خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ مزمل اسلم نے قومی اقتصادی سروے 2024-25 پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں ہر جگہ فارم 47کا رواج چل چکا ہے اور اقتصادی سروے میں بھی اسی طریقہ کار کا استعمال کیا گیا۔
اپنے حالیہ بیان میں مشیر خزانہ خیبرپختونخوا مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت کے مطابق رواں مالی سال کے اختتام پر جی ڈی پی گروتھ 2.7 فیصد ہے جبکہ پچھلے سال حکومت نے 3.6 فیصد کا ہدف رکھا تھا۔
مزمل اسلم نے کہا کہ 2021 میں شرح نمو 5.7 فیصد اور 2022 میں پی ٹی آئی حکومت کے اختتام پر 6.4 فیصد تھی لیکن اس کے باوجود بانی پی ٹی آئی پر بری معاشی کارکردگی کا دھبہ لگایا گیا۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ حکومت بہتر معاشی صورتحال کا چورن کب تک بیچے گی۔
مزمل اسلم کے مطابق پی ٹی آئی حکومت کے خاتمے پر شرح نمو 2022-23 میں منفی 0.2 فیصد ہوئی اگلے سال 2.5 فیصد رہی اور رواں سال حکومتی دعوؤں کے مطابق 2.7 فیصد ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک کی آبادی ڈھائی فیصد بڑھ رہی ہے جبکہ پچھلے تین سالوں سے شرح نمو کی اوسط ڈیڑھ فیصد ہے۔
مشیر خزانہ نے معاشی بدحالی کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ عیدالاضحی کے موقع پر پہلی بار 30 فیصد مال مویشی کراچی سے واپس چلے گئے۔
انہوں نے مہنگائی کی شرح کم کرنے کے حکومتی دعوؤں کو جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ زیادہ ٹیکسز کی وجہ سے عوام کی قوت خرید کم ہوگئی ہے۔
مزمل اسلم نے کہا کہ حکومت خود تسلیم کر رہی ہے کہ اہم فصلوں میں 13.5 فیصد گراوٹ آئی ہے، گندم، گنا، چاول اور مکئی سمیت سب گروتھ کا شکار ہیں۔
انہوں نے طنزیہ کہا کہ پی ڈی ایم حکومت ہر سال لائیو اسٹاک پیداوار بڑھا دیتی ہے اور دعویٰ کرتی ہے کہ اس میں 4.7 فیصد اضافہ ہوا حالانکہ جہاں انسانوں کے لیے اشیائے خوردونوش کی کمی ہو وہاں لائیو اسٹاک پیداوار کیسے بڑھ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ملک میں بڑی صنعتوں کے پیچھے چھوٹی صنعتیں چلتی ہیں اور حکومت کے مطابق بڑی صنعتوں میں 1.5 فیصد کمی ہوئی لیکن "قدرت کا کرشمہ" یہ ہے کہ چھوٹی صنعتوں میں 8.8 فیصد گروتھ ہوئی۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 45 فیصد آبادی شرح غربت سے نیچے چلی گئی ہے اور اگر 24 کروڑ آبادی میں 11 کروڑ عوام شرح غربت سے نیچے ہیں تو یہ معاشی کارکردگی کو ظاہر کرتا ہے، ملک میں کور انفلیشن اب بھی 11.6 فیصد ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ بجٹ میں بھی حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی کوئی خاص گنجائش نہیں ہے۔





















