نئے بجٹ میں مواصلات، انفرا اسٹرکچر اور قومی صحت کے اہم منصوبوں کیلئے تجویز کردہ فنڈز کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔
ذرائع کے مطابق این 25 کراچی، کوئٹہ، چمن شاہراہ پر 100 ارب روپے خرچ کرنے کا پلان ہے جبکہ ایم 6 موٹروے سکھر تا حیدر آباد کی تعمیر کیلئے 15 ارب مختص ہوں گے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق این 55 انڈس ہائی وے کیلئے 25 ارب روپے رکھے گئے ہیں، ایم ایٹ ہوشاب، آواران، خضدار شاہراہ کیلئے 7 ارب ارب مختص ہوں گے۔ قراقرم ہائی وے پر ساڑھے 6 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
تھر کول ریل کنیکٹویٹی منصوبے کیلئے 7 ارب روپے، این فائیو فیز ون کو کشادہ کرنے کیلئے 1.9 ارب روپے مختص، ماشکیل پنجگور روڈ، ایسٹ بےایکسپریس وے فیز ٹو کا منصوبہ بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ گریٹر کراچی بلک واٹر سپلائی اسکیم بھی نئے بجٹ کا حصہ ہے۔
شعبہ قومی صحت کے اہم ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات بھی سامنے آگئیں۔ دستاویز کے مطابق جناح میڈیکل کمپلیکس کی تعمیر پر 4 ارب روپے خرچ ہوں گے، ہیپاٹائٹس سی پروگرام پر قابو پانے کیلئے 1 ارب روپے مختص، شوگر کنٹرول پروگرام پر 80 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے۔
اسلام آباد، خیبرپختونخوا، بلوچستان کیلئے مینٹل ہیتلھ سروسز پائلٹ پراجیکٹ، ڈیجیٹل ہیلتھ ریکارڈز، رئیل ٹائم برتھ اور ڈیتھ رپورٹنگ کا منصوبہ بھی بجٹ میں شامل ہیں۔ تمام وفاقی اور بنیادی صحت مراکز میں ون پیشمنٹ ون آئی ڈی منصوبہ شامل، نیشنل اڑان ہیلتھ ڈیش بورڈ کا منصوبہ بھی ترقیاتی پلان کا حصہ ہے۔




















