی خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 4 فیصد سے کم کرکے 2.5 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ جائیداد کی خریداری پر ود ہولڈنگ ٹیکس کی 3.5فیصد شرح کم کرکے2فیصد کرنے کی تجویز ہے۔
10 وزارتوں کی رائٹ سائزنگ
وزیر خزانہ نے بتایا کہ دس وزارتوں کی رائٹ سائزنگ کی منظوری دے دی گئی، چھ ڈویژنز کو ضم کر کے تین ڈویژن بنادیئے گئے ہیں۔ پینتالیس کمپنیوں اور اداروں کو پرائیوٹائز، ضم یا ختم کیا جارہا ہے، چالیس ہزار پوسٹیں ختم کر دی گئی ہیں، اگلی دس وزارتوں کی رائٹ سائزنگ کی سفارشات حتمی شکل دے دی۔
تجارتی جائیدادوں سے کرایہ کی آمدنی مارکیٹ ویلیو کا چار فیصد ہوگی
وزیر خزانہ نے بتایا کہ تجارتی جائیدادوں سے کرایہ کی آمدنی فیئر مارکیٹ ویلیو کے چار فیصد کی شرح سے تسلیم کی جائے گی، ٹیکس دہندگان کا ڈیٹا تعلیمی اداروں اور ڈونر ایجنسیوں کے ساتھ شیئر کیا جائے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی عائد
حکومت نے بجٹ میں پیٹرولیم مصنوعات پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد کرنے کا اعلان کر دیا۔
بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ فوسل فیول کے زیادہ استعمال کی حوصلہ شکنی اور موسمیاتی تبدیلی اور گرین انرجی پروگرام کے لیے مالی وسائل مہیا کرنے کے لیے یہ تجویز کیا جارہا ہے کہ مالی سال 26-2025 کے لیے پیٹرول، ڈیزل اور فرنس آئل پر 2 روپے 50 پیسے فی لیٹر کی شرح سے کاربن لیوی عائد کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کاربن لیوی مالی سال 27-2026 میں بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر کر دی جائے گی، اس کے علاوہ فرنس آئل پر پیٹرولیم لیوی بھی وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ شرح کے مطابق عائد کی جائے گی۔
سائنس و ٹیکنالوجی
سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے مالی سال 2025-26 میں 31 جاری سکیموں کیلئے 4.8 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں۔
صحت
مالی سال 2025-26 کیلئے وفاقی پبلک سیکٹر پروگرام میں صحت کے شعبے کے 21 اہم منصوبوں کیلئے 14.3 ارب روپے مختص کیئے گئے ہیں جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کافی زیادہ ہیں، ان منصوبوں کے تکمیل سے بیماریوں پر قابو پانے ، صحت کی دیکھ بھال کیلئے انفراسٹرکچر کو جدید بنانے ، اور تمام شہریوں کیلئے علاج معالجے کی یکساں رسائی کو یقینی بنانے میں مدد ملے گی ۔۔
وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں مقبوضہ جموں و کشمیر کے طلباء کے لیے 1,600 سکالرشپس مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ یہ وظائف پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام (PSDP) کا حصہ ہوں گے، جس کا مقصد پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے کشمیری طلباء کی معاونت کرنا ہے۔
یہ اسکیم سب سے پہلے مئی 2019 میں سینٹرل ڈیولپمنٹ ورکنگ پارٹی (CDWP) کے تحت متعارف کروائی گئی تھی ۔ 2025-26 کے بجٹ دستاویز کے مطابق، اسکالرشپ اسکیم کے لیے رواں مالی سال میں 16 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ 2018-19 کے بجٹ میں اس پروگرام کے لیے مجموعی طور پر تقریباً 2.05 ارب روپے مختص کیے گئے تھے۔ ان وظائف کے تحت وفاقی تعلیمی اداروں، خصوصاً فیڈرل ڈائریکٹوریٹ آف ایجوکیشن (FDE) سے منسلک اداروں میں اعلیٰ تعلیم کے خواہش مند طلباء کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد مقبوضہ کشمیر کے نوجوانوں کو تعلیمی مواقع فراہم کرکے ان کے سماجی و اقتصادی حالات کو بہتر بنانا اور پاکستان کی تعلیم پر مبنی نرم سفارتکاری کو فروغ دینا ہے۔
یہ اسکالرشپ اسکیم نہ صرف نوجوانوں کے لیے ایک روشن مستقبل کی امید ہے بلکہ مسئلہ کشمیر کے تناظر میں پاکستان کے اصولی مؤقف کی عملی عکاسی بھی ہے۔ اس اسکیم کو 10 جون 2025 کو پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ میں باضابطہ شامل کیا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت بہتر ہورہی ہے، دستیاب وسائل میں بہترین بجٹ پیش کررہے ہیں، ایکسپورٹ بڑھی ہے، معاشی ترقی کی طرف بڑھنا ہے، قوم اور حکومت نے پچھلے سوا سال میں سنگین حالات اور چیلنجز کا سامنا کیا، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے نے بڑی قربانیاں دیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوری قوم اور مسلم امہ کو حج اور عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں بربریت کی جتنی مذمت کریں کم ہے، عالمی طاقتیں فی الفور اپنا اثر استعمال کرکے جنگ بندی پر عمل کرائیں، خواتین، بچوں، بزرگوں کا بے گناہ خون بہایا جا رہا ہے، فلسطین اور کشمیر کے عوام کی قربانیاں ہیں، انہیں ضرور آزادی ملے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا، آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سوا سال میں جن سنگین حالات اور چیلنجز کا حکومت اور قوم نے سامنا کیا، وہ معمولی کامیابی نہیں، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ہم نے خزانے کو 400 ارب روپے دیئے، قوم کی محنت اور حکومت کی کاوشوں سے پاکستان ایسے پوائنٹ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں ٹیک آف کرنا ہے، باہر سے انفلیشن کے مثبت اشاریے مل رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ میں بہت بڑے جنگی اور معاشی مخالف سے سامنا ہوا، دشمن کہتا تھا میرا پاکستان سے کوئی مقابلہ نہیں، مخالفین کو پیچھے چھوڑنا اور پاکستان کو اصل مقام دلانا ہے، موقع آگیا سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بات کی گئی، پانی کو کوئی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرسکتا، اپنا پانی کا حق لے کر رہیں گے، ہمارا پانی کوئی نہیں روک سکتا، پانی کے معاملے پر نائب وزیراعظم، وزراء، ماہرین کی کمیٹی نے بڑی محنت کی۔
شہباز شریف نے بجٹ کی تیاری پر وزیر خزانہ، متعلقہ وزراء اور ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب نے بڑی تیزی سے بجٹ کی تیاری کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 26-2025 کی تجاویز کی منظوری دے دی، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فنانس بل کی بھی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ کی تنخواہ میں 6 اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت ہونے والے وفاقی کابینہ کے اجلاس میں تنخواہ میں 10 فیصد اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کی تجویز دی ہے ۔
تفصیلات کے مطابق وفاقی کابینہ کے اجلاس میں بجٹ 2025-26 کی مختلف تجاویز پر مشاور کی گئی جس کے بعد تنخواہ میں 10 فیصد اضافے جبکہ پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز کی منظوری دی گئی ۔
قومی اسمبلی کا اجلاس 5 بجے شیڈول ہے جس دوران وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 17 ہزار ارب سے زائد کا بجٹ پیش کریں گے ۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران بجٹ کی مختلف تجاویز پر مشاورت کے بعد منظوری دیدی گئی ۔
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ حجم 17 ہزار 600 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، مجموعی وفاقی ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔
خالص وفاقی آمدن 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8207 ارب روپے مختص کرنے جبکہ دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے۔
حکومتی نظام چلانے کے کیلئے 971 ارب روپے، پینشنز کی ادائیگی کیلئے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سبسڈیز کی مد میں 1186ارب روپے، گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
آئندہ سال جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ بجٹ خسارہ 6501 ارب روہے رہنے کا تخمینہ ہے۔
پینشنز کی ادائیگی کیلئے ایک ہزار 55 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ حکومت بجلی صارفین سمیت مختلف منصوبوں کیلئے ایک ہزار 185 ارب روپے سبسڈیز کی مد میں دے گی۔
نئے بجٹ میں مواصلات، انفرا اسٹرکچر اور قومی صحت کے اہم منصوبوں کیلئے تجویز کردہ فنڈز کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔
ذرائع کے مطابق این 25 کراچی، کوئٹہ، چمن شاہراہ پر 100 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جبکہ ایم 6 موٹروے سکھر تا حیدر آباد کی تعمیر کیلئے 15 ارب مختص ہوں گے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق این 55 انڈس ہائی وے کیلئے 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایم ایٹ ہوشاب، آواران، خضدار شاہراہ کیلئے 7 ارب ارب مختص ہوں گے۔ قراقرم ہائی وے پر ساڑھے 6 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
تھر کول ریل کنیکٹویٹی منصوبے کیلئے 7 ارب روپے، این فائیو فیز ون کو کشادہ کرنے کیلئے 1.9 ارب روپے مختص، ماشکیل پنجگور روڈ، ایسٹ بےایکسپریس وے فیز ٹو کا منصوبہ بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم بھی نئے بجٹ کا حصہ ہے۔
شعبہ قومی صحت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔ دستاویز کے مطابق جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر 4 ارب روپے خرچ ہوں گے، ہیپاٹائٹس سی پروگرام پر قابو پانے کیلئے 1 ارب روپے مختص، شوگر کنٹرول پروگرام پر 80 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
اسلام آباد، خیبرپختونخوا، بلوچستان کیلئے مینٹل ہیتلھ سروسز پائلٹ پراجیکٹ، ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز، رئیل ٹائم برتھ اور ڈیتھ رپورٹنگ کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہیں۔ تمام وفاقی اور بنیادی صحت مراکز میں ون پیشمنٹ ون آئی ڈی منصوبہ شامل، نیشنل اڑان ہیلتھ ڈیش بورڈ کا منصوبہ بھی ترقیاتی پلان کا حصہ ہے۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے سےپہلے ریڈ زون اور اطراف میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی۔پارلیمنٹ ہاؤس اور پاک سیکرٹریٹ کے باہر پولیس کی بھاری نفری تعینات ہے۔
وفاقی بجٹ پیش کرنے کےموقع پر اسلام آباد کی سیکیورٹی ہائی الرٹ کردی گئی ہے،ریڈ زون اورپارلیمنٹ ہاؤس کے اطراف پولیس اور سیکیورٹی ڈویژنز کے چوبیس سو سے زائد افسران و اہلکار تعینات ہیں۔
سرکاری ملازمین کےاحتجاج کے پیش نظرپاک سیکرٹریٹ کےداخلی گیٹوں پر بھی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے،ایس ایس پی سیکیورٹی اور ایس پی سٹی خود سیکیورٹی کی نگرانی کررہےہیں،سرکاری ملازمین نے آج پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے احتجاج کی کال دے رکھی ہے۔
آئندہ مالی سال 26-2025 کے لیےمعیشت کو بحال کرنے،ترقیاتی منصوبوں کی رفتار بڑھانے اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ کنٹرول کرنے کے لیے اہم اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق ملکی اشیاء کی برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے،آئندہ سال اشیاء کی درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر مقرر کیا گیا،خدمات کی برآمدات کا ہدف 9.6 ارب ڈالر مقرر کیا گیا، اگلے مالی سال ترسیلات زر کا ہدف 39.4 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
دستاویز کےمطابق آئندہ مالی سال کے دوران جی ڈی پی گروتھ کا ہدف 4.2 فیصد مقرر کیا گیا ہے جبکہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا منفی 0.5 فیصد رکھا گیا ہےاس خسارے کا مالیاتی تخمینہ 2.1 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔
آئندہ سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد جبکہ مہنگائی کا ہدف ساڑھے 7 فیصد مقرر کردیا گیا۔ سکھر حیدرآباد موٹر وے، کوئٹہ کراچی شاہراہ پر 115 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔
دستاویزات کے مطابق سالانہ پلان 2025، 26 میں اڑان پاکستان پروگرام کے تحت برآمدات پر مبنی معاشی ترقی کو ترجیح قرار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق قومی ترقیاتی پلان پر 4 ہزار 224 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔
فائیو ایز فریم ورک بھی 5 سال کے فریم ورک کا حصہ ہے، فائیو ایز میں برآمدات، ای پاکستان، ماحولیات، توانائی، انفراسٹرکچر شامل ہے۔
زرعی شعبے کا ہدف 4.5،صنعت 4.3 اور خدمات 4 فیصد مقرر، سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 14.70 فیصد مقرر کرنے کی تجویز ہے۔ قومی بچت کا ہدف 14.30 فیصد مقرر کرنے کا امکان ہے۔
دستاویزات کے مطابق سکھر حیدرآباد موٹر وے ایم 6 کیلئے 15 ارب روپے مختص، این 25 کوئٹہ کراچی شاہراہ پر 100 ارب روپے خرچ کئے جائیں گے۔
سندھ میں سیلاب سے متاثرہ اسکولوں کی تعمیر کیلئے 41 ارب روپے، کراچی اور اسلام آباد میں آئی ٹی پارکس کیلئے 11 ارب روپے مختص، کراچی کے پانی سے متعلق منصوبے پر 13 ارب خرچ ہوں گے۔
دستاویزات کے مطابق آئندہ سال کے دوران علامہ اقبال انڈسٹریل سٹی کیلئے 4.4 ارب روپے مختص، ریونیو بڑھانے کے منصوبے کیلئے تین ارب مختص کئے جائیں گے۔
تخفیف غربت پروگرام کے تحت وفاق اور صوبوں نے مجموعی طور پر 42 سو ارب روپے سے زائد اخراجات کیے۔سب سے زیادہ رقم تعلیم،صحت،بی آئی ایس پی اور زرعی شعبے پرخرچ کی گئی۔
غربت میں کمی کے لیے وفاقی وصوبائی حکومتوں کے مجموعی اخراجات کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔سما کو موصول دستاویزات کے مطابق تخفیف غربت پروگرام کے تحت پاکستان بھر میں 44 سو ارب روپے سے زائد خرچ کیے گئے۔بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 5سو 98 ارب روپے مختص کیے گئے، جس سے 98 لاکھ 70 ہزار افراد مستفید ہوئے۔
بی آئی ایس پی کے تحت 3 سو 85ارب 54 کروڑ روپے تقسیم کیے گئے۔زرعی شعبے پر وفاق اور صوبوں نے مجموعی طور پر 4 سو 20 ارب روپے خرچ کیے۔تعلیم پر 8 سو 82 ارب روپے خرچ ہوئے جو مجموعی اخراجات کا 20 اعشاریہ 77 فیصد بنتے ہیں۔صحت کےشعبے پر 6 سو 69 ارب جبکہ امن و امان پر 5 سو 97 ارب روپے خرچ کیے گئے۔
جسٹس ایڈمنسٹریشن پر 1 سو 3 ارب جبکہ کم لاگت گھروں پر ساڑھے 33 ارب روپے خرچ ہوئے۔قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے 64 ارب 23 کروڑ اور سڑکوں و پلوں پر 3 سو 54 ارب روپے خرچ کیے گئے۔دیہی ترقیاتی محکموں کے ذریعے 109 ارب 54 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
سوشل سکیورٹی اور ویلفیئر پر 554 ارب اور سبسڈیز کی مد میں 3 سو 76 ارب 90کروڑ روپے صرف کیے گئے،ماحولیات اور پانی کی فراہمی پر 60 ارب 69 کروڑجبکہ پاپولیشن پلاننگ پرصرف 24 ارب 66 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔
پی ٹی آئی نےبجٹ پرحکومت کوٹف ٹائم دینےکے لیے احتجاج کی تیاری کرلی،قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پی ٹی آئی کی پارلیمانی کمیٹیوں کا مشترکہ اجلاس طلب کرلیا گیا۔
پارلیمانی پارٹیوں کا مشترکہ اجلاس سہہ پہر 3 بجے پارلیمنٹ ہاوس میں ہوگا،ایوان بالا اور زیریں کے بجٹ اجلاسوں کی حکمت عملی طے کی جائے گی،تمام ارکان قومی اسمبلی و سینیٹر کو پارلیمنٹ ہاؤس پہنچنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پارٹی ذرائع کےمطابق اجلاس میں آج پیش ہونےوالے بجٹ کےلیےمنصوبہ بندی طے کی جائے گی،،اجلاس میں پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج زیرغور لایا جائے گا۔
اس حوالے سےبیرسٹرگوہرکا کہنا ہے کہ بجٹ کے خلاف اپنا بھر پوراحتجاج ریکارڈ کرائیں گئے،بجٹ میں کفایت شعاری اور مہنگائی کنٹرول کرنے کے لیے کوئی منصوبہ بندی نہیں ہے،نہ کوئی ریفارمز لائی جا رہی ہے اور نہ ہی معیشت کی بہتری کے لیے کوئی اور بڑا اقدام نظر آرہا ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کے لیے 3 تجاویز زیر غور ہیں۔ تنخواہیں 6، 10 یا 15 فیصد بڑھانے میں سے کسی ایک تجویز کی حتمی منظوری وفاقی کابینہ دے گی۔
سرکاری ملازمین نے نئے بجٹ میں وفاقی حکومت سے مہنگائی کی مناسبت سے تنخواہوں میں اضافے کے لیے امیدیں وابستہ کررکھی ہیں۔ ملازمین نے حکومت سے تنخواہوں میں کم ازکم 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔ مطالبہ پورا نہ ہو نے کی صورت میں ملازمین نے احتجاج کی کال بھی دے رکھی ہے۔
وزیراعظم کی زیرصدارت اعلیٰ سطح اجلاس میں ملازمین کی تنخواہوں میں اضافے کی تجاویز پر غور کیا گیا۔ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 6، 10 اور 15 فیصد اضافے کی تجاویز ہیں۔ وزارت خزانہ نے مالی مشکلات کے باعث ملازمین کو کم سے کم ریلیف دینے کی تجویز دی ہے۔ وفاقی کابینہ تین میں سے کسی ایک تجویز کی حتمی منظوری دے گی۔
تنخواہ دار طبقے کےلیے انکم ٹیکس سیلب میں بھی ردوبدل کرکے ٹیکس چھوٹ کی سالانہ حد 6 لاکھ روپے سے زائد کرنے کی تجویز ہے۔
خیال رہے کہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس دینے میں سب کو پیچھے چھوڑ گیا، تنخواہ دار طبقے نے رواں مالی سال کے 11 ماہ میں 499 ارب روپے ٹیکس دیا۔ تنخواہ دار طبقےکا ٹیکس کسی بھی شعبے سے وصول ٹیکس سے زیادہ ہے۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں فروزن فوڈز پر 5 فیصد اضافی ایکسائز ڈیوٹی کی سفارش کی گئی ہے، چپس اور کولڈ ڈرنکس پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہے۔
نوڈلز، آئس کریم اور بسکٹس پر بھی 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی کی تجویز ہے، فروزن گوشت، ساسز اور تیار شدہ خوراک پر 5 فیصد ایکسائز ڈیوٹی لگانے کی تجویز ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-2026 کا 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ آج شام کو پیش کیا جائے گا، وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
نئے بجٹ میں پی ایس ڈی پی کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں,41 وزارتوں وڈویژنز پر 682 ارب 79 کروڑ روپےخرچ ہوں گے۔
بجٹ دستاویزات کےمطابق2 کارپوریشنزکیلئے 317 ارب 20 کروڑ روپےمختص کیےگئے ہیں،سڑکوں کی تعمیرکیلئے این ایچ اے کو 227 ارب روپے ملیں گے،پاورڈویژن اور این ٹی ڈی سی کیلئے 90 ارب سے زائد مختص،آبی وسائل کیلئے 133 ارب 42 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
صوبوں اورخصوصی علاقوں کیلئے 253 ارب سے زائد ترقیاتی بجٹ رکھا گیا ہے
،صوبائی منصوبوں کیلئے 105 ارب 78 کروڑ رکھے گئے ہیں،سابق فاٹا کے پختونخوا میں ضم اضلاع کیلئے 65 ارب 44 کروڑ مختص کیے گئے ہیں،آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کو 82 ارب کے ترقیاتی فنڈز ملیں گے،ارکان پارلیمنٹ کی ترقیاتی اسکیموں کیلئے 70 ارب روپے مختص کیے گئے۔
نئےبجٹ میں ایچ ای سی کیلئے 39 ارب 40 کروڑرکھےگئےہیں،وفاقی تعلیم کے منصوبوں کیلئے 13 ارب 50 کروڑ روپے مختص کیےگئے،اس کے علاوہ قومی صحت کے منصوبوں کیلئے14 ارب 34 کروڑ روپے رکھے ہیں،
وزارت داخلہ کیلئے 12 ارب 90 کروڑ ریلوے کے لیے 22 ارب 41 کروڑ رکھے گئے،وزارت منصوبہ بندی 21 ارب روپے سے زیادہ خرچ کرےگی،آئی ٹی اور ٹیلی کام کے شعبےمیں 16 ارب سے زیادہ خرچ کرنے کا پلان ہے۔
وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 15 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ مختص کیا گیا ہے،ریونیو ڈویژن کیلئے 7 ارب روپے سے زیادہ فنڈزمختص کیے گئے،دفاعی ڈویژن کیلئے 11 ارب 55 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،وزارت اطلاعات 6 ارب روپے سے زیادہ کا ترقیاتی بجٹ خرچ کرے گی،سپارکو کیلئے ترقیاتی بجٹ میں 5 ارب 41 کروڑ روپے مختص کیے گئے۔دفاعی پیداوار کیلئے ایک ارب 75 کروڑ کا ترقیاتی بحٹ مختص کیے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق فوڈ سیکیورٹی کیلئے 4 ارب روپے سے زائد کا بجٹ خرچ ہوگا،سائنس و ٹیکنالوجی کیلئے 4 ارب روپے رکھے گئے ہیں،وزارت میری ٹائمز کیلئے 3 ارب 56 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،ماحولیاتی تبدیلی کیلئے 2 ارب70 کروڑ رکھے گئے ہیں۔
صنعت و پیداوار کیلئے ایک ارب 90 کروڑ رکھے گئے ہیں،سرمایہ کاری بورڈ کیلئے ایک ارب 10 کروڑ روپے مختص کیے گئے،بین الصوبائی رابطہ کیلئے ایک ارب17 کروڑ روپے مختص کیے گئے،امور کشمیر کیلئے ایک ارب 80 کروڑ،وزارت قانون کے لیے ایک ارب 39 کروڑ مختص کیے ہیں،قومی ورثہ کیلئے ایک ارب 67 کروڑ روپے مختص کیے گئے،ایٹمی توانائی کمیشن کیلئے 76 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں،ایس آئی ایف سی کیلئے 50 کروڑ روپے سے زیادہ فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
آئندہ مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ میں بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق بینک ڈیپازٹس اور بچت اسکیموں پر ٹیکس بڑھانے کی تجویز جبکہ نان فائلرز پر کیش نکلوانے پر ودہولڈنگ ٹیکس بڑھنے کا امکان ہے۔
ودہولڈنگ ٹیکس کی شرح 0.6 فیصد سے بڑھ کر 1.2 فیصد متوقع ہے، یومیہ 50 ہزار سے زیادہ رقم نکلوانے پر اضافی ٹیکس کی تجویز ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل سے چلنے والی گاڑیوں پر لیوی لگانے کی تجویز ہے، کیپٹل گین اور منافع پر بھی ٹیکس میں اضافے کی تجویز ہے۔ نئے بجٹ میں سپر ٹیکس کی شرح میں کمی کی تجویز زیرغور ہے، ای کامرس پر بھی 18 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
نئے بجٹ میں پراپرٹی،رئیل اسٹیٹ، تعمیراتی شعبے کو ریلیف ملنے کا امکان ہے۔
بجٹ 2025-26 کی ٹیکس تجاویزمیں پراپرٹی،ریئل اسٹیٹ سیکٹرکیلئے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی تجویز ہے، ایف ای ڈی ختم کرنے کا اطلاق یکم جولائی 2025 سےکیا جاسکتا ہے، ایف ای ڈی ختم ہونے سے تعمیراتی شعبےمیں سرگرمیاں اور ٹیکس آمدن بڑھنے کا امکان ہے۔
اس کے علاوہ ریئل اسٹیٹ سیکٹر سے وابستہ بلڈرز اور ڈویلپرز کی رجسٹرڈیشن شروع کرنےکی بھی تجویز ہے، اوورسیز پاکستانیوں کو تعمیراتی شعبے میں سرمایہ کاری کیلئے مراعات دینے کی تجویز ہے۔
سمندر پارپاکستانیوں کیلئے پراپرٹی پر ایف ای ڈی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے،پراپرٹی کی خریداری پر ٹیکس چھوٹ کیلئےاین اوسی کی شرط ختم ہونےکا امکان ہے۔
پراپرٹی کی خریداری پرلیٹ اور نان فائلرز کیلئے ایکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کی تجویز ہے،اس کے علاوہ بجٹ میں پراپرٹی ٹرانزیکشن پر ودہولڈنگ ٹیکس میں بھی ردوبدل کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال 26-2025 کے وفاقی بجٹ کے اہم نکات سامنے آگئے ہیں جن کے مطابق آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، مجموعی وفاقی ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔
خالص وفاقی آمدن 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8207 ارب روپے مختص کرنے جبکہ دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے۔
حکومتی نظام چلانے کے کیلئے 971 ارب روپے، پینشنز کی ادائیگی کیلئے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سبسڈیز کی مد میں 1186ارب روپے، گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے ، ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
آئندہ سال جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ بجٹ خسارہ 6501 ارب روہے رہنے کا تخمینہ ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-2026 کا 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ آج شام کو پیش کیا جائے گا، وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگایا جائے گا۔
وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم سترہ ہزار 600 ارب روپے ہونے کا امکان ہے ۔ ٹیکس وصولی کا ہدف 14 ہزار 130 ارب روپے رکھنے اور دفاعی بجٹ میں 18 فیصد سے زیادہ اضافہ متوقع ہے۔
بجٹ میں فری لانسرز کی آمدن پر بھی ٹیکس لگایا جائے گا۔ 3500 سے زائد امپورٹڈ اشیا پر ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی جبکہ درآمدی سامان پر اضافی کسٹم ڈیوٹی میں کمی کی امید ہے۔ ہزار 600 ارب روپے کے نئے بجٹ میں مختلف شعبوں پر اضافی ٹیکس لگے گا۔
17 بعض شعبوں کو ٹیکس میں رعایت بھی ملے گی۔ حکومت کا نئے مالی سال سے زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی شروع کرنے کا پلان ہے نئے بجٹ میں پراپرٹری پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے کی بھی تجویز ہے، بیرون ملک سے فری لانسنگ کے ذریعے کمائی بھی ٹیکس نیٹ میں آئے گی۔ ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کمائی پر بھی اضافی ٹیکس لگایا جائے گا۔
آئی ایم ایف نے کھاد، کیڑے مار ادویات اور بیکری آئٹمز پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ کیا ہے۔ایف بی آر ذرائع کے مطابق مشروبات اور سگریٹ سیکٹر پر ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔ سابق فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرکے 12 فیصد ٹیکس لگانے پربھی غور جاری ہے۔
ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافہ جبکہ گریڈ ایک سے 16 تک کے سرکاری ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس دینے اور ایڈہاک ریلیف الاؤنس بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی تجویز ہے۔
صنعتی شعبے کے لیے خام مال کی درآمد پر بھی ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے۔ ساڑھے 800 سی سی مقامی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں 5.5 فیصد اضافہ زیرغور ہے۔ نئے بجٹ میں بڑی کمپنیوں کے لیے سپر ٹیکس میں بتدریج کمی کی تجویز ہے۔ تعمیراتی صنعتوں کیلئے بھی خام مال پر ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی متوقع ہے۔ نئے بجٹ میں اشیا اور خدمات کی مجموعی برآمدات کا ہدف 44.9 ارب ڈالرمقرر کیا گیا ہے۔ برآمدات کا ہدف 35.3 ارب ڈالر جبکہ درآمدات کا ہدف 65.2 ارب ڈالر رکھنے کی تجویز ہے۔
بجٹ میں 850 سی سی کی مقامی گاڑیاں، بیکری آئٹمز، کھاد اور کیڑے مارادویات مہنگی ہونے کا امکان جبکہ سگریٹ اور مشروبات سستے ہوں گے ۔ سوشل میڈیا سے ڈالر کمانے والے بھی ٹیکس نیٹ میں آئیں گے۔
مقامی مینوفیکچرڈ کاروں پر جی ایس ٹی ساڑھے 12 سے بڑھ کر 18 فیصد ہونے کی توقع ہے، بجٹ میں پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم جبکہ کیپٹل گین ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویزہے۔
ذرائع کے مطابق سگریٹ پر ہر سال ٹیکس بڑھانے کی روایت ختم کردی گئی ۔ مشروبات بھی سستے ہونے کا امکان ہے۔ سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے۔ بیکری آئٹمز، کھاد اور کیڑے مار ادویات مہنگی ہونے کا امکان ہے ۔آئی ایم ایف نے تینوں چیزوں پر ٹیکس لگانے پر زور دیا ہے۔
سوشل میڈیا سے ڈالر کمانے والے بھی سرکار کو آمدن میں سے حصہ دیں گے ۔ بیرون ملک سے فری لانس آمدن کمانے والوں پر ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے، ڈیجیٹل یا سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سے حاصل کمائی پر اضافی ٹیکس لگنے کا امکان ہے۔ سابق فاٹا ریجن کو حاصل چھوٹ ختم کرکے بارہ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال کا بجٹ آج پیش کیا جائے گا، حجم 17 ہزار 600 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے مالی سال 2025-2026 کا 17 ہزار 600 ارب روپے کا بجٹ آج شام کو پیش کیا جائے گا، وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔
معاشی شرح نمو کا ہدف 4 اعشاریہ دو فیصد رکھنے کی تجویز ہے ۔ مہنگائی کا ہدف 7 اعشاریہ 5 فیصد، آمدن کا تخمینہ 19 ہزار 400 ارب اور ٹیکس وصولی کا ہدف 14 ہزار 130 ارب، قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 100 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ دفاعی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ متوقع ہے۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے ۔ گریڈ ایک سے سولہ تک کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس آج شام 5 بجے ہوگا۔ 4 نکاتی ایجنڈا جاری کردیا گیا۔ وزیرخزانہ محمداورنگزیب فنانس بل 2025،26 پیش کریں گے جس میں اقتصادی جائزہ رپورٹ بھی شامل ہوگی۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ کا خصوصی اجلاس آج ہوگا۔ اجلاس میں بجٹ تجاویز کی منظوری دی جائے گی۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے پارلیمانی رہنماؤں کا مشاورتی اجلاس بھی شام 4 بجے طلب کرلیا ہے ۔ اجلاس میں ایوان کے بجٹ سیشن کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ وفاقی بجٹ پر بحث سمیت دیگر امور کا دورانیہ طے ہوگا۔ مشاورتی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر غلام مصطفیٰ شاہ بھی شریک ہوں گے۔
وفاقی بجٹ 2024-25 کی تفصیلات سامنے آ گئیں ہیں جس میں کئی اشیاء مہنگی اور کچھ سستی ہونے کی توقع ہے، جبکہ ٹیکس نیٹ میں توسیع کے لیے حکومت نے نئی تجاویز بھی تیار کر لی ہیں۔
ذرائع کے مطابق 850 سی سی تک کی مقامی گاڑیاں مہنگی ہونے کا امکان ہے، کیونکہ ان پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 12.5 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح بیکری مصنوعات، کھاد اور کیڑے مار ادویات پر بھی ٹیکس لگانے کی تجاویز دی گئی ہیں، جس سے یہ اشیاء بھی مہنگی ہو سکتی ہیں۔
دوسری جانب، سگریٹ اور مشروبات پر ٹیکسوں میں کمی کی تجویز دی گئی ہے، اور امکان ہے کہ یہ اشیاء سستی ہو جائیں۔ سگریٹ پر ہر سال ٹیکس بڑھانے کی پرانی روایت کو ختم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
بجٹ میں پراپرٹی سیکٹر سے متعلق اہم فیصلہ بھی متوقع ہے، جہاں فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کی جا رہی ہے، لیکن کیپیٹل گین ٹیکس (CGT) کی شرح میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کے لیے سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز سے کمانے والوں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لانے کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے۔ بیرون ملک سے فری لانسنگ یا سوشل میڈیا کے ذریعے آمدن حاصل کرنے والوں پر اضافی ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔
سابقہ فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے، جہاں 12 فیصد ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
سینیٹ کا اجلاس کل شام چھ بجے طلب کر لیا گیاہے جس میں مالیاتی بل 2025 پیش کیا جائے گا، اجلاس کا آٹھ نکاتی ایجنڈا بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
سینیٹ کا اجلاس کل شام چھ بجے طلب کر لیا گیا ۔ ایوان بالا میں مالیاتی بل دو ہزار پچیس سمیت آٹھ نکاتی ایجنڈے پر اہم قانون سازی کی جائے گی۔ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالیاتی بل اور انکم ٹیکس ترمیمی بل پر سفارشات بھی پیش کریں گے۔
اجلاس میں مالیاتی بل دو ہزار پچیس پیش کیا جائے گا۔ انکم ٹیکس دوسرا ترمیمی بل دو ہزار پچیس سے متعلق رپورٹ ایوان میں رکھی جائے گی۔ ان بلز پر قائمہ کمیٹی خزانہ کی سفارشات پر بھی غور کیا جائے گا۔وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالیاتی بل پر سفارشات پیش کرنے کے لیے تحریک بھی پیش کریں گے۔
سوسائٹیز رجسٹریشن ترمیمی بل دو ہزار پچیس سے متعلق رپورٹ بھی ایوان میں پیش کی جائے گی۔کنٹرول آف نارکوٹک سبسٹینسز ترمیمی بل دو ہزار چوبیس اورپرائس کنٹرول اینڈ پریوینشن آف پرافیٹیرنگ اینڈ ہورڈنگ ترمیمی بل دو ہزار چوبیس سے متعلق رپورٹس بھی اجلاس کا حصہ ہوں گی۔
پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی ) کے رہنما چوہدری منظور احمد نے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشنز میں کم از کم 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کردیا۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پی پی رہنما چوہدری منظور احمد کا کہنا تھا کہ مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت 50 ہزار روپے مقرر کی جائے۔
چوہدری منظور نے ای او بی آئی (ایمپلائز اولڈ ایج بینیفٹس انسٹی ٹیوشن) کی پنشن میں 100 فیصد اضافے کا مطالبہ کیا اور ریٹائرڈ صنعتی ملازمین کے لیے علاج کی سہولیات فراہم کرنے پر زور دیا۔
پی پی رہنما نے سرکاری اداروں کی نجکاری کی پالیسی کی بھی شدید مخالفت کی اور اسے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔
وفاقی بجٹ کے موقع پر آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس نے منگل کو ( کل ) پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کا اعلان کردیا۔
وفاقی بجٹ کے موقع پر سرکاری ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میں دھرنے کی کال دے دی ہے اور آل گورنمنٹ ایمپلائز گرینڈ الائنس کے تحت ملک بھر سے ہزاروں ملازمین اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوں گے۔
رہنما اگیگا رحمٰن علی باجوہ نے کہا کہ سرکاری ملازمین اپنے حقوق کے لیے پرعزم ہیں اور ہر قربانی کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگیگا پاکستان کے ساتھ کئے گئے معاہدے پر مکمل عمل کیا جائے، تنخواہوں میں تفریق ختم کی جائے اور 30 فیصد ڈسپیریٹی ریڈکشن الاؤنس دیا جائے۔
رحمٰن علی باجوہ نے پنشن اصلاحات کو ملازمین کا معاشی قتل قرار دیا اور کہا کہ بوڑھے پنشنرز کو باعزت زندگی کا حق دیا جائے جبکہ میڈیکل، کنوینس اور ہاؤس الاؤنس میں سو فیصد اضافے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
اساتذہ کی تنخواہوں میں ٹیکس ریبیٹ کی بحالی کے احکامات جاری کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔
حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق تعلیمی شعبے میں بہتری کے مثبت اثرات سامنے آئے ہیں جس میں اسکولوں میں داخلوں اور خواندگی کی شرح میں قابل ذکر اضافہ ہوا ہے۔
اقتصادی سروے کے مطابق پرائمری اسکولوں میں بچوں کے داخلے کی شرح میں 3.2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ 2023 میں پرائمری اسکولوں میں طلبہ کی تعداد 2 کروڑ 38 لاکھ 61 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 2 کروڑ 48 لاکھ 30 ہزار ہو گئی۔
اسی طرح مڈل اسکولز میں داخلے کی شرح میں 4.7 فیصد اضافہ دیکھا گیا جبکہ 2023 میں مڈل اسکولز میں طلبہ کی تعداد 94 لاکھ 30 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 96 لاکھ 80 ہزار ہو گئی۔
ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں بھی 3.8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے واضح ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے حصول کا رجحان بھی بڑھ رہا ہے۔
اسکولز کی مجموعی تعداد بھی بڑھی ہے اور 2023 میں ملک بھر میں اسکولز کی تعداد 42 لاکھ 20 ہزار تھی جو 2024 میں بڑھ کر 48 لاکھ 90 ہزار ہو گئی۔
شرح خواندگی کے حوالے سے سروے میں بتایا گیا ہے کہ 2023 میں دیہی علاقوں میں شرح خواندگی 51.56 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں یہ شرح 74.9 فیصد رہی۔
دیہی علاقوں میں مردوں کی شرح خواندگی 61.2 فیصد، خواتین کی 41.62 فیصد اور خواجہ سراؤں کی 32 فیصد رہی۔
شہری علاقوں میں خواجہ سراؤں کی شرح خواندگی 42.4 فیصد ریکارڈ کی گئی جبکہ مجموعی طور پر خواجہ سراؤں میں شرح خواندگی 40.15 فیصد رہی۔
پنجاب
پنجاب میں شرح خواندگی 66.25 فیصد رہی، مردوں میں شرح 71.98، خواتین میں 60.19 اور خواجہ سراؤں میں 41.3 فیصد رہی۔
دیہی علاقوں میں مردوں کی شرح 65.9 اور خواتین کی 50.51 فیصد رہی۔
سندھ
سندھ میں مجموعی شرح خواندگی 57.94 فیصد رہی، دیہی علاقوں میں شرح 38.14 اور شہری علاقوں میں 72.26 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
دیہی خواتین کی شرح خواندگی 27 فیصد اور مردوں کی 48.6 فیصد رہی جبکہ دیہی علاقوں میں خواجہ سراؤں کی شرح 27 فیصد اور شہری علاقوں میں 39.28 فیصد رہی۔
خیبرپختونخوا
شرح خواندگی 51 فیصد ریکارڈ کی گئی، مردوں میں 62.55، خواتین میں 33.76 اور خواجہ سراؤں میں 39.26 فیصد شرح خواندگی رہی۔
دیہی علاقوں میں مجموعی شرح خواندگی 48 فیصد اور شہری علاقوں میں 65.55 فیصد رہی۔
بلوچستان
شرح خواندگی 42 فیصد رہی، مردوں میں 50، خواتین میں 32 اور خواجہ سراؤں میں 24 فیصد رہی۔
دیہی علاقوں میں شرح 35.74 فیصد جبکہ شہری علاقوں میں 55.86 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر جگہ فارم 47کا رواج چل چکا ہے اور اقتصادی سروے میں بھی اسی طریقہ کار کا استعمال کیا گیا۔
اپنے حالیہ بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام پر جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد ہے جبکہ پچھلے سال حکومت نے 3.6 فیصد کا ہدف رکھا تھا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں شرح نمو 5.7 فیصد اور 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر 6.4 فیصد تھی لیکن اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی پر بری معاشی کارکردگی کا دھبہ لگایا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت بہتر معاشی صورتحال کا چورن کب تک بیچے گی۔
مزمل اسلم کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر شرح نمو 2022-23 میں منفی 0.2 فیصد ہوئی اگلے سال 2.5 فیصد رہی اور رواں سال حکومتی دعوؤں کے مطابق 2.7 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی ڈھائی فیصد بڑھ رہی ہے جبکہ پچھلے تین سالوں سے شرح نمو کی اوسط ڈیڑھ فیصد ہے۔
مشیر خزانہ نے معاشی بدحالی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر پہلی بار 30 فیصد مال مویشی کراچی سے واپس چلے گئے۔
انہوں نے مہنگائی کی شرح کم کرنے کے حکومتی دعوؤں کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ زیادہ ٹیکسز کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہوگئی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ اہم فصلوں میں 13.5 فیصد گراوٹ آئی ہے، گندم، گنا، چاول اور مکئی سمیت سب گروتھ کا شکار ہیں۔
انہوں نے طنزیہ کہا کہ پی ڈی ایم حکومت ہر سال لائیو اسٹاک پیداوار بڑھا دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ جہاں انسانوں کے لیے اشیائے خوردونوش کی کمی ہو وہاں لائیو اسٹاک پیداوار کیسے بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی صنعتوں کے پیچھے چھوٹی صنعتیں چلتی ہیں اور حکومت کے مطابق بڑی صنعتوں میں 1.5 فیصد کمی ہوئی لیکن "قدرت کا کرشمہ" یہ ہے کہ چھوٹی صنعتوں میں 8.8 فیصد گروتھ ہوئی۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 45 فیصد آبادی شرح غربت سے نیچے چلی گئی ہے اور اگر 24 کروڑ آبادی میں 11 کروڑ عوام شرح غربت سے نیچے ہیں تو یہ معاشی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے، ملک میں کور انفلیشن اب بھی 11.6 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں بھی حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی کوئی خاص گنجائش نہیں ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمزور طبقے کو خوشخبری سناتے ہوئے کہاہے کہ بجٹ میں کمزور ترین طبقے کیلئے اقدامات کا اعلان کروں گا، ایک یا 2 کروڑ نوکریاں دینے کے نعروں کے حق میں نہیں ، کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کیلئے کام کریں گے۔ وزیر خزانہ نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافے کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ۔
وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عملدرآمد کا ایشو ہے،ہمارے ہاں قانون سازی بہت ہے، عالمی بینک کی پاکستان میں غربت کی رپورٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہو چکی، عالمی بینک بھی سالانہ 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے کئی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر اجلاس اگست میں بلایا جائے گا، حکومت کا کام روزگار کیلئے ایکو سسٹم پیدا کرنا ہے، ملک میں معاشی استحکام آیا ہے، پاکستان کو اصلاحات کیلئے آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے، معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں، حاصل کردہ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے، آنے والے برسوں میں فنانسنگ کی ضرورت کم ہوتی جائے گی، اگلے سال 4.2 فیصد ترقی کے ہدف کے حصول کیلئے درست سمت پر ہیں۔
قومی اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ (جولائی 2024 تا مارچ 2025) کے دوران حکومتی قرضوں میں 4,090 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔
سروے کے مطابق مارچ 2025 تک وفاقی حکومت کے مجموعی قرضوں کا حجم 69,195 ارب روپے تک پہنچ گیا جو جون 2024 میں 65,105 ارب روپے تھا۔
مارچ 2025 تک مقامی قرضوں کا حجم 51,518 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا جبکہ بیرونی قرضوں کا حجم 24,489 ارب روپے رہا۔
قرضوں میں اضافے کی بنیادی وجہ حکومتی اخراجات اور مالیاتی خسارے کو پورا کرنے کے لیے قرضوں پر انحصار ہے۔
ٹیکس چھوٹ کے حوالے سے سروے کے مطابق، رواں مالی سال مختلف شعبوں کو 5,840 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی جس میں سب سے زیادہ 4,253 ارب روپے سیلز ٹیکس، 800 ارب روپے سے زائد انکم ٹیکس، اور 785 ارب روپے کسٹم ڈیوٹی کی مد میں شامل ہیں۔
قومی اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق رواں مالی سال مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 5,840 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,961 ارب روپے زیادہ ہے۔
سروے کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس چھوٹ سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی جس کا حجم 4,253 ارب روپے سے زائد رہا جبکہ انکم ٹیکس کی مد میں 800 ارب روپے سے زائد اور کسٹم ڈیوٹی میں 785 ارب روپے سے زیادہ کی چھوٹ دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق موبائل فونز پر 87.95 ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ دی گئی جبکہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو 61 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ حاصل ہوئی۔
آٹوموبائل سیکٹر اور سی پیک سے متعلق منصوبوں کو 133 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی جبکہ برآمدی شعبے کے لیے 178 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی معاف کی گئی۔
سروے کے مطابق رواں مالی سال پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 12.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان نے 12.53 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں جو گزشتہ سال کے 11.14 میٹرک ٹن کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود درآمداتی بل پر زیادہ فرق نہیں پڑا، اور پیٹرولیم سیکٹر کا درآمداتی بل 8.4 ارب روپے رہا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نےقومی اقتصادی سروے کا اجراء کر دیا،دستاویزات کےمطابق رواں مالی سال میں پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 12.5 فیصد اضافہ رہا۔
قومی اقتصادی سروے کےمطابق عالمی سطح پرپیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سےدرآمدی بل پر زیادہ فرق نہیں پڑا،پیٹرولیم سیکٹر کا درآمدی بل 8 ارب 40 کروڑ رہا۔
رواں سال پاکستان نے 12.53میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں،گزشتہ سال11.14میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کی گئیں۔
پاکستان بزنس فورم نے زرعی شعبے میں صرف 0.56فیصد ترقی کو حکومت کی ناکامی قرار دے دیا۔
قومی اقتصادی سروے 2024025 پر پاکستان بزنس فورم کا رد عمل سامنے آ گیا،چیف آرگنائزر احمد جواد نے کہاکہ بہتر حکمت عملی سےزرعی شعبےکو بہترکیاجاسکتا تھا،وزیراعظم اگلےمالی سال میں زرعی ایمرجنسی نافذ کریں،ترجیجی بنیادوں پرحل کیےبغیرزرعی بحران کبھی بھی ٹل نہیں سکتا،زرعی شعبے کی گروتھ کا ہدف صرف دو فیصد تھا وہ بھی حاصل نہیں ہو سکا۔
زرعی شعبےکی صفر اعشاریہ پانچ چھ فیصد گروتھ حکومت کی ناکامی ہے،پاکستان بزنس فورم کے مطابق وزارت خزانہ زرعی شعبے کی ترقی میں رکاوٹ رہی،گرتی زرعی پیداوار معیشت کیلئے لمحہ فکریہ ہے،کاٹن جیننگ کی گروتھ منفی 19 فیصد رہی۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اقتصادی سروے کا اجراء کر دیا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ معیشت میں بتدریج بہتری آئی ہے، اس سال جی ڈی پی گروتھ2.7 فیصد رہی، 2023 میں شرح نمو منفی0.2اور 2024میں 2.5فیصد تھی۔ 2023 کے بعد شروع ہونے والی ریکوری2024میں صحیح سمت میں چلی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ وزیراعظم کی قیادت میں معاشی اشاریوں میں بہتری آئی، جی ڈی پی میں اضافہ معاشی ترقی کی علامت ہے، ملکی مجموعی پیداوارمیں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، افراط زر میں ریکارڈ کمی آئی، پاکستان میں مہنگائی کی شرح اس وقت 4.6فیصد پر ہے۔ درست سمت میں جارہے ہیں،کامیابی سے مہنگائی پر قابو پایا۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ عالمی مجموعی پیداوار کی شرح میں کمی آئی، ہماری معاشی ریکوری کوعالمی منظرنامے میں دیکھا جائے، پالیسی ریٹ 22 فیصد سے کم ہوکر11 فیصد پر آگیا، قرضوں کی شرح 68فیصد سے کم ہوکر65 فیصد پر آگئی۔
انہوں نے کہا کہ رواں مالی سال کے دوران ملک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ ہوا ہے، آئی ایم ایف پروگرام کا مقصد معاشی استحکام لانا ہے، معیشت درست سمت کی طرف گامزن ہے، معیشت کے بنیادی ڈی این اے کو تبدیل کرنا ہے، معیشت کی بہتری کیلئے اسٹرکچر اصلاحات ضروری ہیں۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال سے ٹیکس محصولات میں اضافہ ہوا، ٹیکس ٹوجی ڈی پی5 سال کی بلندترین سطح پر پہنچ گیا، ٹیکس اصلاحات میں ٹیکنالوجی کا بہت استعمال ہے، یہ سلسلہ جاری رہے گا،اب تک کی کارکردگی بہتر ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایک سال میں توانائی شعبے کی ریکوری میں نمایاں اضافہ ہوا، اصلاحات کاعمل چلتارہےگا،توانائی کے شعبے سے شاندار اصلاحات ہوئیں، گورننس میں بہتری آئی،نقصانات بھی کم ہوں گے، 24 ادارے نجکاری کیلئے پیش کیےگئے۔ ڈسکوز میں پروفیشنل بورڈز لگائے گئے، این ٹی ڈی سی کو 3 کمپنیوں میں تقسیم کیا گیا، پالیسی ریٹ کم ہونے سے قرضوں کی لاگت میں ایک ہزارارب تک کمی آئی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ سرکاری اداروں کاخسارہ ایک ہزارارب سےزیادہ ہے، بینکوں سے1.27 ٹریلین روپے کا معاہدہ کیا گیا، ایس اوایز میں800ارب کاخسارہ ہے، معاہدے کا مقصد گردشی قرضے کو ختم کرناہے۔
انہوں کہا کہ رواں مالی سال کے دوران کئی ادارے ختم اور بعض ضم کیے جاچکے ہیں، رائٹ سائزنگ کو مرحلہ وار آگے لے کر جارہے ہیں، بجٹ میں رائٹ سائزنگ کی پیشرفت سے آگاہ کروں گا، رائٹ سائزنگ میں43 وزارتیں،400سے زیادہ ادارے شامل ہیں، پینشن اصلاحات میں کنٹری بیوٹری سسٹم لاگو ہوچکا۔
محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ رواں سال کرنٹ اکاؤنٹ1.9ارب ڈالر سرپلس رہاہے، جون تک ترسیلات زر38ارب ڈالرتک جانے کا امکان ہے، روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس8لاکھ سے تجاوز کرگئے، ان کا اہم کردار ہے، جولائی سے مئی تک ٹیکس ریونیو میں 26فیصد اضافہ ہوا، انکم ٹیکس فائلرز37لاکھ سے تجاوز کرگئے۔ ہائی ویلیو فائلرزمیں178فیصداضافہ ہوا۔
زیرجائزہ عرصے کے دوران سکوک اور طویل مدتی قرضوں کی میچورٹی میں اضافہ ہوا، قرض بلحاظ جی ڈی پی کو 65فیصد سے نیچے لانا چاہتے ہیں، ڈیبٹ منیجمنٹ آفس کو بہتر بنارہے ہیں۔
وزیرخزانہ کے مطابق مالی سال کے دوران انڈسٹری کی گروتھ4.8فیصد رہی، کیمیکلز،آئرن اسٹیل کے شعبے نیچے گئے ہیں، سروسز کے شعبے نے2.9فیصد پر گروتھ کی، پچھلے سال یہ2.2فیصد تھا، انفارمیشن اور کمیونکیشن شعبے نے6.5فیصد پر گروتھ کی، کنسٹرکشن اور رئیل اسٹیٹ3.5فیصد،فوڈ سروسز4.1فیصد اضافہ ہوا، ٹرانسپورٹ بڑھی ہے،زراعت نے0.6فیصد گروتھ کی، لائیواسٹاک نے4.7فیصد پر گوتھ کی، ہدف 3فیصد تھا۔
انہوں کہا کہ رواں مالی سال کے دوران چاول، مکئی سمیت بڑی فصلوں میں حکومتی مداخلت ختم کی، زرعی شعبے کے قرضوں میں بھی اضافہ ہوا، زرعی قرضے2 ہزار ارب روپے سے تجاوز کرچکے ہیں۔
"عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں"
وزیر خزانہ نے کہا کہ افواج پاکستان نے بھارت کیخلاف اپنا لوہا منوایا ہے، اقتصادی محاذ پر بھی جنگ چل رہی تھی، معاشی سیکیورٹی قومی سلامتی کیلئے انتہائی اہم ہے۔ بھارتی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نے آئی ایم ایف اجلاس رکوانے کی کوشش کی، مگر بین الاقوامی اداروں نے ہم پر اعتماد کا اظہار کیا۔
انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کی قسط تمام مشکلات کے باوجود ملی ہے، عالمی مالیاتی ادارے اور دوست ممالک پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں، فچ نے پاکستان ریٹنگ اپ گریڈ کی، موڈیز کی رپورٹ مثبت آئی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ لوکل سرمایہ کار آئیں گے تو غیرملکی سرمایہ کاری بھی آئے گی، ایس آئی ایف سی کی توجہ ہے، یہ گیم چینجر ثابت ہوگا، ہمارامقامی وسائل پر دارومدار ہونا چاہیے، اگلےسال ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے منصوبے شروع کریں گے، 30 ارب روپے سکوک بانڈ سےحاصل کیے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کو اصلاحات کیلئے آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے، معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں، حاصل کردہ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے، آنے والے برسوں میں فنانسنگ کی ضرورت کم ہوتی جائے گی، اگلے سال 4.2 فیصد ترقی کے ہدف کے حصول کیلئے درست سمت پر ہیں۔
بجٹ میں کمزور ترین طبقے کیلئے اقدامات کا اعلان
وزیرخزانہ نے کہا کہ پوری دنیا میں غربت کی سطح میں تبدیلی ہوئی،اس کو جاننے کی کوشش کروں گا، حکومت کا کام ایکو سسٹم فراہم کرناہے،ایک کروڑ نوکریاں دینے کے حق میں نہیں، نوجوانوں نے نجی یونیورسٹی کو بلاک چین کے ذریعے15ملین ڈالر کی گرانٹ دی، کم ازکم تنخواہ پر قوانین موجود ہیں،ان پرعملدرآمد کرانے کی پوری کوشش ہوگی۔
وزیر خزانہ نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافے کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا، کہا بجٹ میں کمزور ترین طبقے کیلئے اقدامات کا اعلان کروں گا، کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کیلئے کام کریں گے، یہ عملدرآمد کا ایشو ہے،ہمارے ہاں قانون سازی بہت ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی بینک کی پاکستان میں غربت کی رپورٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہو چکی، عالمی بینک بھی سالانہ 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے کئی اصلاحات کرنا ہوں گی، این ایف سی پر اجلاس اگست میں بلایا جائے گا۔
"جہاں لوگ پیسے نہیں دیں گے وہاں لوڈشیڈنگ ہوگی"
وزیرخزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ معیشت میں ہر کسی کوحصہ ڈالنا ہوگا، جہاں لوگ پیسے نہیں دیں گے وہاں لوڈشیڈنگ ہوگی، بجلی کی اکنامک لوڈشیڈنگ ہورہی ہے۔ ملک میں جدید ٹریژری نظام لے کر آرہے ہیں، طویل مدتی بانڈز کی طرف جائیں گے، ہمیں مالی ڈسپلن کامظاہرہ کرناہے، گردشی قرضہ بھی ختم کرنے جارہے ہیں۔
محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ ٹیکس ٹوجی ڈی پی14فیصد تک لے جانے کا ہدف ہے، ترقیاتی بجٹ میں مزید کٹوتی ممکن نہیں، پاکستان میں 60فیصد ڈیری اور زراعت سےسرمایہ کاری ہورہی ہے، توانائی شعبےمیں7روپےکی کمی لائی گئی،اسٹرکچر ریفارمز پر توجہ دی جائےگی، بزنس کمیونٹی سے ملاقات میں مقامی سرمایہ کاروں سے میکرو اکنامک کو ترجیح دی، ریفامز ایجنڈے میں ملک میں سسٹین ایبل گروتھ کی جانب اقدامات جا رہے ہیں۔
بجٹ 2025-26 میں مختلف شعبوں کےلیے رعایت کی تیاری کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 3500 سے زائد امپورٹڈ اشیاء پر ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے، درآمدی سامان پر اضافی کسٹم ڈیوٹی میں دو سے تین فیصد کمی کا امکان ہے۔ صنعی شعبے کیلئے خام مال کی درآمد پر بھی ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے، درآمدی خام مال پرود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے یا اس میں کمی کی تجویز ہے۔
نئے بجٹ میں بڑی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس میں بتدریج کمی کی تجویز ہے تاہم سالانہ 15 کروڑ منافع کمانے والی کمپنیوں کو استثنیٰ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ سالانہ 20 کروڑ منافع والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز ہے، 20 کروڑ تک منافع پر سپر ٹیکس 1 فیصد سے ہو کر 0.5 فیصد کیا جا سکتا ہے،
سالانہ 25 کروڑ منافع پر سپر ٹیکس 2 کے بجائے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سالانہ 30 کروڑ آمدن والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 4 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رہنے کا امکان ہے، تعمیراتی صنعتوں کیلئے بھی خام مال ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب 850 سی سی کی مقامی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں 5.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، مقامی مینوفیکچرڈ کاروں پر جی ایس ٹی 12.5 سے بڑھ کر 18 فیصد ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ 2025-26میں مختلف شعبوں پر نئے ٹیکس عائد کرنے اور بعض پر رعایت ختم کرنے کی تیاری کی گئی ہے۔
آئندہ مالی سال کےبجٹ میں ٹیکس نیٹ بڑھانے اور مراعات کے خاتمے کی تیاری مکمل کر لی گئی،آئی ایم ایف کی سفارش پر زرعی آمدن،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور فری لانس کمائی کو بھی ٹیکس دائرہ کار میں لانے کا امکان ہے،پراپرٹی پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی ختم کرنے اور مشروبات و سگریٹس پر ٹیکس میں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
تنخواہ دار طبقے کو معمولی ریلیف دیئے جانے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں،تنخواہ دارطبقےکو دس فیصد ریلیف، پنشن میں 5 سے ساڑھے 7 فیصد تک اضافے اور گریڈ ایک سے 16کے ملازمین کو 30 فیصد الاؤنس دیے جانے کی تجاویز شامل ہیں،ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو بنیادی تنخواہ میں ضم کرنے پر بھی غور کیا جا رہا ہے
آئی ایم ایف کھاد،کیڑے مار ادویات اور بیکری آئٹمز پر ٹیکس عائد کرنے پر اصرار کر رہا ہے۔سابق فاٹا ریجن کو حاصل ٹیکس چھوٹ ختم کر کے بارہ فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز ہے۔شیئرز اور پراپرٹی پر کیپیٹل گینز ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز بھی دی گئی ہے،آئی ایم ایف نےمعیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس چوری کی روک تھام پر زور دیا ہے۔