وفاقی کابینہ نے بجٹ 2025-26 کی منظوری دیدی۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس دوران بجٹ کی مختلف تجاویز پر مشاورت کے بعد منظوری دیدی گئی ۔
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا بجٹ حجم 17 ہزار 600 ارب روپے رکھے جانے کا امکان ہے، بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ جبکہ دفاع کے لیے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال مجموعی اخراجات 17 ہزار 573 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، مجموعی وفاقی ریونیو کا ہدف 19298 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر ٹیکس وصولی کا ہدف 14131 ارب رکھنے جبکہ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5167 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، صوبوں کو محاصل کی منتقلی کا تخمینہ 8206 ارب روپے ہوگا۔
خالص وفاقی آمدن 11072 ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے، قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8207 ارب روپے مختص کرنے جبکہ دفاع کیلئے 2550 ارب روپے مختص کرنے کی کی تجویز ہے۔
حکومتی نظام چلانے کے کیلئے 971 ارب روپے، پینشنز کی ادائیگی کیلئے 1055 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، سبسڈیز کی مد میں 1186ارب روپے، گرانٹس کی مد میں 1928 ارب روپے، ترقیاتی بجٹ کیلئے ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
آئندہ سال جاری اخراجات 16 ہزار 286 ارب روپے رہنے کا تخمینہ، آئندہ مالی سال بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 5 فیصد رہنے کا تخمینہ ہے۔ بجٹ خسارہ 6501 ارب روہے رہنے کا تخمینہ ہے۔
پینشنز کی ادائیگی کیلئے ایک ہزار 55 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ حکومت بجلی صارفین سمیت مختلف منصوبوں کیلئے ایک ہزار 185 ارب روپے سبسڈیز کی مد میں دے گی۔





















