وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے اجلاس میں نئے مالی سال کے فنانس بل پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا پچھلے سال منی بجٹ آنے کا ڈھنڈورا پیٹا گیا مگر ایسا کچھ نہیں ہوا، نئے بجٹ میں 312 ارب کے ٹیکس اقدامات لئے مگر نئے ٹیکس بہت کم ہیں۔ اجلاس کے دوران کمیٹی چیئرمین اور اپوزیشن لیڈر میں تکرار ہوگئی، عمر ایوب کی اجلاس چھوڑ کر جانے کی دھمکی پر نوید قمر بولے کمیٹی سے چلے جانا آپ کا اختیار ہے۔ بعد میں عمر ایوب کو وزیر خزانہ سے سوالات کرنے کی اجازت مل گئی۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس سید نوید قمر کی زیر صدارت ہوا، جس میں وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور معاشی ٹیم کے ارکان نے بھی شرکت کی، کمیٹی اراکین کی جانب سے بلال اظہر کیانی کو وزیر مملکت برائے خزانہ بننے پر مبارکباد دی گئی۔
نئے مالی سال 26-2025ء کے فنانس بل میں کئے گئے پالیسی اقدامات پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ پچھلے مالی سال منی بجٹ کا ڈھنڈورا پیٹا گیا، ہم نے معاشی کارکردگی ثابت کی اور کوئی منی بجٹ نہیں آیا، رواں مالی سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر تک جانے کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ برآمدات میں بھی اضافہ ہورہا ہے، توانائی شعبے میں اصلاحات کیں، 7 ہزار میں سے 4 ہزار 700 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی زیرو کی گئی، برآمدات بڑھانے کیلئے خام مال اور درآمدی تیار اشیاء پر ٹیرف میں کمی کی، تعمیراتی شعبے میں مورگیج فنانسنگ کو فروغ دینے جارہے ہیں، زرعی شعبے میں کھاد اور کیڑے مار ادویات پر ٹیکس نہیں لگایا۔
وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف نے بھی ہمارے ساتھ اتفاق کیا ہے، ہم نے آئی ایم ایف کو بتایا کہ ٹیکس لیکیج اور چوری روکیں گے، ملک میں مہنگائی میں کمی آرہی ہے، آئی ایم ایف نے کہا آپ کرکے دکھائیں تو پھرمان لیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ نئے بجٹ 312 ارب کے ٹیکس اقدامات لئے گئے، اضافی ٹیکس بہت کم ہیں، 389 ارب روپے کے انفورسمنٹ ٹیکس اقدامات شامل ہیں، اگلے سال معاشی شرح نمو کا ہدف 4.2 فیصد، مہنگائی کا ہدف 7.5 فیصد مقرر ہے۔
قائمہ کمیٹی خزانہ کے اجلاس میں عمر ایوب اور نوید قمر کے درمیان تکرار ہوگئی، چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے عمر ایوب کو بغیر اجازت بولنے سے روک دیا۔ عمر ایوب نے کہا کہ اگر آپ بولنے نہیں دیں گے تو ہم چلے جائیں گے، نوید قمر نے کہا کہ کمیٹی سے جانا آپ کا اختیار ہے۔
عمر ایوب نے دھمکی دی کہ مجھے وزیر خزانہ سے دو سوال کرنے دیں ورنہ چلا جاؤں گا، پھر آپ یہاں بیٹھ کر بجٹ بجٹ کرتے رہیں۔ چیئرمین کمیٹی نوید قمر نے عمر ایوب کو بات کرنے کی اجازت دے دی۔
سیکریٹری خزانہ امداد اللہ بوسال نے کمیٹی کو بریفنگ میں بتایا کہ اگلے مالی سال پیٹرولیم لیوی اس سے زیادہ نہیں ہوگی۔ عمر ایوب نے کہا کہ آپ نے اس سال بھی لیوی نہ بڑھانے کا وعدہ کیا تھا۔
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت پاکستان مزید قرضے لینے کیلئے بے چین نہیں ہے، رواں مالی سال اخراجات میں کمی آئی ہے۔
سیکریٹری خزانہ نے کہا کہ شرح سود میں کمی سے قرضوں کی لاگت میں کمی آئی ہے، حکومت کے مالی خسارے میں کمی آرہی ہے، اگلے مالی سال مالی خسارے کا ہدف 6.5 فیصد رکھا گیا ہے۔
امداد اللہ بوسال کا کہنا تھا کہ اگلے مالی سال پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی سے ایک ہزار 468 ارب روپے حاصل ہونگے، اس وقت ڈیزل پر 77 روپے اور پیٹرول پر 78 روپے فی لیٹر لیوی عائد ہے، اگلے مالی سال پیٹرول ڈیزل پر ڈھائی روپے فی لیٹر کاربن لیوی عائد ہوگی، ڈیزل پر لیوی بڑھ کر 79.5 روپے لیٹر ہو جائے گی، پیٹرول پر مجموعی لیوی بڑھ کر 80.5 روپے لیٹر ہو جائے گی۔
عمر ایوب نے کہا کہ ملک میں پیٹرولیم کی اسمگلنگ سے 550 ارب روپے نقصان ہورہا ہے، یہ پیٹرولیم مصنوعات 26 پلوں سے گزر کر مارکیٹ میں آتی ہیں، ایف بی آر کو نقصان روکنے کیلئے کسٹمز انٹیلی جنس بہتر بنانا ہوگی۔
قائد حزب اختلاف عمر ایوب کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس میں ٹیکس گزار کو گرفتار کرنے بات کی گئی ہے، اس قانون سازی کو منظور نہ کیا جائے یہ ہتھیاروں سے لیس کرنے والی بات ہوگی، گرفتاریاں پھر سب کی ہوں گی۔



















