بجٹ 2025-26 میں مختلف شعبوں کےلیے رعایت کی تیاری کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق 3500 سے زائد امپورٹڈ اشیاء پر ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی میں کمی متوقع ہے، درآمدی سامان پر اضافی کسٹم ڈیوٹی میں دو سے تین فیصد کمی کا امکان ہے۔ صنعی شعبے کیلئے خام مال کی درآمد پر بھی ڈیوٹی میں کمی کا امکان ہے، درآمدی خام مال پرود ہولڈنگ ٹیکس ختم کرنے یا اس میں کمی کی تجویز ہے۔
نئے بجٹ میں بڑی کمپنیوں کیلئے سپر ٹیکس میں بتدریج کمی کی تجویز ہے تاہم سالانہ 15 کروڑ منافع کمانے والی کمپنیوں کو استثنیٰ برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ سالانہ 20 کروڑ منافع والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس میں 0.5 فیصد کمی کی تجویز ہے، 20 کروڑ تک منافع پر سپر ٹیکس 1 فیصد سے ہو کر 0.5 فیصد کیا جا سکتا ہے،
سالانہ 25 کروڑ منافع پر سپر ٹیکس 2 کے بجائے 1.5 فیصد کرنے کی تجویز ہے، سالانہ 30 کروڑ آمدن والی کمپنیوں پر سپر ٹیکس 4 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔ کارپوریٹ سیکٹر کیلئے سپر ٹیکس کی موجودہ شرح برقرار رہنے کا امکان ہے، تعمیراتی صنعتوں کیلئے بھی خام مال ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب 850 سی سی کی مقامی گاڑیوں پر جی ایس ٹی میں 5.5 فیصد اضافہ متوقع ہے، مقامی مینوفیکچرڈ کاروں پر جی ایس ٹی 12.5 سے بڑھ کر 18 فیصد ہونے کا امکان ہے۔




















