اسرائیل فوری طور پر جنوبی لبنان سے انخلا کرے،ایران نے امن معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے مطالبہ بھی رکھ دیا ۔
نائب وزیرخارجہ کاظم غریب آبادی نے بتایا اسلام آباد اکارڈپردستخط جمعہ کو سوئٹزرلینڈ میں ہوں گے،ایم او یوکا متن دستخط کے بعد شائع کیاجائےگاحتمی معاہدے کیلئے مذاکرات 60 دن کی مدت میں منعقد کیے جائیں گےجس میں پابندیوں کے خاتمے پرتوجہ مرکوزکی جائے گی،مذاکرات میں اس وقت داخل ہوں گے جب اثاثے بحال ہوں گے،آئندہ مذاکرات میں بھی ثالث موجود رہیں گے ۔
اُنہوں نےکہا کہ مفاہمتی یادداشت کا مطلب دشمن پر اعتماد کرنا نہیں،معاہدے کی خلاف ورزی ہوئی تو ہم خود اقدامات کریں گے۔ ایرانی افواج ہمیشہ الرٹ اور ہماری انگلی ٹریگر پر رہے گی ۔
ایرانی صدرمسعود پزشکیان نےامن معاہدے پربات کرتےہوئے کہاجنگ اور مذاکرات سےمتعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر اورسیکیورٹی کونسل کے ہیں،فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے،مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات افسوسناک قرار دے دئیے،کہا حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکرات کا راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔
امریکا ایران معاہدہ ،چودہ شقوں پر مشتمل مسودہ جاری
تیس دن میں امریکی بحری ناکہ بندی ختم ک جائے گی،آبنائے ہرمزجمعہ کو دوبارہ کھولی جائے گی،24 ارب ڈالر منجمد فنڈز میں سے نصف فوری جاری کرنے کی تجویز ہے،ایران کی تعمیرِ نو کےلیے 3 سو ارب ڈالر منصوبوں پرگفتگو ہوگی,جوہری پروگرام اور پابندیوں پر نرمی کومرکزی حیثیت حاصل ہوگی،میزائل پروگرام اور علاقائی گروہ مذاکرات سے خارج کیا جائے گا،جبکہ تمام محاذوں پر فوری جنگ بندی کا مطالبہ،تیل اور پیٹروکیمیکل پابندیوں میں نرمی کی شق شامل ہے۔






















