جلالپور پیر والا میں وزیراعلیٰ مریم نوازشریف کی ہدایت پر سیلاب متاثرین کا انخلا جاری ہے جبکہ متاثرین کو راشن پہنچانے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال بھی کی گیا تاہم امداد ی کارروائیوں کے دوران کشتیاں الٹنے کے باعث 30 قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے اور 8 اب بھی لاپتا ہیں، ایک اور افسوسناک واقعہ پیر والا کے موضع شجاعت پور میں پیش آیا جہاں ماں اپنے بچوں کو سیلابی پانی سے بچاتے ہوئے ڈوب کر جاں بحق ہو گئی ۔
تفصیلات کے مطابق پولیس کا کہناہے کہ رابطہ بی بی نے ریسکیو کشتی نہ ملنے پر بچوں کے ہمراہ حفاظتی بند کی طرف چلنا شروع کر دیا ۔ مقتولہ کے والد محمد رمضان نے بتایا کہ خاتون اپنی مدد آپ کے تحت ڈرم اور لکڑی کی مصنوعی کشتی بنا کر دو بچوں کے ہمراہ گھر سے فلڈ بند کی طرف نکلی لیکن مصنوعی کشتی راستے میں ٹوٹ گئی اور بیٹی اپنے بچوں سمیت پانی میں بہہ گئی ۔ پولیس کا کہناہے کہ بچوں کو مقامی افراد نے زندہ نکال لیا جبکہ خاتون کی ڈیڈ باڈی ملی ہے ، ڈیڈ باڈی لواحقین کے حوالے کر دی گئی ۔
جلالپور پیر والا میں وزیراعلیٰ مریم نواز کی ہدایت پ سیلاب متاثرین کا انخلا جاری ہے جبکہ متاثرین کو خشک راشن پہنچانے کیلئے ڈرون ٹیکنالوجی کا بھی استعمال کیا جارہاہے ، جدید ڈرونز کے ذریعے راشن اور اشیاء ضروریہ متاثرین تک پہنچانے سے کئی زندگیاں محفوظ بنائی گئیں جبکہ سینیئر وزیر پنجاب مریم اورنگزیب زیب نے فلڈ بند کے اوپر نگرانی کیمپ قائم کر لیاہے ۔
سنئیر وزیر پنجاب نے اپنی نگرانی میں کشتیوں کے ذریعے شہریوں کاانخلاء یقینی بنایا، وزیر صحت پنجاب خواجہ سلمان رفیق،کمشنر عامر کریم خان اور ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو بھی کیمپ میں موجود ہیں، صوبائی وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے بھی امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی اور بریفننگ لی۔
ڈپٹی کمشنر وسیم حامد سندھو نے بتایا کہ پانی میں پھنسے بیشتر شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے، ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے دور دراز کے علاقوں میں خشک راشن پہنچایا جارہاہے، تھرمل ڈرون ٹیکنالوجی کے ذریعے پھنسے افراد کی نشان دہی بھی کی جارہی ہے۔
دریاؤں اور بیراجوں کی تازہ صورتحال
دریاؤں اور بیراجوں میں پانی کی آمد و اخراج کے تازہ ترین اعداد و شمار جاری کر دیئے گئے ہیں، محکمہ اطلاعات سندھ کے مطابق پنجند کے مقام پر پانی کا ان فلو اور آؤٹ فلو 6 لاکھ 58 ہزار 845 کیوسک ، گڈو بیراج پر ابھی ان فلو 5 لاکھ 6 ہزار 433 کیوسک اور آوٹ فلو 4 لاکھ 75 ہزار 970 کیوسک، سکھر بیراج پر ان فلو 4 لاکھ 40 ہزار 985 کیوسک اور آوٹ فلو 4 لاکھ 12 ہزار 735 کیوسک ، کوٹری بیراج پر ان فلو 2 لاکھ 58 ہزار 4 کیوسک اور آوٹ فلو 2 لاکھ 54 ہزار 354 کیوسک ریکارڈ کیا گیاہے ۔
ہیڈ محمد والا
ملتان میں ہیڈ محمد والا کے مقام پر پانی کی سطح میں کمی ہونا شروع ہو گئی ہے ، گرے والا بند کے قریب لوگوں کے مکانات پانی میں ڈوب گئے اور تاحال پانی نہ نکلنے سے رہائشی گھروں کی چھتوں پر بسیرا کیا ہوا ہے جبکہ رہائشی پانی نکلنے کی انتظار میں بیٹھے ہیں۔رہائشی محمد عامر کا کہناتھا کہ ہم دن اور رات کے وقت گھر کی حفاظت کرتے ہیں، ساتھ والے گھروں میں چوری ہو رہی ہے چور سامان لے گئے، ہم اپنے گھر کی حفاظت کر رہے ہیں تاکہ گھر کا سامان محفوظ رہے۔
لاہور دریائے راوی کی صورتحال
لاہور کا دریائے راوی معمول پر آگیا ہے، دریائے راوی میں اس وقت شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاو 31 ہزار کیوسک ہے ، دریائے راوی کے معمول پر آتے ہی یہاں سے ریت نکالنے کا عمل بھی شروع کردیا گیا ہے ۔دریا سےراستہ نکال کربھاری مشینری دریا کے پیٹ میں پہنچا دی گئی ، ریت نکال کر یہاں سے ٹرالر کے ذریعے مارکیٹ میں پہنچائی جاتی ہے۔
کشتیاں الٹنے کے واقعات
جنوبی پنجاب میں ریسکیو کرنے والی کشتیاں الٹنے سے 30 کے قریب قیمتی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے جبکہ آٹھ افراد سے زائد افراد اب بھی لاپتہ ہیں ۔ ڈی جی ریسکیو سیکرٹری ایمرجنسی سروسز ڈاکٹر رضوان نے کہا کہ تین لاکھ بیس ہزار لوگوں کو جب نکالیں۔اور تین دریاؤں میں بیک وقت سیلاب ہوں۔تو اس طرح کے حادثات کے نمبر بہت کم ہیں، جتنی بڑی آفت ہے، اس میں حادثات ہو جاتے ہیں۔ جلال پور پیر والا ، لیاقت پور ، منچن آباد ، علی پور اور اچ شریف میں دس کے قریب کشتی الٹنے کے واقعات رونما ہوئے جس سے اب تک 30 کے قریب افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں جاں بحق افراد میں خواتین بچوں اور بزرگوں کی بڑی تعداد شامل ہے ۔
پرائیویٹ کشتی مالکان کیخلاف زائد کرایہ وصول کرنے پر مقدمات درج
کشتی مالکان کے خلاف تھانہ ترنڈہ محمد پناہ میں سیلاب متاثرین کو ڈرا کرلوٹ مار کرنے والے کشتی مالکان کے خلاف مقدمات درج کر لیئے گئے ، ایف آئی آر کے متن میں کہا گیاکہ متاثرین کو ڈرایا کہ زیادہ رقم دو تو محفوظ مقامات پر لےجائیں گے ورنہ نہیں، پرائیویٹ کشتی مالکان نے سیلاب متاثرین کو ڈرا دھمکا کر انکی جان خطرے میں ڈالی۔
چوہنگ میں سیلاب متاثرین کیلئے کیمپ
لاہور کے علاقہ چوہنگ میں سیلاب متاثرین کو جہاں ایک طرف رہائش اور کھانے پینے کی سہولیات دی جا رہی ہیں وہیں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے بھی انتظامات کیے گئے ہیں ۔ متاثرین کا کہنا ہے کہ دوسروں سے مانگنے سے بہتر ہے کہ اپنے گھر والوں کا سہارا خود بنیں ۔ماثرین نے سبزی، چنا چاٹ جیسی اشیاء مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کر دیں ۔






















