وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ سندھ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں کئی ٹیکسز ختم کردیے، کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا، ہم نے ریسٹورانٹس پر ٹیکس کم کردیا، آئندہ سال سے اںٹرٹینمنٹ ٹیکس، بورڈ آف ریونیو کے لوکل سیس، ڈرینیج سیس ختم کردیے، میوٹیشن ٹیکس آدھا کردیا، وفاق کی جانب سے 422.3 ارب روپے کم ملے ہیں، وفاقی حکومت اپنے وعدے پورے کرے، کراچی کیلئے ایک ہزار بسسز کی اسکیم ہے، کراچی کی اسکیموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 236 ارب روپے رکھے ہیں، پانی کے منصوبے کیلئے 90 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سولر پینلز پر اگر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کو سپورٹ نہیں کرے گی۔
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کراچی میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کی، اس موقع پر ان کے ہمراہ سینئر صوبائی وزراء شرجیل میمن، ناصر شاہ اور دیگر بھی موجود تھے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ اسرائیل نے ریاستی دہشت گردی پھیلائی، اس کھلی دہشت گردی کی مذمت کرتا ہوں، قانون کے مطابق جس روز بجٹ ہوتا ہے اس روز کوئی اور کارروائی نہیں ہوتی، اسرائیل کے ایران پر حملے کیخلاف قرارداد منظور کی، اپوزیشن ارکان شاید انسانیت پر یقین نہیں رکھتے، میری بجٹ کو دوسری جانب رکھ لیں، اپوزیشن نے جو ہنگامہ آرائی کی پتہ نہیں کس کے کہنے پر کی، ایک ایسی قرارداد جس پر سب کو اکھٹا ہونا چاہئے تھا، اپوزیشن نے ایک ہنگامہ آرائی کی نظر کردیا، ہم نے کل رات ہی قرارداد وزارت خارجہ کو بھیج دی ہے۔
وزیراعلیٰ و وزیر خزانہ مراد علی شاہ نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا کہ کل پیپلزپارٹی نے اس صوبے کا 17 واں مسلسل بجٹ پیش کیا گیا، وفاقی حکومت سے رابطہ کیا مگر پھر بھی وفاق سے منتقلی پوری نہیں ہوئی، وفاقی حکومت مسلسل کہتی رہی کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں، گزشتہ سال سے آج تک 1478.5 ارب روپے قابل تقسیم پول سے ہمیں ملے، 422.3 ارب روپے اب بھی وفاقی محاصل سے ہمیں کم ملے ہیں، اگر حکومت اپنے وعدے پر پورا اترتی ہے تو انہیں بقیہ پیسے جون میں ہی دے دیں گے، ہم آئی ایم ایف پروگرام میں ہیں، صوبوں کو بڑی رقم بچا کر رکھنی ہے خرچ نہیں کرنی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ زیادہ ٹیکسسز وفاق صوبوں سے جمع کرتا ہے، وفاق وعدوں پر عمل کیا کرے، صوبوں کو جو وسائل فراہم کرنے ہیں اسکا خیال رکھیں، زیادہ تر اثر ڈیولپمنٹ پروجیکٹس اور بجٹ پر پڑتا ہے، 900 ارب روپے کا ڈیولپمنٹ کا بجٹ تھا، اس مالی سال کے اختتام پر ریکارڈ 1460 اسکیمیں مکمل کرنے جارہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اس سال 590 ارب روپے ترقیاتی اسکیموں پر خرچ کریں گے، اس سال ہم ریکارڈ 1460 اسکیمیں مکمل کرنے جا رہے ہیں، الیکشن کے بعد پہلے دو سال اسکیمیں کم ہوتی ہیں، گزشتہ سال 603 اسکیمیں ہوگئی تھیں، آئندہ سال کے بجٹ کا پورا حجم 3.45 کھرب روپے ہے، ایک کھرب روپے کا ترقیاتی بجٹ بنانے جا رہے ہیں، اگر وفاق نے پورے پیسے دیے تو یہ اعداد و شمار زیادہ بھی ہوسکتے ہیں، وفاق نے گزشتہ سال بھی مسلسل محاصل کی منتقلی کم کی ہے۔
وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ صوبائی ترقیاتی بجٹ کا کل بجت ایک ہزار 18 ارب روپے ہے، 2.150 کھرب روپے کے موجودہ مالی اخراجات ہیں، جاری اخراجات میں سب سب سے بڑا حصہ تنخواہوں اور پنشنز کا ہے، آئندہ سال تنخواہوں اور پنشن کے اخراجات 1.1 کھرب روپے ہوں گے، ہمارے تنخواہوں کے اخراجات ماہانہ 100 ارب روپے ہیں۔
مراد علی شاہ نے بتایا کہ بجٹ میں گریڈ ایک سے 16 کے ملازمین کی تنخواہ میں 12 فیصد اضافے کا فیصلہ کیا ہے، گریڈ 17 سے 22 کی تنخواہیں 10 فیصد بڑھیں گی، یہ سب غیرترقیاتی اخراجات ہیں، دوسرا سب سے بڑا بجٹ ہمارا تعلیم کا ہے، اس سال تعلیمی بجٹ میں 18 فیصد اضافہ کیا ہے، اس کے بعد بڑا بجٹ صحت کے شعبے کو جاتا ہے، صحت کے بجٹ میں 11 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، مقامی حکومتوں کے بجٹ میں گزشتہ سال اضافہ کیا تھا، اس سال بھی 5 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ محکمہ داخلہ کے بجٹ میں ساڑھے 15 فیصد سے زیادہ اضافہ کیا گیا ہے، محکمہ توانائی کے بجٹ میں ساڑھے 16 فیصد اضافہ ہوا ہے، محکمہ آبپاشی کے بجٹ میں بھی اضافہ ہوا ہے، زراعت کے بجٹ میں 16 ارب روپے کا اضافہ کیا، ورکس اینڈ سروسز کے غیرترقیاتی بجٹ کو کم کیا ہے، محکمہ تعلیم میں ترقیاتی اخراجات بڑھائے ہیں، محکمہ آبپاشی میں 43 ارب روپے کے اخراجات ہوں گے، مقامی حکومتوں کو 132 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ دیا جائے گا، محکمہ زراعت کو ترقیاتی بجٹ ساڑھے 22 ارب روپے دیں گے، ٹرانسپورٹ کے محکمے کو 59.6 ارب روپے دیے جائیں گے۔
وزیر خزانہ سندھ نے کہا کہ کراچی کیلئے ایک ہزار بسسز کی اسکیم ہے، میگا کا نام میں نے رکھا تھا قصوروار میں ہوں، میگا کا مقصد تھا کہ جس سال کام شروع کریں اسی سال ختم کریں، ایک اخبار نے لکھا کہ ’’نو مور میگا اسکیم فار کراچی‘‘، بجٹ کو پڑھے بغیر جو چاہو لکھ دو، کراچی کی اسکیموں کے سالانہ ترقیاتی پروگرام میں 236 ارب روپے رکھے ہیں، شارع بھٹو بنی ہے اسے آج قائد آباد تک کھول رہے ہیں، یہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ پر بنا ہے یہ اے ڈی میں نظر نہیں آئے گا، اس وقت آن گوئنگ 95 ارب کے پروجیکٹس پر کام جاری ہے، کراچی کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت منصوبے جاری ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پورٹ سے شارع بھٹو تک 65 ارب روپے کا پروجیکٹ ہے، 90 ارب روپے پینے کے صاف پانی کیلئے رکھے گئے ہیں، پبلک ہیلتھ میں 50 ارب روپے سے زائد خرچہ کریں گے، وفاق سے روڈ نیٹ ورک بڑھا رہے ہیں، 86 ارب روپے فیڈرل پی ایس ڈی پی میں رکھا گیا ہے، سندھ کے مختلف اضلاع میں سڑکوں کا جال بچھائیں گے، شاہراہ بھٹو پر 65 ارب روپے خرچ کررہے ہیں۔
وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کیلئے 5 لاکھ گھر بنا چکے ہیں، ساڑھے 8 لاکھ گھر تکمیل کے قریب ہیں، 13 لاکھ گھر زیر تعمیر ہیں، اس منصوبے کے بارے میں پوری دنیا حیران ہے، ناصرف گھر بناکر دے رہے ہیں بلکہ ان کو مالکانہ حقوق بھی دے رہے ہیں، اس منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں، عالمی مالیاتی اداروں سے بات جاری ہے، تمام عالمی اداروں نے کہا ہے کہ اس طرح کا مںصوبہ ہم نے دنیا میں نہیں دیکھا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے یہ تعداد ڈھائی سال میں مکمل کرلی، اس منصوبے کے تحت ساڑھے 45 لاکھ دیہات کو سہولت دینے جا رہے ہیں، یہ ساڑھے 600 ارب روپے کا منصوبہ ہوگا، ہم اپنی حکومت میں ہی اس کو مکمل کرکے جائیں گے، اس منصوبے میں بھی کوئی ٹھیکہ نہیں ہوگا، دیہاتی خود ہی کام کریں گے، غیرسرکاری تنظیموں سے نگرانی کی مدد لی جائے گی، دیہاتی خود بنائیں گے اور اسے چلانا بھی ان ہی کی ذمہ داری ہوگی، اس کے فوائد بہت زیادہ ہیں، پانی سے متعلق بیماریوں میں خاطر خواہ کمی ہوگی۔
وزیراعلیٰ سندھ نے بتایا کہ ہم نے کئی ٹیکسز ختم کردیے ہیں، اس بجٹ میں کوئی نیا ٹیکس نہیں بلکہ ہم نے ٹیکس کم کیے ہیں، آئی ایم ایف کی شرط کے تحت ٹیکسز کی نیگیٹو لسٹ بھی بنائی ہے، جن پر ٹیکس نہیں لگتا ان کا نام بھی بتادیا جائے گا، ہم نے ریسٹورانٹس پر ٹیکس کم کیا ہے، اگلے سال اںٹرٹینمنٹ ٹیکس ختم کردیا ہے، حیرت ہے اس پر بھی گزشتہ روز نعرے لگ رہے تھے کہ بجٹ نامنظور، بورڈ آف ریونیو کے لوکل سیس، ڈرینیج سیس ختم کردیے ہیں، میوٹیشن ٹیکس آدھا کردیا ہے، ہائرشپ سرٹیفکیٹ کے پیسے آدھے کردیے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ گاڑی کی رجسٹریشن کیلئے تھرڈ پارٹی انشورنس کا ہونا ضروری ہے، تھرڈ پارٹی انشورنس میں دونمبری ہو رہی تھی، ہم نے تھرڈ پارٹی انشورنس کی اسٹامپ ڈیوٹی کم کرکے 50 روپے کی ہے، موٹرسائیکل سواروں کو تھرڈ پارٹی انشورنش سے مسنتثنیٰ کردیا ہے، تھرڈ پارٹی انشورنس کا ٹیکس 15 فیصد سے کم کرکے 5 فیصد کردیا ہے۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ لینڈ ریکارڈ کو بلاک چین پر منتقل کررہے ہیں، لینڈ ریکارڈ ایک ہی جگہ سے منتقل ہو جائےگا، برتھ رجسٹریشن 100 فیصد کرنے جا رہے ہیں، زراعت میں فارم میکنزم کی طرف جارہے ہیں، اگلے سال 25 ایکڑ تک کے کاشت کاروں کو فری لیزر لیولر دیں گے، کارپوریٹ فارمنگ بینک بنارہے ہیں، کلاسٹر فارمنگ ڈیولپمنٹ کیلئے کام کررہے ہیں، بڑے کاشت کاروں کو لیزر لیولز کی خریداری پر 80 فیصد سبسڈی دیں گے، کلسٹر فارمنگ کی ٹیکنالوجی بھی دیں گے۔
وزیر خزانہ سندھ کا مزید کہنا تھا کہ کے 4 منصوبے کے 3 حصے ہیں، پانی کینجھر سے کراچی تک لانا وفاق کی ذمہ داری ہے، کراچی میں پانی کی تقسیم اور لائننگ ہماری ذمہ داری ہے، بجلی کی پیداوار کیلئے منصوبے محکمہ توانائی نے بنائے ہیںِ، کے بی فیڈر کی لائننگ کیلئے 20 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ہم نے اپنے حصے کے پورے پیسے رکھے ہوئے ہیں، ڈی سلینیشن کیلئے 5 ملین گیلن کا ایک منصوبہ رکھا گیا ہے، ڈی سلینیشن ایک مہنگا عمل ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ اسکولز کے ہیڈ ماسٹرز کو براہ راست بجٹ دیا جائے گا، معذور افراد کیلئے معاون آلات کی خریداری اور کنوینس الاؤنس بڑھا رہے ہیں، ہر ضلع میں یوتھ ڈیولپمنٹ سینٹر بنائیں گے، سندھ انسٹی ٹیوٹ آف چائلڈ ہیلتھ 2 سال میں بڑا نیٹ ورک بن گیا ہے، سندھ ہاری کارڈ کے ذریعے 8 ارب روپے دیے جائیں گے، غریب افراد کی مدد کیلئے کئی منصوبے شروع کیے ہیں۔
مراد علی شاہ نے واضح کیا کہ سولر پینلز پر اگر 18 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کو سپورٹ نہیں کرے گی، ہم سولر پینلز پر 18 فیصد ٹیکس کے خلاف ہیں، یہ تمام منصوبے درست نہیں ہوئے تو پیپلزپارٹی وفاقی بجٹ کی حمایت نہیں کرے گی، سندھ کو وفاق کے ذریعے نہیں چلایا جاسکتا، پہلے بھی بہت کوششیں ہوچکی ہیں، ایسا اب بھی نہیں ہوسکتا۔




















