قومی اقتصادی سروے 2024-25 کے مطابق رواں مالی سال مختلف شعبوں کو مجموعی طور پر 5,840 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ دی گئی جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1,961 ارب روپے زیادہ ہے۔
سروے کے مطابق سب سے زیادہ ٹیکس چھوٹ سیلز ٹیکس کی مد میں دی گئی جس کا حجم 4,253 ارب روپے سے زائد رہا جبکہ انکم ٹیکس کی مد میں 800 ارب روپے سے زائد اور کسٹم ڈیوٹی میں 785 ارب روپے سے زیادہ کی چھوٹ دی گئی۔
دستاویزات کے مطابق موبائل فونز پر 87.95 ارب روپے کی سیلز ٹیکس چھوٹ دی گئی جبکہ فاٹا اور پاٹا کے علاقوں کو 61 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ حاصل ہوئی۔
آٹوموبائل سیکٹر اور سی پیک سے متعلق منصوبوں کو 133 ارب روپے کی چھوٹ دی گئی جبکہ برآمدی شعبے کے لیے 178 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی معاف کی گئی۔
سروے کے مطابق رواں مالی سال پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 12.5 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان نے 12.53 میٹرک ٹن پیٹرولیم مصنوعات درآمد کیں جو گزشتہ سال کے 11.14 میٹرک ٹن کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے باوجود درآمداتی بل پر زیادہ فرق نہیں پڑا، اور پیٹرولیم سیکٹر کا درآمداتی بل 8.4 ارب روپے رہا۔





















