ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا کہنا ہے کہ حکومت نے سپریم لیڈر کی ہدایت پر مذاکراتی راستہ اپنانے کا فیصلہ کیا تھا۔ مذاکراتی وفد پر لگائے جانے والے الزامات کو افسوسناک ہے۔
میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو میں ایرانی صدر نے کہا کہ جنگ اور مذاکرات سے متعلق تمام فیصلے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی جانب سے کیے جاتے ہیں۔ ان فیصلوں پر پابندی تمام دھڑوں کیلئے لازم ہے۔
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ایران کو نظر انداز کرکے علاقائی سیکیورٹی تشکیل نہیں دی جاسکتی۔
ایک بیان میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے واضح کردیا کہ نیا سیکیورٹی ڈھانچہ تمام ممالک کی شمولیت اوراجتماعی تعاون کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے۔ پائیدار سلامتی، اقتصادی ترقی اور علاقائی استحکام باہمی تعاون سے ہی ممکن ہے۔






















