امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ گزشتہ رات آبنائے ہرمز سے ایک کروڑ 25 لاکھ بیرل تیل کی ترسیل ہوئی۔ ایران نے کسی بحری جہاز کو نہیں روکا۔ امریکا ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنا چاہتا ہے لیکن تہران نے اپنا رویہ ٹھیک نہ کیا تو ہمارے پاس دوسرا راستہ موجود ہے۔
وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا کہ 60 دن کی ٹائم لائن آج سے شروع ہوتی ہے۔ دو ماہ بعد کیا ہوگا یہ حتمی مذاکرات میں طے کریں گے، اس دوران ہونے والی کشیدگی کو سفارتی کے ذریعے سنبھالنا ہوگا۔
جے ڈی وینس کے مطابق کانگریس کی منظوری کے بغیر بھی پابندیاں نرم یا ختم کی جا سکتی ہیں، پابندیوں میں نرمی کے بعد دیکھیں گے ایران کس طرح مالی لین دین کو سنبھالتا ہے، پابندیوں میں نرمی کو ہم معاہدے میں کوئی بڑا رعایتی قدم نہیں سمجھتے۔
امریکی نائب صدر نے اسرائیل کو مخاطت کرتے ہوئے کہا کہ بیروت میں سویلینز پر حملے ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہیں، اسرائیل کو اس امن عمل کا احترام کرنا ہوگا۔ توقع ہے دونوں فریق لبنان سے متعلق معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ چاہتے ہیں مستقبل میں لبنانی حکومت جنوبی لبنان میں پولیسنگ کا کردار ادا کرے۔
جے ڈی وینس کا کہنا ہے کہ ہم اس وقت ایران پر ایک سخت اقتصادی محاصرہ عائد کر رہے ہیں، جب تک وہ اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتے اقتصادی محاصرہ جاری رہے گا، ایران کی معیشت اس وقت انتہائی مشکل صورتحال میں ہے، اسے عالمی نظام میں دوبارہ شامل ہونے کے لیے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر تباہ کردیا گیا ہے، جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کرنےکیلئے بہت بڑی رقم درکار ہوتی ہے، ہماری کوشش ہے کہ ایران دوبارہ جوہری پروگرام شروع نہ کرے۔ ایران کا میزائل نظام خطے کے ممالک کیلئے خطرہ نہیں بنے گا۔
امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں کہ ایرانی اپنا رویہ تبدیل نہیں کریں گے، لیکن ہم نے ایران کو جس پوزیشن پرلا کھڑا کیا ہے ان کو رویہ بدلنا ہوگا، خلیجی ممالک کا خیال ہے اوباما کی ڈیل نے ایران کا مضبوط کیا تھا، لیکن تمام خلیجی ممالک ہماری ڈیل کی حمایت کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کو امریکا سے کوئی رقم نہیں ملے گی، ان کا رویہ ٹھیک رہا تو دیگر ذرائع سے ایران کوفنڈ ملے گا، ایران کو جو فنڈ ملے گا وہ تعمیر نو پر استعمال ہوگا۔






















