بجٹ 2025-26 میں نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 147 ارب روپےآمدن ہوگی۔
دستاویز کےمطابق پیٹرولیم لیوی کی مدمیں صارفین سے 1 ہزار 468 ارب روپےٹیکس لیا جائےگا،اسٹیٹ بینک کےمنافع کی صورت میں 2 ہزار 400 ارب روپےجمع ہوں گے،پراپرٹی کے کاروبار سے حاصل آمدن پر 519 ارب روپے ٹیکس وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا،موبائل لیوی سمیت فیس کی مد میں 29 ارب 79 کروڑ جمع ہوں گے۔
فنانس بل کےمطابق ایف بی آرکو اضافی ٹیکسوں کی مدمیں 400 ارب سے زائد کا ریونیو ملےگا،ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پرنئےٹیکس سے 64 ارب روپے آمدن متوقع ہے،نئے بجٹ میں آن لائن کاروبار، سروسز، ای کامرس اورکوریئر پر ٹیکس عائد کیا گیا،ای کامرس پلیٹ فارمز سے 18 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا،یہ ٹیکس کوریئر اور لاجسٹکس فراہم کرنے والے ادارے وصول کرکے جمع کرانے کے پابند ہوں گے
ڈیجیٹل سروسز پر 0.25 فیصد سے 5 فیصد تک نیا ٹیکس لگا دیا گیا،غیرملکی آن لائن کمپنیوں کو ڈیجیٹل ادائیگیوں پر 5 فیصد ٹیکس عائد کیا گیا،ویب سائٹس، ایپس، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بھی زد میں آئیں گے، ای لرننگ، ٹیلی میڈیسن، کلاؤڈ سروسز پر بھی ٹیکس عائد کیا گیا۔
کوریئر کیش آن ڈیلیوری پر 0.25 سے 2 فیصد تک ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز ہے،رجسٹریشن نہ کروانے والے آن لائن وینڈرز پر 10 لاکھ روپے جرمانہ ہوگا،بینک یا کوریئر ٹیکس نہ کاٹے تو 100 فیصد جرمانہ ہوگا، ڈیجیٹل معیشت پر نئے ٹیکس سے نوجوانوں کیلئے آن لائن کاروبار متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔




















