امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ میں پاکستان اور قطر میں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان لوگوں نے ڈیل کیلئے بہت زیادہ محنت کی، 300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے اچھے طرز عمل سے مشروط ہے، کوئی ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، جنگ کے دوران چین غیر جانبدار رہا، چین کے اس اقدام کوسراہاتا ہوں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فرانس میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم آبنائے ہرمز کھول رہے ہیں، ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روک رہے ہیں،، عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بہت تیزی سے گررہی ہیں، آبنائے ہرمز بند رہتی تو 1929 کی طرح عالمی کساد بازاری ہوتی۔
ان کا کہناتھا کہ میں نے جنرل سلیمانی کو گزشتہ دور صدارت میں مروا دیا،وہ ایک جینیئس تھا، ان کی جگہ کوئی نہ لے سکا، اسرائیل جنرل سلیمانی پر حملے کے خلاف تھا، حملے سے ایک دن پہلے اسرائیل نے کہا حملہ نہ کریں، جنرل سلیمانی کو مارنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا۔
صدر ٹرمپ کا کہناتھا کہ آخری دو دن میں ہم نے 200 ملین ڈالر مالیت کے بم گرائے، جی 7 لیڈرز خوش ہیں کہ ہم نے ڈیل کی، میں نہیں چاہتا تھا کہ دنیا میں معاشی تباہی آئے،مجھے لگتا ہے ایرانی قیادت کا رویہ اب پہلے سے مختلف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی وزیراعظم کبھی کبھی جذباتی ہوجاتا ہے، قطر، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک پر میزائل گرے، ان کو توقع نہیں تھی کہ ان پر بھی حملہ ہوسکتا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ میں نے باراک حسین اوباما کا معاہدہ منسوخ کردیا ہے، اوباما نے ایران کو اربوں ڈالرزسمیت سب کچھ دے دیا تھا،ہم نے بمباری کرکے ایرانی جوہری تنصیبات تباہ کردی۔
دنیا میں واحد اسپیس فورس ہمارے پاس ہے،ہم نے ایران کی جو ناکہ بندی کی اس کی مثال نہیں ملتی، ہم ایرانی جوہری تنصیبات تباہ نہ کرتے تو ان کے پاس ایٹم بم ہوگا، ہم سب سے طاقتور ہیں، چین قریب آرہا ہے لیکن ہم سے پیچھے ہے، روس کا ہمارے ساتھ عسکری لحاظ سے کوئی مقابلہ ہی نہیں ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہم معاہدے پر دستخط کرنے جارہے ہیں، ایرانی قیادت بہت مناسب رویے کا مظاہرہ کررہی ہے، ایرانیوں کہا کہ وہ جوہری ہتھیار نہیں بنائیں گے،میں نے کہا اگر انہوں نے خرید لیا تو کیا ہوگا، اس لیے معاہدے میں میں لکھوا دیا کہ وہ نہ خریدیں گے نہ بنائیں گے۔
ٹرمپ کا کہناتھا کہ میں نہیں کہتا کہ اسرائیل کو اپنا دفاع نہیں کرنا چاہیے، لیکن صحرا میں 2 ڈرون گرنے پر بیروت میں پوری عمارت اڑانا ٹھیک نہیں، ایران ڈیل پر جلد دستخط ہونگے،ممکنہ طور پر جمعے کو،اسرائیل کو ایم او یو کا مسودہ بھیجوا دیا ہے، لبنان کی صورتحال دیکھ کر مجھے دکھ ہوتا ہے۔
امریکی صدر کے مطابق جوہری مواد پر تکنیکی بات چیت جلد شروع ہوگی، ایران کی موجودہ قیادت رجیم چینج کی عکاسی کرتی ہے، ایران کے لوگ چالاک اور بہت سخت مذاکرات کار ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہناتھا کہ میں پاکستان اور قطر میں اپنے شراکت داروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، ان لوگوں نے ڈیل کیلئے بہت زیادہ محنت کی،خلیجی ممالک کے ساتھ کئی معاملات پر کام کررہےہیں، بیلسٹک میزائل اور پراکسیز کے مسائل پر ان سے بات کریں گے۔
ایران معاہدے پر عملدر آمد نہیں کرے گا تودوبارہ بمباری کریں گے، معاہدے کا احترام یقینی بنانے تک ان پر بمباری کریں گے، حماس اب خاموش ہوگئی ہے، ان کا لائف اسٹائل پہلے سے الگ ہے۔
لبنان کے معاملے پر ہمیں مزید کام کرنے کی ضرورت ہے،لبنان میں حزب اللہ سے اسرائیل یا پھر شام نمٹ سکتا ہے، ابراہم اکارڈ کو بھی ہم توسیع دینا چاہتے ہیں، جنگ کے باوجود کوئی ملک ابرہم اکارڈ سے الگ نہیں ہوا، روس اور یوکرین دونوں جانی نقصان ہورہا ہے، روس کو زیادہ جانی نقصان کا سامنا ہے۔
میکسیکو کو ڈرگ کارٹیلز چلارہے ہیں، ہم ڈرگ ٹریفکنگ کے خلاف بھرپور کارروائی کررے ہیں، میں نے نیتن یاہو کو کہا اسرائیل پر ایک ایٹم بم گرا تو پورا ملک ختم ہوگا، ہم نے اسرائیل کو اس طرح کی ایٹمی تباہی سے بچالیا،300 ارب ڈالر کا فنڈ ایران کے اچھے طرز عمل سے مشروط ہے، کوئی ایران میں سرمایہ کاری کرنا چاہے تو کرسکتا ہے، جنگ کے دوران چین غیر جانبدار رہا، چین کے اس اقدام کوسراہاتا ہوں۔ ہم نے ایران کے اثاثے ضبط کیے تھے، کبھی نہ کبھی تو وہ اثاثے واپس کرنے تھے، میں نہیں چاہتا کہ کوئی کہےامریکا نے ہمارے پیسے لےلیے۔






















