وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ ملک کی معیشت بہتر ہورہی ہے، دستیاب وسائل میں بہترین بجٹ پیش کررہے ہیں، ایکسپورٹ بڑھی ہے، معاشی ترقی کی طرف بڑھنا ہے، قوم اور حکومت نے پچھلے سوا سال میں سنگین حالات اور چیلنجز کا سامنا کیا، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے نے بڑی قربانیاں دیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے بجٹ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پوری قوم اور مسلم امہ کو حج اور عید کی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ فلسطین اور کشمیر میں بربریت کی جتنی مذمت کریں کم ہے، عالمی طاقتیں فی الفور اپنا اثر استعمال کرکے جنگ بندی پر عمل کرائیں، خواتین، بچوں، بزرگوں کا بے گناہ خون بہایا جا رہا ہے، فلسطین اور کشمیر کے عوام کی قربانیاں ہیں، انہیں ضرور آزادی ملے گی۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ فلسطین اور کشمیر کے عوام کے ساتھ کھڑا رہا، آئندہ بھی کھڑا رہے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پچھلے سوا سال میں جن سنگین حالات اور چیلنجز کا حکومت اور قوم نے سامنا کیا، وہ معمولی کامیابی نہیں، عام آدمی اور تنخواہ دار طبقے نے بڑی قربانیاں دی ہیں، ہم نے خزانے کو 400 ارب روپے دیئے، قوم کی محنت اور حکومت کی کاوشوں سے پاکستان ایسے پوائنٹ پر کھڑا ہے جہاں ہمیں ٹیک آف کرنا ہے، باہر سے انفلیشن کے مثبت اشاریے مل رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ حالیہ جنگ میں بہت بڑے جنگی اور معاشی مخالف سے سامنا ہوا، دشمن کہتا تھا میرا پاکستان سے کوئی مقابلہ نہیں، مخالفین کو پیچھے چھوڑنا اور پاکستان کو اصل مقام دلانا ہے، موقع آگیا سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی بات کی گئی، پانی کو کوئی بطور ہتھیار استعمال نہیں کرسکتا، اپنا پانی کا حق لے کر رہیں گے، ہمارا پانی کوئی نہیں روک سکتا، پانی کے معاملے پر نائب وزیراعظم، وزراء، ماہرین کی کمیٹی نے بڑی محنت کی۔
شہباز شریف نے بجٹ کی تیاری پر وزیر خزانہ، متعلقہ وزراء اور ٹیموں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ سب نے بڑی تیزی سے بجٹ کی تیاری کی۔
وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے وفاقی بجٹ 26-2025 کی تجاویز کی منظوری دے دی، وفاقی کابینہ کے اجلاس میں فنانس بل کی بھی منظوری دے دی گئی، وفاقی کابینہ کی تنخواہ میں 6 اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ کی تجویز دی گئی ہے۔



















