Live Updates: معاہدے کے تحت امریکا ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیاں نہیں لگائے گا،رپورٹ
دو ماہ کی بحری ناکہ بندی کے بعد ایرانی خام تیل کی پہلی کھیپ روانہ
لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ جھڑپوں میں 4اسرائیلی فوج ہلاک
اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں جاری جھڑپوں کے دوران اس کے 4 اہلکار ہلاک ہو گئے ہیں۔
فوج کی جانب سے جاری بیان میں ہلاک ہونے والے فوجیوں میں سے ایک کی شناخت 32 سالہ لیفٹیننٹ ڈور گیڈالیا بن سیمحون کے نام سے کی گئی ہے، جو 52ویں بٹالین اور 41ویں بریگیڈ کے کمانڈر تھے۔
اسرائیلی فوج نے ہلاکتوں کی مزید تفصیلات جاری نہیں کیں، تاہم بتایا گیا ہے کہ یہ فوجی جنوبی لبنان میں جاری فوجی کارروائیوں کے دوران مارے گئے۔
اسرائیل کی لبنان پر بمباری امریکا ایران تکنیکی مذاکرات میں رکاوٹ بن گئی
عرب میڈیا کے مطابق اسرائیل کی لبنان پر بمباری امریکا ایران تکنیکی مذاکرات میں رکاوٹ بن گئی۔
رپورٹ کے مطابق ایرانی وفد نے لبنان پر حملوں کی وجہ سے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کردیا، ایرانی وفد کے نہ آنے پر تکنیکی مذاکرات کو ملتوی کرنا پڑا، ایرانی وفد کے نہ آنے پر امریکی نائب صدر نے بھی دورے کو ملتوی کردیا۔
قبل ازیں سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔ امریکا ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں طے تھے۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج روانہ نہیں ہوں گے۔ متوقع مذاکرات کی منصوبہ بندی تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ امریکی وفد سوئٹزرلینڈ روانگی کے لیے تیار مگر شیڈول واضح نہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عملدر آمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں شیڈول تھے۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود، پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں مذاکرات طے ہوئے تھے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں جاری امن عمل سبوتاژ کرنے کےلیے لبنان پر حملوں کا سلسلہ تیز کردیا۔ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاقے نبتیہ پر بمباری اور گولہ باری کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ شہادتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔ دو مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید لبنانی شہریوں کی تعداد 3912 ہوگئی۔
اسرائیل کی امن عمل سبوتاژ کرنے کی کوشش، لبنان میں شہادتوں کی تعداد 3912 ہوگئی
اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں جاری امن عمل سبوتاژ کرنے کےلیے لبنان پر حملوں کا سلسلہ تیز کردیا۔
اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان کے علاقے نبتیہ پر بمباری اور گولہ باری کردی گئی ہے، جس کے نتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہوگئیں۔ شہادتوں کی تعداد 16 ہوگئی۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز بھی اسرائیلی حملوں میں 3 شہری شہید ہوئے تھے، دو مارچ سے جاری اسرائیلی حملوں میں شہید لبنانی شہریوں کی تعداد 3912 ہوگئی۔
امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے، سوئس وزارت خارجہ
سوئٹزرلینڈ کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات طے شدہ شیڈول کے مطابق نہیں ہوں گے۔
سوئس وزارت خارجہ نے مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں،امریکا ایران مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے برگن اسٹاک ریزورٹ میں طے تھے۔
دوسری جانب ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی نائب صدر جے ڈی وینس آج روانہ نہیں ہوں گے۔ متوقع مذاکرات کی منصوبہ بندی تاحال مکمل نہیں ہوئی۔ امریکی وفد سوئٹزرلینڈ روانگی کے لیے تیار مگر شیڈول واضح نہیں۔
اس سے قبل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد عملدر آمد سے متعلق ابتدائی مذاکرات آج سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں شیڈول تھے۔ سوئس وزارت خارجہ کے مطابق امریکا اور ایران کے وفود، پاکستان، قطر اور دیگر متعلقہ ممالک کے نمائندوں کی موجودگی میں مذاکرات طے ہوئے تھے۔
امریکا نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی
پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر عملدرآمد کا آغاز ہوگیا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کردی ہے، جس کے بعد ایرانی بندرگاہوں کی جانب بحری آمدورفت بحال ہو گئی ہے۔
بیان کے مطابق خلیج فارس میں امریکی فورسز کسی بحری جہاز کا راستہ نہیں روک رہی تاہم حتمی معاہدے تک امریکی نیوی کے بحری جہاز خطے میں موجود رہیں گے۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے آبنائے ہرمز سے ایک دن میں سوا کروڑ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی ہے۔
معاہدے پر میری رائے مختلف تھی، صدر کی یقین دہانی پر اجازت دے دی، ایرانی سپریم لیڈر
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے متعلق میری اصولی رائے مختلف تھی مگر صدر نے ذمہ داری قبول کرنے کاعہد کیا تو میں نے اجازت دے دی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایرانی عوام کے نام ایک تحریری پیغام کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر میری رائے مختلف تھی لیکن معزز صدر نے ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کیلئیے یقین دہانی کرائی، صدر نے ذمہ داری قبول کرنے کاعہد کیا تو میں نے اجازت دے دی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، اس مرحلے تک آنے کیلئے حکام نے نیک نیتی کے جذبے کے تحت بھرپور کوششیں کیں، امریکی صدر نے بے بسی کے عالم میں ہر طرح کے ذرائع استعمال کیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے واضح طور پر کہا وہ امریکا کے حد سے تجاوز مطالبات نہیں مانیں گے، اب سے ہم مذکورہ شرائط کے عملی ظہور کے منتظر رہیں گے، ایک بات واضح ہے کہ آئندہ کے مذاکرات دشمن کے مؤقف کو قبول کرنے کے مترادف نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ آبنائے ہرمزجنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائےگی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا اعلیٰ قیادت کے دستخط کے بعد خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہوجاتی ہے۔ 60 روزمیں پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔
ایران کا اقتصادی محاصرہ جاری رہے گا، اسرائیل کو امن عمل کا احترام کرنا ہوگا، امریکی نائب صدر
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 25 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی۔ ایران نے کسی بحری جہاز کو نہیں روکا۔ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن تہران نے اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا تو ہمارے پاس دوسرا راستہ موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ 60 دن کی ٹائم لائن آج سے شروع ہوتی ہے۔ دو ماہ بعد کیا ہوگا یہ حتمی مذاکرات میں طے کریں گے، اس دوران ہونے والی کشیدگی کو سفارتی کے ذریعے سنبھالنا ہوگا۔
جے ڈی وینس کے مطابق کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی پابندیاں نرم یا ختم کی جا سکتی ہیں، پابندیوں میں نرمی کے بعد دیکھیں گے ایران کس طرح مالی لین دین کو سنبھالتا ہے، پابندیوں میں نرمی کو ہم معاہدے میں کوئی بڑا رعایتی قدم نہیں سمجھتے۔
امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو مخاطت کرتے ہوئے کہا کہ بیروت میں سویلینز پر حملے ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہیں، اسرائیل کو اس امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ توقع ہے دونوں فریق لبنان سے متعلق معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ چاہتے ہیں مستقبل میں لبنانی حکومت جنوبی لبنان میں پولیسنگ کا کردار ادا کرے۔
جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت ایران پر ایک سخت اقتصادی محاصرہ عائد کر رہے ہیں، جب تک وہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتے اقتصادی محاصرہ جاری رہے گا، ایران کی معیشت اس وقت انتہائی مشکل صورتحال میں ہے، اسے عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے، جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنےکیلئے بہت بڑی رقم درکار ہوتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ ایران دوبارہ جوہری پروگرام شروع نہ کرے۔ ایران کا میزائل نظام خطے کے ممالک کیلئے خطرہ نہیں بنے گا۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ایرانی اپنا رویہ تبدیل نہیں کریں گے، لیکن ہم نے ایران کو جس پوزیشن پرلا کھڑا کیا ہے ان کو رویہ بدلنا ہوگا، خلیجی ممالک کا خیال ہے اوباما کی ڈیل نے ایران کا مضبوط کیا تھا، لیکن تمام خلیجی ممالک ہماری ڈیل کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا سے کوئی رقم نہیں ملے گی، ان کا رویہ ٹھیک رہا تو دیگر ذرائع سے ایران کوفنڈ ملے گا، ایران کو جو فنڈ ملے گا وہ تعمیر نو پر استعمال ہوگا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو تاریخی قراردے دیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو تاریخی قراردے دیا۔
سوشل میڈیا پر بیان میں ایرانی صدر نے کہا ایم اویو ایران کا مضبوط پیغام ہے امن باہمی احترام کے سائے میں ہی قائم ہو سکتا ہے۔ تہران اپنے وقار اور آزادی کو ہر قیمت مقدم رکھے گا۔
ایران عالمی امن اور علاقائی ترقی کیلئے پرعزم ہے۔۔ صدرمسعود پزشکیان نے سوشل میڈیا پر مفاہمتی یادداشت کا متن بھی شیئر کیا۔
قبل ازیں وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔ اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدرمسعود پزشکیان کے بھی دستخط موجود ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت خطے میں قیام امن کےلیے مددگار ثابت ہوگا، وزیراعظم کی ایرانی صدر سے گفتگو
وزیراعظم شہباز شریف نے امن معاہدے پر دستخط کے بعد پہلی دفعہ ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے ساتھ 30 منٹ جاری رہنے والے ٹیلیفونک رابطے میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ یہ تاریخی معاہدہ خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا۔
ترجمان وزیراعظم ہاؤس کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو آج سہ پہر اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی، جو 30 منٹ سے زائد جاری رہی اور دونوں رہنماؤں کے درمیان اسلام آباد امن معاہدے پر دستخط کے بعد یہ پہلا رابطہ ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے صدر مسعود پزشکیان، ایرانی قیادت اور ایران کے برادر عوام کو تاریخی امن معاہدے پر دستخط کی مبارک باد پیش کی اور کہا کہ یہ تاریخی معاہدہ نہ صرف خطے میں امن کے قیام میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ ایرانی قوم کی تعمیرنو اور پاکستان و ایران کے درمیان باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کا باعث بھی بنے گا۔
اعلامیے میں بتایا گیا کہ وزیراعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای کے لیے بھی اپنے پرتپاک احترام اور نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
وزیراعظم نے امن معاہدے پر دستخط کے ایرانی فیصلے کو سراہتے ہوئے مذاکرات کے اگلے مرحلے کے لیے ایرانی قیادت کی کامیابی کی دعا کی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان ایک برادر اور ہمسایہ ملک کی حیثیت سے ہر شعبے میں ایران کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔
صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے ایرانی قوم اور اپنی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا خصوصی شکریہ ادا کیا، انہوں نے کہا کہ دونوں شخصیات نے انتہائی مہارت، اخلاص اور دانش مندی کے ساتھ ثالثی کے عمل کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا، جسے ایران ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھے گا۔
ایرانی صدر مسعد پزشکیان نے پاکستانی عوام کے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران باہمی دلچسپی کے تمام شعبوں میں پاکستان کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل وقت میں پاکستان کی مثبت، تعمیری اور مخلصانہ حمایت کو ایران ہمیشہ یاد رکھے گا۔
دونوں رہنماؤں نے باہمی سہولت کے مطابق جلد از جلد ایک دوسرے کے دارالحکومتوں کے دورے کرنے پر اتفاق کیا تاکہ دوطرفہ اور علاقائی امور میں موجودہ بہترین تعاون کو مزید آگے بڑھایا جا سکے۔ دونوں رہنماؤں نے انہوں نے آئندہ دنوں میں بھی مسلسل رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
ایران مثبت رویہ اپنائے تو300ارب ڈالرفنڈزتک رسائی مل سکتی ہے، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرتا ہے تو 300 ارب ڈالر کے فنڈز تک رسائی دی جاسکتی ہے۔ حتمی معاہدے کے لیے 60 روز کی مدت کوئی سخت یا حتمی ڈیڈ لائن نہیں۔
امریکی صدر نے کہا ہے وہ لوگ احمق ہیں جو سمجھتے ہیں میں ایران کے معاملے میں سخت نہیں۔ ڈیل کے بعد اسٹاک مارکیٹ بلند سطح پر پہنچ چکی ہے۔ تیل کی قیمتیں بھی نیچے آگئیں۔ تنقید کرنے والے حسد میں مبتلا ہیں۔ وہ برے لوگ یا بے وقوف ہیں۔
قبل ازیں امریکہ اور ایران نے کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےفرانس کےوارسائی محل میں صدرمیکرون کی موجودگی میں دستخط کیے،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی تہران میں دستاویزات پر دستخط کیے، وڈیوز اور تصاویر سامنے آگئی ہیں۔
امریکی حکام کاکہنا ہےامریکا نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کے نکات جاری کردیے ہیں اور اس مفاہمتی یادداشت کا ٹائٹل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رکھا گیا ہے۔
امریکا ایران معاہدے پر دستخط کے بعد بھی لبنان میں صیہونی دہشت گردی جاری
امریکا ایران مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط کے باوجود صیہونی ریاست لبنان میں دہشت گردی سے باز نہ آئی۔
عرب میڈیا کے مطابق جنوبی لبنان میں اسرائیلی ڈرون حملوں میں 3 لبنانی شہید ہوگئے جبکہ معاہدے میں لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی شرط ہے۔
خیال رہے کہ مفاہمتی یادداشت کے پہلے نکتے کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل فوجی کارروائیاں بند کریں گے، فریقین ایک دوسرے کے خلاف دھمکی دینے یا طاقت کے استعمال سے گریز کریں گے، لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے گا۔
وزیراعظم شہبازشریف کا دورہ سوئٹزرلینڈ منسوخ
وزیراعظم شہباز شریف نے سوئٹزرلینڈ کا دورہ منسوخ کر دیا۔ ذرائع کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط مکمل ہونے کے بعد معاہدے کے نفاذ کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے۔ جس کے باعث دورے کی ضرورت باقی نہیں رہی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کا بنیادی مقصد امریکا اور ایران کے درمیان متفقہ خاکہ فراہم کرنا اور کشیدگی میں کمی کیلئے راہ ہموار کرنا تھا، جو حاصل کر لیا گیا ہے۔ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر امریکا اور ایران دستخط کر چکے ہیں جبکہ پاکستان نے بطور ثالث اس معاہدے میں اپنا کردار ادا کیا۔
ذرائع کے مطابق اب معاہدے پر عملدرآمد کا مرحلہ شروع ہو چکا ہے اور اگلے مرحلے میں تکنیکی مذاکرات ہوں گے جن میں پابندیوں میں نرمی، بحری سلامتی، جوہری امور، تصدیقی طریقہ کار اور مرحلہ وار نفاذ پر بات چیت کی جائے گی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد نے محض رسمی میزبانی نہیں کی بلکہ ایک جامع فریم ورک تشکیل دیا، جس پر اب ماہرین کی سطح پر مزید کام کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق معاہدہ فعال ہے اور پاکستان اس کے مؤثر نفاذ کیلئے بھی سرگرم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کیلئے چار ورکنگ گروپس قائم کیے جائیں گے۔
قبل ازیں ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے، امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اس مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کے صدور نے دستخط کیے ہیں،معاہدے پردستخط دونوں فریق تنازع کے سفارتی حل کےلیے پُرعزم ہیں،بطور ثالث میں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے، پاکستان 19 جون 2026 کو سوئٹزر لینڈ میں تقریب کی میزبانی کرے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ معاہدہ خطے میں امن،استحکام اورتنازعات کےحل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، صدرڈونلڈ ٹرمپ کودلی مبارکباد اورخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،امریکی مذاکراتی ٹیم کی لگن اور انتھک کوششوں کوبھی سراہتا ہوں۔
امریکا ایران امن معاہدے میں پاکستانی ثالثی کی عالمی سطح پر بھرپور پذیرائی
امریکا ایران امن معاہدےمیں پاکستانی ثالثی کی عالمی سطح پربھرپور پذیرائی،امریکی جریدے نے پاکستان کےکردارکو تاریخی سفارتی کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے خطے میں امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا
امریکی جریدےوال اسٹریٹ جرنل کےمطابق امریکا ایران معاہدہ پاکستان کیلئے ایک مکمل اور غیر مشروط کامیابی ہےجس میں پاکستان نے دونوں ممالک کےدرمیان ثالث کا اہم کردار ادا کیا،پاکستانی ثالثی میں طے پانےوالےمعاہدے پرامریکی اور ایرانی حکام جمعہ کوسوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کریں گے۔
وال اسٹریٹ جرنل کےمطابق پاکستان کی سفارتی کامیابی کو ایسےقراردیاجاسکتا ہےجیسے کیپ ورڈی کی فٹبال ٹیم فیفا ورلڈکپ جیت لے،سابق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےمتعدد بارپاکستان کی قیادت کی عوامی سطح پر تعریف کی اورفیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا۔
مزیدکہاگیا ہےکہ اپریل میں ہونےوالےاسلام آباد ٹاکس نے پاکستان کو عالمی میڈیا میں مثبت توجہ حاصل کرنےکانادرموقع فراہم کیا،پاکستان کا جھکاؤ بڑھنےسےبھارت کی سفارتی تنہائی کی کوششیں ناکام ہوئیں جبکہ ماہرین کا کہنا ہےکہ مذاکرات کی میزبانی اورمکالمے کےفروغ نے پاکستان کو ایک غیرجانبدار اورمعتبر ثالث کے طور پر منوایا ہے۔
ایران کے ساتھ معاہدہ ہماری طاقت اورمحاصرے کے نتیجے میں حاصل ہوا، امریکی وزیرِ جنگ
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ہماری طاقت اور محاصرے کے نتیجے میں حاصل ہوا۔
امریکی وزیرِ جنگ پیٹ ہیگسیتھ نے میڈیا سےگفتگو میں کہا امریکا کی وجہ سے ایران مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور ہوا،ایران کو جوہری مواد ہرصورت میں تلف کرنا ہوگا،ایران جوہری ہتھیار خریدے گا نہ حاصل کرے گا۔
امریکا ایران ڈیل کےبعد آبنائے ہرمز کھل گئی ہے،ایران کےساتھ معاہدہ ہماری طاقت اور محاصرے کے نتیجے میں حاصل ہوا،صدرٹرمپ کی ڈیل باراک اوباما کی ڈیل سے بہت اچھی ہے،جوملک آبنائے ہرمز استعمال کرتے ہیں وہی اس حوالے سے اقدامات کریں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیے
وزیراعظم شہباز شریف نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کر دیئے۔
وزیراعظم شہبازشریف نے تاریخ کے سنہرے اوراق پر اپنا نام ثبت کردیا، امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر بطور ثالث دستخط کردیئے۔
اسلام آباد مفاہمتی یاداشت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایران کے صدرمسعود پزشکیان کے دستخط موجود ہیں،وزیر اعظم شہباز شریف کے دستخط کرنے کی ویڈیو بھی جاری کر دی گئی ہے۔
Islamabad :18 June 2026.
— Prime Minister's Office (@PakPMO) June 18, 2026
Prime Minister of Pakistan Muhammad Shehbaz Sharif signed the Islamabad Memorandum of Understanding (Islamabad MoU)، as mediator.
The Islamabad MOU has been signed by President of USA Donald J. Trump and Iranian President Masoud Pezeshkian. pic.twitter.com/PUX7IgJDaX
اس سےقبل وزیراعظم شہبازشریف نے اپنے بیان میں کہاکہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے،امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا،اس مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کےصدور نےدستخط کیے ہیں،معاہدے پردستخط دونوں فریق تنازع کےسفارتی حل کےلیے پُرعزم ہیں،بطور ثالث میں نے بھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے،پاکستان 19 جون 2026 کو سوئٹزر لینڈ میں تقریب کی میزبانی کرے گا۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
وزیراعظم نےکہایہ معاہدہ خطےمیں امن،استحکام اورتنازعات کےحل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، صدرڈونلڈ ٹرمپ کودلی مبارکباد اور خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں، امریکی مذاکراتی ٹیم کی لگن اور انتھک کوششوں کوبھی سراہتا ہوں،جےڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر نےاس کامیابی کوممکن بنانے میں گراں قدرکردار ادا کیا۔
مذاکراتی ٹیموں کا سوئٹزر لینڈ جانے کا پروگرام حتمی ہے، ترجمان ایرانی وزارت خارجہ
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مذاکراتی ٹیموں کا سوئٹزر لینڈ جانے کا پروگرام حتمی ہے،مفاہمتی یادداشت کےمتن کوحتمی شکل دی جائےگی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی کی جانب سےبیان میں کہاگیاہےکہ مذاکراتی ٹیموں کو سوئٹزر لینڈجانےکاپروگرام حتمی ہے،فریقین نےمفاہمتی یادداشت پردستخط کر دیئےہیں،مفاہمتی یادداشت کےمتن کوحتمی شکل دی جائےگی،،لبنان سمیت تمام محاذوں پرجنگ کا خاتمہ اہم ہے،مفاہتمی ڈیل کےپہلے پیراگراف میں لبنان کا نام تین بار آیا ہے۔
دوسری جانب سوئس حکومت کی جانب سے جاری بیان میں کہاگیاکہ ابتدائی مذاکرات جمعہ برگن اسٹاک میں ہی ہوں گے،،پاکستان،قطر اوردیگرمتعلقہ ممالک بھی مذاکرات میں شریک ہوں گے۔
اس سےقبل ایرانی اسپیکر باقر قالیباف نےبیان میں کہاکہ آبنائے ہرمز جنگ سےپہلےکی صورتحال پر واپس نہیں جائے گی،ایران امریکا کےساتھ مضبوط پوزیشن سے مذاکرات کررہا ہے،ایران کی میدانِ جنگ میں فتح نےموجودہ مذاکرات کی بنیادفراہم کی،دوست اور دشمن دونوں ایران کی طاقت کو تسلیم کر رہےہیں، امریکا پرمکمل اعتماد نہیں کیا جا سکتا، ہماری انگلی ٹریگر پر رہے گی۔
امریکا ایران عبوری امن معاہدے کے اثرات،عالمی منڈی میں تیل مزید سستا ہوگیا
امریکا ایران عبوری امن معاہدے کے اثرات،عالمی منڈی میں تیل مزید سستا ہوگیا۔
برینٹ کروڈ آئل کی قیمت کاروبار کے آغازپر 1.6 فیصد تک گرگئی اور 78.43 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آ گئی،دوسری جانب جاپان،جنوبی کوریا اور دیگر ایشیائی مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ دیکھاگیا، جس کے نتیجےمیں اسٹاک انڈیکسز میں بہتری ریکارڈ کی گئی
معاہدے کےبعد عالمی توانائی کی سپلائی میں بہتری کی توقعات کے باعث ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مثبت رجحان دیکھا جارہا ہے،جاپان کے بینچ مارک نکی 225 انڈیکس میں 1.9 فیصد اضافہ ہوا اور یہ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا،جبکہ جنوبی کوریا کےکوسپی اورتائیوان کے ٹائیکس انڈیکس میں بھی ایک فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
عالمی منڈی میں تیل گرتی قیمت کےباعث پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں بڑی کمی کے امکانات مزید روشن ہوگئے ہیں،حکومت پیٹرول کی قیمت میں کمی کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرسکتی ہے۔
مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہو گئے، امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہبازشریف نے اپنےبیان میں کہا کہ مفاہمتی یادداشت پر الیکٹرانک دستخط ہوگئے، امریکا ایران معاہدہ فوری طور پر نافذ العمل ہوگا۔
وزیراعظم شہبازشریف نےکہااس مفاہمتی یادداشت پر دونوں ممالک کےصدور نےدستخط کیے ہیں،معاہدے پردستخط دونوں فریق تنازع کےسفارتی حل کےلیےپُرعزم ہیں،بطور ثالث میں نےبھی اس معاہدے کی توثیق کی ہے، پاکستان 19 جون 2026 کو سوئٹزر لینڈ میں تقریب کی میزبانی کرے گا۔
I am honoured to announce that the historic ‘Islamabad Memorandum of Understanding’ has been electronically signed today between the United States of America and the Islamic Republic of Iran. The Memorandum has been signed by honourable Presidents of both the countries and also…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) June 18, 2026
وزیراعظم نےکہایہ معاہدہ خطےمیں امن،استحکام اورتنازعات کےحل کی جانب اہم سنگِ میل ثابت ہوگا، صدرڈونلڈ ٹرمپ کودلی مبارکباد اورخراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،امریکی مذاکراتی ٹیم کی لگن اور انتھک کوششوں کوبھی سراہتا ہوں،جےڈی وینس، اسٹیو وٹکوف اورجیرڈ کشنر نےاس کامیابی کوممکن بنانے میں گراں قدرکردار ادا کیا۔
مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی طرف اہم پیشرفت، امریکی اورایرانی صدور نے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے
امریکہ اور ایران نے کئی دہائیوں پر محیط کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے مفاہمتی یادداشت پر دستخط کر دیے۔
امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نےفرانس کےوارسائی محل میں صدرمیکرون کی موجودگی میں دستخط کیے، کہایہ اتنا آسان نہیں تھا،ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی تہران میں دستاویزات پر دستخط کیے، وڈیوز اور تصاویر سامنے آگئی ہیں۔

امریکی حکام کاکہنا ہےامریکا نے ایران کے ساتھ 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت کےنکات جاری کردیےہیں اور اس مفاہمتی یادداشت کا ٹائٹل اسلام آباد مفاہمتی یادداشت رکھا گیا ہے۔
🚨 President Donald J. Trump has SIGNED the Iran Memorandum of Understanding at Versailles in France. 🇺🇸 pic.twitter.com/JQ6qlbvFAF
— The White House (@WhiteHouse) June 17, 2026
امریکا کا جنگ ختم کرنے کا معاہدہ اسرائیل کو فراہم کرنے سے انکار
دوسری جانب ترجمان ایرانی وزارتِ خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ فی الحال جمعے کو مذاکرات کی تصدیق نہیں کرسکتے،جمعہ کو ملاقات کافیصلہ چندگھنٹوں میں متوقع ہےاورجنیوا میں وفود کی شرکت بدستور شیڈول کےمطابق ہے۔
ایرانی وزیرخارجہ نےکہایادداشت کےفارسی اورانگریزی زبانوں کے متن پردستخط کیے گئے،تشریحی تنازعات سے بچنےکیلئے دونوں زبانوں میں دستخط کیے گئے۔
اس یادداشت کے تحت دونوں ممالک آئندہ 60 روز کے دوران ثالث ممالک کی موجودگی میں مذاکرات کریں گےتاکہ ایک جامع اور حتمی معاہدے کوحتمی شکل دی جا سکے۔
مذاکرات میں ایران کےجوہری پروگرام،اقتصادی پابندیوں،تیل کی برآمدات اورعلاقائی سلامتی کے امور سرفہرست ہوں گے،عالمی مبصرین اس پیشرفت کومشرقِ وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیےایک اہم سنگِ میل قرار دےرہے ہیں، تاہم حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیےابھی کئی پیچیدہ معاملات طے ہونا باقی ہیں۔
ایران ڈیل پر ممکنہ طور پرجمعے کو دستخط ہوں گے، پاکستان اور قطر کا شکریہ ادا کرتاہوں : ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں پاکستان اور قطر میں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان لوگوں نے ڈیل کیلئے بہت زیادہ محنت کی، 300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے اچھے طرز عمل سے مشروط ہے، کوئی ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، جنگ کے دوران چین غیر جانبدار رہا، چین کے اس اقدام کوسراہاتا ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک رہے ہیں،، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے گررہی ہیں، آبنائے ہرمز بند رہتی تو 1929 کی طرح عالمی کساد بازاری ہوتی۔
ان کا کہناتھا کہ میں نے جنرل سلیمانی کو گزشتہ دور صدارت میں مروا دیا،وہ ایک جینیئس تھا، ان کی جگہ کوئی نہ لے سکا، اسرائیل جنرل سلیمانی پر حملے کے خلاف تھا، حملے سے ایک دن پہلے اسرائیل نے کہا حملہ نہ کریں، جنرل سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہناتھا کہ آخری دو دن میں ہم نے 200 ملین ڈالر مالیت کے بم گرائے، جی 7 لیڈرز خوش ہیں کہ ہم نے ڈیل کی، میں نہیں چاہتا تھا کہ دنیا میں معاشی تباہی آئے،مجھے لگتا ہے ایرانی قیادت کا رویہ اب پہلے سے مختلف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کبھی کبھی جذباتی ہوجاتا ہے، قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر میزائل گرے، ان کو توقع نہیں تھی کہ ان پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نے باراک حسین اوباما کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے، اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرزسمیت سب کچھ دے دیا تھا،ہم نے بمباری کرکے ایرانی جوہری تنصیبات تباہ کردی۔
دنیا میں واحد اسپیس فورس ہمارے پاس ہے،ہم نے ایران کی جو ناکہ بندی کی اس کی مثال نہیں ملتی، ہم ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہ کرتے تو ان کے پاس ایٹم بم ہوگا، ہم سب سے طاقتور ہیں، چین قریب آرہا ہے لیکن ہم سے پیچھے ہے، روس کا ہمارے ساتھ عسکری لحاظ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم معاہدے پر دستخط کرنے جارہے ہیں، ایرانی قیادت بہت مناسب رویے کا مظاہرہ کررہی ہے، ایرانیوں کہا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے،میں نے کہا اگر انہوں نے خرید لیا تو کیا ہوگا، اس لیے معاہدے میں میں لکھوا دیا کہ وہ نہ خریدیں گے نہ بنائیں گے۔
ٹرمپ کا کہناتھا کہ میں نہیں کہتا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع نہیں کرنا چاہیے، لیکن صحرا میں 2 ڈرون گرنے پر بیروت میں پوری عمارت اڑانا ٹھیک نہیں، ایران ڈیل پر جلد دستخط ہونگے،ممکنہ طور پر جمعے کو،اسرائیل کو ایم او یو کا مسودہ بھیجوا دیا ہے، لبنان کی صورتحال دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق جوہری مواد پر تکنیکی بات چیت جلد شروع ہوگی، ایران کی موجودہ قیادت رجیم چینج کی عکاسی کرتی ہے، ایران کے لوگ چالاک اور بہت سخت مذاکرات کار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ میں پاکستان اور قطر میں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان لوگوں نے ڈیل کیلئے بہت زیادہ محنت کی،خلیجی ممالک کے ساتھ کئی معاملات پر کام کررہےہیں، بیلسٹک میزائل اور پراکسیز کے مسائل پر ان سے بات کریں گے۔
ایران معاہدے پر عملدر آمد نہیں کرے گا تودوبارہ بمباری کریں گے، معاہدے کا احترام یقینی بنانے تک ان پر بمباری کریں گے، حماس اب خاموش ہوگئی ہے، ان کا لائف اسٹائل پہلے سے الگ ہے۔
لبنان کے معاملے پر ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،لبنان میں حزب اللہ سے اسرائیل یا پھر شام نمٹ سکتا ہے، ابراہم اکارڈ کو بھی ہم توسیع دینا چاہتے ہیں، جنگ کے باوجود کوئی ملک ابرہم اکارڈ سے الگ نہیں ہوا، روس اور یوکرین دونوں جانی نقصان ہورہا ہے، روس کو زیادہ جانی نقصان کا سامنا ہے۔
میکسیکو کو ڈرگ کارٹیلز چلارہے ہیں، ہم ڈرگ ٹریفکنگ کے خلاف بھرپور کارروائی کررے ہیں، میں نے نیتن یاہو کو کہا اسرائیل پر ایک ایٹم بم گرا تو پورا ملک ختم ہوگا، ہم نے اسرائیل کو اس طرح کی ایٹمی تباہی سے بچالیا،300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے اچھے طرز عمل سے مشروط ہے، کوئی ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، جنگ کے دوران چین غیر جانبدار رہا، چین کے اس اقدام کوسراہاتا ہوں۔ ہم نے ایران کے اثاثے ضبط کیے تھے، کبھی نہ کبھی تو وہ اثاثے واپس کرنے تھے، میں نہیں چاہتا کہ کوئی کہےامریکا نے ہمارے پیسے لےلیے۔
امریکا ایران مفاہمتی یادداشت کا 14 نکات پر مشتمل مسودہ منظرعام پر
امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت (MoU) کا مسودہ حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جس میں جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی، ایران کو مالی ریلیف اور تہران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کے عزم سمیت 14 نکات شامل ہیں۔
سی این این کے مطابق 14 نکاتی مفاہمتی یادداشت ابھی سرکاری طور پر جاری نہیں کی گئی، تاہم اس کی ایک کاپی ایک امریکی عہدیدار نے فراہم کی۔ فرانس میں ہونے والے جی-7 سربراہی اجلاس میں دستاویز کا جائزہ لینے والے ایک سفارتکار اور مذاکرات سے آگاہ دو دیگر سفارتی ذرائع نے بھی اس کے مندرجات کی تصدیق کی۔
مسودے کے مطابق امریکا ایران کو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت دے گا جبکہ ایران مستقبل کے جوہری مذاکرات میں طے شدہ شرائط پوری کرنے پر 300 ارب ڈالر کے ترقیاتی فنڈ تک رسائی حاصل کرسکے گا۔ دستاویز میں ایران کے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے مستقبل کے بارے میں کوئی تفصیل شامل نہیں۔
امریکی عہدیدار کے مطابق یہ وہی متن ہے جس پر اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ڈیجیٹل دستخط کیے تھے۔
مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط جمعہ کو متوقع ہیں، جس کے بعد حتمی معاہدے کی شرائط طے کرنے کے لیے 60 روزہ مذاکراتی مدت شروع ہو جائے گی۔
مفاہمتی یادداشت کے 14 نکات
1۔ اسلامی جمہوریہ ایران اور امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ موجودہ جنگ کے تمام محاذوں بشمول لبنان میں فوری اور مستقل خاتمے کا اعلان کرتے ہیں۔ دونوں ممالک ایک دوسرے کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کارروائی نہ کرنے، طاقت کے استعمال یا دھمکی سے گریز کرنے کا عہد کرتے ہیں۔ حتمی معاہدہ اس شق اور دیگر تمام شقوں کی توثیق کرے گا۔
2۔ ایران اور امریکا ایک دوسرے کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام کریں گے اور ایک دوسرے کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کریں گے۔
3۔ دونوں ممالک زیادہ سے زیادہ 60 روز کے اندر حتمی معاہدے پر مذاکرات مکمل کریں گے، جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔
4۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوتے ہی امریکا بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایران کے خلاف کسی بھی رکاوٹ یا مداخلت کو روکے گا اور 30 روز کے اندر بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کرے گا۔ جہازوں کی آمدورفت ایران کی جنگ سے قبل کی سطح کے مطابق ہوگی۔ امریکا حتمی معاہدے کے بعد 30 روز کے اندر اپنے فوجی دستے اردگرد کے علاقوں سے واپس بلائے گا۔
5۔ ایران مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اقدامات کرے گا تاکہ خلیج فارس اور بحیرہ عمان کے درمیان تجارتی جہازوں کی آمدورفت 30 روز کے اندر جنگ سے قبل کی سطح پر بحال ہو سکے، جبکہ تکنیکی رکاوٹوں کے خاتمے اور بارودی سرنگوں کی صفائی کو بھی مدنظر رکھا جائے گا۔
6۔ امریکا اپنے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر ایران کی بحالی اور اقتصادی ترقی کے لیے ایک جامع منصوبہ تشکیل دے گا، جس کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کی مالی معاونت یقینی بنائی جائے گی۔ اس منصوبے کے نفاذ کا طریقہ کار حتمی معاہدے کے تحت 60 روز میں تیار کیا جائے گا۔
7۔ امریکا حتمی معاہدے کے تحت طے شدہ شیڈول کے مطابق ایران پر عائد تمام پابندیاں ختم کرے گا، جن میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل، بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی (IAEA) کے بورڈ آف گورنرز کی قراردادیں، اور تمام یکطرفہ امریکی بنیادی اور ثانوی پابندیاں شامل ہیں۔
8۔ ایران اپنے اس مؤقف کا اعادہ کرتا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار تیار نہیں کرے گا۔ ایران اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ افزودہ مواد اور دیگر تمام جوہری امور، بشمول ایران کی جوہری ضروریات، کو حتمی معاہدے میں مناسب انداز میں حل کیا جائے گا۔ حتمی معاہدہ اس شق کی توثیق کرے گا۔
9۔ حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھی جائے گی۔ ایران اپنے جوہری پروگرام میں موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جبکہ امریکا ایران پر نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور نہ ہی خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرے گا۔
10۔ امریکا مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد اور پابندیوں کے خاتمے تک امریکی محکمہ خزانہ کے ذریعے ایرانی خام تیل، پیٹروکیمیکل مصنوعات اور ان سے متعلق تمام خدمات، بشمول بینکاری، انشورنس اور ٹرانسپورٹ، کے لیے رعایتی اجازت نامے (Waivers) جاری کرے گا۔
11۔ امریکا اس بات کا پابند ہوگا کہ حتمی معاہدے کی جانب مذاکرات میں پیش رفت کے ساتھ ایران کے منجمد یا محدود فنڈز اور اثاثے جاری کیے جائیں اور مکمل طور پر قابل استعمال بنائے جائیں۔ یہ فنڈز، خواہ مرکزی اکاؤنٹ میں ہوں یا منتقل کیے گئے ہوں، ایرانی مرکزی بینک کی جانب سے مقرر کردہ حتمی مستفیدین کو ادائیگی کے لیے استعمال کیے جا سکیں گے۔ امریکا اس مقصد کے لیے تمام ضروری اجازت نامے اور لائسنس جاری کرے گا۔
12۔ ایران اور امریکا اس بات پر متفق ہیں کہ حتمی معاہدے پر عملدرآمد اور مستقبل میں اس کی پاسداری کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی نظام تشکیل دیا جائے گا۔
13۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد، اور شق 4، 5، 10 اور 11 پر عملدرآمد کے آغاز اور اس کے تسلسل سے متعلق یقین دہانیوں کے بعد، ایران اور امریکا باقی ماندہ شقوں کے حوالے سے حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات شروع کریں گے۔
14۔ حتمی معاہدے کی توثیق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک لازمی اور پابند قرارداد کے ذریعے کی جائے گی۔
بلومبرگ کی جانب سے شائع مفاہمتی یادداشت کا متن درست نہیں، ایرانی میڈیا کا دعویٰ
ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی جانب سے ایران اور امریکا کے درمیان مبینہ مفاہمتی یادداشت کے حوالے سے شائع کیا گیا متن درست نہیں اور اس میں متعدد خامیاں موجود ہیں۔
ایرانی میڈیا رپورٹس کےمطابق ایران اورامریکا نےتاحال مفاہمتی یادداشت کا باضابطہ اورمکمل متن جاری نہیں کیا،اس لیےمختلف ذرائع سے سامنے آنے والی تفصیلات کو حتمی یا مستند قرار نہیں دیا جا سکتا۔
رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ بلومبرگ کے شائع کردہ متن میں کئی نکات حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے، جبکہ آبنائے ہرمز سے متعلق بیان کی گئی بعض تفصیلات بھی درست نہیں ہیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق فریقین کےدرمیان طے پانےوالی مفاہمتی یادداشت کا اصل اورمکمل متن دستخطی عمل مکمل ہونے کے بعد باضابطہ طور پر جاری کیا جائےگا، جس کے بعد ہی معاہدے کی حقیقی شرائط اور نکات واضح ہو سکیں گے۔
خلیج سے تیل کی ترسیل کیلئے خفیہ امریکی آپریشن کا انکشاف
امریکا نے خلیجی ممالک کی تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے آبنائے ہرمز کے قریب خفیہ جہاز سے دوسرے جہاز میں تیل منتقلی کا ایک وسیع نظام قائم کر رکھا ہے۔ اس کارروائی میں فوجی نگرانی۔ ڈرونز اور ہیلی کاپٹرز کی مدد لی جا رہی ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق متحدہ عرب امارات کے فجیرہ اور عمان کی بندرگاہ صحار کے قریب مخصوص مقامات پر تیل ایک جہاز سے دوسرے بڑے آئل ٹینکر میں منتقل کیا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 11 جون کو حاصل کی گئی سیٹلائٹ تصاویر میں 17 جہاز بیک وقت یہ عمل کرتے دکھائی دیے۔ رپورٹ کے مطابق مئی کے آغاز سے اب تک کم از کم 92 جہاز اس نظام کا حصہ بن چکے ہیں۔
اندازہ ہے کہ 90 ملین بیرل سے زائد خام تیل اور پیٹرولیم مصنوعات اس نیٹ ورک کے ذریعے منتقل کی جا چکی ہیں۔ یہ طریقہ کار وہی ہے جو ایران برسوں سے پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا رہا ہے تاہم امریکا اسے خلیجی تیل کی سپلائی بحال رکھنے کے لیے استعمال کر رہا ہے۔
جی سیون سمٹ میں آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے پر اتفاق
جی سیون ممالک نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے پر اتفاق کرلیا۔
فرانس میں جی سیون سمٹ کے مشترکہ اعلامیے کے مطابق شرکاء نے امریکا ایران معاہدے کا خیرمقدم کیا ہے۔ رہنماؤں نے آبنائے ہرمز پر انحصار کم کرنے پر اتفاق کیا ۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بغیر کسی پابندی یا محصول کے بحری گزرگاہوں سے آزادانہ آمدورفت یقینی بنانا ضروری ہے۔۔عالمی رہنماؤں نے واضح کیا ایران کو کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیں گے ۔ مذاکرات میں علاقائی خطرات کو بھی مدنظر رکھا جائے۔
اعلامیے کے مطابق لبنان میں فوری اور مستقل جنگ بندی کی جائے۔ توانائی سپلائی کے متبادل ذرائع تیزی سے بڑھانے کا اعلان بھی کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت اولین ترجیح ہے۔ جی سیون رہنماؤں نے روس کی جنگی معیشت پر مزید دباؤ بڑھانے پر اتفاق کیا۔
پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا قوی امکان
امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کے تحت عالمی تیل کی ترسیل کے لیے اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھلنے کی توقعات بڑھنے پر تیل کی قیمتوں میں مسلسل کمی کا رجحان ہے۔ عالمی منڈی کے زیراثر ملک میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا قوی امکان ہے۔
ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اہم پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید 5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل 76 اور برطانوی تیل 79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا ہے۔
وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران کو امریکہ کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے تحت فوری طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت مل سکتی ہے، جس کے بعد قیمتوں میں کمی کا رجحان مزید مضبوط ہو گیا۔
واضح رہے کہ ایران جنگ شروع ہونے سے قبل عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 73 ڈالر کے لگ بھگ تھی جو جنگ کے دوران بلند ترین سطح 126 ڈالر سے اوپر بھی گئی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف نے قیمتوں میں اضافے کے وقت یقین دہانی کرائی تھی کہ حالات معمول پر آتے ہی عوام کو ریلیف دیا جائے گا۔ دو روز قبل بھی روز قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ جنگ سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ دباؤ آیا، پاکستان کے عوام نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، قوم کو ممکنہ مہنگائی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی، عالمی معاشی حالات کی بہتری کے اثرات عوام تک پہنچائیں گے۔
وزیر مملکت برائے قانون و انصاف بیرسٹر عقیل ملک نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ جمعے کے رو ایران اور امریکا کے درمیان معاہدے پر دستخط متوقع ہیں، اسی روز پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی واقع ہوسکتی ہے۔
بیرسٹر عقیل ملک کا کہنا تھا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں کی وجہ سے اس بات کا قوی امکان ہے کہ "پیٹرول کی قیمتوں میں 100 روپے سے زیادہ یا 150 روپے فی لیٹر سے بھی زیادہ کمی ہو سکتی ہے"۔
ایران امریکہ ڈیل پر دستخط ہو جائیں تو پاکستان میں پٹرول سو ڈیڑھ سو روپے سستا کر دیا جائے گا ‼️‼️‼️
— Gharidah Farooqi (T.I.) (@GFarooqi) June 15, 2026
وفاقی وزیر کا پروگرام “جی فار غریدہ” میں اعلان ۔۔
ایران پر سے پابندیاں ہٹ جائیں تو پاکستان ایران سے پٹرول لے گا، گیس پائپ لائن بھی اور تجارت بھی ہو گی ‼️#GFG pic.twitter.com/cHrPThjree
یاد رہے کہ اسرائیل اور امریکا کے ایران پر حملوں سے شروع ہونے والی جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متعدد بار نمایاں اضافہ اور کمی ریکارڈ کی گئی۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں پہلا بڑا اضافہ 6 مارچ 2026 کو کیا گیا، جب حکومت نے عالمی تیل قیمتوں میں اضافے کے باعث پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تقریباً 55 روپے فی لیٹر اضافہ کیا۔ اس اضافے کے بعد پیٹرول کی قیمت بڑھ کر تقریباً 321 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی، جو حالیہ برسوں کی بلند ترین سطح تھی۔ اسی طرح ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں بھی 55 روپے کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 335 روپے ہوگئی تھی۔
مشرق وسطیٰ کشیدگی سے قبل ملک میں پٹرول کی فی لیٹر قیمت 266 روپے جبکہ ڈٰیزل کی فی لیٹر قیمت 280 روپے تھی۔ ملک میں پیٹرول کی موجودہ قیمت 373 روپے 78 پیسے اور ڈیزل ڈیزل کی قیمت 378 روپے 78 پیسے فی لیٹر مقرر ہے۔
چین کا مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور
چینی وزیرِخارجہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چینی وزیرِخارجہ کا کہنا ہےکہ سلامتی کونسل کی مؤثرکارروائی کرنےکی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا، یو این چارٹرپرعمل درآمدمیں ناکامی سےجنگل کاقانون سراٹھا رہا ہے،اقوامِ متحدہ میں گلوبل ساؤتھ کےممالک کی نمائندہ آواز کو مضبوط بنانا ضروری ہے۔
چین نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک میں اصلاحات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اصلاحات کریں تاکہ گلوبل ساؤتھ کے ممالک کو زیادہ آواز اور نمائندگی مل سکے۔
امریکا نے ایران معاہدے کا مسودہ دیکھنے کی اسرائیلی درخواست مسترد کردی
قریب ترین اتحادی کے ہاتھوں اسرائیل کی ایک بار پھر بدترین سبکی ہوئی ہے۔ امریکا نے ایران معاہدے کا مسودہ دیکھنے کی اسرائیلی درخواست مسترد کردی۔
امریکی میڈیا کے مطابق صیہونی ریاست نے امریکا سے ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا متن دیکھنے کی درخواست کی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیل کو معاہدے پر بریفنگ دی گئی لیکن معاہدے کا مسودہ نہیں دکھایا گیا۔
خیال رہے کہ جمعے کو امریکا اور ایران کا تاریخی معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں باضابطہ دستخط کی تقریب سجے گی جس کا میزبان پاکستان ہوگا۔
بلوم برگ مفاہتمی یادداشت کی تفصیلات بھی سامنے لے آیا جس کے مطابق امریکا ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے جڑی بینکاری خدمات پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔ دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام برقرار رکھے گا۔ واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیاں نہیں لگیں گی ۔ فوج کی موجودگی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا۔
حتمی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد سے متعلق بات ہوگی۔ تہران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکا نے طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کرلیا ۔ حتمی معاہدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔
معاہدے کے تحت امریکا ایرانی تیل کی تجارت پر پابندیاں نہیں لگائے گا،رپورٹ
جمعے کو امریکا اور ایران کا تاریخی معاہدہ ہونے جارہا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کے سیاحتی مقام برگن اسٹاک میں باضابطہ دستخط کی تقریب سجے گی جس کا میزبان پاکستان ہوگا۔
بلوم برگ مفاہمتی یادداشت کی تفصیلات بھی سامنے لے آیا جس کے مطابق امریکا ایرانی تیل کی تجارت اور اس سے جڑی بینکاری خدمات پر پابندیاں نہیں لگائے گا۔ دونوں ممالک نے حتمی معاہدے تک موجودہ صورتحال برقرار رکھنے پر اتفاق کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق 60 دن میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس دوران ایران اپنا موجودہ جوہری پروگرام برقرار رکھے گا ۔ واشنگٹن کی جانب سے نئی پابندیاں نہیں لگیں گی ۔ فوج کی موجودگی میں بھی اضافہ نہیں کیا جائے گا ۔
حتمی معاہدے میں افزودہ جوہری مواد سے متعلق بات ہوگی ۔ تہران نے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ امریکا نے طے شدہ ٹائم لائن کے مطابق پابندیاں اٹھانے کا وعدہ کرلیا ۔ حتمی معاہدہ اقوامِ متحدہ سلامتی کونسل کی ایک لازمی قرارداد کے ذریعے منظور کیا جائے گا۔
اِس بڑی پیش رفت کے ساتھ ایرانی تیل کی سپلائی بھی شروع ہوگئی ۔ دو ماہ کی بحری ناکہ بندی کے بعد ایرانی خام تیل کی پہلی کھیپ روانہ ہوئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق 5 ایرانی تیل بردار اور کارگو جہاز بغیر کسی رکاوٹ کے بین الاقوامی پانیوں سے اپنی منزل کی جانب روانہ ہوچکے ہیں۔
ایران امریکا معاہدے کے بعد عالمی توانائی منڈیوں میں بھی اہم پیش رفت دیکھی جارہی ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت میں مزید 5 فیصد کمی ہوئی جس کے بعد امریکی کروڈ آئل 76 اور برطانوی تیل 79 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہا ہے۔
امریکا ایران معاہدے کے تحت 300 ارب ڈالر کا پرائیویٹ فنڈ قائم کیا جائے گا، رائٹرز
خبر رساں ایجنسی رائٹرز نے ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے فنڈ کی تفصیلات سامنے لاتے ہوئے بتایا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے کے تحت 300 ارب ڈالر کا ایک پرائیویٹ فنڈ قائم کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق یہ رقم سرمایہ کاری کی صورت میں ایران میں لگائی جائے گی، جبکہ 300 ارب ڈالر کا یہ فنڈ حتمی معاہدے پر دستخط کے بعد فعال ہوگا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس فنڈ کے لیے آدھے سے زیادہ رقم کی یقین دہانیاں پہلے ہی حاصل کی جا چکی ہیں۔
رائٹرز کے مطابق امریکا، خلیجی ممالک، ایشیا اور افریقا کی مختلف کمپنیاں اس فنڈ میں سرمایہ کاری کریں گی۔
رپورٹ کے مطابق 300 ارب ڈالر کے اس فنڈ میں کوئی سرکاری سرمایہ شامل نہیں ہوگا۔
رائٹرز نے مزید بتایا ہے کہ یہ فنڈ ایران کے منجمد اثاثوں سے الگ ہوگا، جبکہ ایران کے منجمد اثاثے بھی بحال کیے جائیں گے۔
امریکا ایران امن معاہدے پر دستخط کی تقریب جنیوا سے وسطی سوئٹزرلینڈ منتقل کر دی گئی
سوئٹزرلینڈ کی وزارتِ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ معاہدے پر دستخط کی تقریب جمعہ کے روز وسطی سوئٹزرلینڈ میں واقع ’برگن اسٹاک ریزورٹ ‘میں منعقد ہوگی، جو جھیل لوسرن کے کنارے ایک محفوظ اور نسبتاً الگ تھلگ مقام پر واقع ہے۔
وزارتِ خارجہ کے مطابق اس مقام کا انتخاب اس کی سیکیورٹی اور رازداری کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا، تاکہ حساس نوعیت کے اعلیٰ سطحی سفارتی مذاکرات اور معاہدے کی تقریب محفوظ ماحول میں انجام دی جا سکے۔
بیان میں کہا گیا کہ اس مقام کی تجویز پاکستان اور قطر کے ثالثوں نے امریکا اور ایران کے نمائندوں کے ساتھ مشاورت سے دی تھی۔
علاقائی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف دستخطی تقریب میں ایرانی وفد کی قیادت کریں گے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ مجید تخت روانچی نے بھی کہا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، تاہم حتمی انتظامات کی باضابطہ توثیق ابھی باقی ہے۔
مجید تخت روانچی کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فوراً بعد دونوں ممالک کے درمیان مزید مذاکرات کا آغاز متوقع ہے۔
دوسری جانب اطلاعات ہیں کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے، جس سے تقریب میں اعلیٰ سطحی امریکی سیاسی نمائندگی یقینی ہوگی۔
حکام کے مطابق یہ عمل کسی حتمی معاہدے کے بجائے ایک وسیع تر مذاکراتی مرحلے کا آغاز ہوگا، جس کا مقصد ابتدائی مفاہمتی یادداشت کے بعد طویل المدتی معاہدے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ رابطوں اور مذاکرات میں پاکستان اور قطر نے ثالثی کا اہم کردار ادا کیا، جس کے ذریعے فریقین کے درمیان موجود اختلافات کم کرنے میں مدد ملی۔
رپورٹس کے مطابق مذاکرات کا محور کشیدگی کا خاتمہ اور کئی برسوں سے تناؤ کا شکار تعلقات کے بعد مستقل مکالمے کے لیے ایک فریم ورک کی تشکیل تھا۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط ایک اہم پیش رفت ضرور ہیں، تاہم یہ حتمی معاہدہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے بعد بقایا معاملات کے حل کے لیے مذاکرات کا نیا دور شروع کیا جائے گا۔
لبنان پر اسرائیلی حملہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور ہوگا،عباس عراقچی
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ لبنان پر اسرائیلی حملہ اور قبضہ مفاہمتی یادداشت کی خلاف ورزی تصور ہوگا۔
ایرانی وزیرخارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران امریکا ڈیل کا اہم حصہ ہے، مفاہمتی یادداشت میں ایک فریق امریکا اور اسرائیل ہیں، دوسرا فریق ایران اور حزب اللہ ہیں۔
عباس عراقچی نے کہا کہ لبنان میں اسرائیلی حملہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے، لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران امریکا ڈیل کا اہم حصہ ہے، ایران، لبنان اور حزب اللہ سے متعلق معاملات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ پہلے مرحلے میں سب سے اہم مسئلہ جنگ کے خاتمہ تھا، مذاکرات کے آخری مرحلے میں جوہری پروگرام اور پابندیوں پر بات ہوگی۔
دوسری جانب ایرانی نائب وزیرِ خارجہ کاظم غریب آبادی نے ایک بیان میں کہا کہ ایران امریکا مفاہمتی یادداشت پر باضابطہ دستخط 19جون کو جنیوا میں ہوں گے، ایرانی وفد کی قیادت اسپیکر محمد باقر قالیباف کریں گے، مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد مذاکرات کا باقاعدہ آغاز ہوگا۔
ہمارا ایران کے ساتھ ایک منصفانہ اور اچھا معاہدہ ہے، ڈونلڈ ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ہمارا ایران کے ساتھ ایک منصفانہ اور اچھا معاہدہ ہے، امریکا ایران میں کوئی سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ میں نے اسرائیل سے کہا بیروت پر حملہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔
امیرقطر سے ملاقات کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ خطے میں تنازعے کے خاتمے کیلئے قطر میں بہت کوشش کی، قطر میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے خاتمے میں مثبت کردار ادا کیا۔ قطر کے لوگوں نےایرانی حملوں کے دوران بہادری کا مظاہرہ کیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ دوسرے مرحلے کی طرف بڑھ رہا ہے، ایران کسی صورت جوہری ہتھیار نہیں خرید سکتا، معاہدے کے مطابق ایران نہ جوہری بنائے گا نہ خرید گا۔
امریکی صدر کے مطابق مفاہمتی یادداشت پر دستخط اس بات ہوئے ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، اگر ایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار حاصل کی کوشش کی تو اسے سنگین نتائج کا سامنا ہوگا۔
انہوں ںے کہا کہ میں نے دنیا میں 8جنگیں روکوائیں، روس یوکرین جنگ میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں، روس اور یوکرین کے درمیان جنگ روکوانے کی کوشش کررہے ہیں، روس کو بھی معاہدہ کرلینا چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے مطابق ہم نے گذشتہ سال حملے کرکے ایران کی جوہری تنصیبات تباہ کیں، ہمارےپاس گزشتہ ہفتے ایران پر حملہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا، حالیہ بحران کے دوران قطرنے معاملے کو بہت دانشمندی سے سنبھالا۔
آبنائے ہرمز کی جلد بحالی اور آزادانہ آمدورفت سب کے مفاد میں ہے، چین
ترجمان چینی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کی جلد بحالی اور آزادانہ آمدورفت سب کے مفاد میں ہے۔
نیوز کانفرنس کے دوران چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لین جیان نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایک اہم بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے، ایران امریکا ڈیل میں آبنائے ہرمز کو کھولنا بھی شامل ہے۔
ترجمان لین جیان نے کہا کہ چین آبنائے ہرمز سے متعلق بین الاقوامی برادری کے ساتھ رابطے برقرار رکھے گا، چین اپنے جہازوں کے تحفظ کیلئے ہرممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
ایران سے معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اختلافات کا انکشاف
ایران سے معاہدے پر ٹرمپ انتظامیہ کے اندر اختلافات کا انکشاف ہوا ہے۔
ایگزیوس کی رپورٹ سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف نے صدر ٹرمپ کو ایران جنگ سے متعلق رپورٹ پیش کردی، رپورٹ کے مطابق جوہری رعایتوں کے مطالبے پر حتمی معاہدے میں ایران کی آمادگی مشکوک ہے۔ شبہ ہے، تہران حتمی معاہدے میں مطلوبہ جوہری رعایتیں دینے پر آمادہ نہیں۔
رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ کی ٹیم میں صرف ریٹکلف ہی معاہدے پر تحفظات نہیں رکھتے، مشاورت میں وزیرِ خارجہ اور وزیرِ جنگ نے بھی مفاہمتی یادداشت پر تحفظات کا اظہار کیا ہے جبکہ جے ڈی وینس ،اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر معاہدے کے حامی تھے۔
معاہدے کے اعلان سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے درمیان کئی اجلاس ہوئے، ان اجلاسوں میں مختلف امریکی خفیہ اداروں کی معلومات کا جائزہ لیا گیا، خفیہ معلومات سے پتہ چلا ایران کی ثالثوں اور امریکی حکام سے باتیں مختلف تھیں۔ وائٹ ہاؤس عہدیدار کے مطابق جو کچھ بھی فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ہی ہوتاہے۔
ایران اپنی دفاعی طاقت مزید بڑھائے گا،ایرانی آرمی چیف کا اعلان
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے دفاعی طاقت مزید بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔
ایرانی آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے اپنے تازہ بیان میں کہا ایران عالمی سطح پر پہلے سے زیادہ مضبوط بن کر ابھرا ہے،کوئی بھی ایران کے خلاف جارحیت کا سوچنے کی جرات نہ کرے۔
ایرانی آرمی چیف نےمزید کہاہماری سرحدیں بھی پہلے سے زیادہ محفوظ اور طاقتور ہیں،دشمن نے دوبارہ غلطی کی تو فیصلہ کن اور سخت جواب دیں گے
اس سےقبل ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نےاپنےبیان میں کہاکہ مفاہمتی یادداشت میں ایک فریق امریکا اور اسرائیل ہیں،مفاہمتی یادداشت میں دوسرا فریق ایران اورحزب اللہ ہیں،لبنان اسرائیلی حملہ اور قبضہ مفاہمتی یاددشت کی خلاف ورزی تصورہوگا،لبنان میں اسرائیلی حملہ کسی صورت قبول نہیں کریں گے۔
ایرانی وزیرخارجہ نےکہا لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران امریکا ڈیل کااہم حصہ ہے،ایران،لبنان اورحزب اللہ سےمتعلق معاملات ایک دوسرےسےجڑے ہیں،پہلےمرحلےمیں سب سے اہم مسئلہ جنگ کےخاتمہ تھا،مذاکرات کےآخری مرحلے میں جوہری پروگرام اورپابندیوں پر بات ہوگی۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا، عباس عراقچی
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جمعہ کو جنیوا میں دونوں مذاکراتی ٹیموں کے سربراہان ملیں گے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے فورا بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوگا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ ورچوئل طور پر طے پانے والی اس مفاہمتی یادداشت سے ایران کو معاشی فوائد حاصل ہوں گے تاہم ملک اپنی تمام ضروریات کے لیے ان فوائد پر انحصار نہیں کرے گا۔
عباس عراقچی نے کہا کہ مذاکرات کے دوران امریکی پابندیوں کے خاتمے اور ایران کے جوہری پروگرام سمیت اہم امور پر 60 روز کے اندر بات چیت کی جائے گی جبکہ ضرورت پڑنے پر اس مدت میں توسیع بھی کی جاسکتی ہے۔
عباس عراقچی نے کہا ماضی میں واشنگٹن متعدد بار وعدہ خلافی اور معاہدوں سے انحراف کرچکا، اس بار ایسا نہیں ہونا چاہیے۔
ایران کو 300 ملین ڈالر دینے کی خبریں جھوٹی ہیں، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ خبر بھی جھوٹی ہے کہ امریکا ایران کو 300 ملین ڈالر ادا کر رہا ہے، یہ من گھڑت خبر ڈیموکریٹس کی جانب سے پھیلائی گئی ہے۔
ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے اتفاق کر لیا ہے کہ وہ کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، وعدوں پر عملدرآمد سے پہلے ایران کو پابندیوں میں ریلیف نہیں ملے گا، ایران کے معاملے پر اتحادیوں سے مدد کی ضرورت نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس اب جوہری ہتھیار نہیں ہوگا، ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہونے کی امید ہے، اہم بات یہ ہے کہ تیل کی قیمت گر رہی ہے، اسٹاک اوپر جارہے ہیں، دستخط کے بعد ایران ڈیل کا مسودہ جاریں کریں گے۔ جمعہ کو آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر جہازوں کی نقل و حرکت شروع ہوگئی ہے، تیل سے لدے کئی جہاز آبنائے ہرمز سے باہر نکل رہے ہیں، بحری جہاز جنوبی راستہ اختیار کررہے ہیں جو محفوظ ہے۔
ایران کےلیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈ کی اجازت دینے پر غور
امریکی انتظامیہ ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری فنڈکی اجازت دینے پر غور کررہی ہے۔
فنانشل ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق شرط یہ ہےکہ تہران جنگ کے خاتمے اور جوہری معاہدے پر مبنی حتمی سمجھوتہ قبول کرے، فنڈ حکومتوں کے بجائے نجی کمپنیوں کی سرمایہ کاری سے تشکیل دیا جائے گا۔
امریکی حکام کے مطابق پابندیوں میں نرمی اور ایران کی تعمیرِ نو کے لیے بڑے سرمایہ کاری فنڈ پر بات چیت ہوئی ہے، فنڈ کا اجراء ایران کی جانب سے مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد سے مشروط ہوگا۔
ایرانی مذاکراتکاروں نے مکمل اختیارات کے ساتھ امریکا کے ساتھ مذاکرات کئے، اسماعیل قانی
ایرانی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے اپنے بیان میں کہا ایرانی مذاکراتکاروں نے مکمل اختیارات کے ساتھ امریکا کے ساتھ مذاکرات کئے،ایران کے خلاف جنگ سے امریکا بدنام اور اسرائیل زوال پذیر ہوا
ایرانی قدس فورس کے سربراہ اسماعیل قانی نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران کی ثابت قدمی دشمنوں کیلئے خوف کا باعث بنی،شدید دباؤ کے باوجود مزاحمتی محاذ کے ایک بھی گروپ نے میدان نہیں چھوڑا۔
سربراہ ایرانی قدس فورس نےمزیدکہا حزب اللہ کو کسی صورت ختم نہیں کیا جاسکتا،باب المندب اہم اسٹریٹجک کارڈ ہے،امریکا کا ایک جہاز بھی باب المندب سے گزرنے کی جرات نہ کرسکا۔
ایران کے معاملے پر تکنیکی تفصیلات طے ہونا باقی ہے،جے ڈی وینس
امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر ڈیجیٹل سائن ہوگئے لیکن باضابطہ دستخط کی تقریب جنیوا میں ہوگی اور میزبان پاکستان ہوگا۔ دُنیا بھر کی نظریں اِس وقت اسلام آباد اکارڈ پر لگی ہیں۔
امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ جمعہ سے پہلے ایران معاہدے کا متن جاری کرنے کا فیصلہ کرسکتے ہیں۔ کچھ تکنیکی تفصیلات طے ہونا باقی ہیں، تبدیلی بھی ہوسکتی ہے۔
امریکی نائب صدر نے بتایا ایران کو فی الحال کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ۔ پابندیوں کا خاتمہ یورینیم افزودگی کے خاتمے سے مشروط ہوگا۔ معاہدے کے تحت جوہری معائنہ کار یقینی طور پر ایران واپس جائیں گے۔
ڈی وینس نے مزید کہا کہ حتمی معاہدے پر مذاکرات کے دوران 60 دن تک آبنائے ہرمز سے آمدورفت ٹول فری ہوگی۔ ایران معاہدے کی پابندی کرتا ہے تو اسے فوائد حاصل ہوں گے۔
ڈیل پر دستخط ہو گئے، آبنائے ہرمز کھل گئی: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور فرانسیسی صدر میکرون کے درمیان ملاقات ہو ئی جس دوران صدر میکرون نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران ڈیل انتہائی اہم اقدام ہے جس سے آبنائے ہرمز کھل جائے گی جبکہ صدر ٹرمپ کا کہناتھا کہ ڈیل پر دستخط ہوگئے، آبنائے ہرمز کھل گئی، جمعہ کو آبنائے ہرمز کو مکمل طور پر کھول دیا جائے گا۔
امریکی صدر کا کہناتھا کہ ایران کے پاس اب جوہری ہتھیار نہیں ہو گا، ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات اچھے ہونے کی امید ہے، اہم بات یہ ہے کہ تیل کی قیمت گر رہی ہے، اسٹاک اوپر جارہے ہیں، صدر پیوٹن اور زیلنسکی سے بھی اچھی گفتگو ہوئی، دونوں رہنما پرعزم ہیں، دیکھتے ہیں ہم کیا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معاہدے پر دستخط کیلئے جے ڈی وینس آئیں گے، دستخط کے بعد ایران ڈیل کا مسودہ جاری کریں گے،وعدوں پر عملدرآمد سے پہلے ایران کو پابندیوں میں ریلیف نہیں ملے گا، ایران کے معاملے پر اتحادیوں سے مدد کی ضرورت نہیں ہے، لیکن ان سے مدد لینے کا آئیڈیا برا نہیں ہے۔
ایران امریکہ امن معاہدہ، وزیر دفاع نے پاکستان کیلئےنوبل امن انعام کا مطالبہ کردیا
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان کیلئے نوبل امن انعام کا مطالبہ کر دیاہے اور کہا کہ امن معاہدہ میں کردارکی وجہ سےنوبل امن انعام کا حق دار پاکستان ہے،کشمیر اور فلسطین کے مسلمانوں مظلوم اور محکوم ہیں، پاکستان عالمی سطح عالم اسلام کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے، فلسطین پر مظالم پر عالمی ضمیر جاگا ہے۔
وزیردفاع خواجہ آصف نے پارلیمنٹ ہاؤس میں سماء سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معرکہ حق میں بھارت کو شکست دے کر بڑی کامیابی حاصل کی، ایران امریکا امن معاہدہ اور معرکہ حق دو الگ کامیابیاں ہیں،ایران امریکا امن معاہدہ پاکستان کی بڑی سفارتی کامیابی ہے، امن معاہدے میں فیلڈمارشل اور وزیراعظم کا تاریخی کردار ہے۔
وزیردفاع کا کہناتھا کہ امن معاہدہ پاکستان کی سفارتکاری میں لوہا منوایا،معرکہ حق اور امن معاہدہ پاکستان کی بڑی کامیابیاں ہیں، شہباز شریف اور فیلڈ مارشل نے ملکی وقار میں اضافہ کیا وہ 78 سال میں کسی نے نہیں کیا، جب پاکستان ایٹمی طاقت بنا تب بھی پاکستان کا وقار بلند ہوا، معرکہ حق اور امن معاہدے کی وجہ سے پاکستان کو پوری دنیا نے تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ کچھ سال سے ہمیں دہشتگرد سمجھا جاتا تھا، امن معاہدہ اور معرکہ حق پر ہماری آنے والی نسلوں کیلئے روشن باب ہو گا، ان کامیابیوں کو نصاب میں بھی شامل کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر جہازوں کی نقل و حرکت شروع ہوگئی، صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہو رہی ہے اور متعدد جہاز تیل لے کر اپنی منزلوں کی جانب روانہ ہو چکے ہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ جہاز آبنائے ہرمز کے جنوبی بحری راستے سے گزر رہے ہیں، جو مکمل طور پر محفوظ، مستحکم اور پرامن ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جنوبی بحری راستے کے علاوہ بھی جہاز رانی کے لیے دیگر راستے موجود ہیں، جنہیں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مفاہمتی یاداشت پر اتفاق ہو گیاہے جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا آغاز کر دیا گیاہے ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہا تھا کہ معاہدے کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہو گی جس کی میزبانی پاکستان کرے گا۔
امریکا اور ایران کے درمیان معاہدے پر اتفاق، ڈالر کی قدر گرگئی
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کےلیے ابتدائی امن معاہدے کی خبر کے بعد امریکی ڈالر دیگر کرنسیوں کے مقابلے میں 10 روز کی کم ترین سطح پر آ گیا۔
ڈالر انڈیکس جو امریکی کرنسی کی قدر کو دیگر بڑی عالمی کرنسیوں کے مقابلے میں ناپتا ہے، 0.31 فیصد کمی کے بعد 99.492 پوائنٹس پر آگیا، جو 5 جون کے بعد کم ترین سطح ہے۔
کرنسی مارکیٹ میں یورو 0.35 فیصد اضافے کے ساتھ 1.1607 ڈالر جبکہ برطانوی پاؤنڈ 0.3 فیصد بڑھ کر 1.3448 ڈالر تک پہنچ گیا۔ آسٹریلوی ڈالر میں 0.5 فیصد اور نیوزی لینڈ ڈالر میں 0.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
جاپانی ین 160 فی ڈالر کی سطح کے قریب برقرار رہا، جبکہ توقع کی جا رہی ہے کہ جاپان کا مرکزی بینک 16 جون کو ختم ہونے والے اپنے اجلاس میں شرح سود 31 سال کی بلند ترین سطح تک لے جانے کا اعلان کر سکتا ہے۔
مارکیٹ ماہرین کے مطابق جغرافیائی کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بحالی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافہ کیا ہے، تاہم مارکیٹ اب بھی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے کیونکہ معاہدے کی مکمل کامیابی اور تیل کی سپلائی کی بحالی میں وقت لگ سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ امن معاہدے کی خبر نے ڈالر پر دباؤ بڑھایا ہے، تاہم آنے والے دنوں میں سرمایہ کار آبنائے ہرمز کی عملی بحالی، تیل کی ترسیل کی رفتار اور امریکا۔ایران مذاکرات کی پیش رفت کا انتظار کریں گے، جس کے بعد ہی کرنسی مارکیٹ کا اگلا رخ واضح ہو سکے گا۔
امریکا-ایران معاہدہ: پاکستان کو اتنا بڑا اعزاز پچھلے 78 سال میں نصیب نہیں ہوا، وزیر دفاع
وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ کہنا ہے کہ جمعہ کو امریکا اور ایران کے درمیان ایم او یو پر دستخط ہو جائیں گے۔ پاکستان کو اتنا بڑا اعزاز پچھلے 78 سال میں نصیب نہیں ہوا۔
قومی اسمبلی اجلاس میں امریکا ایران معاہدے پر اظہار خیال کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اتنا بڑا اعزاز پچھلے 78 سال میں نصیب نہیں ہوا ۔ وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور ان کی ٹیم نےجو محنت کی یہ اس کا پھل ہے ۔ انہوں نے انتہائی نازک مسئلے کو بڑی مہارت سے حل کیا۔
وزیر دفاع نے کہا کہ یہ جنگ امن کیلئے تھی ایک سال پہلے بھی ہم نے ایک جنگ لڑی تھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس میں بھی فتح یاب کیا۔ ایک جنگ ہم معاشی محاذ پر بھی لڑ رہے ہیں اس میں بھی کامیابی حاصل ہو گی۔
ان کا کہنا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اتحاد دے اور ساری قوم دہشت گردی کے خلاف بھی اسی طرح کھڑی ہو جیسے بھارت کے خلاف کھڑی ہوئی ۔ میں اپنے ایرانی بھائیوں کو مبارکباد دوں گا۔ امریکی قیادت کا بھی شکریہ کہ انہوں نے امن کیلئے اتنا بڑا قدم اٹھایا ۔ امت مسلمہ اتحاد کا مظاہرہ کرے تو فلسطین کا مسئلہ بھی حل ہو جائے گا۔
عالمی امن کیلئے کی جانے والی ہر مثبت کوشش قابل ستائش ہے، عبدالعلیم خان
امن کا سورج طلوع ہوگیا، عالمی معاشی حالات کی بہتری کے اثرات عوام تک پہنچائیں گے،وزیراعظم
وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا ہے کہ آج دنیا نے امن کاتاریخی سنگ میل عبور کیا ہے، جنگ کی طویل رات کےبعدامن کاسورج طلوع ہوگیا۔ امریکا،ایران نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کردیا ہے۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ معاہدے کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہوگی، پاکستان امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی کرےگا، اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں دنیا نے امن کا تاریخی سنگ میل عبور کیا۔ ایران امریکا نے لبنان سمیت فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کردیا۔
شہبازشریف نے کہا کہ پاکستانی عوام اور عالمی برادری کو مبارکباد پیش کرتاہوں، نوازشریف، آصف زرداری اور بلال بھٹو کو مبارکباد پیش کرتاہوں، عبدالعلیم خان اوردیگرتمام رہنماؤں کی بھرپوررہنمائی پرمبارکباد پیش کرتاہوں۔
وزیراعظم نے امریکی صدر، ایرانی سپریم لیڈر اور ایرانی صدر پزشکیان کوبھی امن عمل پرمبارکباد دی، کہا قطری امیر، سعودی ولی عہد، ترک صدر کے تعاون کا بھی شکریہ ادا کرتاہوں، پاکستان کے عظیم دوست چین کا بھی شکرگزار ہوں، چین کی مدد سے امن عمل آگے بڑھانے میں مدد ملی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل نے جنگ کے شعلے بجھانے کیلئے شب وروزوقف کردیئے، فیلڈمارشل نے راتوں و جاگ جاگ کر امن کیلئے کام کیا، مذاکرات کےدوران کئی نشیب وفرازآئے مگر عظیم سپوت فیلڈ مارشل عاصم منیرنےہمت نہیں ہاری، فیلڈ مارشل کی کوششوں سے کل جنگ بندی کا اعلان ہوا، فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس مقصد کیلئے غیرمعمولی کردار ادا کیا۔
شہبازشریف نے کہا کہ ڈپٹی وزیراعظم کوبھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سےمبارکباد،شکریہ اداکرتاہوں، اسحاق ڈارنےشب و روزمحنت کرکےاپناکردار ادا کیا، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امن کیلئے بھرپور کردار ادا کیا، ایرانی سفیررضا امیرمقدم کو بھی خراج تحسین جو ایوان میں موجود ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ جنگ سے پاکستانی معیشت پر بے پناہ دباؤ آیا، پاکستان کے عوام نے حکومت کا بھرپور ساتھ دیا، قوم کو ممکنہ مہنگائی سے بچانے کی ہرممکن کوشش کی، عالمی معاشی حالات کی بہتری کے اثرات عوام تک پہنچائیں گے۔
اسرائیل کا لبنان، شام اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز سے نہ نکلنے کا اعلان
اسرائیل نے لبنان، شام اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز سے نہ نکلنے کا اعلان کردیا۔
اسرائیلی وزیردفاع کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج لبنان، شام اور غزہ میں قائم سکیورٹی زونز میں موجود رہے گی، اسرائیل نے سکیورٹی زونز سے متعلق پالیسی سے امریکا کو آگاہ کردیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دباؤ کے باوجود جنوبی لبنان سے فوج کا انخلا نہیں کریں گے، اگر ایران اسرائیل پر حملہ کرتا ہے تو جوابی کارروائی ضرور کریں گے۔
دوسری جانب ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے مطالبہ بھی کیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے انخلا کرے۔
نائب ایرانی وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ اسلام آباد اکارڈ پر دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے، مذاکرات میں اس وقت داخل ہوں گے جب اثاثے بحال ہوں گے،آئندہ مذاکرات میں بھی ثالث موجود رہیں گے۔
یورپی ممالک نے بھی ایران پر لگی پابندیاں نرم کرنے پر آمادگی ظاہر کردی
پاکستان کی کوششوں سے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ پر دُنیا بھر سے خیرمقدم کیا جارہا ہے۔
برطانیہ، فرانس، جرمنی اور اٹلی نے تو ایران پر لگی پابندیاں بھی نرم کرنے پر مشروط آمادگی ظاہر کردی ۔ مشترکہ بیان کے مطابق ایران جوہری پروگرام پر قابل تصدیق اقدامات کرے تو پابندیاں ہٹانے کو تیار ہیں ۔ ایران کے جوہری معاملے پر سفارتی پیش رفت کا عندیہ بھی دیا ۔ ساتھ ہی لبنان کی خودمختاری اور استحکام کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔
ایران امریکا معاہدہ پر قطری وزیراعظم نے بھی خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان اور تمام فریقوں سے اظہار تشکر کیا ۔ اِس بات پر بھی زور دیا کہ تمام فریق آئندہ مذاکرات میں بھی تعمیری جذبے کے ساتھ شریک ہوں ۔ امید ہے حتمی مذاکرات بھی تعمیری انداز میں جاری رہیں گے۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی ایران امریکا معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ معاہدہ تنازع کے پُرامن حل کی جانب ایک اہم قدم ہے، معاہدے سے خطے میں امن کی راہ ہموار ہوگی۔
امریکا ایران مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار اور جامع امن کی بنیاد ڈالے گی،صدرمملکت
صدر مملکت آصف علی زرداری نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا۔ کہتے ہیں یہ پیش رفت حتمی معاہدے کی راہ ہموار کرے گی۔
ایوان صدر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے جاری بیان میں صدر مملکت نے کہا مفاہمتی یادداشت خطے میں پائیدار اور جامع امن کے قیام میں اہم کردار ادا کرے گی۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو اس مشکل دور میں مسلسل بات چیت اور سفارتکاری کی حمایت کرنے پر فخر ہے اور پاکستان نے ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کیلئے مثبت کردار ادا کیا۔
صدر مملکت نے کہا کہ دعا ہے کہ یہ سفارتی کوششیں خطے اور دنیا کیلئے زیادہ سے زیادہ امن، استحکام اور خوشحالی کا باعث بنیں۔
عوام کے کے سامنے جوابدہ ہے، کسی مخصوص گروہ کو نہیں، ایرانی صدر
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت ایرانی عوام کے جائز مطالبات کے سامنے جوابدہ ہے، عوام سے مراد پورا ایران ہے، کوئی مخصوص گروہ نہیں۔
قبل ازیں ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکراتی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات کو افسوسناک ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے۔
واضح رہے کہ اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان کا ایران امریکا معاہدے کا خیرمقدم
ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے خطے میں امن کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔
ترک صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کی جانب سے امن معاہدے کے لیےکی جانے والی ثالثی کوششوں پر شکریہ ادا کیا اورکہا کہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی کردار انتہائی اہم رہا ہے۔
انہوں نےمزیدکہاکہ امریکا، سعودی عرب اورقطر نے بھی معاہدے کی کامیابی میں مثالی اقدامات کیے ہیں،جو قابلِ تعریف ہیں،یہ معاہدہ خطےمیں امن اورسکون کےقیام کے لیے ایک اہم پیشرفت ہے اور دنیا طویل عرصے سے اس مثبت خبر کا انتظار کر رہی تھی۔
معاہدے پر دستخط سے قبل اشتعال انگیز بیانات سے گریزکیا جائے تاکہ امن عمل متاثر نہ ہو اور خطے میں پائیدار استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔
امریکا اور ایران کی قیادت کی طرف سے پاکستان پر کئے گئے اعتماد کو سراہتے ہیں، نائب وزیراعظم
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان جاری مذاکرات میں ہر ممکن تعاون کیلئے تیار ہے اور امید ہے کہ 19 جون کو جنیوا میں ہونے والی باضابطہ دستخطی تقریب خطے میں دیرپا امن، استحکام اور خوشحالی کی بنیاد بنے گی۔
نائب وزیراعظم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ یہ اہم پیش رفت مسلسل سفارتی کوششوں اور دوست ممالک کے اجتماعی عزم کا نتیجہ ہے جس نے محاذ آرائی کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دی۔
اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس پیش رفت سے عالمی برادری کو ایک مثبت پیغام ملا ہے اور عالمی معیشت خصوصاً ترقی پذیر ممالک کیلئے استحکام اور اعتماد میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تمام عمل کے دوران متعلقہ فریقین کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہا اور ہمیشہ تحمل، مکالمے اور تعمیری سفارتکاری پر زور دیتا رہا۔
وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کی قیادت کی جانب سے پاکستان پر اعتماد کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کا پرامن حل کیلئے سنجیدہ کردار قابل تحسین ہے۔
انہوں نے سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی شراکت داروں کی کوششوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا، جنہوں نے اس پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔
فیلڈ مارشل نے اس بار صرف اپنے ملک کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے کردکھایا، محسن نقوی
وزیرداخلہ محسن نقوی کا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل نے اس بار صرف اپنے ملک کیلئے نہیں بلکہ دنیا کیلئے کردکھایا۔
وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایک بارپھرکردکھایا، اس بار صرف اپنے ملک کیلئے نہیں بلکہ دنیا کے لیےکردکھایا۔
واضح رہے کہ یاد رہے کہ امریکا ایران کے درمیان معاہدہ طے پاگیا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کا اعلان کیا۔
سوشل میڈیا پر جاری پیغام میں وزیراعظم نے کہا کہ امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون کو سوئٹزرلینڈ میں ہوگی۔
امریکا کے پاس ہار ماننے کے سوا کوئی راستہ نہیں تھا،ایرانی فوج
ترجمان ایرانی افواج کا کہنا ہے کہ ایرانی عوام نے ملک کی مسلح افواج کے ساتھ مل کر اتحادیوں کے تعاون سے امریکہ اور اسرائیل کو یہ باور کرا دیا ہے کہ ان کے پاس ’شکست تسلیم کرنے اور ہتھیار ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہا۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے مطابق لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوجی کارروائیاں آج رات سے ختم کردی جائیں گی ۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کی بحری ناکہ بندی بھی فوری ختم کی جائے گی ۔ فریق ثانی نے معاہدے کی پاسداری کی تو ہی حتمی مذاکرات ہوں گے۔
ایرانی قومی سلامتی کونسل کے مطابق معاہدہ سپریم لیڈر کے فریم ورک کے تحت طے ہوا ۔ مذاکراتی عمل میں عوام کی مکمل حمایت حاصل رہی۔
قبل ازیں ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے مطالبہ بھی رکھ دیا۔ نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا کہ اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے انخلا کرے۔ کہا اسلام آباد اکارڈ پر دستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے،ایم او یوکا متن دستخط کے بعد شائع کیاجائے گا، حتمی معاہدے کیلئے مذاکرات 60 دن کی مدت میں منعقد کیے جائیں گے۔
امریکا ایران معاہدہ ، 14 شقوں پر مشتمل مسودہ جاری
امریکا ایران معاہدہ ،14شقوں پر مشتمل مسودہ جاری کردیا گیا۔
مسودے کے مطابق 30 دن میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائےگی،آبنائے ہرمزجمعہ کو دوبارہ کھولی جائے گی،24 ارب ڈالر منجمد فنڈز میں سے نصف فوری جاری کرنے کی تجویز ہے،ایران کی تعمیرِ نو کےلیے 3 سو ارب ڈالر منصوبوں پرگفتگو ہوگی۔
اس کے علاوہ جوہری پروگرام اورپابندیوں پرنرمی کو مرکزی حیثیت حاصل ہوگی،میزائل پروگرام اور علاقائی گروہ مذاکرات سےخارج کیا جائے گا، جبکہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ، تیل اور پیٹروکیمیکل پابندیوں میں نرمی کی شق شامل ہے۔
اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے انخلا کرے، ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے شرط رکھ دی
اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے انخلا کرے،ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے مطالبہ بھی رکھ دیا ۔
نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا اسلام آباد اکارڈپردستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے،ایم او یوکا متن دستخط کے بعد شائع کیاجائےگاحتمی معاہدے کیلئے مذاکرات 60 دن کی مدت میں منعقد کیے جائیں گےجس میں پابندیوں کے خاتمے پرتوجہ مرکوزکی جائے گی،مذاکرات میں اس وقت داخل ہوں گے جب اثاثے بحال ہوں گے،آئندہ مذاکرات میں بھی ثالث موجود رہیں گے ۔
اُنہوں نےکہا کہ مفاہمتی یادداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں،معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم خود اقدامات کریں گے۔ ایرانی افواج ہمیشہ الرٹ اور ہماری انگلی ٹریگر پر رہے گی ۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نےامن معاہدے پربات کرتےہوئے کہاجنگ اور مذاکرات سےمتعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر اورسیکیورٹی کونسل کے ہیں،فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے،مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات افسوسناک قرار دے دئیے،کہا حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
امریکا ایران معاہدہ ،چودہ شقوں پر مشتمل مسودہ جاری
تیس دن میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم ک جائے گی،آبنائے ہرمزجمعہ کو دوبارہ کھولی جائے گی،24 ارب ڈالر منجمد فنڈز میں سے نصف فوری جاری کرنے کی تجویز ہے،ایران کی تعمیرِ نو کےلیے 3 سو ارب ڈالر منصوبوں پرگفتگو ہوگی,جوہری پروگرام اور پابندیوں پر نرمی کومرکزی حیثیت حاصل ہوگی،میزائل پروگرام اور علاقائی گروہ مذاکرات سے خارج کیا جائے گا،جبکہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ،تیل اور پیٹروکیمیکل پابندیوں میں نرمی کی شق شامل ہے۔
امن معاہدے کی تقریب 19 جون کو جنیوا میں ہو گی : وزیراعظم شہبازشریف
وزیراعظم شہباز شریف نے اعلان کیا ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے اور فریقین نے تمام محاذوں پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ طویل مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے پا گیا ہے۔ دونوں فریقین نے لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل طور پر فوجی کارروائیوں کے خاتمے کا اعلان کر دیا ہے۔
شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ ’اس امن معاہدے پر دستخط کی باضابطہ تقریب 19 جون بروز جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں منعقد ہوگی۔
وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اس موقع پر ہم امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ انھوں نے تنازع کے حل کے لیے سفارتی راستہ اختیار کرنے کے عزم کا مظاہرہ کیا۔ ہم اس ثالثی عمل میں اپنے برادر ملک قطر کی قیادت کا بھی تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں، جن کی معاونت اس معاہدے تک پہنچنے میں نہایت اہم رہی۔
شہباز شریف نے کہا کہ ہم بالخصوص مملکتِ سعودی عرب اور ترکی کی قیادت کے بھی شکر گزار ہیں جنھوں نے اس حوالے سے غیر معمولی کردار ادا کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ اب معاہدہ طے پانے کے بعد ثالثی ٹیمیں آئندہ ہفتے کے دوران متعدد اجلاسوں کا انعقاد کریں گی۔ یہ مشاورتی عمل ٹیکنیکل مذاکرات اور پھر باضابطہ دستخط کی تقریب کے لیے بنیاد فراہم کرے گا۔
امن معاہدے کے بعد تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی
امریکا ایران معاہدے کے بعد ایشیائی اسٹاک مارکیٹوں میں زبردست تیزی جبکہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی خبر سامنے آنے کے بعد ایشیائی مارکیٹس میں کاروبار کے دوران خام تیل کی قیمتوں میں 5فیصد سے زائد کمی آئی ہے۔
برینٹ کروڈ کی قیمت میں کمی کے بعد اب یہ 80.64 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے جبکہ برطانوی کروڈ آئل 83.68 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ کررہی ہے۔ سونے کی قیمت میں 109 ڈالر فی اونس اضافہ ہوگیا۔ 4328 ڈالر پر ٹریڈ کررہا ہے۔
امن معاہدے پر جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ میں باضابطہ دستخط کیے جائیں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی سوشل میڈیا پر اس معاہدے کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے کہہ چکے ہیں کہ تیل کی آزادانہ نقل و حمل جاری رہے گی۔
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کے بعد آبنائے ہرمز بند ہو گئی تھی جس کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
نیتن یاہو میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں، اس کی وجہ سے معاہدے میں تاخیر ہوئی، امریکی صدر
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ طے شدہ معاہدہ اتوار کو بھی شیڈول کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے، نیتن یاہو میں کوئی سمجھ بوجھ نہیں، اس کی وجہ سے دستخط میں تاخیر ہوئی۔ نیتن یاہو کو حملہ کرنےکی کیا ضرورت تھی۔
نیوز ویب سائٹ ایگزیوس سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے پر دستخط ابھی ہونا تھا، لیکن اب یہ چند گھنٹوں بعد طے ہے، مشیروں نے بیروت حملے کی اطلاع دی تو میں حیران رہ گیا، میں نے اسے کہہ دیا تم سمجھ بوجھ سے عاری ہو، میں غصے میں تھا۔
دوسری جانب فاکس نیوز سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اگلے 2 سے 3 گھنٹے میں ڈیل پر دستخط ہونگے، نیتن یاہو سے کہہ دیا ہے مزید حملے نہ کریں، ایران سے بھی کہوں گا کہ وہ اسرائیل پر میزائل حملہ نہ کریں۔
واضح رہے کہ آج مفاہمی یادداشت پر دستخط سے پہلے اسرائیل نے بات چیت کا عمل سبوتاژ کرنے کےلیے بیروت پر میزائل داغ دیے۔ حملے میں 3 لبنانی شہید 6 زخمی ہوگئے۔
جنگ اور مذاکرات سے متعلق فیصلوں پر عملدرآمد تمام دھڑوں کیلئے لازم قرار
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکراتی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات کو افسوسناک ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کرکے علاقائی سیکیورٹی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔
ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کردیا کہ نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تمام ممالک کی شمولیت اوراجتماعی تعاون کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ پائیدار سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔
ایران جوہری ہتھیار بنائے گا نہ حاصل کرے گا،مجوزہ معاہدہ
امریکا اور ایران کے درمیان مجوزہ مفاہمتی یادداشت کی اہم شقیں سامنے آگئی۔
رائٹرز نے سینئر ایرانی عہدیدار کے حوالے سے لکھا کہ ایران یورینیم افزودگی محدود کرنے پر آمادہ ہوگیا۔ ڈیل کے تحت ایران جوہری ہتھیار بنائے گا نہ ہی حاصل کرے گا۔
مجوزہ معاہدے کے مطابق افزودہ یورینیم کے طریقہ کار اور نفاذ پر 60 دن میں بات چیت کی جائے گی۔ فیصلہ امریکا کے ساتھ مفاہمتی یادداشت کے تحت کیا گیا۔
امریکی ناکہ بندی ختم ہونے کے بعد ایران بھی آبنائے ہرمزکو فوری کھول دے گا۔ امریکا ایران پر عائد تیل کی پابندیوں میں نرمی کرے گا۔ امریکا نے ایران کے 25 ارب ڈالرمالیت کے منجمد اثاثے جاری کرنے پر بھی آمادگی ظاہرکردی۔ نئی پابندیاں عائد نہ کرنے کی بھی یقین دہانی کرائی ہے۔













