Live Updates: سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے عالمی اداروں کو شامل کرنے کا فیصلہ
پاکستان میں سیلاب سے پیدا صورت حال پر عالمی بینک کی گہری نظر ہے، ذرائع
پی ڈی ایم اے پنجاب نےسیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن جاری کردیے
پی ڈی ایم اے پنجاب نےسیلاب سے متاثرہ اضلاع کو آفت زدہ قرار دینے کے نوٹیفکیشن جاری کردیے۔
نوٹیفیکیشن کےمطابق 27 اضلاع کی 72 تحصیلوں کو موضع جات کے لحاظ سے آفت زدہ قرار دیا گیا ہے۔50 فیصد سےزیادہ متاثر ہونے والےموضع جات کو آفت زدہ قرار دیا گیا۔
نوٹیفکیشن بورڈ آف ریونیو پنجاب اورپی ڈی ایم اے کے اشتراک سے جاری کیاگیا،فیصلہ پنجاب نیشنل کلیمیٹیز پری وینشن اینڈ ریلیف ایکٹ 1958 کے تحت کیا گیا۔
ضلعی انتظامیہ کومتاثرہ علاقوں میں فوری بحالی اورامدادی سرگرمیاں تیز کرنے اور متاثرہ خاندانوں کے نقصانات کا تخمینہ لگانے اورمالی امداد کے عمل کو جلد مکمل کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اےکاکہنا ہےکہ ریلیف کمشنرپنجاب کی جانب سےنگرانی کے لیےٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں،رواں سال خریف سیزن کے دوران لینڈ ریونیو اور آبیانہ کی وصولی نہیں کی جائےگی،جن کسانوں کا نقصان ہوا ہےانہیں زرعی قرضوں میں نرمی،معافی یا تاخیرکی سہولت مل سکتی ہےمتاثرہ خاندانوں کے لیےریلیف کیمپس کویقینی بنایا جائے گا۔
پی ڈی ایم اےاورضلعی حکومت ان علاقوں میں سڑکوں،نکاسی آب، اسکولوں، مراکزصحت اورگھروں کی بحالی کے لیے منصوبے شروع کرے گی۔
پی ڈی ایم اے نے سیلابی نقصانات کی تفصیل جاری کردی، امداد کا طریقہ کاربھی وضع
پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے سیلابی نقصانات کی تفصیل جاری کردی ہے ، ایک ماہ میں سروے مکمل کیا جائے گا، متاثرین کی امداد کا طریقہ کاربھی وضع کردیا گیا ۔
رپورٹ کے مطابق سیلاب سے پنجاب کے 27 اضلاع کے 3 ہزار 775 موضع جات کونقصان پہنچا ، ناروال میں 428 ،سیاکوٹ 377 ،جھنگ میں 322 موضع جات کونقصان پہنچا ۔ متاثرین میں رقم کی تقسیم کیلئے موقع پربنک آف پنجاب کے مراکز قائم کئے جائیں گے، پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ موبائل کے ذریعہ نقصانات کے ڈیٹا بارے آگاہ کریگا ، پنجاب لینڈ ریکارڈ اتھارٹی اور نادرا نقصانات کی تصدیق کرے گا ، سیلاب سے ہونے والے نقصان کی حتمی تصدیق تحصیل کمیٹی کرے گی جبکہ متاثرین کی شکایت اور تحفظات کے ازالہ کے لئے قائم خصوصی کمیٹی سنے گی ۔
وزیراعظم نے ایک ہفتےمیں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی
وزیراعظم شہبازشریف نے ایک ہفتے میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی۔
وزیراعظم کی زیرصدارت سیلابی صورتحال اور متاثرین کی بحالی کے اقدامات پر اہم اجلاس ہوا،چاروں صوبوں،گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے چیف سیکرٹریز کی شرکت۔۔شہباز شریف ویڈیو لنک پر شریک ہوئے،چیئرمین این ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کی صورتحال اور بحالی کے لائحہ عمل پر بریفنگ دی۔ بتایا کہ تقریباً ساڑھے تین لاکھ متاثرہ افراد امدادی کیمپس سے واپس گھروں کو جا چکے ہیں جبکہ سندھ کے چند کیمپس میں اب بھی لوگ مقیم ہیں۔
بریفنگ میں کہا گیا کہ سیلابی پانی تیزی سے اتر رہا ہے جس کے عد باقی افراد بھی اپنے گھروں کو لوٹ جائیں گے،متاثرین کو راشن اوردیگر امداد کی فراہمی جاری ہے جبکہ حکومت پنجاب بحالی کے لیے مثالی اقدامات کر رہی ہے۔
اجلاس میں فصلوں کے نقصانات اور کسانوں کی بحالی کے حوالے سے بھی تجاویز پیش کی گئیں۔ وزیر اعظم نےایک ہفتے میں نقصانات کےجائزے پر جامع رپورٹ پیش کرنےکی ہدایت کی اور کہاکہ ریلیف و بحالی کی کارروائیاں مزید تیزکی جائیں۔
انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں لوگوں کی مکمل بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔وزیر اعظم نے وزیرمنصوبہ بندی کو امداد و بحالی پر باقاعدگی سے جائزہ اجلاس بلانے اورچیئرمین این ڈی ایم اے کو صوبوں اور پی ڈی ایم ایز کو مکمل تعاون فراہم کرنے کی ہدایت کی۔
وزیراعظم نے ایم فائیو کےمتاثرہ حصے کی بحالی کے لیے این ایچ اے کو اقدامات تیز کرنے اور جلال پور پیر والا کے مقام پر موٹروے کے شگاف کی فوری مرمت کرنے کا بھی حکم دے دیا،کہا سیلاب متاثرہ علاقوں میں پانی سے پھیلنے والی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
دریائے سندھ اور کابل کے بالائی علاقوں سمیت راولپنڈی، اسلام آباد میں بارش کی پیشگوئی
محکمہ موسمیات نے دریائے سندھ اور کابل کےبالائی علاقوں سمیت راولپنڈی،اسلام آباد میں 24 گھنٹوں میں بارش کی پیشگوئی کردی۔
این ڈی ایم اے نےدریاؤں میں پانی کےبہاؤ،مختلف علاقوں میں سیلابی صورتحال پرتفصیلات جاری کر دیں،کوٹری بیراج پر4لاکھ کیوسک بہاؤ کے ساتھ درمیانے درجے کی سیلابی صورتحال برقرار ہے،ستمبر کے آخر تک مسلسل سیلابی صورتحال متوقع ہے،گڈو اور سکھر بیراج پر بہاؤ میں بتدریج کمی، معمول کے مطابق بہاؤ موجود رہے گا۔
دوسری جانب پنجاب کے دریاؤں کی صورتحال بہترہونے لگی،گیارہ مون سون اسپیل اور تاریخی ریلوں کے بعد پانی کی سطح معمول پر آ رہی ہےجبکہ دریائے ستلج کے مختلف مقامات پر درمیانے درجے کی صورتحال ہے۔
پی ڈی ایم اے کی رپورٹ کےمطابق پنجاب کےبیشتردریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہے،سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں بھی پانی کی سطح میں واضح کمی ہوئی ہے،دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا پر 56 ہزار اور سلیمانکی پر 81 ہزار کیوسک ہے۔دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر 37ہزار،خانکی ہیڈ ورکس
پر پنتیس ہزار جبکہ قادر آباد کےمقام پر 17 ہزارکیوسک ہے۔ دریائےراوی جسڑ پر 6 ہزار، شاہدرہ پر 5 ہزار ،بلوکی ہیڈ ورکس پر 25 ہزار اور ہیڈسدھنائی کے مقام پر پانی کا بہاؤ چوبیس ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 28ہزار اور پنجند کےمقام پر 95ہزارکیوسک ہے،جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رود کوہیوں میں پانی کا بہاؤ ختم ہو گیا ہے،متاثرہ علاقوں میں بحالی کے اقدامات جاری ہیں۔
پنجاب حکومت کا بینظیرانکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد سے انکار
پنجاب حکومت نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے سیلاب متاثرین کی امداد سے انکار کردیا ہے۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا سیلاب متاثرین کو بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے مدد فراہم نہیں کی جاسکتی،جو بی آئی ایس پی سے رجسٹرڈ ہی نہیں انہیں امداد کیسے دی جائے؟،سیلاب متاثرین کے لیے وزیراعلی کا ریلیف کارڈ بنے گا۔
عظمیٰ بخاری کاکہناتھاکہ وزیراعلی پنجاب نے ریلیف پیکج کا اعلان کر دیاہے،کسان کو20 ہزار فی ایکڑ دیا جائےگا،جس کا گھر گرا اسےدس لاکھ دیں گے،جس کا گھر گرا اسے10لاکھ اور جس گھر کانقصان ہوا 5لاکھ دیں گے،گائے اور بھینس کے نقصان پر5لاکھ روپےدئیے جائیں گے۔
وزیراطلاعات پنجاب نےکہاہےکہ بلاول بھٹو نےوزیراعلی پنجاب کی تعریف کی،شرجیل میمن کو بھاشن دینے کا شوق ہےکراچی اورسندھ کا کیا حال ہے،سب کے سامنے ہے،سندھ میں بیرونی امداد کےباوجود لوگ مکمل طور پر بحال نہیں ہوئے۔
سیلاب کے باعث موٹروے ایم فائیو کے مزید 4 سے 5 پوائنٹس متاثر ہونے کا خدشہ
جنوبی پنجاب میں سیلاب کے باعث موٹروے ایم فائیو کے مزید 4 سے 5 پوائنٹس متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
ترجمان موٹروےکےمطابق موٹروے ایم فائیوپراب تک 13 پوائنٹس متاثرہوچکے ہیں،ٹریفک کومتبادل راستوں سےگزاررہےہیں،ملتان سے سکھرسفرکرنےوالی ٹریفک متبادل راستے سےسفرکرسکتے ہیں،شاہ شمس انٹرچینج سےقومی شاہراہ کی طرف ٹریفک جاسکتی ہے ۔
اوچ شریف سے انٹرچینج سے دوبارہ موٹروے ایم فائیو پرسفرکرسکتے ہیں،سکھرسےملتان ایم فائیو اوچ شریف انٹرچینج قومی شاہراہ پرسفرکیاجاسکتا ہے،شیرشاہ انٹرچینج سے دوبارہ موٹروےایم فائیو کوجوائن کرسکتے ہیں۔
مون سون کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے،آئندہ ہفتے تک بارش کی کوئی پیشگوئی نہیں، ڈی جی پی ڈی ایم اے
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہےکہ مون سون کا سلسلہ ختم ہوگیا ہے، آئندہ ہفتےتک بارش کی کوئی پیشگوئی نہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے میڈیا بریفنگ کے دوران بتایا کہ مون سون بارشوں کےسسٹم ختم ہوچکےہیں،تمام دریا اپنی نارمل سطح پر آگئے ہیں،مرالہ سے پنجند تک کوئی بڑا ریلا موجود نہیں،جسڑ سے سندھنائی تک بھی کوئی بڑاریلا نہیں،ستلج میں کئی دریاؤں کی نسبت تھوڑاسابہاؤ زیادہ ہے،پچھلے 48 گھنٹے سے پانی مسلسل کم ہورہاہے،جتنےبھی بریچنگ کےمقامات تھےان کوبریج اپ کردیاگیاہے۔
عرفان علی کاٹھیا نےمزیدکہاپنجاب سےپانی کی پیک گزرنے کےبعدسندھ کے لئےبہت زیادہ مسائل نہیں ہوئے ،28اضلاع میں موضع جات متاثرہوئے، 50 لاکھ لوگ 2025 کے سیلاب سے متاثرہوئے،ساؤتھ پنجاب میں 331 ریلیف کیمپس ابھی بھی کام کر رہےہیں، علی پور،مظفرگڑھ، پیر والا میں سب سےزیادہ متاثرین ریلیف کیمپس میں موجودہیں۔
ڈی جی پی ڈی ایم اےکا کہنا ہے کہ 6 لاکھ12ہزار833لوگوں کومیڈیکل کیمپس میں امدادفراہم کی گئی، سیلابی صورتحال میں 123 اموات ہوئیں،کمپنسیشن کی 4کیٹگریزہیں،اگلے30دنوں میں ڈیجیٹلی شفافیت کے ساتھ سروے کیا جائے گا،فصلوں کابہت نقصان ہوا،گندم،مکئی،چاول اورکپاس کی فصلیں بڑے پیمانے پر متاثر ہوئیں۔
پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ
پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے آپریشن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت سیلاب متاثرین کےنقصان کاازالہ سےمتعلق اجلاس ہوا، اجلاس میں پنجاب میں سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئےآپریشن شروع کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے،ڈسٹرکٹ اورتحصیل کی سطح پر فلڈ ریلیف کمیٹیاں قائم کردی گئیں ہیں،وزیراعلیٰ نے سیلاب متاثرین کی امداد کیلئے آسان ترین طریقہ کاروضع کرنےکی ہدایت کی ہے۔
سیلاب متاثرین کیلئے سروے فارم،موبائل ایپ اورمانیٹرنگ ڈیش بورڈ بھی قائم کردیا گیا،وزیراعلیٰ مریم نواز ڈیش بورڈ پر خود سیلاب متاثرین کی امدادکی مانیٹرنگ کریں گی،انہوں نےسیلاب متاثرہ علاقوں میں سڑکوں،پلوں اورانفراسٹرکچر کی فوری بحالی کا حکم دیدیا۔
محکمہ ریونیو کے مطابق پنجاب کے27اضلاع،64تحصیل میں 3775موضع سیلاب سے متاثر ہوئے،سیلاب سے 63200پکے اور309684کچےمکانا ت متاثرہوئے،سروے کیلئےٹیم میں اربن یونٹ،ریونیو،زراعت اور آرمی کے نمائندے شامل ہوں گے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نےاجلاس میں گفتگو کرتےہوئےکہاحکومت سیلاب متاثرین کی بھر پورامداد کیلئے یکسو ہے،حکومت کو سیلاب متاثرین تک خودپہنچنا چاہیے،سیلاب متاثرین کو امداد کی ترسیل کیلئے زیادہ کیمپ اورپوائنٹس قائم کیےجائیں،دل کھول کرسیلاب متاثرین کی مدد کرنی ہے،ہرفرد کے نقصان کا ازالہ کریں گے، کوئی ریلیف سے محروم نہ رہے۔
پنجاب کے دریاؤں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہورہا ہے ، ترجمان پی ڈی ایم اے
ترجمان پی ڈی ایم اے پنجاب نے کہا ہے کہ صوبے کے دریائوں میں پانی کا بہاؤ نارمل ہو رہا ہے۔
ترجمان کے مطابق سیلابی علاقوں میں پانی کی سطح تیزی سے کم ہو رہی ہے،اس وقت دریائے سندھ، جہلم ، راوی ، چناب اور پنجند کے مقام پر پانی کا بہائو نارمل ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب اور سلیمانکی اور اسلام ہیڈ ورکس پر نچلے درجے کا سیلاب جبکہ ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں کا بہاؤ نارمل ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایت کے پیش نظر انتظامیہ ہر طرح کی صورتحال کے لیے الرٹ ہے اورسیلابی علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں تاہم شہری کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں ہیلپ لائن 1129پر رابطہ کریں۔
پاکستان میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 60 لاکھ افراد متاثر، عالمی برادری امداد فراہم کرے،اقوام متحدہ
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں حالیہ مون سون بارشوں اور ان کے نتیجے میں سیلاب کے باعث60 لاکھ سے زیادہ افراد متاثر جبکہ 25 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہوچکے ہیں،سیلاب متاثرہ علاقوں کی صورتحال’’ شدید انسانی بحران‘‘ کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ عالمی برادری اس بحران سے نمٹنے کے لیے امداد فراہم کرے۔
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے انسانی امور (او سی ایچ اے ) کے سربراہ کالوس گیہا نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا کہ پاکستان میں ریکارڈ مون سون بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچا دی جس کے نتیجے میں 60 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 25 لاکھ سے زیادہ بے گھر ہو چکے ہیں۔ انہوں نے موجودہ صورتحال کو "شدید انسانی بحران” قرار دیتے ہوئے فوری عالمی امداد کی اپیل کی۔
کارلوس گیہا نے کہا ہے کہ پاکستان کے علاقوں پنجاب، خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں آنے والے سیلاب نے مقامی آبادی کو مکمل طور پر بےیار و مددگار کر دیا ہے اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ صرف آغاز ہے، اصل تباہی اس سے کہیں زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق جون کے آخر سے شروع ہونے والی شدید بارشوں کے باعث اب تک ایک ہزار کے قریب افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں 250 بچے بھی شامل ہیں، سیلاب نے سب سے زیادہ نقصان پنجاب کو پہنچایا ہے جہاں بھارت کی جانب سے ڈیموں سے پانی چھوڑنے کے بعد دریاؤں نے تباہی مچائی اور 47 لاکھ افراد متاثر ہوئے،کئی علاقوں میں پورے پورے گاؤں پانی میں ڈوب چکے ، سڑکیں اور پل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ 2.2 ملین ہیکٹر زرعی زمین بھی زیرِ آب آ گئی ہے، گندم کے آٹے کی قیمت میں صرف ستمبر کے پہلے ہفتے میں 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے فوری امداد کے لیے 5 ملین ڈالر جاری کیے ہیں جبکہ مزید 1.5 ملین ڈالر مقامی این جی اوز کو دیے گئے ہیں، تاہم حکام کا کہنا ہے کہ کئی دیہی علاقے اب بھی مکمل طور پر کٹے ہوئے ہیں جہاں امدادی سامان صرف کشتیوں یا ہیلی کاپٹروں کے ذریعے پہنچایا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہاکہ سیلاب کے باعث ملیریا، ڈینگی اور ہیضے جیسی بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے جبکہ پانی، خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اصل چیلنج اگلا مرحلہ ہے جب ان متاثرین کو دوبارہ زندگی کی طرف واپس لانا ہوگا۔انہوں نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ یہ پاکستان کی غلطی نہیں بلکہ وہ ممالک جو ماحولیاتی تبدیلی کے ذمہ دار ہیں انہیں اس بحران کی ذمہ داری بھی اٹھانی ہوگی۔
لاہور: سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبا کےلیے فیسوں میں ریلیف کی تجویز
پنجاب میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے طلبا کےلیے فیسوں میں ریلیف کی تجویز زیرغور ہے۔
وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے وزیراعلیٰ پنجاب کو سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبا کی رجسٹریشن اور سمسٹر فیس معافی کی تجویز دیدی،حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ مریم نواز کی منظوری کے بعد کیا جائے گا۔
وزیر تعلیم پنجاب کا کہنا ہے کہ حتمی فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کے بعد کیا جائے گا، فیصلے سے سیلاب متاثرہ خاندانوں پرمالی بوجھ کم ہوگا، فیصلے کا اطلاق پبلک کالجز اور یونیورسٹیز پر ہوگا۔
رانا سکندر حیات کا کہنا ہے کہ متاثرہ طلبا سے تعلیم جاری رکھنے کیلئے حکومت ہرممکن تعاون کریگی، نجی اسکول، کالجز اور یونیورسٹیاں بھی متاثرہ طلبا کو ریلیف دینے کا اقدام اٹھائیں۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا شرجیل میمن کے بیان پرسخت ردعمل
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما شرجیل میمن کے بیان پر سخت ردعمل کا اظہارکرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن نے کبھی صوبائیت کارڈ، نہروں کا کارڈ یا ڈیم کارڈ نہیں کھیلا۔
اپنے ایک بیان عظمیٰ بخاری نےکہا کہ مسلم لیگ نواز ایک قومی جماعت ہے جو ہمیشہ قومی سوچ اور قومی ترقی کو ترجیح دیتی ہے،جس ٹیم کو آپ ان ایکسپرینس ٹیم کہہ رہے ہیں،اسی ٹیم نے صرف ڈیڑھ سال میں پنجاب میں اسی منصوبے مکمل کر کے ترقی کا انقلاب برپا کیا ہے۔
وزیراطلاعات پنجاب نےپیپلزپارٹی پرتنقیدکرتے ہوئےکہا کہ آپ لوگوں نے سترہ سالوں میں کراچی اور سندھ کا جوحال کیا،اس پر آج بھی عوام روتے ہیں،سندھ کے پچھلے سیلاب میں بیرونی امداد ملنے کےباوجود آج تک وہاں تباہی کے آثار موجود ہیں۔
عظمیٰ بخاری نےمزیدکہاکہ پنجاب کےحالیہ سیلاب میں پیپلزپارٹی نے جو کردار ادا کیا اسے پنجاب کبھی نہیں بھولےگا،بری بات یہ ہے کہ آپ اپنے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو بھی جھٹلا رہے ہیں،جنہوں نے سیلاب کے دوران مریم نواز کی تعریف کی تھی۔
مظفرگڑھ؛امدادی سامان کے ٹرکوں پر سیلاب متاثرین کا دھاوا، مقامی پٹواری کی ٹانگ ٹوٹ گئی
علی پورکے نواحی علاقے سلطان پور میں امدادی سامان کے ٹرکوں پرمتاثرین نے دھاوا بول دیا،بھگدڑ میں مقامی پٹواری کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔
علی پورکےنواحی علاقے سلطان پور میں امدادی سامان کے ٹرکوں پرمتاثرین نے دھاوا بول دیا سیلاب میں ڈوبی عوام کا صبر جواب دے گیا ٹرکوں پر چڑھ گئی جس کے ہاتھ جو آیا وہ لے اڑا متاثرین کی ٹرکوں سے سامان لوٹنے کی ویڈیو منظر عام پر آ گئی۔
ویڈیو میں واضع طور پر دیکھا جاسکتا ہےکس طرح زبردستی ٹرکوں پر چھڑ کر سامان لوٹ رہے ہیں بھگدڑ کی زد میں آ کر مقامی پٹواری اپنی ٹانگ توڑوا بیٹھا۔
خیبرپختونخوا، جی بی اور آزاد کشمیر میں سیلاب سے 63 ارب روپے سے زائد کا نقصان
پاکستان کے 3 علاقوں خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ سامنے آگئی۔
رپورٹ کے مطابق خیبرپختونخوا، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں سیلاب سے63 ارب 79 کروڑ روپے کا نقصان ہوا ہے۔ تعمیر نو کی سرگرمیوں کیلئے 44 ارب 47 کروڑ روپے لاگت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
صوبائی رپورٹ کے مطابق یہ نقصانات 22 کروڑ 70 لاکھ امریکی ڈالر کے مساوی ہیں، فصلوں، مویشیوں اور مکانات کی تباہی سے 17 ارب 89 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ سیلاب سے دیگر نقصانات کا اندازہ 45 ارب 90 کروڑ روپے لگایا گیا۔
پنجاب اور سندھ میں سیلابی پانی اترنے کے بعد نقصانات کا تخمینہ لگایا جائے گا، سیلاب سے نقصانات کا حتمی تخمینہ عالمی اداروں کی مدد سے لگایا جائے گا۔
سیلاب سے زرعی معیشت کو شدید جھٹکا، پنجاب میں 22 لاکھ ایکڑ رقبہ متاثر
سیلاب نے پنجاب میں دریاؤں کے کنارے 22 لاکھ ایکڑ سے زائد زرعی اراضی کو ڈبو دیا ہے جس سے سب سے زیادہ نقصان چاول کی کاشت فصل کو ہوا۔
صوبائی اداروں نے سیلاب سے زرعی نقصانات سے متعلق وفاقی حکومت کو تازہ اعداد و شمار سے آگاہ کردیا، ذرائع کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے22 لاکھ ایکڑ رقبہ متاثرہ ہوا، سب سے زیادہ نقصان چاول کی کاشت فصل کو ہوا، 10 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی چاول کی پیداوار کو نقصان پہنچنے کا تخمینہ ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے ڈھائی لاکھ ایکڑ رقبے پر گنے کی فصل کو نقصان پہنچا ہے، مکئی اور کپاس کی کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق سندھ میں پیاز کی تین فیصد تک فصل کو نقصان پہنچا ہے، ابھی تک سندھ میں سیلاب کا پانی دریائی حدود سے زیادہ باہر نہیں نکلا ہے تاہم پنجاب کے برعکس سندھ میں سیلاب سے صرف کچے کا علاقہ ہی متاثر ہوا ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب کے متعدد اضلاع کو آفت زدہ قرار دیکر ٹیکس و آبیانہ معاف ہوسکتا ہے، حافظ آباد، سیالکوٹ ، نارووال گوجرانوالہ، گجرات، ملتان میں کسانوں کے ذمہ ٹیکس اور آبیانہ معاف ہوسکتا ہے۔
سیلاب زدہ علاقوں میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے، ایک دن میں 33 ہزار مریض رپورٹ
پنجاب کے سیلاب متاثرین میں وبائی امراض تیزی سے پھیلنے لگے۔
گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بخار، جلدی امراض ، آشوب چشم ، ڈائریا ، سانپ اور کتے کے کے کاٹنے کے 33 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔ سیلاب زدہ علاقوں میں مختلف بیماریوں کے مریضوں کی تعداد7 لاکھ55 ہزار ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران سانس کی تکلیف کےساتھ 5 ہزار مریض، بخار کے ساتھ4300،جلدی الرجی کے4ہزار،آشوب چشم کے700 مریض رپورٹ ہوئے۔
سانپ کے کاٹنے کے5 کیسز اور کتے کے کاٹنے کے20 کیسز، ڈائریاکے1900سےزائد مریض سامنے آئے۔ محکمہ صحت پنجاب کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں 405 فکس کیمپس میں 2 لاکھ79ہزار مریضوں کا طبی معائنہ کیا گیا۔
ملالہ یوسفزئی کا سیلاب متاثرین کیلئے 2 لاکھ 30 ہزار ڈالر امداد کا اعلان
نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے سیلاب سے متاثرہ بچوں کیلئے دو لاکھ 30 ہزار ڈالر امداد کا اعلان کردیا۔
ویڈیو پیغام میں ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ دو لاکھ ڈالر ادارہ تعلیم و آگاہی کو گرانٹ کی صورت میں دیے جائیں گے جبکہ ماؤنٹین انسٹیٹیوٹ فارایجوکیشن اینڈ دیویلپمنٹ کیلئے 30 ہزار ڈالر کا اعلان کیا گیا۔
ملالہ یوسفزئی کے مطابق اس فنڈ سے سیلاب سے متاثرہ بچوں کو کتابیں، یونیفارم اور دیگر ضروریات فراہم کی جائیں گی۔ ملالہ یوسفزئی نے کہا کہ سیلاب نے ملک بھر میں اسکولوں کو تباہ کر دیا، مشکل کی اس گھڑی میں پوری پاکستانی قوم کے ساتھ دلی ہمدردیاں ہیں۔
سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کے لیے عالمی اداروں کو شامل کرنے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات اور ضروریات کا تخمینہ لگانے کیلئے عالمی اداروں کو شامل کرنے کا فیصلہ کر لیا۔
احسن اقبال کی زیر صدارت وزیراعظم کی قائم کردہ خصوصی کمیٹی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے شرکت کیں۔وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ اگلے 10 روز میں سیلابی نقصانات کا ابتدائی تخمینہ مکمل کر لیا جائے گا۔ حتمی تخمینہ پانی اترنے کے بعد ہی ممکن ہو گا۔
اجلاس میں 2025 کے سیلاب سے نقصانات کے تخمینے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے دوران صوبائی حکومتوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ سیلابی نقصانات کا حتمی تخمینہ پانی اترنے کے بعد ہی ممکن ہوگا۔
وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ سیلاب کے نقصانات کا تخمینہ صوبائی حکومتوں کے ساتھ مربوط انداز میں تیار کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دس روز میں سیلابی نقصانات کا ابتدائی تخمینہ مکمل کیا جائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ سیلاب متاثرہ علاقوں میں بحالی کا کام جاری ہے جبکہ وفاقی اور صوبائی ادارے مل کر امدادی کارروائیاں سرانجام دے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ اس بار بھی 2022 کی طرز پر قدرتی آفات کے بعد نقصانات اور ضروریات کا تخمینہ عالمی اداروں کو شامل کر کے لگایا جائے گا۔
وزیر منصوبہ بندی نےکہا کہ متاثرہ علاقوں میں درست اور شفاف اعداد و شمار کی بنیاد پر امدادی اقدامات کیے جائیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی پاکستان کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ سیلاب اور خشک سالی موسمیاتی تبدیلی کے براہِ راست اثرات ہیں۔ انہوں نےمزید کہا کہ بھارت کی جانب سے قدرتی آفت میں بھی سیاست کی گئی۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں سیلاب سے پیدا صورت حال پر عالمی بینک کی گہری نظر ہے، ذرائع عالمی بینک کے مطابق ضروریات کا جائزہ مکمل ہونے کے بعد اقدامات پر غور کیا جائے گا، عالمی بینک بحالی کے لیے ممکنہ اقدامات پر مشاورت میں مصروف ہے۔
لاہور میں سیلاب سے مجموعی طور پر82 ہزار952 افراد متاثر ہوئے، رپورٹ
لاہورمیں سیلاب سے نقصانات کی رپورٹ تیار کرلی گئی،پانچ تحصیلوں سے سیلاب سے مجموعی طورپر82 ہزار 952 افراد سیلاب سے متاثر ہوئے۔
سیلابی صورتحال پرضلعی انتظامیہ کی رپورٹ کےمطابق لاہورکی پانچ تحصیلوں کے 26 موضع جات متاثر ہوئے،تحصیل سٹی 4، راوی9، علامہ اقبال5، رائیونڈ 7 اور تحصیل واہگہ کا ایک موضع متاثر ہوا۔
رپورٹ کےمطابق 7888 افراد کو محفوط مقامات تک پہنچانے کیلئےٹرانسپورٹ کی سہولت دی گئی،سیلاب میں پھسنے36 ہزار658 افرادکونکال کرمحفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا،تین افرادزخمی ہوئے،سیلاب کے باعث لاہورمیں کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی۔
رپورٹ کےمطابق سیلاب کےباعث ایک روڈ کونقصان پہنچا،سیلاب کےباعث نہ کوئی چھت گری،نہ بند ٹوٹا نہ ہی کوئی پل گرا،سیلاب کےپیش نظر لاہورمیں17 میڈیکل کیمپ قائم کیےگئے،میڈیکل کیمپس میں 16 ہزار 967 افراد کو طبی سہولیات کی فراہمی کی گئی۔
لائیو سٹاک کے26 ویٹنری کیمپس کا قیام کیا گیا،ویٹنری کیمپس میں 18921جانوروں کو طبی سہولت دی گئی،13 ہزار621جانوروں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیاگیا۔
آج رات سے 19 ستمبر تک مزید بارشوں کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے آج رات سے 19 ستمبر تک مزید بارشوں کی پیش گوئی کردی۔ اس دوران چند مقامات پر موسلا دھار بارشیں بھی برس سکتی ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق آج رات بحیرہ عرب سے درمیانی شدت کی مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی علاقوں میں داخل ہونگی جس سے خیبرپختونخوا میں 16 ستمبر سے 19 ستمبر کے درمیان دیر چترال کوہستان شانگلہ بونیر مالاکند کوہاٹ سمیت مختلف مقامات پر وقفہ وقفہ سے گرج چمک کے ساتھ بارشوں کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 15 سے 19 ستمبر کے دوران کشمیر میں راولا کوٹ، ہٹیاں بالا، کوٹلی، بھمبر، میر پور اور ملحقہ علاقوں میں تیز بارش برس سکتی ہے جبکہ گکگت بلتستان میں دیا میر استور غذر سکردو گلگت گانچھےاور شگر میں بارش برسے گی۔
اسلام اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 16 سے 19 ستمبر کے دوران راولپنڈی، اٹک، جہلم، منڈی بہاوالدین، گجرات، لاہور، فیصل آباد، قصور، شیخوپورہ، سمیت وسطی پنجاب کے چند علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔ اس دوران پنجاب کے کچھ مقامات پر موسلا دھار بارش بھی برس سکتی ہے۔
سندھ کے بیشتر مقامات پر موسم گرم اور خشک جبکہ ساحلی اضلاع میں مطلع جزوی ابرآلود رہے گا اور بلوچستان کے بیشتر علاقوں میں مطلع جزوی ابر آلود اور موسم مرطوب رہنے کا امکان ہے۔
ملک میں بارشوں اور سیلاب سے جاں بحق افراد کی تعداد 992 ہوگئی
ملک بھر کے مختلف مقامات پر بارشوں اور سیلابی صورتحال کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 992 تک پہنچ چکی ہے جبکہ ایک ہزار 64 زخمی ہوئے۔
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 4 افراد جاں بحق ہوگئے، ڈوب کر مرنے والے چاروں بچے ہیں ، تعلق بلوچستان کےعلاقے کوہلو سے ہے، ملک میں 26 جون سے اب تک جاں بحق ہونے والوں کی مجموعی تعداد 992 جبکہ ایک ہزار 64 زخمی ہوئے۔
رپورٹ کے مطابق سب سے زیادہ 504 اموات خیبرپختونخوا میں ہوئیں، پنجاب 290 ، سندھ میں 80 افراد جاں بحق ہوئے، گلگت بلتستان میں 41 ، آزاد کشمیر 38 ، بلوچستان30 اوراسلام آباد میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔ بارشوں اور سیلاب کے دوران ملک بھر اب تک 1064 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
رواں سال مون سون سیزن کے دوران ملک بھر میں8 ہزار 441 مکانات متاثر، 2 ہزار 216 مکمل تباہ 6 ہزار 265 کو جزوی نقصان پہنچا، لینڈ سلائیڈنگ اور سیلاب کے باعث 239 پل اور 674 کلومیٹر کی سڑکیں تباہ ہوگئیں، بارشوں اور سیلاب میں ملک بھر میں اب تک 6 ہزار 500 سے زائد جانور بھی ہلاک ہوچکے۔
مون سون کے گیارھویں اسپیل کا الرٹ جاری
محکمہ موسمیات نے ملک بھر میں مزید بارشوں کی پیشگوئی کردی۔ مون سون کے گیارھویں اسپیل کا الرٹ جاری کر دیا گیا۔
محکہ موسمیات کے مطابق بحیرہ عرب سے درمیانی شدت کی مرطوب ہوائیں بالائی علاقوں میں داخل ہورہی ہیں، آئندہ ہفتے ملک کے بالائی علاقوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ہے۔
خیبرپختونخوا میں 16سے19 ستمبر کے درمیان مختلف شہروں میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ 15 سے 19 ستمبر کے دوران کشمیر کے مختلف علاقوں میں بارشیں متوقع ہے۔
محکہ موسمیات کے مطابق 16 سے 19 ستمبر تک گلگت بلتستان کے مختلف علاقوں میں بارش متوقع ہے جبکہ اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں 16 سے 19 ستمبر تک بارشوں کا امکان ہے۔
گڈو بیراج سے اونچے درجے کے سیلابی ریلے سکھر میں داخل، کچے کےمزید دیہات زیرآب ،آئندہ 24 گھنٹے انتہائی اہم قرار
گڈو بیراج سے اونچے درجے کےسیلابی ریلے سکھر میں داخل ہونے لگے،آئندہ 24 گھنٹے میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگا۔
گڈو بیراج سےاونچے درجے کے سیلابی ریلے سکھر کیجانب بڑھ رہےہیں،سکھر میں کچے کے دیہات کی بڑی تعداد زیرآب آگئے،جبکہ دیہات میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا سلسلہ بھی جاری ہے۔
محکمہ آبپاشی کےمطابق سکھر بیراج پرپانی کی آمد 5 لاکھ 38 ہزار کیوسک ریکارڈ کی جارہی ہے،آئندہ 24 گھنٹوں کےدوران سکھر بیراج میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگا،کچے کے علاقوں میں پھنسے لوگوں کو ریسکیو کرنے کا عمل جاری ہے۔
گھوٹکی میں سیلابی پانی سے گیس کےدس کنوئیں متاثر ہوگئے،جس کے باعث گیس کی سپلائی بند کردی گئی، گیس کی پیداوار دو دن سے بند ہونے سے گیس میں کمی واقع ہوگئی۔
دریائےسندھ کےسیلاب اور رخ بدلنے سےاوجی ڈی سی ایل قادرپور کے کنویں متاثر ہوئے ہیں،گھوٹکی کے کچے کے علاقے میں قادرپورگیس فیلڈ کےگیس کے کئی کنویں واقع ہیں پانی کی کٹاؤ کی وجہ سے مرمتی کام فی الحال شروع نہیں ہوسکتا،جب تک پانی اتر نہیں جاتا تب تک ان کی بحالی نہیں ہوسکتی۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہےکہ اندازہ ہےساڑھے چھ سےسات لاکھ کیوسک پانی آئےگا،این ڈی ایم اے نے گیارہ لاکھ کیوسک تک پانی سندھ پہنچنے کی اطلاع دی تھی۔
امید ہےسیلابی ریلے کو خیریت سےسمندر تک لےجانےمیں کامیاب ہوں گے،وفاقی حکومت متاثرین کی بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے امداد کرے ۔
سندھ میں گدو بیراج پر اونچے درجے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب
ملکی آبی ذخائر کی صورتحال معمول پر آ گئی ہے، دریائے سندھ میں گدو بیراج پر اونچے درجے اور سکھر بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے ۔ اس وقت گدو بیراج پر پانی کی آمد 6 لاکھ 27 ہزار 908 کیوسک ، اخراج 5 لاکھ 98 ہزار 668 کیوسک ہے۔ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 88 ہزار اور اخراج 4 لاکھ 38 ہزار 390 کیوسک ریکارڈ ۔ کوٹری بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے ۔
وزارت آبی وسائل کےمطابق دریائے چناب میں مرالہ ہیڈ ورکس ، ہیڈ خانکی پر صورتحال نارمل ہے ، تاہم پنجند پر اونچے درجےکا سیلاب اور پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 2 ہزار 919 کیوسک ہے ۔ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر درمیانے درجےکا سیلاب ہے ، ہیڈ سلیمانکی پر نچلے درجے اور ہیڈ اسلام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے ۔ رپورٹ کےمطابق تربیلا ڈیم میں پانی کی آمد ایک لاکھ 53 ہزار اور اخراج ایک 52 ہزار نو سو کیوسک ، کالا باغ میں پانی آمد ایک لاکھ 79 ہزار اور اخراج ایک لاکھ 71 ہزار 735 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، منگلا ڈیم میں پانی کی آمد 28 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 9 ہزار کیوسک ہے ۔
پنجاب میں تباہی کے بعد بپھرے ریلے سندھ میں داخل، گڈوبیراج پر اونچے درجے کا سیلاب
پنجاب میں تباہی کے بعد بپھرے ریلے سندھ میں داخل ہونا شروع ہوگئے۔ گڈو بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
گڈو بیراج پر پانی کا بہاؤ 6 لاکھ 12 ہزار کیوسک تک جا پہنچا ۔ 24 گھنٹے میں ساڑھے 7 لاکھ کیوسک تک جانے کا خطرہ ہے۔
گھوٹکی میں راؤنتی اور قادر پور کے کچے میں پانی داخل ہوگیا۔ 100 سے زائد دیہات کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا۔ نوڈیرو میں بھی متعدد دیہات پانی میں گھر گئے ۔ مکینوں کی اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی جاری ہیں۔ کنڈیارو میں زمیندارہ بند ٹوٹ گیا۔ پانی آبادی کی طرف بڑھنے لگا۔
دوسری جانب کشمور میں میڈیا سے گفتگو میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے کہا کہ ممکنہ سیلاب سے نمٹنے کے لیے تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ 30 ہزار افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔۔ سیلاب سے اب تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی۔
مراد علی شاہ نے کہا کہ صوبائی وزرا اور منتخب نمائندے اپنے اپنے علاقوں میں موجود ہیں۔ امید ہے خوش اصلوبی سے سیلابی پانی گزارلیں گے۔
سیلاب سے ملکی معیشت کو اربوں روپے نقصان کا ابتدائی تحمینہ تیار
ملک بھر میں خوفناک مون سون بارشوں اور بھارتی آبی جارحیت کے نتیجے میں بڑی تباہی۔ حکومت نے سیلاب متاثرین کی مالی امداد اور بحالی کیلئے کوششیں تیز کر دیں۔
ملک بھر میں سیلاب سے ہونے والے نقصانات کے تخمینے کا عمل بھی جاری۔ وفاقی حکومت این ڈی ایم اے سمیت دیگر اداروں کے تعاون سے تفصیلی جائزہ لے رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت اب تک صوبے میں متاثرین کو 9 ارب روپے معاوضہ دے چکی جبکہ مجموعی امداد 12 سے 13 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق سیلاب کے باعث سرکاری انفرا اسٹرکچر کو 35 ارب روپے کا نقصان پہنچا جبکہ نجی شعبے کے نقصانات اس کے علاوہ ہیں۔
دوسری جانب پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنیسی نے بھی سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس کیا، ساتھ ہی آئی ایم ایف کے جائزہ مشن کے رواں ماہ دورہ پاکستان کی تصدیق بھی کر دی۔
ماہر بنیسی کے مطابق آئی ایم ایف مشن پاکستان کے مالی حالات اور ہنگامی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لے گا۔ یہ بھی دیکھ جائے گا کہ مالی سال دوہزار پچیس چھبیس کا بجٹ سیلابی اخراجات کے لیے کس حد تک لچکدار ہے ۔ حکومت پاکستان نے آئی ایم ایف سے متاثرینِ سیلاب کے بجلی بل تین ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی اجازت مانگ رکھی ہے۔
سیلاب متاثرین کو بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں، وفاقی وزیر خزانہ
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کو بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں۔ آئی ایم ایف نے اس صورتحال کو سمجھ لیا ہے۔ بیرونی فنڈز سے پہلے ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں۔
کمالیہ میں میڈیا سے گفتگو میں وزیر خزانہ نے کہا کہ حالیہ سیلاب میں ریلیف آپریشن جیسی مثال تاریخ میں نہیں ملتی، ہم افواج پاکستان کے بھی بے حد شکر گزار ہیں ۔ اللہ کرے پانی جلد اترے اور اگلی فصلیں کاشت ہو سکیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ سڑکیں، پل، لوگوں کےمکان اور املاک تباہ ہوئی ہیں، ہم نے اس اسٹرکچر کو دوبارہ پہلے جیسا بنانا ہے ۔ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ پاکستانی عوام کس مشکل سے گزر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ آفت زدہ عوام کو ابھی بجلی کے بل بھیجنا مناسب نہیں، ہم پہلے ہی آئی ایم ایف کے پروگرام میں شامل ہیں ۔ فنڈز سے پہلے ہم اپنے وسائل استعمال کر رہے ہیں، آئی ایم ایف نے اس صورتحال کو سمجھ لیا ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ سیاست سے بالا تر ہوکرملک کو آگے لے کرجانا ہے۔ کابینہ نے ملک میں ماحولیاتی اورزرعی ایمرجنسی ڈیکلیئرکی ہے۔ ایمرجنسی کے تحت جو کرنا پڑا کریں گے۔ یہ دیکھنا ہوگا کہ آبادی کہاں بنانی ہے،کاشت کہاں کرنی ہے
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم اورآرمی چیف سمیت وفاقی وزرا سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کررہے ہیں۔ منصوعی مہنگائی پرقابو پانے کےلیے اقدامات کررہے ہیں۔
ہنگامی اخراجات کا جائزہ لینے کیلئے آئی ایم ایف مشن رواں ماہ پاکستان آئے گا
سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف فراہمی اور کسانوں کو امدادی پیکج دینے سے متعلق پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنیسی کا کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف مشن بجٹ اور ہنگامی اخراجات کے جائزہ کیلئے رواں ماہ پاکستان آئے گا۔
پاکستان میں آئی ایم ایف کے نمائندے ماہر بنیسی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ادارہ سیلاب سے ہونے والے جانی نقصان پر افسوس کرتا ہے۔ آئی ایم ایف مشن رواں ماہ پاکستان کا دورہ کرے گا تاکہ بجٹ اور ہنگامی اخراجات کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔
ماہر بنیسی نے کہا کہ مشن یہ بھی دیکھے گا کہ مالی سال 2025،26 کا بجٹ سیلابی اخراجات کے لیے لچکدار ہے یا نہیں۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے متاثرینِ سیلاب کے بجلی کے بل 3 ماہ کے لیے مؤخر کرنے کی اجازت آئی ایم ایف سے مانگ رکھی ہے۔
پنجاب میں سیلاب سے 45 لاکھ 74 ہزار لوگ متاثر،104شہری جاں بحق ہوئے، رپورٹ
پی ڈی ایم اے پنجاب نے سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق راوی،ستلج اورچناب میں سیلابی صورتحال سے 4700 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے،دریائے چناب میں مجموعی طور پر2475 موضع جات متاثر ہیں،ستلج میں سیلاب کےباعث 715 موضع جات متاثر ہوئے،جبکہ راوی میں سیلاب سے مجموعی طورپر1458 موضع جات متاثر ہوئے۔
ریلیف کمشنرنبیل جاوید کا کہنا ہے کہ سیلابی صورتحال کےباعث مجموعی طورپر 45 لاکھ 74 ہزارلوگ متاثرہوئے،سیلاب میں پھنسے25 لاکھ 16 ہزار لوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا،متاثرہ اضلاع میں 372 ریلیف کیمپس قائم کیے گئے ہیں،459 میڈیکل کیمپس بھی قائم کیے گئے ہیں،
ریلیف کمشنر کےمطابق مویشیوں کیلئے 391 ویٹرنری کیمپس قائم کیے گئے،متاثرہ اضلاع میں 20 لاکھ 20 ہزارجانوروں کو محفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا،حالیہ سیلاب سےمختلف حادثات میں 104شہری جاں بحق ہوئے۔
گڈو بیراج میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی وارننگ، کچے کے مزید دیہات زیرآب آگئے
دریائےسندھ گڈوبیراج پر دو روز سے اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے،پانی حفاظت بندوں سے ٹکرا گیا، سیلابی ریلے نے کچے کے مزید متعدد دیہات کو اپنی لپیٹ میں لےلیا۔
صوبہ پنجاب میں تباہی مچاکر آنے والا سیلابی ریلا گھوٹکی کے کچے میں داخل ہوگیا،دریائے سندھ گڈو بیراج میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہاہے،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 70ہزار کیوسک پانی میں اضافہ ریکارڈکیاگیا، پانی کی آمد 6 لاکھ 12 ہزار 269 کیوسیک ریکارڈ کی گئی،دریائے سندھ گڈوبیراج میں پانی کا اخراج 5 لاکھ 82 ہزار 942 کیوسیک ریکارڈ کیا گیا۔
دریائےسندھ گڈوبیراج 15ستمبر کوانتہائی اونچےدرجےکی سیلابی صورتحال ہوسکتی ہے،آئندہ 12 گھنٹوں مزید پانی سطح بلند ہونا متوقع ہے،وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ آج گڈو بیراج کا دورہ کرینگے۔
دوسری جانب دریا سندھ کےکچے کے علاقوں میں مویشی چَرانے،نہانے پر 15 روز کیلئے پابندی عائد کردی گئی ہے،ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر دریا سندھ پر عوامی آمد و رفت پر بھی پابندی عائد ہے۔
کمشنر نوابشاہ کا کہنا کے ریسکیو اورریلیف کی سرگرمیوں کو استثنیٰ حاصل ہوگا،پولیس خلاف ورزی پردفعہ 188 تعزیرات پاکستان کے تحت کاروائی عمل میں لائے،آئندہ دنوں میں دریاسندھ میں پانی کی سطح بلند ہونے کےامکانات ہیں،کمشنرشہید بینظیر آباد ڈویژن ندیم احمد ابڑو نےنوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
سیلاب سے نقصانات کا تخمینہ لگانے کیلئے مردم شماری، زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال ہوگا
سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں جانی و مالی نقصانات کا پتہ لگانے کیلئے مردم شماری،زراعت شماری اور اکنامک سینسز کا ڈیٹا استعمال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
پاکستان میں سیلابی تباہی کے نقصانات کا حتمی تخمینہ لگانے کیلئے مردم شماری اور زراعت شماری کا ڈیٹا استعمال کیا جائے گا،اکنامک سینسز سے کاروبار اورانفراسٹرکچر کے نقصان کا پتہ چلایا جائے گا۔
جیو ٹیگنگ کے ذریعے اسکول،کالجز،مساجد اور کاروباری مراکز سمیت دیگر عمارتوں کی تباہی کا اندازہ ہوگا،وفاقی وزیرمنصوبہ بندی احسن اقبال نے ادارہ شماریات کو ہدایات جاری کردی ہیں اورضلع نارووال میں پائلٹ پراجیکٹ شروع کر دیا گیا ہے۔
پنجاب میں سیلاب کے باعث 45 لاکھ سے زائد افراد متاثرہوئے،پی ڈی ایم اے
پنجاب میں سیلاب کے باعث 45لاکھ سے زائد افراد متاثرہوگئے,ہزاروں دیہات زیرآب آئے جبکہ پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح نارمل ہونا شروع ہوگئی ہے۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق پنجاب میں سیلاب سے 45 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے،4700 سے زائد دیہات زیرآب آئے،دریائے چناب 2489، راوی 1458،ستلج کے سیلاب کے باعث 701 دیہات متاثر ہوئے۔
ریلیف کمشنرکی رپورٹ کے مطابق سیلاب میں پھنسے 25 لاکھ سے زائد افراد کومحفوظ مقامات پر منتقل کیا،سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں 101 افراد کی اموات رپورٹ ہوئیں۔
آئندہ 48 گھنٹوں میں ہیڈ محمد والا اور شیر شاہ پل کے مقام پر پانی میں واضح کمی ہوگی،راوی ہیڈ سدھنائی کےمقام پرپانی کا بہاؤ57 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
پنجند کےمقام پرانتہائی اونچےدرجے کا سیلاب ہے،جہاں پانی کا بہاؤ 5 لاکھ 75 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے،دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ 83 ہزار کیوسک ہے،پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ دریاؤں کے بالائی علاقوں بارشوں کا سلسلہ رک چکا ہے۔
گڈو بیراج سے ساڑھے 7 لاکھ پانی سندھ میں داخل ہوگا، ڈی جی پی ڈی ایم اے نے خبردار کردیا
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ گڈو بیراج سے ساڑھے 7 لاکھ پانی سندھ داخل ہوگا،کل شام تک تمام پانیوں کی پیک ہوگی،دریائے ستلج میں 2 ماہ سے ہائی فلڈ چل رہا تھا،آئندہ سال اس سے بھی بڑا سیلاب آنے کا امکان ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نےپریس کانفرنس کرتےہوئے کہا اگلے 24 گھنٹوں میں پانی میں مزید کمی آئےگی،پنجاب کےسپرفلڈ نے 28 اضلاع کو اپنی لپیٹ میں لیا،چناب اور راوی بری طرح ملتان پر اثر انداز ہوا،مجموعی طور پر 4744 موضع زیر آب ہیں،سیلاب سے 45لاکھ 70ہزار 530 افراد متاثر ہوئے،۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نےکہا جلال پور پیر والا یا شجاع آباد کوکسی قسم کاکوئی خطرہ نہیں،گنڈا سنگھ پر 83 ہزار کیوسک، ہیڈ اسلام پر 82 ہزارکیوسک اور میلسی سائفن میں 92 ہزار کیوسک پانی چل رہا ہے، ہمیں جلالپور پیروالا میں کثیر تعداد میں انخلاء کرنا پڑا،انخلاء کیلیے لوگوں کا رسپانس نا ہونے پر ہمیں چیلنج ملا،5 ہیلی کاپٹر رحیم یار خان اور جلال پور پیر والا میں سروسز فراہم کررہے ہیں۔
مزیدکہا25 لاکھ 27ہزار افراد کومحفوظ مقامات پرپہنچایا گیا،کچھ مقامات پرحکومت کو ناچاہتےہوئے بھی انخلاء کیلیےسختی کرنا پڑی،جنوبی پنجاب میں کچھ حادثات ہوئے،جن پرنظر ثانی کی جارہی ہے،20 لاکھ 19 ہزار 237 جانوروں کا انخلاءکیاگیا،پنجاب میں سیلاب سے101 اموات ہوچکی ہیں،9 لوگ زخمی ہوئے، 2 افراد تاحال زیر علاج ہیں۔
انہوں نےکہااگرہیڈ قادرآباد کو دیکھیں تو اتناخطرناک سیلاب 1955میں بھی نہیں آیا،موسمیاتی تبدیلیوں کوبطورقوم سمجھ کرتبدیلی لانی ہوگی،ہمارے تمام دریائی گزرگاہوں پر تجاوزات ہیں14 سالوں میں 51 ارب روپے نقصان کے ازالوں کی مد میں دے چکے ہیں،وزیراعلیٰ پنجاب اس سے بھی بڑا معاوضہ پیکج تیار کررہی ہیں،گھر، کھیت، زمین، مال مویشی، سب کے نقصان کا ازالہ ہوگا۔
دریائے سندھ چاچڑاں کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب، آئندہ 36 گھنٹے انتہائی اہم قرار
پنجاب میں تباہی مچانے کےبعد دریائےچناب اورستلج کاپانی سندھ کی طرف بڑھ رہا ہے،دریائے سندھ چاچڑاں کےمقام پر اس وقت انتہائی اونچےدرجےکا سیلاب ہے،پانی کا بہاؤ آٹھ لاکھ 37ہزارکیوسک ریکارڈ کیا گیا۔
گڈو بیراج میں بھی پانی کی سطح بڑھ رہی ہے،اس وقت بہاؤ 5 لاکھ 37 ہزارکیوسک دیکھا جا رہا ہے۔ حکام کےمطابق 24سے 36گھنٹے انتہائی اہم ہیں،اس دوران انتہائی اونچے درجے کا سیلاب آسکتا ہے،سکھر بیراج پر چار لاکھ بائیس ہزار اور کوٹری پر دو لاکھ اکسٹھ ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہاہے ۔
دوسری طرف پنجاب کے دریاؤں میں پانی کی سطح کم ہو رہی ہے،دریائے چناب ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ 80ہزار کیوسک کم ہوکر 6 لاکھ 4 ہزار پر آگیا،چنیوٹ،جسڑ ،سِدھنائی اورہیڈ بلوکی پر بھی پانی کی سطح کم ہوگئی ہے،ہیڈ خانکی،قادرآباد،تریموں اورگنڈا سنگھ والا پر بھی سیلاب کا زور ٹوٹ چکا ہے۔
سیلاب سے متاثرہ لاکھوں پاکستانیوں کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں، امریکی ناظم الامور
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نے اپنے پیغام میں کہا سیلاب سے متاثرہ لاکھوں پاکستانیوں کے درد کو محسوس کرسکتے ہیں۔
امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر نےسیلاب زدگان کےنام ویڈیو پیغام میں کہاامریکی محکمہ خارجہ پاکستان بھر میں سیلاب متاثرین کے لیے امداد فراہم کر رہا ہے،یہ گزشتہ ہفتے امریکی فوج کی جانب سے فراہم کردہ سامان کے علاوہ ہے۔
امدادی سامان میں خوراک، پناہ گاہیں اور زندگی بچانے والی ادویات شامل ہیں،مشکل کی اس گھڑی میں پاکستانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے بڑے ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند
پاکستان اور بھارت کے بڑے ڈیمز میں پانی کی سطح خطرناک حد تک بلند ہوگئی۔ تربیلا ڈیم مکمل بھر گیا جبکہ منگلا اور بھارتی ڈیمز بھی اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب پہنچ گئے۔
وزارتِ آبی وسائل کے مطابق دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم مکمل طور پر بھر چکا ہے اور اس کی سطح 1550 فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ دریائے جہلم کا منگلا ڈیم بھی 93 فیصد بھر چکا ہے، موجودہ سطح 1235 فٹ ریکارڈ کی گئی۔
بھارت میں دریائے ستلج پر ہماچل پردیش کا بھاکرا ڈیم 88 فیصد، دریائے بیاس پر پونگ ڈیم 94 فیصد جبکہ دریائے راوی پر تھین ڈیم 79 فیصد تک بھر گئے ہیں۔ وزارت کے مطابق یہ سطح اپنی زیادہ سے زیادہ گنجائش کے قریب پہنچ چکی ہے جس پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔
اربن فلڈنگ پر قابو پانے کے لیے نیا لائحہ عمل اور پالیسی بنانے کا فیصلہ
حکومت نے اربن فلڈنگ اور درختوں کی بےجا کٹائی پر قابو پانے کا فیصلہ کرلیا۔ وزیراعظم نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کو اربن فلڈنگ اور جنگلات کے بے دریغ کٹاؤ پر فوری اقدامات کا ٹاسک سونپ دیا۔ صوبوں کوبھی کلائمٹ ریزیلینس ایکشن پلان کے اہداف تیار کرنے کی ہدایت کردی۔
وزارت موسمیاتی تبدیلی کلائمٹ ریزیلینس ایکشن پلان پر صوبوں کے ساتھ کوآرڈینیشن کرے گی اور اربن فلڈنگ اور جنگلات کے کٹاؤ کے معاملے پر مشاورت کرے گی ۔ صوبوں کے ساتھ مل کر اربن فلڈنگ کو روکنے اور شہری علاقوں میں ڈرینیج سسٹم بہتر بنانے پر فوکس کیا جائے گا اور جنگلات کے بےدریغ کٹاو کی پالیسی پر بھی صوبوں سے بات چیت ہوگی۔
پالیسی کے ذریعے آئندہ ممکنہ سیلابی خطرات کو کم کرنے کی حکمت عملی بھی بنانی ہوگی۔ وزارت موسمیاتی تبدیلی سردیوں میں کاشت کی جانے والی فصلوں کے لیے لائحہ عمل دے گی اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نقصانات کا تخمینہ بھی فراہم کرے گی۔
سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کےلیے آئی ایم ایف سے رابطے کا فیصلہ
سیلاب زدہ علاقوں میں ایک ماہ کے لیے بجلی بل مکمل معاف یا ریلیف دینے کےلیے وزیراعظم نے وزارت خزانہ کو آئی ایم ایف سے رابطہ کرنے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق شہر ہوں یا دیہات، ریلیف پورے پاکستان کے سیلاب زدہ علاقوں میں دیا جائےگا، وزیرا عظم نے ہدایت کی وزارت خزانہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ ریلیف پر بات کرے، جلد بات کی جائے تاکہ سیلاب زدہ لوگوں کو فوری ریلیف دیا جاسکے۔
واضح رہے کہ وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کیلئے بجلی بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج، فکس چارجز ختم کرنے پر غور جاری ہے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی بھی تجویز ہے۔ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس، مزید اور فاضل ٹیکس، ریٹیلر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بھی زیر غور ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز کے خاتمے کیلئے کام کیا جارہا ہے، فوی طور پر سیلاب متاثرین کے ٹیکس معاف کئے جائیں گے، بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی،لینڈ ریونیو صوبائی حکومت معاف کرے گی۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیں گے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔
حکومت نے فصلوں اور جانوروں کے نقصان کے ازالے کیلئے کسان پیکیج لانے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا اعلان کریں گے۔
دریائے سندھ میں طغیانی بڑھنے لگی، انتہائی اونچے درجے کا سیلاب
دریائے سندھ میں انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ چاچڑاں پر پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 37 ہزار کیوسک تک پہنچ گیا۔
دریائے سندھ میں طغیانی بڑھنے سے رحیم یار خان کے 59 دیہات زیر آب آگئے۔ لیاقت پورکے 5 موضع جات شدید متاثر ہیں۔ سیکڑوں ایکڑ فصلیں تباہ ہوگئی۔ سیلابی ریلے گڈو بیراج پہنچنے لگے۔ پانی کی آمد پانچ لاکھ 12 ہزار تک پہنچ گئی۔
سکھر بیراج پر بھی بہاؤ میں اضافہ ہوگیا۔ 4 لاکھ 51 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا۔ گھوٹکی کے مقام پر طغیانی کے باعث بند ٹوٹنے سے پانی آبادی میں داخل ہوگیا۔ سجاول میں بھی 50 سے زائد گاؤں متاثر ہوئے۔ نوشہرو فیروز میں سیکڑوں ایکڑ فصل ڈوب گئی۔ نوڈیرو میں دو مقامات پر شگاف پڑ گئے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے نے اگلے 24 گھنٹوں کے دوران دریائے سندھ میں گڈو کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کی پیش گوئی کردی ہے ۔ دریائے راوی میں سدھنائی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے چناب پنجند کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، ستلج میں گنڈا سنگھ والا اور سلیمانکی میں درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے۔ پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب میں مجموعی طور پر سیلاب سے 44 لاکھ 98 ہزار 685 افراد متاثر ہوئے۔
عالمی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے نظام کے تحت اپیل میں تاخیر ناقابلِ فہم ہے،بلاول بھٹو
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت کے ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے اعلان خوش آئند ہے مگر سیلاب متاثرین کے لیے بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف اور عالمی امداد کی اپیل میں تاخیر ناقابلِ فہم ہے۔
بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر پیغام میں وفاقی حکومت کے ماحولیاتی اور زرعی ایمرجنسی کے اعلان کا خیر مقدم کیا۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت تاحال سیلاب متاثرہ اضلاع کے لیے بی آئی ایس پی کے تحت ریلیف کا اعلان نہیں کر سکی جبکہ وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی تھی کہ متاثرین کو فوری امداد دی جائے گی۔
بلاول بھٹو نے کہا عالمی امداد کے لیے اقوام متحدہ کے نظام کے تحت اپیل میں تاخیر ناقابلِ فہم ہے۔ آفات کے دوران دنیا بھر میں بین الاقوامی امداد کی اپیل معمول کی پریکٹس ہے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ عالمی امداد کی اپیل میں مزید وقت ضائع نہ کیا جائے۔بلاول بھٹو نے یاد دلایا کہ پاکستان نے اس سے پہلے2005 کے زلزلے اور 2010 کے سیلاب میں بھی بین الاقوامی امداد کے لیے اپیل کی تھی۔
جنوبی پنجاب میں کشتیاں الٹنے کے دس واقعات میں اموات کی تعداد 30 ہوگئی
جنوبی پنجاب میں ریسکیو آپریشن کےدوران کشتیاں الٹنے کےواقعات میں اموات کی تعداد 30 ہوگئی۔
جلال پورپیروالا،لیاقت پور،منچن آباد،علی پور اور اُچ شریف میں کشتی الٹنے کے دس کے لگ بھگ واقعات رونما ہوئے،جاں بحق افراد میں بچے،خواتین اور بزرگوں کی اکثریت ہے،حادثات میں آٹھ سے زائد افراد تاحال لاپتہ ہیں جن کی تلاش کے لئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
ڈی جی ریسکیو سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹررضوان کا کہنا ہےکہ تین لاکھ بیس ہزار لوگوں کو جب نکالیں اورتین دریاؤں میں بیک وقت سیلاب ہوں،تو اس طرح کےحادثات کے نمبر بہت کم ہیں،جتنی بڑی آفت ہے،اس میں چھوٹے موٹے حادثات ہو جاتے ہیں ۔۔۔
صوبائی وزیرتعمیرات ملک صہیب احمد برتھ کا کہنا ہےکہ جب کشتی آتی ہے تو سیلاب'میں پھنسے لوگ خوشی کے مارے ایک دم بیٹھنے کی کوشش کرتے ہیں۔کسی کی بات نہیں مانتے۔
جلالپور میں سیلاب متاثرین کا انخلا جاری، ماں بچوں کو سیلابی پانی سے بچاتے ہوئے خود ڈوب کر جاں بحق
جلالپور پیر والا میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کا انخلا جاری ہے جبکہ متاثرین کو راشن پہنچانے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کی گیا تاہم امداد ی کارروائیوں کے دوران کشتیاں الٹنے کے باعث 30 قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اور 8 اب بھی لاپتا ہیں، ایک اور افسوسناک واقعہ پیر والا کے موضع شجاعت پور میں پیش آیا جہاں ماں اپنے بچوں کو سیلابی پانی سے بچاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئی ۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہناہے کہ رابطہ بی بی نے ریسکیو کشتی نہ ملنے پر بچوں کے ہمراہ حفاظتی بند کی طرف چلنا شروع کر دیا ۔ مقتولہ کے والد محمد رمضان نے بتایا کہ خاتون اپنی مدد آپ کے تحت ڈرم اور لکڑی کی مصنوعی کشتی بنا کر دو بچوں کے ہمراہ گھر سے فلڈ بند کی طرف نکلی لیکن مصنوعی کشتی راستے میں ٹوٹ گئی اور بیٹی اپنے بچوں سمیت پانی میں بہہ گئی ۔ پولیس کا کہناہے کہ بچوں کو مقامی افراد نے زندہ نکال لیا جبکہ خاتون کی ڈیڈ باڈی ملی ہے ، ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دی گئی ۔
جلالپور پیر والا میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پ سیلاب متاثرین کا انخلا جاری ہے جبکہ متاثرین کو خشک راشن پہنچانے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہاہے ، جدید ڈرونز کے ذریعے راشن اور اشیاء ضروریہ متاثرین تک پہنچانے سے کئی زندگیاں محفوظ بنائی گئیں جبکہ سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب زیب نے فلڈ بند کے اوپر نگرانی کیمپ قائم کر لیاہے ۔
سنئیر وزیر پنجاب نے اپنی نگرانی میں کشتیوں کے ذریعے شہریوں کاانخلاء یقینی بنایا، وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق،کمشنر عامر کریم خان اور ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو بھی کیمپ میں موجود ہیں، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی اور بریفننگ لی۔
ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو نے بتایا کہ پانی میں پھنسے بیشتر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے، ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز کے علاقوں میں خشک راشن پہنچایا جارہاہے، تھرمل ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پھنسے افراد کی نشان دہی بھی کی جارہی ہے۔
دریاؤں اور بیراجوں کی تازہ صورتحال
دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیئے گئے ہیں، محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کا ان فلو اور آؤٹ فلو 6 لاکھ 58 ہزار 845 کیوسک ، گڈو بیراج پر ابھی ان فلو 5 لاکھ 6 ہزار 433 کیوسک اور آوٹ فلو 4 لاکھ 75 ہزار 970 کیوسک، سکھر بیراج پر ان فلو 4 لاکھ 40 ہزار 985 کیوسک اور آوٹ فلو 4 لاکھ 12 ہزار 735 کیوسک ، کوٹری بیراج پر ان فلو 2 لاکھ 58 ہزار 4 کیوسک اور آوٹ فلو 2 لاکھ 54 ہزار 354 کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے ۔
ہیڈ محمد والا
ملتان میں ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے ، گرے والا بند کے قریب لوگوں کے مکانات پانی میں ڈوب گئے اور تاحال پانی نہ نکلنے سے رہائشی گھروں کی چھتوں پر بسیرا کیا ہوا ہے جبکہ رہائشی پانی نکلنے کی انتظار میں بیٹھے ہیں۔رہائشی محمد عامر کا کہناتھا کہ ہم دن اور رات کے وقت گھر کی حفاظت کرتے ہیں، ساتھ والے گھروں میں چوری ہو رہی ہے چور سامان لے گئے، ہم اپنے گھر کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ گھر کا سامان محفوظ رہے۔
لاہور دریائے راوی کی صورتحال
لاہور کا دریائے راوی معمول پر آگیا ہے، دریائے راوی میں اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاو 31 ہزار کیوسک ہے ، دریائے راوی کے معمول پر آتے ہی یہاں سے ریت نکالنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے ۔دریا سےراستہ نکال کربھاری مشینری دریا کے پیٹ میں پہنچا دی گئی ، ریت نکال کر یہاں سے ٹرالر کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچائی جاتی ہے۔
کشتیاں الٹنے کے واقعات
جنوبی پنجاب میں ریسکیو کرنے والی کشتیاں الٹنے سے 30 کے قریب قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے جبکہ آٹھ افراد سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں ۔ ڈی جی ریسکیو سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ تین لاکھ بیس ہزار لوگوں کو جب نکالیں۔اور تین دریاؤں میں بیک وقت سیلاب ہوں۔تو اس طرح کے حادثات کے نمبر بہت کم ہیں، جتنی بڑی آفت ہے، اس میں حادثات ہو جاتے ہیں۔ جلال پور پیر والا ، لیاقت پور ، منچن آباد ، علی پور اور اچ شریف میں دس کے قریب کشتی الٹنے کے واقعات رونما ہوئے جس سے اب تک 30 کے قریب افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جاں بحق افراد میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔
پرائیویٹ کشتی مالکان کیخلاف زائد کرایہ وصول کرنے پر مقدمات درج
کشتی مالکان کے خلاف تھانہ ترنڈہ محمد پناہ میں سیلاب متاثرین کو ڈرا کرلوٹ مار کرنے والے کشتی مالکان کے خلاف مقدمات درج کر لیئے گئے ، ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاکہ متاثرین کو ڈرایا کہ زیادہ رقم دو تو محفوظ مقامات پر لےجائیں گے ورنہ نہیں، پرائیویٹ کشتی مالکان نے سیلاب متاثرین کو ڈرا دھمکا کر انکی جان خطرے میں ڈالی۔
چوہنگ میں سیلاب متاثرین کیلئے کیمپ
لاہور کے علاقہ چوہنگ میں سیلاب متاثرین کو جہاں ایک طرف رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات دی جا رہی ہیں وہیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دوسروں سے مانگنے سے بہتر ہے کہ اپنے گھر والوں کا سہارا خود بنیں ۔ماثرین نے سبزی، چنا چاٹ جیسی اشیاء مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کر دیں ۔
سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور رینجرز کا ریلیف آپریشن مزید تیز
پنجاب کے مختلف سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور رینجرز اہلکاروں کی جانب سے جاری ریلیف آپریشن کو مزید تیز کردیا گیا۔ قصور، شیخوپورہ اور ننکانہ صاحب میں امدادی کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پاکستان آرمی، سول انتظامیہ کے ساتھ دن رات سیلاب متاثرین کی مدد اور خدمت میں مصروف ہے۔ پنجاب کے مختلف سیلاب متاثرہ علاقوں میں پاک فوج اور رینجرز اہلکاروں کا ریلیف آپریشن مزید تیز کردیا گیا۔
پاک فوج نے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان، راشن سمیت ضروریاتِ زندگی کی اشیاء تقسیم کیں۔ پاک فوج کی جانب سے میڈیکل کیمپس میں مفت طبی امداد بھی فراہم کی جا رہی ہے۔
آزمائش کی اس گھڑی میں پاک فوج اپنے ہم وطنوں کے شانہ بشانہ موجود ہے، عوام کی جانب سے پاک فوج کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔
سعودی کمپنی نے سیلاب متاثرین کےلیے ہزاروں لیٹر تیل پاکستان کے حوالے کردیا
سعودی کمپنی نے سیلاب متاثرین کےلیے ہزاروں لیٹر تیل پاکستان کے حوالے کردیا۔ سعودی سفیرنواف سعید المالکی نے نے 6 ہزار لیٹر ڈیزل اور پیٹرول این ڈی ایم اے کے حوالے کردیا۔
سعودی سفارتخانے میں سعودی کمپنی وافی انرجی کی طرف سے سیلاب متاثرین کی بحالی أپریشن میں این ڈی ایم اے سے تعاون کیلئے 6 ہزار لیٹر پیٹرول اور ڈیزل فراہم کرنے کی تقریب ہوئی۔ سعودی سفیر نواف سعید المالکی نے پیٹرول اورڈیزل این ڈی ایم اے کے حوالے کیا۔
سعودی سفیر نواف سعید المالکی کا کہنا تھا کہ سعودی کمپنی نے سیلاب متاثرین کی بحالی میں تعاون کے طور پر این ڈی ایم اے کی معاوننت کی ہے۔ کمپنی سعودی عوام کی طرف سے تعاون کررہی ہے۔ ہم مشکل وقت میں پاکستانی بھائیوں کی مدد جاری رکھیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات ہیں۔ پاکستان میں امن خوشحالی اور ترقی کیلئے دعا گو ہوں۔ سی ای او وافی انرجی زبیر شیخ نے کہا کہ پاکستان میں سیلاب میں بہت نقصان ہوا ہے ۔ مشکل وقت میں تعاون جاری رکھیں گے۔
دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کی صورتحال سنگین، تازہ اعداد وشمار جاری
ملک کے مختلف دریاؤں اور بیراجوں پر پانی کی صورتحال سنگین ہو گئی ۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے چناب، ستلج، راوی اور سندھ میں کئی مقامات پر اونچے اور درمیانے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا۔
وزارت آبی وسائل کی رپورٹ کے مطابق دریائے چناب میں پنجند بیراج کے مقام پر انتہائی سنگین صورتحال ہے جہاں پانی کی آمد و اخراج چھ لاکھ 66 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔ تریموں بیراج پر ایک لاکھ 78 ہزار کیوسک پانی کے ساتھ نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، جہاں پانی کی آمد و اخراج ایک لاکھ 82 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دریائے سندھ میں گڈو بیراج پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے جہاں پانی کی آمد 5 لاکھ 2 ہزار اور اخراج 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک ریکارڈ ہوا۔ دریائے راوی میں بلوکی بیراج پر پانی کی آمد 63 ہزار اور اخراج 53 ہزار کیوسک ہے جبکہ سدھنائی بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کی آمد و اخراج 78 ہزار کیوسک ہے۔
ہیڈمحمد والا اورشیرشاہ کو بچانےکے لیے کہیں شگاف ڈالنے کا فیصلہ نہیں کیا، وزیراطلاعات پنجاب
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےکہا ہیڈمحمد والا اور شیرشاہ میں حالات قابو میں ہیں،جلال پور پیر والا میں سیلاب سے بڑی تعداد میں لوگ متاثر ہوئے،حکومتی مشینری جلال پور پیر والا میں ہنگامی بنیادوں پر ریسکیو آپریشن کیا گیا۔
وزیراطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نےپریس کانفرنس کرتےہوئےکہا ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ میں حالات قابو میں ہیں،ٹینیککل کمیٹی نے ہیڈمحمد والا اورشیرشاہ کو بچانےکے لیےکہیں شگاف ڈالنےکا فیصلہ نہیں کیا،پنجاب حکومت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کرتی،جہاں غلطی ہوتی ہے اسے ٹھیک کرتی ہے۔
انہوں نےکہاکہ کل ایک پرائیویٹ کشتی چلانےکا واقعہ سامنے آیا،پرائیویٹ کشتی سیلاب زدگان کو محفوظ مقام پرمنتقل کرنے کے لیے پیسےمانگ رہا تھا،سیلاب میں گھرے جلال پور پیر والا کے اسسٹنٹ کمشنر کو ناقص انتظامات پر عہدے سے ہٹایا،پرائیویٹ کشتیاں حکومت پنجاب کی نگرانی میں چلیں گی۔
مزید کہاسیلاب سے 4572 دیہات متاثر ہوچکے اور 42 لاکھ افراد متاثر ہوئے، 22 لاکھ افراد کو محفوظ مقام پرمنتقل کیا گیا۔
دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی، مزید بارشوں کا بھی امکان نہیں، پی ڈی ایم اے
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کی شدت میں کمی کے زیراثر دریاؤں کے بہاؤ میں نمایاں کمی واقع ہو چکی ہے جبکہ مزید بارشوں کا بھی امکان نہیں ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق دریاؤں کے بالائی علاقوں میں بھی بارشوں کا سلسلہ رک چکا ہے، دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ82 ہزار کیوسک، دریائے چناب مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ 50ہزار کیوسک تک آگیا۔
دریائے راوی جسڑ کے مقام پر پانی کابہاؤ23ہزار کیوسک تک آگیا، دریائےچناب میں خانکی ہیڈورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ92ہزار کیوسک، دریائے چناب میں ہیڈ قادرآباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ94 ہزارکیوسک، ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 78ہزار کیوسک رہ گیا۔
پی ڈی ایم اےپنجاب کے مطابق ہیڈتریموں پرپانی کےبہاؤ میں کمی ہورہی ہے، پنجند کے مقام پر پانی کا بہاؤ6 لاکھ60 ہزارکیوسک ہے۔ دریائےراوی ہیڈ سدھنائی کےمقام پر پانی کا بہاؤکم ہورہاہے تاہم پنجند کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہورہاہے۔
جلالپورپیروالا؛سیلاب متاثرین کی کشتی الٹ گئی،19 لوگوں کو زندہ بچالیا، 8افراد تاحال لاپتہ
جلالپورپیروالا میں رات گئے سیلاب متاثرین کی ایک اور کشتی الٹ گئی،مقامی افراد نے 19 لوگوں کو زندہ بچالیا، 8افراد تاحال لاپتہ ہیں۔
تفصیلات کےمطابق جلالپورپیروالا کےعلاقےموہانا سندیلہ میں ایک اور کشی ڈوبنےکا واقعہ رات گئے پیش آیا، کشتی میں 28 افراد سوار تھے،مقامی افراد نے 19 افراد کو زندہ بچا لیا جبکہ 8 افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
پولیس حکام کاکہنا ہےکہ لاپتہ افراد کی تلاش کے لیےریسکیو آپریشن جاری ہے،چارسال کے سلمان کی لاش نکال کر اسپتال منتقل کردی گئی ہے۔
پولیس کاکہنا ہےکہ سیلاب متاثرین ریسکیوامداد نہ ملنےپرپرائیویٹ کشتی پرشہرآرہےتھے،گزشتہ رات چند گھنٹوں میں کشتی الٹنے کے 2 واقعات رونما ہوئے۔
دریائے سندھ میں سیلاب،اوباڑو میں پانی داخل ہونا شروع، ریڈ الرٹ جاری
دریائے سندھ میں سیلاب،اوباڑو میں پانی داخل ہونا شروع ہوگیا۔متعدد دیہات میں ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا۔
سیلاب متاثرین کے لیے 40 سے زائد ریلیف کیمپ قائم کردیےگئے،تاہم ریلیف کیمپس میں اب تک کوئی سیلاب متاثرہ شخص نہ پہنچا,چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے لاڑکانہ کے قریب دریائے سندھ پر موریا بند کا دورہ کیا،سیلابی ریلے کی صورتحال کا جائزہ لیا،چیئرمین پیپلزپارٹی نےعاقل آگانی بند کا بھی دورہ کیا اور حکام سے سیلابی ریلوں اور بندوں کی صورتحال پرتفصیلی بریفنگ لی۔
محکمہ اطلاعات سندھ نےدریاؤں اوربیراجوں میں پانی کی آمدواخراج کےتازہ اعداد وشمارجاری کردئیے، پنجند کےمقام پرپانی کےبہاؤمیں اضافہ،آمد اور اخراج 6 لاکھ68 ہزار 195 کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
تریموں پرپانی کی آمداوراخراج1لاکھ78ہزار932کیوسک جبکہ گڈوبیراج پرپانی کی آمد5لاکھ 2ہزار 861 کیوسک،اخراج 4 لاکھ 75 ہزار 970 کیوسک ہے،اس کے علاوہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 40 ہزار985 کیوسک، اخراج4لاکھ12ہزار735کیوسک ہے،کوٹری بیراج پرپانی کی آمد2لاکھ 57ہزار754، اخراج 2لاکھ 54 ہزار354 کیوسک ہے۔
جلالپور پیر والا کو بچانے کے لیے گیلانی بند میں شگاف ڈال دیا گیا ، ریسکیو کیلئے 4 ہیلی کاپٹرز استعمال کرنے کافیصلہ
جلالپور پیر والا کو بچانے کے لیے ضلعی انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھاتے ہوئے گیلانی بند میں شگاف ڈال دیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق بند توڑنے سے موضع بہادر پور شمالی،بہادر پور جنوبی، بستی لانگ، موضع کنہوں، بستی صبیرہ، کنڈیر کے زرعی علاقے متاثر ہونگے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہناتھا کہ بند کو توڑ کر 5 لاکھ کی آبادی کو بچایا جائےگا، گیلانی پل بند ہائی وے روڈ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر ملتان وسیم حامد سندھو ، سی پی او ملتان صادق علی ڈوگر سمیت پولیس کی بھاری نفری گیلانی بند پر موجود ہے ، وسیم حامد سندھو نے کہا کہ زیادہ رقبہ زرعی ہے' ان علاقوں میں آبادی کم ہے کم آبادی کا انخلاء کرانا شروع ہو چکا ہے۔
دوسری جانب جلال پور پیروالا میں سیلاب متاثرین کوریسکیو کرنے کیلئے چار ہیلی کاپٹرز کی مدد لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، سینئروزیر پنجاب مریم اورنگزیب کا جلالپور پیروالا ریلیف کیمپ میں پہلا ہنگامی اجلاس ہوا۔مریم اورنگزیب کو حفاظتی پشتوں اور سیلابی پانی کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔وزیراعلیٰ مریم نوازکی ہدایت پر مریم اورنگزیب جلال پور پیر والا میں ریسکیو وریلیف آپریشن کی نگرانی کریں گی اور تازہ ترین صورتحال اور اقدامات کے بارے میں وزیراعلیٰ پنجاب کو آگاہ رکھیں گی ۔ سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب کا کہنا ہےعوام اور مویشیوں کی جان کی حفاظت اولین ترجیح ہے کوشش یہ کرنی ہے کہ کم سے کم نقصان ہوعوام کے تحفظ کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائیں گے۔۔
بھارت نے دریائےستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، ہریکے اورفیروز پور اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ
بھارت نے دریائے ستلج میں پھر پانی چھوڑ دیا،ہریکےاورفیروز پور اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
بھارت کی آبی دہشت گردی اورسندھ طاس معاہدےکی خلاف ورزیاں جاری ہے،بھارت کیجانب سے اتوار سے اب تک آج چوتھی باردریائے ستلج میں پانی چھوڑ دیاگیا،بھارت نے انڈس واٹرکمیشن کے بجائے سفارتی ذرائع سے پانی چھوڑنے کی اطلاع دی،جس کے بعد دریائے ستلج میں ہریکے اور فیروز پور سے آگے انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے،وزارت آبی وسائل نے 28 وفاقی اورصوبائی اداروں کو ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کا الرٹ جاری کر دیا ۔
دریائےچناب ہیڈ پنجند پرسیلابی صورتحال برقرار ہے،جہاں 4 لاکھ 75 ہزارکیوسک کا ریلاگزررہا ہے،شیر شاہ اور اکبربند پرشدید دباؤ ہے،ریلوے ٹریک بھی بندہے،جلال پورپیر والاکی بستی بہاراں کےبلوچ واہ فلڈ بندمیں شگاف آگیا،علاقے سے لوگوں کا ہنگامی انخلا شروع کردیاگیا،پاک فوج اور محکمہ انہار کی ٹیمیں بھی شگاف پُرکرنے کیلئے پہنچ گئیں،انتظامیہ اوردیگر اداروں کے اہلکار5 ممکنہ متاثرہ دیہات میں پہنچ گئے،متاثرہ علاقوں میں انخلا کے لیے اعلانات کیےجارہےہیں۔
دریائے راوی ہیڈ سدھنائی پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 28 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے،دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا،سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا میں دربارظاہر پیر کےقریب زمیندارہ بند ٹوٹ گیا۔پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا،اوکاڑہ،پاکپتن،بہاولپور،بہاولنگر،بورے والا اور وہاڑی میں بھی بڑی تباہی ہوئی،ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئیں،دریائے سندھ چاچڑاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھنے لگا۔
دریائے چناب ہیڈ پنجند پر سیلابی صورتحال برقرار، جلالپورپیروالہ میں سپربند ٹوٹ گیا
دریائے چناب ہیڈ پنجند پر سیلابی صورتحال برقرار ہے۔ 4 لاکھ 75 ہزار کیوسک کا ریلا گزررہا ہے۔ شیرشاہ اور اکبر بند پر شدید دباؤ ہے۔ ریلوے ٹریک بھی بند کردیا گیا۔ جلالپورپیروالہ میں سپربند ٹوٹ گیا۔
جلال پور پیر والا میں بدستور سنگین صورتحال ہے۔ دریائے چناب نواحی علاقہ پھرانیں کا سپربند ٹوٹ گیا۔ درجنوں آبادیاں زیرآب آگئیں ۔ بند ٹوٹنے سے سیکڑوں گھر، ہزاروں ایکڑ پر تیار فصلیں تباہ ہوگئیں۔ سپر بند ٹوٹنے سے نواحی علاقہ عمرپور، عنایت پورسمیت دیگرعلاقےزیرآب آسکتے ہیں۔ شہر میں سیلابی پانی داخل ہونے کے خدشات مزید بڑھ گئے۔
دریائے راوی ہیڈ سدھنائی پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 28 ہزار کیوسک، دریائے ستلج گنڈا سنگھ والا، سلیمانکی اور ہیڈ اسلام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ لودھراں کی تحصیل کہروڑپکا میں دربار ظاہر پیر کے قریب زمیندارہ بند ٹوٹ گیا۔ پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا۔ اوکاڑہ، پاکپتن، بہاولپور، بہاولنگر، بورے والا اور وہاڑی میں ہزاروں ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ۔ دریائے سندھ چاچڑاں کے مقام پر پانی کا بہاؤ مسلسل بڑھنے لگا۔
دوسری جانب راجن پور دریائے سندھ کی سطح میں اضافہ ہونے لگا۔ نشیبی علاقے زیر آب آگئے۔ سیکڑوں لوگ دریا کے اندر خواتین اور بچوں سمیت ابھی بھی موجود ہیں۔ انتظامیہ پانی کے سامنے بے بس دکھائی دیتی ہے۔
دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کے بہاؤ میں کمی ہو نے لگی
دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہونے لگا ہے جبکہ ملاکا تیار بند پر پانی کی سطح اور دباؤ میں اضافہ ریکارڈ کی گیا ہے جس پر آبپاشی عملے کو الرٹ کر دیا گیا ۔
تفصیلات کے مطابق دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کا بہاؤ کم ہونے لگا ہے ، پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 61 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، 5 سے 7 گھنٹوں میں پانی کا بہاؤ 70 ہزار کیوسک تک کم ہو گیا ہے ۔
پی ڈی ایم اے نے آئندہ دنوں میں پانی کی سطح بڑھنے کا بھی الرٹ جاری کر دیا ہے ، فی الحال پانی کم ہونے سے مکانات زمین بوس ہونے لگے ، پانی واپس جب جاتا ہے تو مزید نقصان کرتا ہے۔
ملاکا تیار بند
ٹنڈو محمد خان میں ملاکاتیار بند پر پانی کی سطح اور دباؤ میں اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے ، جس پر آبپاشی عملے کو الرٹ جاری کر دیا گیاہے ، دریائے سندھ کے کچے کے علاقوں میں پانی کی آمد بڑھنے سے مکین نقل مکانی پر مجبور ہیں ۔ حاجی پور بند پر پانی کی سطح اور دباؤ میں اضافے سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا تاہم انتظامیہ نے نگرانی کا عمل تیز کر دیاہے ، پانی کے بہاؤ میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ ہے ، ضلعی انتظامیہ نے ایمرجنسی اقدامات شروع کر دیئے ہیں، مقامی انتظامیہ نے عوام کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کردی۔ کسانوں اور مقامی آبادی میں شدید تشویش پائی جارہی ہے ، انتظامیہ اور آبپاشی محکمے سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا گیاہے ۔ پی ڈی ایم اے رپورٹ کے مطابق 872 گھرانے ممکنہ سیلاب سے متاثر ہونے کے خدشے میں ہیں۔
علی پور
علی پورمیں بڑے سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں جاری ہیں، پانی 27 مواضعات کی 50 کے قریب بستیوں کو اپنی لیپٹ میں لے چکا ہے جہاں سینکڑوں گھر اور ہزارو ایکڑ پر کھڑی فصل سیلاب کی نظر ہو گئی ہے ۔ ہیڈ پنجند پر پانی کے بہاؤ میں کمی تو آئی لیکن متاثرین کی مشکلات کم نا ہو سکی ۔
مزید 5 اموات، بارشوں سے جاں بحق افراد کی تعداد 927 ہوگئی
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد 927 تک پہنچ گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 5 افراد جاں بحق اور دو بچے زخمی ہوگئے۔ جاں بحق ہونے والے تمام پانچ افراد کا تعلق سندھ سے تھا، جبکہ زخمی ہونے والے دونوں بچے سکھر کے رہائشی ہیں ۔ ایک دن میں بارشوں اور سیلاب کے باعث 26 گھروں کو بھی نقصان پہنچا۔
رپورٹ کے مطابق 26 جون سے اب تک مجموعی طور پر 927 افراد جاں بحق اور ایک ہزار 49 زخمی ہوچکے۔ سب سے زیادہ خیبرپختونخوا میں 504 اموات ہوئیں۔
پنجاب میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد 244، سندھ میں 65 اور بلوچستان میں 26 ہے۔ گلگت بلتستان میں حالیہ بارشوں اور سیلاب سے 41 ، آزاد کشمیر میں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد جاں بحق ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق اب تک بارشوں اور سیلاب سے مجموعی طور پر 7 ہزار 877 گھروں کو نقصان پہنچا جبکہ 6 ہزار 109 مویشی ہلاک ہوئے۔ 671 کلومیٹر سڑکیں اور 239 پل بھی تباہ ہوئے ہیں۔
ملتان: شیر شاہ بند توڑے جانے سے ٹرین سروس معطل ہونے کا خدشہ
دریائے چناب ملتان کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار ہے،انتظامیہ کی جانب سے شیر شاہ کے مقام پر بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کرلیا۔ شیر شاہ بند کو توڑے جانے سے ٹرین سروس بھی معطل ہونے کا خدشہ ہے۔
شیرشاہ شگاف پڑنے سے تھال ایکسپریس مہر ایکسپریس اور ڈی جی خان شٹل متاثر ہونے کا اندیشہ بڑھ گیا ہے جبکہ ہیڈ محمد والا اور شیرشاہ روڈ بند ہونے سے ملتان کا مظفرگڑھ ڈی جی جان لیہ بکھر سمیت بلوچستان اور کے پی کے سے زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے۔
دوسری جانب بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے۔ دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑدیا۔ وزارت آبی وسائل نے نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارت نے سفارتی چینل سے پاکستان کو آگاہ کیا، بھارت نے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا گیا۔ ہری کے اورفیروز پور میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجا ب نے دریائے ستلج میں اونچےدرجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کردیا،دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
ملک بھر میں سیلاب سے 6 ہزار 2 سو لائیو اسٹاک،9ہزار166 گھروں کو نقصان پہنچا، رپورٹ
وزارت منصوبہ بندی کمیشن نے سیلاب کے باعث ملک میں ہونے والے نقصان سے متعلق رپورٹ جاری کر دی۔
وزارت منصوبہ بندی کمیشن کےمطابق ملک بھرمیں 62 سو لائیو اسٹاک کا نقصان ہوچکا ہے،اب تک 672 کلومیٹر سڑکیں ٹوٹ گئی،9166 گھروں کو نقصان پہنچا اور 239 پُل ٹوٹ پھوٹ کاشکارہو چکے، ابھی تک مجموعی طورپر 863 اموات اور 11 سو 47 افراد زخمی ہوئے۔
،رپورٹ کےمطابق پنجاب میں 216 اموات، 625 افراد زخمی، 232 ہاؤس ہولڈ ڈیمج ہوئے،پنجاب میں ابھی تک 121 لائیو اسٹاک کا نقصان ہوا ہے،خیبرپختونخوامیں 484 اموات، 355 افرادزخمی، 4 ہزار 666 گھروں کونقصان پہنچا،5 ہزار 460 لائیو اسٹاک ہلاک، 52 پُلوں، 432کلومیٹر روڈز کونقصان پہنچا،اس کےعلاوہ بلوچستان میں 26 اموات، 5 افراد زخمی، 781 گھروں کو سیلاب سےنقصان ہوا، 62 لائیواسٹاک، 3 پُلوں، 13 کلومیٹر روڈزکو نقصان پہنچا۔
گلگت بلتستان میں 87اموات، 52 افراد زخمی، 1253 گھروں کو نقصان پہنچا،جی بی میں 67 لائیو اسٹاک، 87 پُلوں، 20 کلومیٹر روڈز کو نقصان ہوا،آزاد جموں و کشمیر میں 30 اموات، 29 افراد زخمی، 2078 گھروں کو نقصان پہنچا،239 لائیو اسٹاک ہلاک، 94 پُلوں، 201 کلومیٹر روڈز کو نقصان ہوا،،جبکہ اسلام آباد میں 8 اموات، 3 افراد زخمی، 65 گھروں، 3 پُلوں کو نقصان ہوا۔
پلاننگ کمیشن معاشی نقصانات کا جائزہ لینےکیلئے دو ہفتوں میں حتمی نتائج تیار کرے گا
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑدیا، ہنگامی الرٹ جاری
بھارتی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے۔ دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑدیا۔ وزارت آبی وسائل نے نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارت نے سفارتی چینل سے پاکستان کو آگاہ کیا، بھارت نے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا گیا۔ ہری کے اورفیروز پور میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے ۔
صورتحال کے پیش نظر پی ڈی ایم اے پنجا ب نے دریائے ستلج میں اونچےدرجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کردیا،دریائے ستلج میں پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا۔
دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن سٹریم اور فیروزپور ڈاؤن سٹریم میں اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ہے۔ سول انتظامیہ پاک فوج اور دیگر متعلقہ محکمے الرٹ ہیں، ڈی جی پی دی ایم اے کا کہنا ہے کہ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔
دوسری جانب ریلیف کمشنر پنجاب کے مطابق شدید سیلابی صورتحال کے باعث 4300 سے زائد موضع جات متاثرہوئے، دریاؤں میں سیلابی صورتحال کے باعث مجموعی طور پر42 لاکھ سے لوگ متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنس جانے والے21 لاکھ 63 ہزارلوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا۔
وفاقی حکومت کا سیلاب متاثرین کیلئے بجلی بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ
وفاقی حکومت نے سیلاب متاثرین کیلئے بجلی بلوں میں بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ کرلیا۔
بجلی کے بلوں پر جنرل سیلز ٹیکس، ایف سی سرچارج، فکس چارجز ختم کرنے پر غور جاری ہے، فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر جنرل سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی کے خاتمے کی بھی تجویز ہے۔ بجلی بلوں پر انکم ٹیکس، مزید اور فاضل ٹیکس، ریٹیلر سیلز ٹیکس کا خاتمہ بھی زیر غور ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرین کے بجلی بلوں پر ٹیکسز کے خاتمے کیلئے کام کیا جارہا ہے، فوی طور پر سیلاب متاثرین کے ٹیکس معاف کئے جائیں گے، بلوں میں ریلیف وفاقی حکومت دے گی،لینڈ ریونیو صوبائی حکومت معاف کرے گی۔
رانا تنویر حسین کا کہنا تھا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں بجلی کے اضافی بلوں کا نوٹس لیں گے، سیلاب متاثرہ علاقوں میں یہ وہ بل ہیں جو پہلے ہی پرنٹ ہو چکے تھے۔
کسان پیکیج لانے کا بھی اعلان
حکومت نے فصلوں اور جانوروں کے نقصان کے ازالے کیلئے کسان پیکیج لانے کا بھی فیصلہ کرلیا۔ وفاقی وزیر رانا تنویر حسین کا کہنا ہے کہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل ہوتے ہی کسان پیکیج کا اعلان کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہفتے 10 روز تک سیلاب متاثرہ علاقوں کا سروے مکمل کر لیا جائے گا، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں فصلوں کے نقصان کا ابتدائی ڈیٹا بھی مرتب کر لیا گیا۔
وفاقی وزیر رانا تنویر نے کہا کہ سیلاب سے ہر فصل کا ایک سے 3 فیصد تک نقصان ہوچکا، سیلاب کے دوران فصلوں میں سے چاول کا سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے، سب سے زیادہ گوجرانوالہ ڈویژن میں فصلوں کا 18 فیصد تک نقصان ہوا۔
دریائے چناب ملتان کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار، شہرکو بچانے کیلئے شیرشاہ بند کو توڑنےکا فیصلہ
دریائے چناب ملتان کے مقام پر سیلابی صورتحال برقرار ہے،انتظامیہ کی جانب سے شیر شاہ کے مقام پر بند میں شگاف ڈالنے کا فیصلہ کرلیا گیا،پانی کی سطح تین سو چورانوے عشاریہ پانچ صفر پر پہنچے پر بریچنگ کر دی جائے گی۔
شیرشاہ کےمقام پرپانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے،ہیڈتریموں،5لاکھ سےزائد کیوسک کا ریلا ملتان پہنچ چکا،انتظامیہ کی جانب سےہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے،سیلاب کےباعث 10 افراد کےجاں بحق ہونےکی تصدیق ہوگئی ہے،سیکڑوں افراد کا کشتیوں کے ذریعے انخلا ہوا ہے،جبکہ اب بھی متعدد کے پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔
لیاقت پورمیں سیلاب متاثرین کی ایک اورکشتی الٹ گئی،کشتی میں کمسن بچوں اورخواتین سمیت چودہ افراد سوارتھے،مقامی افراد نے 13 افراد کو بچالیا، 9 ماہ کے بچے کی تلاش جاری ہے،بند ٹوٹنے سے متاثرہ 16 دیہات سے 2 ہزار افراد کو محفوظ مقام پرمنتقل کردیا گیا،مظفرگڑھ میں زمیندارہ بند ٹوٹ گيا،متعدد بستیاں پانی میں گھر گئيں اور ہزاروں ایکڑ پر فصلوں کو نقصان ہوا۔
علی پورمیں سلابی پانی نےتباہی مچا دی،70 فیصد علاقے ڈوب گئے،نواحی شہرسیت پورمیں بھی پانی داخل ہوگیا،شہرسےتین کلومیٹر دوربستی مہیسرمیں بھی پانی داخل ہوگیا،بڑی تعداد میں متاثرین نقل مقانی پرمجبور ہیں،بروقت اقدام نہ کیے گئے تو شہرکو شدید خطرہ لاحق ہے۔
سیلاب سے پنجاب کے 26 اضلاع جبکہ 4 ہزار 364 بستیاں متاثر ہوئیں،پنجاب بھر میں 61 اموات ہوچکی ہیں۔
لیاقت پور میں سیلاب میں پھنسے افراد کو لے کر آنے والی کشتی ڈوب گئی، 3 افراد جاں بحق
لیاقت پور،نور والا کے مقام پر سیلاب میں پھنسے افراد کو لیکر آنے والی کشتی ڈوب گئی جس میں سوار 2خواتین سمیت 3 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں تاہم 14 افراد کو بحفاظت نکال لیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ابراہیم خان نامی شہری نے پرائیویٹ کشتی کا استعمال کرتے ہوئے ڈوبنے والے 13 افراد کو بچایا جبکہ ایک خاتون کو ہسپتال منتقل کر دیا گیاہے۔ ترجمان ضلعی انتظامیہ کا کہناہے کہ امدادی کاموں میں مصروف کشتی تیز بارش اور سیلابی بہاؤ کے باعث حادثہ کا شکار ہوئی، کشتی میں 20 سے زائد افراد سوار تھے۔ ڈی جی ریسکیو،کمشنر بہاول پور سمیت انتظامیہ موقع پر پہنچ گئیں۔
چناب ، راوی اورستلج کے ریلوں سے دریائے سندھ بھی بپھرنے لگا ہے، چاچڑاں پراونچے درجے کا سیلاب ہے، بہاؤ7 لاکھ 14 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے، جس میں چند گھنٹوں میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔
کوٹ مٹھن پراونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں 9 لاکھ کیوسک کا ریلہ چند گھنٹے میں گزرے گا جس سے درجنوں دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے ۔
ہیڈ پنجند پر پانی کے بہاؤ میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، 6 لاکھ 9 ہزار کیوسک سے کم ہو کر5 لاکھ 25 ہزار رہ گیا ، علی پور کی درجنوں بستیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں، دریائے چناب کی لیاقت پور میں بھی تباہی جاری ہے جہاں 35 دیہات متاثرہوئے ۔
دریائے چناب نے جلالپور پیروالا میں تباہی مچا دی، 100 سے زائد بستیاں ڈو ب گئیں
دریائے چناب نے جلالپور پیروالا میں تباہی مچادی ، سیلابی ریلے میں 100 سے زائد بستیاں ڈوب گئیں، پانی شہرکے بند تک پہنچ گیا جس کی وجہ سے ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا اور شہر کو بچانے کے لیے وہاڑی پل بند کو توڑ دیا گیا ، انخلا کے لیے مساجد سے اعلانات کیئے جا رہے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق ریسکیو اداروں کا ریسکیو آپریشن جاری ہے اور اب تک 2 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیاہے جبکہ مزید ایک ہزار لائف جیکٹس اور لائف رنگ پہنچا دیئے گئے ہیں۔ ریسکیو آپریشن میں ہیلی کاپٹرز بھی حصہ لے رہے ہیں ، سیلابی پانی سے شہری بھی خوف کا شکار ہو گئے ہیں ۔
چناب ، راوی اورستلج کے ریلوں سے دریائے سندھ بھی بپھرنے لگا ہے ، چاچڑاں پراونچے درجے کا سیلاب ہے، بہاؤ7 لاکھ 14 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے، جس میں چند گھنٹوں میں مزید اضافے کا امکان ہے ۔
کوٹ مٹھن پراونچے درجے کا سیلاب ہے جہاں 9 لاکھ کیوسک کا ریلہ چند گھنٹے میں گزرے گا جس سے درجنوں دیہات زیر آب آنے کا خدشہ ہے، انتظامیہ ہائی الرٹ پر ہے ۔
ہیڈ پنجند پر پانی کے بہاؤ میں معمولی کمی دیکھی گئی ہے، 6 لاکھ 9 ہزار کیوسک سے کم ہو کر5 لاکھ 25 ہزار رہ گیا ، علی پور کی درجنوں بستیاں پانی میں ڈوب چکی ہیں، دریائے چناب کی لیاقت پور میں بھی تباہی جاری ہے جہاں 35 دیہات متاثرہوئے ۔
دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی تازہ صورتحال
محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد وا خراج کے تازہ اعداد و شمار جاری کر دیئے گئے ہیں، پنجند بیراج پر اپ اسٹریم میں آمد و اخراج5 لاکھ 24 ہزار 762 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، تریموں بیراج پر پانی کی آمد اور اخراج 5 لاکھ 31 ہزار 993 کیوسک ، گڈو بیراج پر پانی کی آمد 4 لاکھ 11 ہزار 161 کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 98 ہزار 901 کیوسک ہے ۔ سکھربیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 50 ہزار 60 کیوسک، اخراج 3 لاکھ 23 ہزار 950 کیوسک، کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 35 ہزار 13 کیوسک اور اخراجت 2 لاکھ 31 ہزار 763 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ۔
ملتان
ملتان کی ڈمرا بستی میں سیلاب متاثرین کیلئے بنائی گئی خیمہ بستی بارش کے پانی میں ڈوب گئی ہے ، متاثرین شدید پریشان ہیں ، واسا کی گاڑی خیمہ بستی میں موجود لیکن نکاسی آب کا عمل شروع نہ ہوسکا۔ متاثرین کا کہناہے کہ بہت پریشان ہیں، خیموں میں بارش کا پانی آگیا ہے، یہاں لائٹ نہ ہونے سے بھی ہمیں پریشانی ہے۔
کہروڑ پکا
سیلاب متاثرین کے لیے لودھراں پولیس کی ریلیف سرگرمیاں جاری جاری ہیں، ترجمان پولیس کا کہناہے کہ ڈی پی او لودھراں نے حاصل والا ، موضع گول اور مختلف دریائی علاقوں کا دورہ کیا ، ڈی پی او لودھراں نے متاثرہ شہریوں سے ملاقات کی، مسائل دریافت کیے، ڈی پی او نے سیلاب متاثرین میں کھانا اور ضروری سامان تقسیم کیا ، ڈی پی او نے کشتی میں بیٹھ کر سیلابی صورتحال کا جائزہ لیا، پھنسے ہوئے شہریوں کو کشتی کے ذریعے ریسکیو اور کھانا فراہم کیا گیا۔
ڈی پی او لودھراں علی بن طارق نے کہا کہ سیلاب زدگان کو ہر ممکن تعاون فراہم کر رہے ہیں، عوام کو اس مشکل گھڑی میں تنہا نہیں چھوڑیں گے، سیلاب متاثرین کیلئے ریلیف سرگرمیوں کی خود نگرانی کر رہا ہوں۔
کوٹری
کوٹری میں مسلسل ہونے والی بارش سے ریلوے کالونی میں مکان کی چھت گر گئی، چھت گرنے سے لیاقت مسیح کی دو بیٹیاں زخمی ہو گئیں ، متاثرہ خاندان اپنی مدد آپ کے تحت ریسکیو عمل کرنے میں مصروف ہے ، متاثرہ شخص کا کہناتھا کہ چھت گرنے سے لاکھوں روپے کا سامان تباہ ہوگیا ہے۔
پنجاب کے سیلاب زدہ علاقوں میں ایک لاکھ 58 ہزار سے زائد متاثرین مختلف امراض میں مبتلا
سیلاب زدہ علاقوں میں ایک لاکھ 58 ہزار سے زائد متاثرین مختلف امراض میں مبتلا ہوگئے۔
محکمہ صحت کےمطابق سیلاب متاثرین میں سانس کی بیماریوں کے 49 ہزار 500 کیسز رپورٹ ہوئے،بخار کے 43 ہزار، جلدی امراض کے 33 ہزار سے زائد مریض سامنے آئے۔
پنجاب کےسیلاب زدہ علاقوں میں ڈائریا کے 20 ہزار 945 کیسز رپورٹ ہوئے،آشوب چشم کے 7 ہزار621 مریض فلڈ میڈیکل کیمپس میں سامنے آئے،کتے کے کاٹنے کے143اور سانپ کے 88 کیسزسامنے آئے، معمولی زخموں کے 2 ہزار700 سے زائد مریض رپورٹ ہوئے۔
محکمہ صحت نے سیلاب زدہ علاقوں میں مریضوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیاہے
سیلاب سے خوفناک تباہی، عالمی مالیاتی اداروں کی جانب سے ہنگامی امداد کا اعلان متوقع
عالمی مالیاتی اداروں نے پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والی تباہ کاریوں کی نگرانی شروع کردی۔ حکومت پاکستان نے تاحال کسی عالمی ادارے سے مدد کی باقاعدہ درخواست نہیں کی البتہ ایشیائی ترقیاتی کے بعد عالمی بینک کی جانب سے بھی ہنگامی امداد کا اعلان متوقع ہے۔
پاکستان میں سیلاب سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اور کھڑی فصلیں تباہ ہو چکیں۔ ذرائع کے مطابق عالمی مالیاتی اداروں نے سیلابی صورت حال کا ازخود جائزہ لینا شروع کر دیا ہے۔ ریذیڈنٹ دفاتر نقصانات کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔
عالمی بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر ادارے سیلابی صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ حکومت نے تاحال عالمی مالیاتی اداروں سے مدد کیلئے رجوع نہیں کیا۔ وزیر خزانہ مقامی وسائل سے ایمرجنسی صورت حال سے نمٹنے کا اعلان کر چکے ہیں۔
وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق سیلاب سے ہونے والی تباہی کا حتمی تخمینہ لگانے کے بعد عالمی مالیاتی اداروں اور دوست ممالک سے رابطہ کیا جا سکتا ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک نے حال ہی میں پاکستان کیلئے تیس لاکھ ڈالر کی ہنگامی امداد کا اعلان کیا تھا۔ یہ رقم فلڈ ریلیف فنڈ میں بطور ایمرجنسی گرانٹ استعمال کیلئے فراہم کی گئی۔ عالمی بینک کی جانب سے بھی اسی قسم کی ہنگامی امداد کا اعلان جلد متوقع ہے۔
دریائے ستلج میں پھر سے بڑے سیلابی ریلے کا خطرہ، بھارت نے آگاہ کردیا
بھارت آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدےکی خلاف ورزی سے بازنہ آیا۔ دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا۔
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔ وزارت آبی وسائل کے مطابق بھارتی ہائی کمیشن نے دریائے ستلج میں دو مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب سے آگاہ کیا۔ دریائے ستلج میں ہریکے فیروز پور کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
دوسری جانب بپھری لہروں نے جلال پور پیروالا میں تباہی مچا دی ۔ بند ٹوٹنے سے درجنوں بستیاں زیرآب آگئی۔ لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی رات بھر انخلا آپریشن کی براہ راست نگرانی کی ۔ مزید کشتیاں منگوالی گئیں ۔ تین ہیلی کاپٹر بھی ریسکیو آپریشن میں شامل ہیں۔ وہاڑی پل کھولنے سے شہر میں سیلاب کا خطرہ ٹل گیا۔
ستلج، راوی اور چناب کے ملتے ہی خوفناک صورتحال بن گئی۔ ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ منہ زور ریلوں سے مظفرگڑھ کی تحصیل علی پور میں کئی دیہات ڈوب گئے ۔ خیرپور ٹامیوالی، رحیم یار خان اور لیاقت پور میں ہزاروں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئے۔ چند گھنٹوں میں بڑا ریلا راجن پور کوٹ مٹھن کے مقام سے گزرے گا۔
پنجاب کےدریاؤں میں سیلابی صورتحال برقرار، جلال پورپیروالا میں 50 سے زائد دیہات زیرآب، ایمرجنسی نافذ
پنجاب کے دریاؤں میں خوفناک سیلابی صورتحال برقرار ہے،دریائے چناب ہیڈ پنجند پر پانی کا بہاؤ چھ لاکھ نو ہزار کیوسک سے تجاوز کرگیا،جلال پور پیر والا میں بند ٹوٹ گئے،درجنوں بستیاں زیرآب آگئیں، علاقے میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی۔
جلال پورپیروالامیں رات بھرسےریسکیو آپریشن جاری ہے،وزیراعلیٰ پنجاب نےرات بھرانخلا آپریشن کی براہ راست نگرانی کی،آپریشن کےدوران143افرادکوریسکیوکرلیاگیا،گزشتہ 24گھنٹوں میں ملتان سے 2343 افرادکو ریسکیو کیا جاچکا ہے، اب تک10ہزار810 لوگوں کو ملتان کے متاثرہ علاقوں سےنکالا جاچکا،ضلعی انتظامیہ ساڑھے3 لاکھ افراد،3 لاکھ سے زائدجانوروں کو نکال چکی،پنجاب بھر کے سیلاب متاثری علاقوں سے 20 لاکھ افراد،15 لاکھ جانوروں کا انخلا کرواچکی ہے۔
منہ زورریلوں سےمظفرگڑھ کی تحصیل علی پورمیں کئی دیہات پانی میں ڈوب گئے، خیرپورٹا میوالی میں دریائے ستلج بپھرگیا، موضع فضلو کوکارا کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا، رحیم یارخان اور لیاقت پور میں ہزاروں ایکڑ فصلیں متاثر ہیں۔
حکام کےمطابق چندگھنٹوں میں بڑا ریلا راجن پورکوٹ مٹھن کےمقام سےگزرے گا،ہیڈ تریموں پرپانی کا بہاؤ پانچ لاکھ تینتالیس ہزارکیوسک تک جا پہنچا،ہیڈ سلیمانکی،ہیڈ بلوکی اور سدھنائی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
ہیڈ محمد والا پر پانی کا بہاؤ 4 لاکھ کیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے،ہیڈتریموں سے پانی کا بڑا ریلا آج ملتان پہنچےگا،ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان میں آئندہ تین روز تک سیلابی صورتحال برقرار رہےگی۔
دوسری جانب دریائےسندھ کوٹری بیراج کے مقام پرپانی کی آمدمیں اُتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری ہے،
جہاں نچلےدرجےکی سیلابی صورتحال برقرار ہے،کوٹری بیراج اپ اسٹریم پرپانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار 116کیوسک ہے،کوٹری بیراج ڈاؤن اسٹریم پر پانی کا اخراج 2 لاکھ 31 ہزار 763 کیوسک کیا جارہا ہے، 24 گھنٹوں کےدوران کوٹری بیراج اپ اسٹریم پرپانی کی آمد میں 8 ہزار 167 کیوسک کی کمی ہوئی۔
سیلاب کے باعث پنجاب کے 2925 سرکاری اسکولز بند
سیکریٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب کے اعدادوشمار کے مطابق سیلاب کے باعث پنجاب کے 2 ہزار 925 سرکاری اسکولز بند ہیں۔
سیکریٹری اسکول ایجوکیشن پنجاب کے مطابق ایک ہزار 151 سرکاری اسکولز سیلاب کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوئے ۔ 817 اسکولزجزوی متاثر جبکہ 45 اسکولز مکمل تباہ ہو گئے۔ پنجاب کے 1700 سے زائد اسکولز میں فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیے گئے۔
خالد نذیر وٹو نے کہا کہ فلڈ ریلیف کیمپس میں تبدیل اسکولز میں بھی تعلیمی سلسلہ رکا ہوا ہے ۔ سیلاب کے باعث لڑکیوں کے ایک ہزار 505، لڑکوں کے ایک ہزار 420 سرکاری اسکولز بند ہیں۔
سرکاری اسکولز میں زیر تعلیم 6 لاکھ 80 ہزار سے زائد طلبا متاثر ہوئے۔ گجرات ، ڈی جی خان ، ملتان ڈویژنز کے اسکولز کی بڑی تعداد بند ہے۔
ملک میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ سے متجاوز
ملک میں پانی کا مجموعی ذخیرہ ایک کروڑ 24 لاکھ ایکڑ سے تجاوز کر گیا۔ واٹر اینڈ پاور ڈیویلپمنٹ اتھارٹی نے تازہ اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں۔
واپڈا کے مطابق ڈیموں میں پانی کی مجموعی آمد 3 لاکھ 4 ہزار 400 کیوسک اور اخراج دو لاکھ 24 ہزار 400 کیوسک ہے۔ تربیلا ڈیم میں پانی کی سطح 1550 فٹ اور ذخیرہ 57 لاکھ 28 ہزار ایکڑفٹ ہے، تربیلا میں پانی کی آمد ایک لاکھ 58 ہزار اور اخراج ایک لاکھ 54 ہزار کیوسک ہے۔
منگلا میں پانی کی سطح 1221 فٹ اور ذخیرہ 64 لاکھ 16 ہزار ایکڑ فٹ ہے۔ واپڈا کے مطابق دریائے کابل میں پانی کی سطح 27 فٹ سے بھی بلند ہوچکی ہے۔ کالا باغ پر پانی کی آمد ایک لاکھ 99 ہزار اور اخراج ایک لاکھ 92 ہزار کیوسک ہے ۔
چشمہ میں پانی کی سطح چھ 648 ایکڑ فٹ اور ذخیرہ 25 ہزار کیوسک سے زائد ہے۔تونسہ پر پانی کی آمددو لاکھ 28 ہزار اور اخراج دو لاکھ 17 ہزار کیوسک ہے، تریموں کے مقام پر پانی کی آمد اور اخراج 5 لاکھ 26 ہزارکیوسک ہے، گڈو میں پانی کی آمد تین لاکھ 92 ہزار اور اخراج 3 لاکھ 62 ہزار کیوسک ہے، سکھر کے مقام پر پانی کی آمد 3 لاکھ 24 ہزاراور اخراج دو لاکھ 80 ہزار کیوسک جبکہ کوٹری پر پانی کی آمد دو لاکھ 44 ہزار اور اخراج دو لاکھ 31 ہزار 800 کیوسک ہے۔
سیلاب اور بارشوں سے اموات کی تعداد 910 تک پہنچ گئی، مزید بارشوں کا الرٹ جاری
نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق رواں سال سیلاب اور بارشوں کے نتیجے میں اموات کی تعداد 910 تک پہنچ گئی ہے۔
این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 3 افراد جاں بحق ہوگئے، جاں بحق ہونے والے 2افراد کا تعلق خیبرپختونخوا اورایک کا تعلق پنجاب سے ہے۔ جاں بحق ہونے والے افراد ملاکنڈ، بونیر اور منڈی بہاءالدین سے تعلق رکھتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں مجموعی طور پر 26جون سے آج تک 910افراد جاں بحق 1044 زخمی ہوئے، 442 افراد سیلاب،252افراد مکانات گرنے جبکہ 65افراد ڈوبنے سےجاں بحق ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق 25 افرادلینڈ سلائیڈنگ،23لوگ کرنٹ لگنے،26 افرادآسمانی بجلی گرنے سے چل بسے۔
مجموعی طور پر پنجاب میں 234 خیبرپختونخوا میں 504 افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، سندھ میں 58 اوربلوچستان میں 26 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جی بی میں 41،آزاد کشمیرمیں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد لقمہ اجل بنے۔
رپورٹ کے مطابق پنجاب میں اب تک 654، خیبرپختونخوا کے میں 218،سندھ میں 78زخمی چکے ہیں، بلوچستان میں 5،گلگت بلستان میں 52 ، آزاد کشمیر میں 34 اور اسلام آباد میں 3 افراد زخمی ہوچکے ہیں۔
بارشوں اور سیلاب سے اب تک 7850 گھر تباہ ہوچکے ہیں، 5905 گھروں کو جزوری نقصان پہنچا جبکہ 1945 گھر مکمل تباہ ہوئے، دوران مون سون اب تک 6180 مویشی بھی مر چکے ہیں۔
دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھارت میں گجرات اور راجستھان سرحد پر موجود بارش برسانے والا سسٹم پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو متاثر کر سکتا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یہ بارشیں 10 ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں ۔ کوہ سلیمان اور جنوبی پنجاب میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب میں اربن فلڈنگ کا الرٹ جاری
نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے مطابق بھارت میں گجرات اور راجستھان سرحد پر موجود بارش برسانے والا سسٹم پاکستان میں سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو متاثر کر سکتا ہے۔
ترجمان این ڈی ایم اے کے مطابق یہ بارشیں 10 ستمبر تک وقفے وقفے سے جاری رہ سکتی ہیں ۔ کوہ سلیمان اور جنوبی پنجاب میں شدید سے انتہائی شدید بارشوں کا امکان ہے۔ سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے بعض علاقوں میں شہری سیلاب کا خدشہ ہے۔
طوفانی بارشوں کے باعث کیرتھر اور کوہ سلیمان میں بھی طغیانی آسکتی ہے۔ بلوچستان میں لسبیلہ اور خضدار کے ندی نالوں میں طغیانی کا اندشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
سیالکوٹ کے 80 سرکاری اسکولز 10 ستمبر تک بند رہیں گے، ڈپٹی کمشنر
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی کا کہنا ہے کہ ضلع کے 80 سرکاری اسکولز بدستور 10 ستمبر تک بند رہیں گے۔
صبا اصغر علی کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی سے اسکولز متاثرہوئے ہیں کچھ میں پانی کھڑا ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے مراسلہ کی روشنی میں ضلع کے 80 سرکاری سکولز 10 ستمبر تک بند رہیں گے۔
ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ تحصیل سیالکوٹ کے متعدد اسکولز 8 تا 10 ستمبر بند رہیں گے، تحصیل ڈسکہ اور پسرور کے سرکاری اسکولز بھی متاثرہ فہرست میں شامل ہیں۔ تحصیل سمبڑیال کے کئی سکولز میں بھی تدریسی عمل عارضی طور پر معطل رہے گا۔
حکام نے سیلابی پانی سے اسکولز کے احاطے متاثر ہونے اور حفاظتی نقطہ نظر سے بندش ضروری قرار دیدیا۔ کہا والدین اور طلبہ تعاون کریں، بچوں کی سلامتی اولین ترجیح ہے۔
واضح رہے کہ نئے حکمنامے کا اطلاق صرف سرکاری اسکولوں پر ہوگا۔ ضلع کے تمام پرائیویٹ تعلیمی ادارے 5 ستمبر سے کھل چکے ہیں۔
وزیراعظم کا سیلاب متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن مزید تیز کرنے کا حکم
وزیراعظم شہبازشریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن مزید تیزاور مؤثر بنانے کاحکم دیدیا۔ نقل مکانی کرنے والوں کی بروقت اور بھرپور امداد یقینی بنانے کی ہدایت کردی ۔
وزیراعظم شہبازشریف نے کہاہے پاکستان مسلسل ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات کی لپیٹ میں ہے حالانکہ پاکستان کا ماحول دشمن گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔
وزیراعظم نے کہا ماحولیاتی تبدیلی کے مضر اثرات سے بچاؤ کیلئے صوبوں کے ساتھ مل کر مؤثر حکمت عملی اور خطرے سے دوچار علاقوں میں جامع منصوبہ بندی تشکیل دے رہے ہیں۔ پیشگی اطلاعات، مضبوط و پائیدار انفرااسٹرکچر کا نظام مزید مربوط بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔
شہبازشریف نے جلال پورپیروالا میں کشتی الٹنے سے انسانی جانوں کے ضیاع پر بھی اظہارافسوس کیا ۔ جاں بحق افراد کے درجات کی بلندی اور ورثا کیلئے صبر کی دعا بھی کی۔
آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کا خدشہ
پی ڈی ایم اے نے آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتراضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے،مون سون بارشوں کا 10واں اسپیل 9 ستمبر تک جاری رہے گا۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کےمطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی،لاہور اور شیخوپورہ2،منڈی بہاوالدین اور نارووال میں1ملی میٹر بارش ہوئی،منگلا 72، جہلم 40،مری8،ملتان 4 اور بہاولپور 3 میں ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی
ترجمان پی ڈی ایم اے کےمطابق 9 ستمبر تک ڈیرہ غازی خان رودکوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے،دریائے چناب راوی اورستلج میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کےباعث ندی نالےبپھرسکتے ہیں،کمشنرز ڈپٹی کمشنرز اور دیگرافسران الرٹ ہیں
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، ہریکے اور فیروزپور پر اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ
بھارت نے دریائےستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا،ہریکےاورفیروز پور پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ پیدا ہوگیا۔
وزارت آبی وسائل کاکہنا ہےکہ بھارت نےدریا ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا،بھارت نے ہائی کمیشن کے ذریعے پاکستان کو آگاہ کیا،ستلج میں 2 مقامات پر اونچے درجے کےسیلاب کا خطرہ ہے،ہریکے اورفیروز پورپرانتہائی اونچے درجے کےسیلاب کا خدشہ ہے،نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کردیا گیا۔
ڈی جی پی ڈی ایم اےعرفان علی کاٹھیا نے میڈیا سے گفتگو کرتےہوئےکہادریائے ستلج،راوی اور چناب کی بپھری لہروں سےہیڈ پنجند پردباؤ ہے،پانی کا بہاؤ پونےچھ لاکھ کیوسک سےبڑھنے کا خدشہ ہے،ہیڈ پنجند پرانتہائی اونچے درجےکا سیلاب ہے،پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ سترہ ہزارکیوسک تک جا پہنچا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ ملتان میں اگلے72گھنٹے تک سیلابی صورتحال برقرار رہےگی،احمد پورشرقیہ اوراوچ شریف کےمتعدد علاقےزیرآب ہیں،رحیم یارخان اورلیاقت پورمیں عارضی بنددباؤ برداشت نہیں کرسکے،تریموں، گنڈا سنگھ والا اور ہیڈبلوکی پر بھی پانی کا بہاؤتیز ہے۔
دریائےچناب میں ہیڈمحمد والا اورشیرشاہ کےمقام پر پانی کی سطح مزید کم ہوئی ہے،حفاظتی بندوں پر دباؤ میں کمی کےباعث اکبر فلڈ بند ملتان میں شگاف کا فیصلہ موخر کردیا ہے۔
دریائےسندھ میں سیلابی ریلا 9 ستمبرکوشامل ہونےکا امکان ہے،سیلاب سےنمٹنے کیلئے انتظامات مکمل کرلیےگئے،ممکنہ متاثرہ علاقوں سےلوگوں کا انخلاء جاری ہے۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کےمطابق تربیلا ڈیم سوفیصد اورمنگلا ڈیم اٹھاسی فیصد بھرچکا ہے،تربیلا ڈیم کا لیول پندرہ سو پچاس فٹ،منگلا ڈیم 1231 فٹ، راول ڈیم 1752 فٹ اور سملی ڈیم کا لیول 2315 فٹ ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم نے آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کےبیشتراضلاع میں شدیدطوفانی بارشوں کا خدشہ ظاہر کیا ہے،مون سون بارشوں کا دسواں اسپیل 9 ستمبر تک جاری رہے گا۔
دریائے ستلج ،راوی اور چناب میں ریلوں کی آمد، ہیڈ پنجند پرپانی کا بہاؤ بڑھ گیا
دریائےستلج، راوی اور چناب کے ریلوں کی آمد،ہیڈ پنجند پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے،جہاں پانی کا بہاؤ 4 لاکھ 66 ہزار کیوسک تک جا پہنچا، دریائے راوی پر سائفن، شاہدرہ،سدھنائی اور سلیمانکی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
تریموں،گنڈا سنگھ والا اورہیڈ بلوکی پر بھی پانی کا تیز بہاؤ ہے،ہیڈمحمد والا اور شیرشاہ کے مقام پر پانی کی سطح مزید کم آئی ہے،جس کے بعد ملتان میں اکبر فلڈ بند میں شگاف ڈالنےکا فیصلہ موخر کر دیاگیا، انتظامیہ کا کہنا ہےکہ ہیڈ تریموں سے مزید ساڑھے تین لاکھ کیوسک ریلا مزید تباہی کا سبب بن سکتا ہے
دریائےچناب میں سیلاب کی صورتحال کے پیش نظرملتان کے 138 موضع جات متاثرہوگئے،5 لاکھ افراد کا انخلاء کیاگیا،پانی کی سطح تا حال کم ہوگئے،جبکہ انتظامیہ کےمطابق ہیڈ تریموں کےمقام سے مزید ساڑھے تین کیوسک ریلے کی آمد ہے۔
فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن کےمطابق تربیلا ڈیم سو فیصد اورمنگلا ڈیم اٹھاسی فیصد بھرچکا ہے،تربیلا ڈیم کا لیول پندرہ سو پچاس فٹ،منگلا ڈیم 1231 فٹ، راول ڈیم 1752 فٹ اور سملی ڈیم کا لیول 2315 فٹ ہے۔
گنڈا سنگھ والا پرانتہائی اونچے درجےکا سیلاب جبکہ تریموں،پنجند اوربلوکی پر بہت اونچے درجے کا سیلاب ہے،دریائے راوی پرسائفن،شاہدرہ،سدھنائی اورسلیمانکی کےمقام پر بھی اونچےدرجے کا سیلاب ہے،گڈوو، اسلام اورمیلسی سائفن پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔
سکھر،کوٹری، خانکی،قادر آباد،جئنیوٹ برج، اور جسڑ پرنیچلےدرجے کا سیلاب ہے،دریائے چناب کے ملحقہ نالہ پلکو میں اونچے اور راوی کے نالہ بسنتر میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔
مون سون بارشوں ،سیلاب سے نقصانات پر این ڈی ایم اے نے اعداد و شمار جاری کردیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کےدوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے،دونوں دریا میں ڈوبے،جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا، جس کے بعد 26جون سےاب تک تک جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 907 ہوگئی۔
حافظ آباد ہیڈ ساگر میں تین نوجوان نہر میں ڈوب گئے، ایک جاں بحق
حافظ آباد ہیڈ ساگر میں تین نوجوان نہر میں ڈوب گئے،ڈوبنے والے ایک نوجوان کی لاش نکال لی گئی،ریسکیو ٹیموں نے ایک کو بچا لیا جبکہ تیسرے کی تلاش جاری ہے۔
حافظ آباد کے علاقہ اسلام پورا کا رہائشی رانا خضر اپنے دوستوں محمد اور طیب کے ہمراہ ہیڈ ساگر سیر کے لیے گئے جہاں لاہور سے آنے والا انکا دوست طیب ویڈیو بناتے ہوئے نہر میں گر گیا جسے بچانے کے لیے اسکے دونوں دوستوں نے نہر میں چھلانگیں لگا دیں،رانا خضر گہرے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گیا ، ریسکیو کی امدادی ٹیموں نے اسکی لاش نکال لی،جبکہ محمد نامی نوجوان کو بچا لیا گیا،لاہور کے رہائشی طیب کی تلاش جاری ہے۔ذرائع کے مطابق تینوں دوست اکٹھے یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اور چھٹیوں پر آئے تھے۔
پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے ہیڈ پنجند پہنچنا شروع، تریموں کے مقام پر پانی کی سطح میں بڑا اضافہ
پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے ہیڈ پنجند پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، ہیڈ پنجند بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 4 لاکھ 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک، ریکارڈ کی گئی ہے ۔گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزارکیوسک جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
ننکانہ صاحب
ننکانہ صاحب کے علاقے میں دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے ، ہیڈ بلوکی پر آمد و اخراج 1لاکھ 57 ہزار 65 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ڈپٹی کمشنر تسلیم اختر راؤ نے اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جشنِ عید میلاد النبی ؐکی خوشی میں سیلاب متاثرین میں کھانے کیساتھ مٹھائیوں کے ڈبے تقسیم کیے گئے۔
تریموں
تریموں بیراج پر پانی کی سطح میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، تریموں پرپانی کا بہاؤ 471863 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، گزشتہ ایک گھنٹے میں 70000 کیوسک کا اضافہ ہواہے ۔
وہاڑی
دریائے ستلج ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کی سطح 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے ، ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا اخراج 1 لاکھ 32 ہزار کیوسک ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہیڈ اسلام پر 1 لاکھ 3 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ضلع کے 90 مواضعات اور 72 ہزار 974 افراد متاثر ہوئے ہیں ، 68 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ، اب تک 49 ہزار 567 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے ،
ڈپٹی کمشنر عمرانہ توقیر کا کہناتھا کہ فصلوں کو 49 ہزار 924 ایکڑ پر نقصان ہواہے ، 17 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیئے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر 757 متاثرین مقیم ہیں، متاثرین میں یومیہ 7 ہزار کھانے فراہم اور 500 راشن بیگ تقسیم کیئے گئے ، 11 میڈیکل کیمپس اور 19 کلینک آن ویلز فعال کیے جا چکے ہیں جبکہ 4 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج بھی کیا گیا ، فیلڈ ہسپتال میں 542 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، 12 لائیوسٹاک کیمپس قائم، 45 ہزار 573 مویشیوں کو ویکسین لگائی گئی۔
مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات
مون سون بارشوں ،سیلاب سے نقصانات پر این ڈی ایم اے نے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے ،دونوں دریا میں ڈوبے، جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا، جس کے بعد 26جون سےاب تک تک جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 907 ہوگئی۔
پنجاب میں 233 افراد،خیبرپختونخوا 502 اور سندھ میں 58 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، گلگت بلتستان میں 41،آزاد کشمیر میں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، ملک کے مختلف علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 1044 افراد زخمی ہوئے ہیں، پنجاب میں اب تک 654،کے پی کے میں 218،سندھ میں 78لوگ زخمی چکے ہیں، بلوچستان میں 5،جی بی میں 52،آزاد کشمیر میں 34 اور اسلام آباد میں 3 لوگ زخمی ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 7 ہزار 848 گھر تباہ ہوئے، 5 ہزار 903 گھروں کو جزوری نقصان پہنچا جبکہ 1945 گھر مکمل تباہ ہوئے، 26جون سےاب تک ملک بھر میں 6180 مویشی بھی مارے جا چکے ہیں۔
جلالپور پیروالا میں دریائے چناب میں ریسکیو کرتے ہوئے کشتی ڈوب گئی، 5 افراد جاں بحق
جلالپور پیروالا دریائے چناب میں آئے سیلاب سے ریسکیو کرتے ہوئے کشتی ڈوب گئی جس میں ایک خاتون اور 4 بچوں سمیت 5 افراد ڈوب کر جاں بحق ہوگئے ۔
تفصیلات کے مطابق ریسکیو 1122 کی کشتی سیلاب زدگان کو ریسکیو کرتے ہوئے ڈوبی، کشتی میں 20 سے زائد افراد سوار تھے جن میں بچے اور خواتین شامل، متعدد افراد کو ریسکیو کی جانب سے نکال لیا گیا جبکہ ڈوبنے والے باقی افراد کی تلاش کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
تحصیل جلالپور کے نواحی علاقہ وچھہ سندیلہ میں افسوسناک واقعہ پیش آیا، جاں بحق افراد میں 80 سالہ بخت بی بی ، 6 سالہ فاطمہ بی بی ، 7 سالہ عامر، 3 سالہ ماہ نور اور 6 ماہ اور 3 ماہ کے نومولود دو بچے شامل ہیں۔
مریم نواز شریف
وزیراعلی مریم نواز کاالمناک حادثے میں قیمتی انسانی جانوں کےضیاع پراظہارافسوس کیا ہے، وزیراعلیٰ مریم نواز نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے اظہار ہمدردی و تعزیت کیا ۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کا ڈی سی ملتان سے رابطہ
کشتی الٹنے کے واقعہ پر ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے ڈی سی ملتان سے ٹیلی فونک رابطہ کیا جس دوران بریفنگ میں بتایا گیا کہ پانی کے تیز بہاؤ کے باعث کشتی عدم توازن کا شکار ہوئی۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے زخمیوں کوبہترین طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے ، سیلابی صورتحال میں متاثرین کے انخلا کو محفوظ بنایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ بوٹس یا ریسکیو بوٹس میں ہرگزاوورلوڈنگ نہ کی جائے۔
دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی ہونے لگی
ملتان میں دریائے چناب میں پانی کی سطح میں مسلسل کمی ہونے لگی، سمندری سطح کے مطابق پانی کا لیول گیج 413.90 سے کم ہوکر 413.50 پر آگیا۔
انتظامیہ نے بریچنگ کا فیصلہ فل وقت موخر کر دیا ہے جبکہ ہیڈ تریموں سے آنے والے ریلے کیلئے انتظامیہ تمام اقدامات مکمل کرلیے ہیں۔
سیلاب متاثرین کیلئے امریکی امداد کی پہلی کھیپ پاکستان پہنچ گئی
امریکا کی طرف سے سیلاب متاثرین کیلئے امدادی سامان لے کر پہلی پرواز پاکستان پہنچ گئی،مجموعی طور پر چھ پروازوں کے ذریعے امدادی سامان پاکستان پہنچے گا۔
آئی ایس پی آر کےمطابق امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ کےذریعے سیلاب متاثرین کیلئے امداد فراہم کی جارہی ہے،امریکی ناظم الامور نے امدادی سامان فوجی حکام کے حوالے کیا، امدادی سامان میں خیمے، جنریٹرز اور پانی نکالنے والی مشینیں شامل ہیں۔
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہےکہ امدادی سامان پاک فوج کےریلیف کیمپوں کے ذریعے سیلاب متاثرین میں تقسیم کیا جائے گا،پاکستانی حکومت اورعوام سیلاب متاثرین کا ساتھ دینے پر امریکی حکومت اور افواج کے شکر گزار ہیں۔
دوسری جانب امریکی ناظم الامورکی قیادت میں امریکی سینٹرل کمانڈ اور ڈیزاسٹر ریسپانس گروپ نے این ای او سی کا دورہ کیا،چیئرمین این ڈی ایم اے نے وفد کو این ای او سی کے صلاحیتی دائرہ کار اور پیشگی انتباہی نظام پر بریفنگ دی،قدرتی آفات کے تدارک اور موسمیاتی تبدیلیاں کے منفی اثرات سے نمٹنے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
نیٹلی بیکر نےاین ڈی ایم اے کے جدید ڈیزاسٹر مینجمنٹ ماڈل کو خطے کے لیے مثالی قرار دیا،امریکا کی تکنیکی ماہرین اورفلاحی اداروں کے ذریعے معاونت کی یقینی دہانی کرائی،لیفٹیننٹ جنرل پیٹرک فرینک نے این ڈی ایم اے کے فعال اقدامات کو سراہا،امریکی وفدنے آفات سے بچاؤ اور باہمی فرضی مشقوں میں مزید تعاون بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا،اس کے علاوہ امریکی محکمہ خارجہ کی ڈیزاسٹر ایکسپرٹ برائے ایشیا ایوانا وواور ٹیم نے بھی دورہ کیا۔
پنجاب کےسیلاب زدہ علاقوں میں پاک فوج کاوسیع پیمانے پرریسکیو اورریلیف آپریشن جاری ہے، گوجرانوالہ،سیالکوٹ،گجرات،نارووال اورشکر گڑھ کے متاثرہ علاقوں سے ہزاروں کاانخلا کیا گیا،جنرل آفیسر کمانڈنگ میجرجنرل عمران خان بابرکاسیالکوٹ کےسیلاب متاثرہ علاقوں کادورہ کیا،جی اوسی نے ریلیف اورمیڈیکل کیمپس میں متاثرین کوفراہم کی جانےوالی سہولیات کاجائزہ لیا،پاک فوج کی دن رات کی انتھک کاوشوں سےہزاروں سیلاب متاثرین کوزندگی کی امیدملی۔
آج سے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری
پی ڈی ایم اے نے آج سے پنجاب کے بیشتر اضلاع میں شدید طوفانی بارشوں کا الرٹ جاری کردیا۔
پی ڈی ایم اےپنجاب کےمطابق مون سون بارشوں کا 10واں اسپیل 9 ستمبر تک جاری رہےگا،راولپنڈی، مری،گلیات، اٹک،چکوال،جہلم، گجرات،گوجرانوالہ، سیالکوٹ اورلاہورمیں بارشیں متوقع ہیں،نارووال،حافظ آباد،جھنگ،سرگودھا،اوکاڑہ،ساہیوال،قصور اورمیانوالی میں بارشوں کا امکان ہے،اس کےعلاوہ ڈیرہ غازی خان،ملتان اورراجن پورمیں بھی بارشوں کا امکان ہے،چھ سے 9 ستمبر کےدوران ڈیرہ غازی خان،رود کوہیوں میں فلیش فلڈنگ کا خدشہ ہے۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کاکہنا ہےکہ دریائے چناب راوی اورستلج میں سیلابی صورتحال کا سامنا ہے، بڑے شہروں میں مون سون بارشوں کے باعث ندی نالےبپھرسکتے ہیں،کمشنر ز ڈپٹی کمشنرز اوردیگر افسران الرٹ ہیں،محکمہ صحت آبپاشی تعمیر و مواصلات لوکل گورنمنٹ اور لایئو سٹاک کو الرٹ جاری کردیا۔
18 سے 22 گھنٹے میں کسی دریا پر نیا الرٹ جاری نہیں ہوا،آئندہ 12 گھنٹے انتہائی اہم ثابت ہونگے، ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ18 سے 22 گھنٹے میں کسی دریا پر نیا الرٹ جاری نہیں ہوا،آئندہ 12 گھنٹے انتہائی اہم ثابت ہونگے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب عرفان علی کاٹھیا نےپریس کانفرنس کرتےہوئےکہا بھارت میں بارشوں کا سلسلہ تھمنےکی وجہ سے حالات بہتر رہیں گے،گزشتہ 24 گھنٹے میں 2لاکھ کیوسک پانی پاکستانی کی طرف آیا،گجرات شہرمیں بہت زیادہ سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،آئندہ 12سے 18گھنٹےمیں صورتحال بہترہو جائےگی۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے پنجاب نےکہاہیڈسلیمانکی میں بھی پانی کی سطح میں کمی آئی ہے،ستلج میں بھی بارش نہ ہوئی تو کمی آئے گی،راوی میں ہیڈ سدھنائی کےمقام پر1لاکھ 10ہزار کیوسک پانی کا ریلہ گزر رہاہے،چناب کا بڑا ریلہ چنیوٹ بریج پر ہے،اس پر انتہائی سطح 4 لاکھ 12ہزارکیوسک کا ریلہ ہیڈ تریمو سے گزر رہاہے،پنجند میں 3لاکھ 25ہزار کیوسک کی سطح ہے،سیلابی پانی دریائے سندھ میں داخل ہونے میں مزید 24 گھنٹے لگیں گے۔
مزید کہاگجرات میں 4 ہزار سے زائد دیہات متاثر ہوئے تھے،راجن پوراور رحیم یارخان میں مزیدپانی کی وجہ سےاب 4100سےزائد علاقے متاثرہوچکے ہیں،چیف سیکرٹری پنجاب نےفنڈز جاری کردیےہیں،پنجاب میں 423فلڈ ریلیف کیمپس میں سہولیات فراہم کی جارہی ہیں،1 لاکھ 32ہزار 495 افراد کا میڈیکل کروایا جا چکا ہے،20 لاکھ 14ہزارسے زائد افراد کو ریسکیو کیا گیا،15لاکھ سے زائد مویشیوں کو ریسکیو کیا گیا ہے، 50 قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا،جاں بحق افراد کے اہلخانہ کو 10لاکھ روپےامداد دی جارہی ہے۔
بھارت نے پھر پانی چھوڑ دیا، ستلج، چناب اور راوی بپھر گئے، اموات کی تعداد 51 ہوگئی
بھارت کی جانب سے دریاؤں میں چھوڑے گئے اضافی پانی نے پنجاب کے جنوبی علاقوں میں تباہی مچا دی، دریائے ستلج، راوی اور چناب میں شدید طغیانی کے باعث کئی بند ٹوٹ گئے اور مزید درجنوں دیہات زیر آب آگئے۔
بھارت نےپاکستانی دریاوں میں پھر پانی چھوڑ دیا،ستلج،چناب اور راوی بپھر گئے،پہلےسے رواں دواں سیلابی ریلے نےہیڈپنجند کا رخ کرلیا،2 لاکھ چھ ہزارکیوسک کا ریلا موجود ہے، احمد پور شرقیہ کے کئی علاقے ڈوب گئے، ہریکے اور فیروزپور کےمقام پر اونچے درجے کا سیلاب خطرے کی گھنٹیاں بجارہا ہے۔
چاچڑاں میں اگلے 48 گھنٹے میں آٹھ سےنو لاکھ کیوسک کا ریلا ٹکرائے گا،رحیم یارخان کے 34دیہات بھی شدید متاثر ہیں،علی پورمیں بھی دریائےچناب کا پانی قریبی بستیوں میں داخل ہوگیا،سیکڑوں ایکڑ فصلیں متاثر ہوئی ہیں،مظفرگڑھ کی بستی شیر شاہ کے 2 ہزار سے زیادہ گھر ریلوں کی زد میں آگئے،ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 3 ہزار اور سلیمانکی پر 1 لاکھ 32 ہزارکیوسک ریکارڈ کیا جارہا ہے۔
پنڈی بھٹیاں میں ہائی فلڈ الرٹ جاری کردیا گیا، 5 لاکھ 57 ہزارکا ریلا گزررہا ہے، احمد پور سیال میں موضع سمند وانہ بند میں شگاف پڑ گیا،کئی علاقے زیرآب آگئے،چنیوٹ تریموں،ہیڈ قادرآباد،ہیڈ بلوکی اور سدھنائی پر بھی اونچے درجے کا سیلاب ہے۔
دوسری جانب سندھ میں گڈو بیراج میں 3 لاکھ 57 ہزار سے زائد کیوسک کا ریلا داخل ہوگیا ہے،محکمہ آبپاشی سندھ کےمطابق گڈو بیراج پر اپ اسٹریم میں پانی کی آمد 3 لاکھ 57 ہزار 196 کیوسک ہے،جبکہ ڈاؤن اسٹریم میں پانی کا اخراج 3 لاکھ 37 ہزار 746 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے کے مطابق پنجاب بھر میں سیلاب سے اب تک 51 اموات ہوچکی ہیں ۔
ایسے سیلاب متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں،ان کیلئے کمیٹی قائم کی جائے، وزیراعظم کی ہدایت
وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت بارشوں و سیلاب کے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر اجلاس ہوا جس دوران متاثرہ علاقوں میں نقصانات اور امدادی کارروائیوں کے ساتھ موجودہ صورتحال سے آگاہ کیا گیا، مون سون کا آخری اسپیل ختم ہونے کے بعد متاثرین کی بحالی کا کام شروع کیا جائے گا، موجودہ طور پر تمام تر وسائل و افرادی قوت ریسکیو، ریلیف و انخلاء میں مصروف عمل ہے۔
اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلابی ریلہ جلد پنجند سے گزرے گا، پنجند پر 10 سے 12 لاکھ کیوسک ریلے سے بچاؤ کی تیاری مکمل کی گئی، سیلابی ریلے کی اصل مقدار 6 لاکھ کیوسک کے لگ بھگ ہوگی جو توقع سےکم ہے، بالائی اوروسطی علاقوں میں بجلی کے متاثرہ نظام میں سے80 فیصد کوبحال کیاجاچکا ہے، متاثرہ پُلوں و شاہراہوں کو روابط کی بحالی کیلئے مرمت کر کے ٹریفک کیلئے کھولا جا چکا ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ مجموعی طور پر پورے ملک میں 20 لاکھ سے زائد لوگوں کی بروقت نقل مکانی کروائی گئی، سیلاب سے متاثرہ علاقوں سے 4100 سے زائد پھنسے ہوئے افراد کو ریسکیو کیا گیا، وفاقی حکومت کی جانب سے متاثرین کیلئے 6300 ٹن سے زائد امدادی سامان پہنچایا گیا، لوگوں کو طبی امداد کی فراہمی کیلئے 2400 سے زائد میڈیکل کیپس قائم کئے گئے۔
شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ بارشوں و سیلاب کے متاثرین کی بحالی ترجیح ہے، جنوبی حصوں میں دریاؤں سے ملحقہ علاقوں کے حوالے سے تیاری یقینی بنائی جائے، وفاقی حکومت صوبائی حکومتوں کی ہر قسم کی معاونت کیلئےہمہ وقت تیار ہے، لوگوں کے بروقت انخلا اور امدادی سرگرمیوں کی لمحہ بہ لمحہ نگرانی یقینی بنائی جائے، متاثرین کی مکمل بحالی تک صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھیں گے، ایسے متاثرین جو نادرا کے ساتھ رجسٹرڈ نہیں،ان کیلئے کمیٹی قائم کی جائے، وزارت موسمیاتی تبدیلی آئندہ برس کی مون سون کیلئے ابھی سے تیاری کرے۔
وزیراعظم نے صوبائی حکومتوں کو وفاقی حکومت کی جانب سے مکمل معاونت فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ۔
سیلاب کی تباہ کاریاں، رواں سال ملک بھر میں چاول اور کپاس کا بحران پیدا ہونے کا خدشہ
ملک میں سیلاب سے دریاؤں کے اطراف 7 کلومیٹر کے علاقے میں کھڑی فصلیں مکمل تباہ ہوگئیں۔ وزارت غذائی تحفظ نے ملک میں چاول کے بحران کے خدشہ کا اظہار کردیا۔
ذرائع وزارت غذائی تحفظ کے مطابق سیلاب سے دریاؤں کے اطراف 7 کلومیٹر کے علاقوں میں چاول اور کپاس کی فصلیں شدید متاثر ہوئی ہیں۔ رواں سال کپاس کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے جبکہ سیلاب کے ساتھ ریت آنے کے باعث آئندہ سال بھی کاشت متاثر ہوسکتی ہے۔
ذرائع وزارت غذائی تحفظ کے مطابق سیلاب کے باعث رواں سال چاول کے بحران کا بھی پیدا ہوسکتا ہے اور پیداوار کم ہونے کے باعث رواں سال چاول امپورٹ بھی کرنا پڑ سکتے ہیں۔
ذرائع کہنا ہے کہ خیبرپختونخواہ میں سیلاب سے فصلوں کے نقصان کی رپورٹ مکمل ہو چکی جبکہ پنجاب میں سیلابی پانی اترنے کے بعد ہی نقصانات کی حتمی رپورٹ مرتب کی جاسکے گی۔
پنجاب میں سیلاب سے اموات کی تعداد 49 ہوگئی، مزید بارشوں کی پیشگوئی
پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائے راوی، ستلج اور چناب میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات کی رپورٹ جاری کردی۔
رپورٹ کے مطابق حالیہ سیلاب میں ڈوبنے سے49 شہری جاں بحق ہوئے، دریائے راوی، ستلج اور چناب میں3900 سے زائد موضع جات متاثر ہوئے۔ مجموعی طور پر38 لاکھ92 ہزارلوگ متاثرہوئے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق بالائی علاقوں میں شدیدبارشوں سےپنجاب کےدریاؤں میں طغیانی کا خدشہ ہے۔ 9 ستمبر تک پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کا امکان ہے۔
دوسری جانب انڈین ہائی کمیشن نے پاکستان کو سیلابی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کر دیں۔ دریائے ستلج پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ پی ڈی ایم اے پنجاب نے انڈین ہائی کمیشن کے مراسلہ کے بعد اونچے درجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کر دیا۔
سیلابی صورتحال مزید سنگین، بھارت نے پاکستان کو سیلاب کے خطرے سے آگاہ کردیا
دریائے ستلج پر پانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔ انڈین ہائی کمیشن نے پاکستان کو سیلابی صورتحال کے بارے میں معلومات فراہم کر دیں۔
پی ڈی ایم اے پنجاب نے انڈین ہائی کمیشن کے مراسلہ کے بعد اونچے درجے کے سیلاب سے متعلق الرٹ جاری کر دیا۔
ڈی جی عرفان علی کاٹھیا کا کہنا ہے کہ دریائے ستلج میں ہریکے ڈاؤن اسٹریم اور فیروز پور ڈاؤن سٹریم میں اونچے درجے کا سیلاب ہے، سول انتظامیہ پاک فوج اور دیگر متعلقہ محکمےالرٹ ہیں۔ شہریوں کی جان ومال کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔
پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب میں مرالہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ1لاکھ15ہزارکیوسک، خانکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ2لاکھ5ہزارکیوسک ہے، قادرآباد کے مقام پر پانی کا بہاؤ2 لاکھ66 ہزار کیوسک ہے۔ ہیڈ تریموں کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک ہے۔
دریائے راوی میں جسڑ کے مقام پر پانی کابہاؤ73ہزار کیوسک ہے، شاہدرہ پر1لاکھ12ہزار کیوسک، سائفن پر1 لاکھ14ہزارکیوسک، بلوکی ہیڈ ورکس پر پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 44 ہزار کیوسک ہے، ہیڈ سدھنائی کے مقام پر پانی کا 1 لاکھ بہاؤ 22 ہزار کیوسک ہے۔
دریائےستلج میں گنڈاسنگھ والاکےمقام پرپانی کابہاؤ3لاکھ19ہزارکیوسک، سلیمانکی کے مقام پرپانی کا بہاؤ 1 لاکھ 42 ہزار کیوسک، پنجند ہیڈورکس کے مقام پر پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 10 ہزار کیوسک ہے۔
سیلاب نے امداد اور عطیات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ خدمت اور فلاح و بہبود کا جذبہ ہماری سماجی اقدار اور تہذیب کا اثاثہ ہے۔ سیلاب نے امداد اور عطیات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے عطیات کے عالمی دن پر خصوصی پیغام میں کہا کہ پاکستانی تاریخ گواہ ہے کہ عوام نے ہمیشہ رنگ و نسل اور تعصب سے بالاتر ہو کر دوسروں کی مدد کی۔ رضاکاروں اور خدمت گاروں نے ہر مشکل میں عملی اور مالی تعاون فراہم کیا۔
وزیراعظم نے بتایا کہ پاکستان عالمی سطح پر عطیات دینے والے بڑے ممالک میں شامل ہے جہاں مخیر حضرات مفت علاج، دسترخوان اور ایمبولنس سروس جیسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اور بیت المال جیسے اداروں سے لاکھوں افراد مستفید ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب نے امداد اور عطیات کی اہمیت مزید بڑھا دی ہے کیونکہ متاثرین خوراک، چھت اور صحت سہولیات کے منتظر ہیں۔
وزیراعظم نے یقین دہانی کرائی کہ وفاقی و صوبائی حکومتیں، عوام اور فوج مل کر ریسکیو اور ریلیف میں مصروف ہیں اور متاثرین کی بحالی میں ہر ممکن مدد فراہم کی جائے گی۔
چناب، ستلج اور راوی میں سیلابی صورتحال برقرار، سیلابی ریلہ آج ہیڈ پنجند پہنچے گا
دریائےچناب،ستلج اور راوی میں سیلابی صورتحال برقرار ہے،سیلابی ریلہ آج ہیڈ پنجند پہنچے گا،جہاں پانی کا بہاؤ 2 لاکھ 27 ہزار 710 کیوسک تک پہنچ چکا ہے۔
بھارت کی آبی دہشتگردی کے باعث پاکستان کو سیلابی صورتحال کا سامنا ہے،دریائے چناب، ستلج اور راوی میں سیلابی صورتحال تاحال برقرار ہے، ہیڈ تریموں پر بہاؤ 2 لاکھ 77 ہزار 922 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، چنیوٹ کے مقام پر پانچ لاکھ 54 ہزار 998 کیوسک کا ریلہ موجود ہے۔
ملتان کیلئے آئندہ چند گھنٹے انتہائی اہم ہیں،ہیڈمحمد والا پر پانی کا بہاؤ ڈیڈ لیول کےقریب ہے،ملتان شہر کو بچانےکیلیے اکبر بند میں شگاف ڈالنے کی تیاریاں مکمل ہیں،کبیر والا میں سدھنائی کینال کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا،بہاولپور اور بہاولنگر میں بھی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔
یہ بھی پڑھیں؛ بھارت نے باضابطہ اطلاع کے بغیر دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب میں اموات 46 ہوگئیں
مظفرگڑھ میں حفاظتی بند پردباؤ بڑھ گیا،50 سے زائد بستیاں ڈوب گئیں،احمد پورشرقیہ میں مکھن بیلہ کا حفاظتی بند ٹوٹنے سےمتعدد دیہات ریلے کی نذر ہوگئے، پاکپتن میں بھی صورتحال خراب ہے، ڈیڑھ لاکھ کے ریلے نے تباہی مچادی، اب تک 75 دیہات بشمول بستیاں زیر آب آچکے ہیں، 58 ہزار ایکڑ پر فصلیں تباہ ہو گئیں،متاثرہ علاقوں میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اےپنجاب کی فلڈ رپورٹ کےمطابق سیلابی صورتحال کےباعث 3900 سے زائد موضع جات متاثرہوئے جبکہ صوبہ بھر میں اموات کی تعداد 46 ہوگئی۔
محکمہ موسمیات کی ملک میں مون سون بارشوں کا 10واں اسپیل شروع ہونے کی پیش گوئی
محکمہ موسمیات نے ملک میں مون سون بارشوں کا 10 واں سپیل شروع ہونے کی پیشگوئی کر دی ہے ، 6 تا 10 ستمبر ملک کے مختلف حصوں میں وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق 6 تا 9 ستمبر سندھ کے مختلف شہروں میں بارشوں کا امکان ہے ، اس دوران سندھ کے مختلف مقامات پر تیز بارش بھی متوقع ہے، 6 تا 8 ستمبراسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں اور بلوچستان کے چند مقامات پر 7 سے 9 ستمبر کے دوران بارش کا امکان ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہناتھا کہ 7 تا 9 ستمبر خیبرپختونخوا کے مختتلف علاقوں میں بارش متوقع ہے، بارشوں سےسندھ کے چند شہری علاقے زیرآب آنے کا خطرہ ہے، بالائی علاقوں میں بارش سے لینڈ سلائیڈنگ ہو سکتی ہے ۔
10 کلو آٹے کا تھیلا 905 روپے اور روٹی کی قیمت 14 روپے مقرر کر دی : عظمیٰ بخاری
وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے بیان جاری کرتے ہوئے کہاہے کہ پنجاب حکومت نے آٹے کے 10 کلو تھیلے کی قیمت 905 روپے مقرر کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عظمیٰ بخاری کا کہناتھا کہ 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1810 روپے مقرر کی ہے، روٹی کی قیمت 14روپے مقرر کی ہے، سیلاب کی آڑمیں قیمتیں بڑھانے کی اجازت نہیں دی جائےگی۔
نوٹیفکیشن
محکمہ خوراک پنجاب نے روٹی اور آٹے کی قیمتوں کا نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیاہے ، نوٹیفکیشن کے مطابق صوبہ بھر میں 100 گرام روٹی 14 روپے سے زائد فروخت کرنے پر کارروائی ہوگی، 10 کلوگرام آٹے کا تھیلا 905 روپے تک فروخت کیا جاسکےگا، 20 کلو گرام آٹے کا تھیلہ 1810 روپے تک فروخت کیا جاسکے گا۔ آٹا تھیلوں پر مکمل لیبلنگ درج کرنا لازم ہو گا۔
ترجمان پرائس کنٹرول کے مطابق روٹی اور آٹے کے نرخوں پر ہرصورت عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا، مصنوعی مہنگائی اور ناجائز ذخیرہ اندوزی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
اس سے قبل وزیراعلیٰ پنجاب کی زیر صدارت خصوصی اجلاس ہوا جس دوران گندم ، آٹا اور روٹی کے نرخ برقرار رکھنے کے لئے سخت اقدامات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ فیڈ ملوں میں گندم کے استعمال پر پابندی کا فیصلہ کیا گیا ۔ فیڈ ملوں میں گندم کا استعمال روکنے کے لئے دفعہ ایک سو چوالیس نافذ کی گئ ۔
پیرا کے ایس ڈی اوز کو گندم کی ذخیرہ اندوزی کے سدباب کے لئے خصوصی اختیارات تفویض کرنے کی ہدایت کی گئی ۔ پیرا کو گندم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے سخت ترین قانونی کارروائی کا ٹاسک دیا گیا ۔
سیلاب کی آڑ میں آٹے اور روٹی کے نرخ بڑھانے والوں کے خلاف ایکشن کی ہدایت کی گئی گندم کی ذخیرہ اندوزی روکنے کے لئے پرائس کنٹرول مجسٹریٹ کو فوری طور پر متحر ک کر دیا گیا ۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے ہدایت کی کہ روٹی کا نرخ چودہ روپے اور بیس کلوآٹے بیگ کا نرخ ایک ہزار آٹھ سو دس روپے سے زائد بڑھنا نہیں چاہیے۔
بھارت نے باضابطہ اطلاع کے بغیر دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، پنجاب میں اموات 46 ہوگئیں
پنجاب کے دریاؤں میں سیلابی صورتحال بدستور برقرار ہے۔ بھارت نے باضابطہ اطلاع کے بغیر دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا۔
بھارت کی آبی جارحیت اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی جاری ہے۔ بھارت نے باضابطہ اطلاع کے بغیر دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا ۔ انڈس واٹر کمشنر کے بجائے بھارت نے ہائی کمیشن کے ذریعے پاکستان کو آگاہ کیا۔
وزارت آبی وسائل کے مطابق دریائے ستلج میں ہری کے اور فیروز پور کےمقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے ۔ نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کر دیا گیا ۔ وزارت آبی وسائل نے اٹھائیس متعلقہ اداروں کوہنگامی اقدامات کا مراسلہ جاری کیا ہے۔
دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب کی فلڈ رپورٹ کے مطابق سیلابی صورتحال کےباعث 3900 سے زائد موضع جات متاثرہوئے جبکہ صوبہ بھر میں اموات کی تعداد 46 ہوگئی۔
رپورٹ کے مطابق دریاؤں میں سیلاب سے مجموعی طورپر38لاکھ 75ہزارلوگ متاثر ہوئے، سیلاب میں پھنس جانے والے 18 لاکھ لوگوں کومحفوظ مقامات پرمنتقل کیا گیا۔
ریلیف کمشنر نبیل جاوید کا مزید کہنا تھا کہ منگلا ڈیم87 فیصد، تربیلاڈیم 100فیصد بھرچکا ہے جبکہ دریائے ستلج پر موجود بھارتی بھاکڑا ڈیم 84 فیصد تک بھرچکا ہے، پونگ ڈیم 98 فیصدجبکہ تھین ڈیم 92 فیصد تک بھرچکا ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ گزشتہ24گھنٹوں میں پنجاب کےبیشتراضلاع میں مون سون بارشیں ریکارڈ کی گئی جبکہ آئندہ 24 گھنٹوں میں پنجاب کے بیشتر اضلاع میں مون سون بارشوں کی پیشگوئی ہے۔
دوسری جانب میڈیا سے گفتگو میں ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ بھارت کی جانب سے ہریکے کے مقام پر وارننگ ملی جسے متعلقہ انتظامیہ سے شئیرکردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملتان کے شیرشاہ برج پر خطرے کی حد عبور ہو گئی ۔ اللہ کرے ہمیں برج کو بریچ نہ کرنا پڑے اور پانی گزر جائے۔ بریچنگ کی صورت میں 24 موضع جات متاثر ہو سکتے ہیں۔
سیالکوٹ میں تعلیمی ادارے بند رکھنے کا سابق حکم واپس لے لیا گیا
سیالکوٹ میں یکم ستمبر سے 5 ستمبر تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا سابق حکم واپس لے لیا گیا۔
ڈپٹی کمشنر سیالکوٹ صبا اصغر علی نے نوٹیفیکشن جاری کردیا، نوٹیفکیشن کے مطابق اب یہ حکم صرف سرکاری اسکولز پر لاگو ہوگا۔ پرائیویٹ اسکولز، کالجز اور یونیورسٹیز معمول کےمطابق کھلے رہیں گے۔
واضح رہے کہ پنجاب میں تباہ کن سیلاب نے بستیوں کی بستیاں اُجاڑ ڈالیں۔ 46 افراد کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی گئی ۔20 لاکھ سے زائد متاثر ہیں۔ صورتحال کے پیش نظر متعدد اضلاع میں اسکولوں کی بندش میں توسیع کا اعلان کیا گیا تھا۔
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا، ہنگامی الرٹ جاری
بھارت نے دریائے ستلج میں مزید پانی چھوڑ دیا۔ وزارت آبی وسائل نے نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔
حکام کے مطابق ہریکے اور فیروز پور کے مقامات پر اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔ جس سے گنڈا سنگھ والا کے مقام پر پانی کی سطح بلند ہوگی ۔ وزارت آبی وسائل نے نقصانات سے بچنے کیلئے ہنگامی الرٹ جاری کردیا۔
دوسری جانب دریائے چناب کی بپھری لہروں سے ملتان بدستور خطرے میں ہے ۔ شیرشاہ برج اور ہیڈمحمد والا پر شدید دباؤ برقرار ہے۔ ہیڈ محمد والا پرگیج لیول 414 سے تجاوز کرگیا۔
ہیڈ مرالہ سے پانی کا بڑا ریلا ہیڈ خانکی کی طرف بڑھنے لگا۔ مظفرگڑھ، علی پور میں صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔ احمدپورشرقیہ کے قریب مکھن بیلہ کاحفاظتی زمیندارہ بند ٹوٹ گیا ۔ سیکڑوں ایکڑ پر کھڑی فصلوں اوربستیوں میں پانی داخل ہوگیا۔
ہیڈ خانکی اور قادرآباد پر پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا ۔ متعدد بستیاں ڈوب گئیں ۔ مکانات اور مویشی بہہ گئے۔ کبیروالا میں سدھنائی کینال کا حفاظتی بند ٹوٹ گیا ۔
اقوام متحدہ کا پاکستان میں سیلاب کے نتیجے میں جانی و مالی نقصان پر اظہار افسوس
اقوام متحدہ کے سیکرٹر ی جنرل انتونیو گوتریش نے پاکستان میں حالیہ تباہ کن سیلاب پر افسوس کا اظہار کیا ہے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں افراد جاں بحق اور تقریباً 15 لاکھ متاثر ہوئے۔
سیکرٹری جنرل کے ترجمان سٹیفین دوجارک کے مطابق یہ سیلاب شدید مون سون بارشوں کے باعث آ یا جسے موسمیاتی تبدیلیوں نے مزید سنگین بنا دیا، اس قدرتی آفت سے 3,000 سے زائد مکانات، 400 سے زیادہ سکول اور 40 کے قریب صحت مراکز کو نقصان پہنچا جبکہ لاکھوں افراد کو فوری انسانی امداد کی ضرورت ہے۔
سیکرٹر ی جنرل نے پاکستانی حکومت کی امدادی کوششوں کو سراہتے ہوئے پنجاب میں 10 لاکھ سے زائد افراد کی محفوظ مقامات پر منتقلی پر ان کی تعریف کی۔ انہوں نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہار ، زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا اور حکومت و عوامِ پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کیا۔
بارشوں اوربھارتی آبی جارحیت سے اندرون سندھ میں ممکنہ سیلاب کا خطرہ بڑھ گیا
پاکستان میں حالیہ بارشوں اور بھارت کی آبی جارحیت کی وجہ سے اندرون سندھ ممکنہ سیلاب کا خطرہ ہے، پاک آرمی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حفاظتی اقدامات شروع کر دیئے ۔
پاک فوج کےدستےضروری سامان کےساتھ سیلاب کےممکنہ خطرے سے دوچارعلاقوں میں تعینات کیے گئے ہیں،فوجی افسر اور جوان ہمیشہ کی طرح اپنے عوام کی خاطر ریسکیو اور ریلیف آپریشنز میں بھرپور حصہ لیں گے۔
پاکستان رینجرزسندھ کی جانب سےمحکمہ آبپاشی کےتعمیر ومرمت پرمامورعملےکو سیکیورٹی فراہم کی جا رہی ہے،حفاظتی بند پر رینجرز کی موبائل گشت اور پکٹس کو مزید بڑھا دیا گیا ہے۔
کچے کے علاقے سے نکلنے والے لوگوں کو بھی مدد فراہم کی جارہی ہے،سول انتظامیہ کےساتھ مل کر فری میڈیکل کیمپ کا بھی انعقادکیاگیا،جس میں علاقہ مکینوں کومفت طبی سہولیات میسر کی جا رہی ہیں۔
مون سون بارشوں کا موجودہ سلسلہ 5 ستمبر تک جاری رہے گا
پی ڈی ایم اے پنجاب کے مطابق مون سون بارشوں کا موجودہ سلسلہ 5 ستمبر تک جاری رہے گا۔ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال میں شدت کا امکان ہے۔
پی ڈی ایم اے نے پنجاب میں ممکنہ شدید بارشوں کا الرٹ جاری کردیا۔ بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال میں شدت کا امکان ہے۔
دوسری جانب دریائے چناب مرالہ ہیڈ ورکس 247986 کیوسک تک جاپہنچا، خانکی ہیڈ ورکس 502633 کیوسک پہنچ گیا، قادرآباد ہیڈورکس530537 کیوسک پہنچ گیا، چنیوٹ پل 494190 کیوسک پہنچ گیا۔
تریمو ہیڈ ورکس253979 کیوسک، دریائے راوی جسر 82140 کیوسک پہنچ گیا۔ بلوکی ہیڈ ورکس 121600 کیوسک، سدھنائی ہیڈ ورکس 139999 کیوسک پہنچ گیا۔
دریائے ستلج جی ایس والا 319295 کیوسک، سلیمانکی ہیڈ ورکس 132492 کیوسک پہنچ گیا۔ اسلام ہیڈ ورکس 95727 کیوسک جبکہ پنجند ہیڈ ورکس 169032 کیوسک پہنچ گیا۔
دریائے چناب میں طغیانی سے شیرشاہ برج پرشدید دباؤ، ملتان شہرکو خطرہ
بھارت کی آبی جارحیت نےملتان شہرکو خطرے میں ڈال دیا،دریائے چناب میں طغیانی سے شیرشاہ برج پر شدید دباؤ ہے،ہیڈ محمد والا پر گیج لیول خطرے کے نشان کو چھوگیا،حکام کےمطابق پانی کی سطح 417 تک پہنچی تو بند میں شگاف ڈالا جائے گا۔
ہیڈ مرالہ سےپانی کا بڑا ریلا ہیڈ خانکی کی طرف بڑھ رہا ہے،جس سےمظفرگڑھ،علی پور،بہاولپور اور احمد پورشرقیہ میں خطرےکی گھنٹیاں بج گئی ہیں،ہیڈ خانکی اور قادرآباد پر اس وقت پانی کا بہاؤ پانچ لاکھ کیوسک سے تجاوز کرگیا۔
یہ بھی پڑھیں؛ چناب کا پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں داخل ہوگا ، راوی کی صورتحال بھی تشویشناک: ڈی جی پی ڈی ایم اے
ہیڈتریموں پر 2 لاکھ 65 ہزار،چنیوٹ میں 4 لاکھ 33 ہزار،ہیڈبلوکی پر 1 لاکھ پندرہ ہزارجبکہ ہیڈ سدھنائی پر ایک لاکھ 32 ہزار کیوسک کا ریلا گزر رہا ہے۔
دریائےستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر اونچےدرجے کا سیلاب ہے،پانی کا بہاؤ 3 لاکھ 19 ہزار جبکہ ہیڈ سلیمانکی پر بہاؤ ایک لاکھ 32ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے۔
دریائےچناب میں چنیوٹ کےمقام پرپانی کی سطح میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے،24 گھنٹوں میں 4 لاکھ کیوسک کا اضافہ ہوا ہے،دریاے چناب میں پانی کی سطح 4لاکھ 94ہزار190کیوسک ہوگئی۔
چناب کا پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں داخل ہوگا ، راوی کی صورتحال بھی تشویشناک: ڈی جی پی ڈی ایم اے
ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا ہے کہ پنجاب کو تاریخ کے سب سے بڑے سیلاب کا سامنا ہے۔
اپنی نیوز کانفرنس میں ڈائریکٹر جنرل پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا کا کہنا تھا کہ سیلاب سے متعلق تین بڑی وارننگز موصول ہوئی تھیں اور گزشتہ رات دریائے چناب میں پونے چھ لاکھ کیوسک پانی کا ریلا آیا جبکہ ہیڈ مرالہ پر یہ صورتحال ایک بڑا چیلنج تھی جس کے باعث متاثرہ علاقوں سے دوبارہ انخلا کرایا گیا۔
ڈی جی نے کہا کہ قادر آباد کے مقام پر چناب کا پانی دوبارہ متاثرہ علاقوں میں داخل ہوگا جبکہ جھنگ پہنچنے پر پانی مزید مسائل پیدا کرے گا اور ہیڈ تریموں پر بھی پانی کے بہاؤ میں اضافہ متوقع ہے۔
عرفان کاٹھیا کا کہنا تھا کہ اس وقت دریائے ستلج میں دو ماہ سے ہائی فلڈ کی صورتحال ہے جبکہ گنڈا سنگھ پر تین لاکھ انیس ہزار کیوسک پانی گزر رہا ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے کہا کہ راوی کی صورتحال بھی تشویشناک ہے اور جسڑ کے مقام پر بہاؤ بڑھ گیا ہے جبکہ بھارتی ڈیم بھر چکا ہے جس کے باعث ایک سے دو ہفتے تک راوی میں پانی کے دباؤ میں اضافہ ہوگا۔
انہوں نے بتایا کہ صفوراں بند کو گزشتہ رات توڑنا پڑا جس سے کبیر والا، پیر محل اور احمد پور سیال کے دیہات متاثر ہوئے۔
عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ شیرشاہ میں پانی کا دباؤ شدید ہے اور 5 ستمبر کو پنجند پر تینوں دریاؤں کا پانی پہنچے گا جبکہ 6 اور 7 ستمبر کی درمیانی شب 9 لاکھ کیوسک کا ریلا سندھ میں داخل ہوگا۔
انہوں نے محکمہ آبپاشی کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اگلے 24 گھنٹوں تک بارشوں کا سسٹم قابو میں آ جائے گا، تاہم بھارتی ڈیم سے پانی چھوڑے جانے کا خدشہ موجود ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا ملتان میں سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز مسلسل سیلاب زدہ علاقوں کے دورے کر رہی ہیں اور آج انہوں نے ملتان میں فلڈ ریلیف کیمپ کا دورہ کیا اور متاثرین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
دورہ ملتان کے دوران مریم نواز نے بیلہ ریلیف کیمپ میں خواتین اور بچوں سے ملاقات کی ان کے مسائل سنے اور گھروں کی بحالی کے لیے اقدامات کا وعدہ کیا۔
وزیراعلیٰ نے بچوں سے گپ شپ کی، انہیں چاکلیٹس اور بسکٹ دیے جبکہ اپنے ہاتھوں سے بچوں کو جوتے بھی پہنائے، خواتین میں اشیائے ضروریہ اور ملبوسات تقسیم کیے گئے۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کیمپ میں ہیلتھ، ریسکیو اور دیگر کاؤنٹرز کا جائزہ لیا اور صفائی ستھرائی سمیت مجموعی انتظامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔
دورے کے دوران مریم نواز نے دکانیں بند کرانے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے فوری رپورٹ طلب کی اور ہدایت کی کہ میرے دورے کے باعث عوام کو کسی قسم کی تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔
گجرات میں 456 ملی میٹر بارش ریکارڈ، نظام زندگی مفلوج ہو کررہ گیا
مون سون کا تگڑا اسپیل،گجرات میں 456 ملی میٹر بارش سے نظام زندگی مفلوج ہو کررہ گیا۔
تفصیلات کےمطابق مون سون کے نویں اسپیل سے گجرات میں اربن فلڈنگ کی صورتحال پیدا ہوگئی،شہر کی سٹرکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں،بارش کا پانی سرکاری دفاتر سمیت گھروں میں داخل ہوگیا۔
کورٹ روڈ،سرگودہا روڈ،کچہری چوک،بھمبھر روڈ،رحمن شہید روڈ اور شادمان غریب پورہ سمیت اندورنِ شہر تین تین فٹ پانی جمع ہوگیا،بارش کا پانی مساجد اورگھروں میں داخل ہو گیا، شہری گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔
وفاقی وزیر آبی وسائل کا بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کا عندیہ
وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ بھارتی آبی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کا عندیہ دیدیا۔
سماء سے خصوصی گفتگو میں وفاقی وزیر آبی وسائل معین وٹو نے کہا کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی سے پاکستان کو بھاری نقصان پہنچ رہا ہے۔ اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے آخری حد تک جائیں گے۔
معین وٹو نے کہا کہ مودی سرکار سفارتی چینل کے بجائے انڈس واٹر کمیشن کے ذریعے سیلابی صورتحال سے آگاہ کرے۔ انڈس واٹر کمیشن کے بجائے سفارتی ذرائع سے اطلاع دی جا رہی ہے، اچانک کے بجائے پیشگی اطلاع دی جائے تو بہتر حفاظتی انتظامات ہوسکتے ہیں۔
وفاقی وزیر آبی وسائل کا کہنا تھا کہ پانی اچانک چھوڑنے سے پاکستان کے انفرا اسٹرکچر اور زراعت کا ناقابل تلافی نقصان ہو رہا ہے، بین الاقوامی ثالثی عدالت نے پاکستان کے مؤقف کے تائید کی ہے، پاکستان اقوام متحدہ سےرجوع کرسکتا ہے۔
واضح رہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے۔ بھارت نے دریائے چناب میں مزید پانی چھوڑ دیا مگر اطلاع کیلئے انڈس واٹر کمشنر کا چینل استعمال نہیں کیا۔ بھارت نے انڈس واٹرکمیشن کے بجائے سفارتی ذرائع سے رابطہ کرکے پانی چھوڑنے سے متعلق پاکستانی حکام کو آگاہ کیا۔ گزشتہ روز بھی بھارت نے دریائے ستلج اور توی میں پانی چھوڑا تھا۔
وزارت آبی وسائل نے متعلقہ اداروں کو ہنگامی الرٹ جاری کردیا ۔ جس میں بتایا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے کے بعد چناب میں انتہائی اونچے درجے کے سیلاب کا خطرہ ہے۔













