ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ کسی طاقت کے سامنے نہیں جھکیں گے۔
ایک بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت ایرانی عوام کے جائز مطالبات کے سامنے جوابدہ ہے، عوام سے مراد پورا ایران ہے، کوئی مخصوص گروہ نہیں۔
قبل ازیں ایک بیان میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکراتی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات کو افسوسناک ہے۔
ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے۔
واضح رہے کہ اس دوران ایران کے اندر سخت گیر حلقوں کی جانب سے معاہدے کے خلاف تنقید میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔
معاہدے پر تنقید کرنے والوں میں سے بعض نے ایران کے وزیرِ خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمان کے سپیکر قالیباف، جو مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کر رہے تھے، پر یہ الزام عائد کیا کہ انھوں نے ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے مؤقف سے ’غداری‘ کی ہے۔






















