پنجاب سے آنے والے سیلابی ریلے ہیڈ پنجند پہنچنا شروع ہوگئے ہیں، ہیڈ پنجند بیراج پر اونچے درجے کا سیلاب ہے، ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد 4 لاکھ 3 لاکھ 45 ہزار کیوسک، ریکارڈ کی گئی ہے ۔گڈو اور سکھر بیراج پر نچلے درجے کا سیلاب ہے، گڈو بیراج پر پانی کی آمد 3 لاکھ 66 ہزارکیوسک جبکہ سکھر بیراج پر پانی کی آمد 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی۔
ننکانہ صاحب
ننکانہ صاحب کے علاقے میں دریائے راوی میں انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال ہے ، ہیڈ بلوکی پر آمد و اخراج 1لاکھ 57 ہزار 65 کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ڈپٹی کمشنر تسلیم اختر راؤ نے اسسٹنٹ کمشنرز اور دیگر ضلعی افسران کے ہمراہ سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی ہدایت پر جشنِ عید میلاد النبی ؐکی خوشی میں سیلاب متاثرین میں کھانے کیساتھ مٹھائیوں کے ڈبے تقسیم کیے گئے۔
تریموں
تریموں بیراج پر پانی کی سطح میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، تریموں پرپانی کا بہاؤ 471863 کیوسک ریکارڈ کیا گیا ، گزشتہ ایک گھنٹے میں 70000 کیوسک کا اضافہ ہواہے ۔
وہاڑی
دریائے ستلج ہیڈ گنڈا سنگھ والا پر پانی کی سطح 3 لاکھ 11 ہزار کیوسک ریکارڈ کی گئی ہے ، ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا اخراج 1 لاکھ 32 ہزار کیوسک ہے ۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق ہیڈ اسلام پر 1 لاکھ 3 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا، ضلع کے 90 مواضعات اور 72 ہزار 974 افراد متاثر ہوئے ہیں ، 68 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ، اب تک 49 ہزار 567 مویشیوں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے ،
ڈپٹی کمشنر عمرانہ توقیر کا کہناتھا کہ فصلوں کو 49 ہزار 924 ایکڑ پر نقصان ہواہے ، 17 فلڈ ریلیف کیمپس قائم کیئے جا چکے ہیں، مجموعی طور پر 757 متاثرین مقیم ہیں، متاثرین میں یومیہ 7 ہزار کھانے فراہم اور 500 راشن بیگ تقسیم کیئے گئے ، 11 میڈیکل کیمپس اور 19 کلینک آن ویلز فعال کیے جا چکے ہیں جبکہ 4 ہزار سے زائد مریضوں کا علاج بھی کیا گیا ، فیلڈ ہسپتال میں 542 مریضوں کو طبی امداد فراہم کی گئی، 12 لائیوسٹاک کیمپس قائم، 45 ہزار 573 مویشیوں کو ویکسین لگائی گئی۔
مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات
مون سون بارشوں ،سیلاب سے نقصانات پر این ڈی ایم اے نے اعداد و شمار جاری کر دیئے ہیں جن کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران مزید 2 افراد جاں بحق ہوئے ،دونوں دریا میں ڈوبے، جاں بحق ہونے والوں کا تعلق پنجاب کے شہر ٹوبہ ٹیک سنگھ سے تھا، جس کے بعد 26جون سےاب تک تک جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 907 ہوگئی۔
پنجاب میں 233 افراد،خیبرپختونخوا 502 اور سندھ میں 58 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، گلگت بلتستان میں 41،آزاد کشمیر میں 38 اور اسلام آباد میں 9 افراد جاں بحق ہوئے، ملک کے مختلف علاقوں میں اب تک مجموعی طور پر 1044 افراد زخمی ہوئے ہیں، پنجاب میں اب تک 654،کے پی کے میں 218،سندھ میں 78لوگ زخمی چکے ہیں، بلوچستان میں 5،جی بی میں 52،آزاد کشمیر میں 34 اور اسلام آباد میں 3 لوگ زخمی ہوئے۔
این ڈی ایم اے کے مطابق مون سون بارشوں اور سیلاب کے باعث اب تک مجموعی طور پر 7 ہزار 848 گھر تباہ ہوئے، 5 ہزار 903 گھروں کو جزوری نقصان پہنچا جبکہ 1945 گھر مکمل تباہ ہوئے، 26جون سےاب تک ملک بھر میں 6180 مویشی بھی مارے جا چکے ہیں۔






















