حکومت نے فنانس بل 2025-26 میں مختلف آن لائن پلیٹ فارمز سے 5 ہزار روپے مالیت تک کی ڈیوٹی فری درآمد ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ،اب 5ہزار کے بجائے محض 5 سو روپے کی درآمد پر ڈیوٹی فری کی سہولت ہو گی۔
چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے کہا کہ بڑے درآمد کنندگان چھوٹے باکسز میں 5 ہزار تک ڈیوٹی فری آرڈرز منگوا رہے تھے، بین الاقوامی آن لائن فورمز ٹیکس بھی ادا نہیں کرتے، اس سے مقامی ری ٹیل مارکیٹ کا بزنس 15 سے 20 فیصد تک ختم ہو چکا ہے۔
سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے اجلاس کے دوران کسٹمز ایکٹ میں نئی ترامیم کی منظوری دیدی ، اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے کارگو ٹریکنگ سسٹم کیلئے تجویز منظور کی گئیں ہیں ۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہناتھا کہ ای بیلیٹی کے ذریعے ڈیجیٹل ڈیوائسز سے اسمگلنگ میں ملوث گاڑیاں پکڑی جا سکیں گی، کارگو گاڑیوں کی ای بیلیٹی شناخت نہ ہونے پر مشکوک ہونے کے باعث پکڑ لیا جائے گا۔
فنانس بل کے مطابق ای بیلیٹی اور ٹریکنگ ڈیوائس پر نہیں ہو گی اس کو پہلی مرتبہ 50 ہزار روپے جرمانہ ہو گا، اگر دوسری مرتبہ بھی ای بیلیٹی اور ٹریکنگ ڈیوائس پر نہیں ہو گی تو 5 لاکھ روپے جرمانہ ہو گا، جان بوجھ کر ای بیلیٹی، ٹریکنگ ڈیوائس انسٹال نہ کرانے یا ٹمپرینگ پر سزائیں مزید سخت ہوں گی، ایسی صورت میں 10 لاکھ جرمانہ، مال ضبط اور چھ ماہ تک قید کی سزا ہو سکتی۔
فنانس بل میں کسٹمز کے وئیر ہاؤس سے 20 دن کے اندر سامان نہ اٹھانے پر پینلٹی کی شرح بڑھا دی گئی ہے ، کسٹمز کے وئیرہاؤس سے 20 دن کے اندر سامان نہ اٹھانے پر پینلٹی کی شرح اعشاریہ 25 فیصد ہو گی، فنانس بل میں وئیرہاؤس سے اشیاء کے اٹھانے کیلئے 20 دن کےبجائے 10 دن کی تجویز دی گئی تھی۔
فنانس بل میں اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو بینک لیز پر چھڑوانے کی سہولت ختم کر دی گئی ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر نے کہا کہ اسمگلنگ میں استعمال ہونے والی گاڑیوں کو اب بینک گارنٹی پر نہیں چھڑوایا جا سکے گا۔
ٹمپرڈ گاڑیوں کو ڈیوٹیز ادائیگیاں ہونے کے باوجود 5 سال بعد لیگل کرنے کا اسٹیٹس ختم کر دیا گیاہے ، اس سے قبل ٹمپرڈ گاڑیوں کو ڈیوٹی ادائیگی کے5سال بعد لیگل اسٹیٹس دے کر کلئیر کیا جاتا تھا۔
آئندہ 5 برس میں ریگولیٹری ڈیوٹی اور ایڈیشنل ریگولیٹری ڈیوٹی کو ختم کر دیا جائے گا۔




















