ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اس معاہدے سے متعلق میری اصولی رائے مختلف تھی مگر صدر نے ذمہ داری قبول کرنے کاعہد کیا تو میں نے اجازت دے دی۔
ایرانی سرکاری میڈیا کی جانب سے جاری کردہ ایرانی عوام کے نام ایک تحریری پیغام کے مطابق سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کا کہنا تھا کہ اس معاہدے پر میری رائے مختلف تھی لیکن معزز صدر نے ایرانی قوم کے حقوق کے تحفظ کیلئیے یقین دہانی کرائی، صدر نے ذمہ داری قبول کرنے کاعہد کیا تو میں نے اجازت دے دی۔
مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط ہوگئے، اس مرحلے تک آنے کیلئے حکام نے نیک نیتی کے جذبے کے تحت بھرپور کوششیں کیں، امریکی صدر نے بے بسی کے عالم میں ہر طرح کے ذرائع استعمال کیے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ صدر نے واضح طور پر کہا وہ امریکا کے حد سے تجاوز مطالبات نہیں مانیں گے، اب سے ہم مذکورہ شرائط کے عملی ظہور کے منتظر رہیں گے، ایک بات واضح ہے کہ آئندہ کے مذاکرات دشمن کے مؤقف کو قبول کرنے کے مترادف نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکرباقر قالیباف کا کہنا ہے کہ تہران مضبوط پوزیشن کے ساتھ مذاکرات کررہا ہے۔ آبنائے ہرمزجنگ سے پہلے کی صورتحال پر واپس نہیں جائےگی۔
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا اعلیٰ قیادت کے دستخط کے بعد خلاف ورزی کی سیاسی قیمت زیادہ ہوجاتی ہے۔ 60 روزمیں پابندیوں میں نرمی اور جوہری پروگرام پر مذاکرات کیے جائیں گے۔






















