عالمی ادارہ صحت نے جمہوریہ کانگو میں ایبولا کے پھیلاؤ کو عالمی سطح پر صحت عامہ کے لیے ہنگامی صورتحال قرار دے دیا ہے۔
ادارے کے مطابق کانگو کے مشرقی صوبے اتوری میں پھیلنے والی اس وبا میں اب تک تقریباً 246 مشتبہ کیسز اور 80 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں تاہم یہ صورتحال عالمی وبا یعنی پینڈیمک کے معیار پر پورا نہیں اترتی۔
ڈبلیو ایچ او نے خبردار کیا ہے کہ اصل تعداد کے مقابلے میں رپورٹ ہونے والے کیسز کم ہو سکتے ہیں اور یہ وبا اس وقت کی صورت حال سے کہیں زیادہ بڑے پیمانے پر پھیل سکتی ہے جس کے باعث مقامی اور علاقائی سطح پر اس کے پھیلاؤ کا خدشہ موجود ہے۔
ادارے کے مطابق اس وقت ایبولا کی جو قسم پھیل رہی ہے وہ ’بنڈی بوجیو وائرس‘ سے پیدا ہوتی ہے، جس کے خلاف تاحال نہ تو کوئی منظور شدہ دوا موجود ہے اور نہ ہی ویکسین دستیاب ہے۔
واضح رہے کہ ایبولا ایک خطرناک اور مہلک بیماری ہے جو ایک وائرس کے باعث ہوتی ہے۔ یہ بیماری نایاب ہے مگر شدید نوعیت کی ہوتی ہے اور اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ ایبولا وائرس کی تین اقسام ایسی ہیں جو وباؤں کا سبب بنتی ہیں اور موجودہ وبا ’بنڈی بوجیو‘ وائرس سے پھیل رہی ہے۔
یہ وائرس انسانوں کے درمیان متاثرہ جسمانی رطوبتوں، جیسے خون، قے اور دیگر رطوبتوں کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ ماضی میں بنڈی بوجیو ایبولا وائرس سے ہونے والی وباؤں میں تقریباً 30 فیصد متاثرہ افراد ہلاک ہوئے۔ وائرس سے متاثر ہونے کے بعد 2 سے 21 دن کے اندر علامات ظاہر ہو سکتی ہیں۔
اس کی علامات ہیں کیا؟
ابتدائی علامات اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور فلو جیسی ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور تھکن شامل ہیں۔ تاہم بیماری کے بڑھ جانے پر قے، اسہال شروع ہو جاتا ہے اور جسم کے اعضا متاثر ہونے لگتے ہیں۔ بعض مریضوں میں اندرونی اور بیرونی خون بہنے کی علامات بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔





















