چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر علی خان نے کہا ہے نیا پاکستان بنا نہ پرانا واپس لوٹا اور نہ ہی ہائبرڈ نظام چل سکا، میری گزارش ہے جو بھی بانی سےملاقات کرا سکتا ہے ملاقات کرا دے ۔ تیراہ میں آپریشن کو بیانیہ کی جنگ بنایا جائے نہ اس پر سیاست کی جائے ۔ پہلے بھی دہشت گرد ہماری آپسی لڑائی کے باعث جیتے ۔
اڈیالہ جیل کے قریب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر خان کا مزید کہنا تھا مجھے بانی کی آنکھ میں انفیکشن کا میڈیا سے پتہ چلا ۔ اگر ایسا کوئی معاملہ ہے تو یہ تشویش کی بات ہے ۔ فیملی کی ملاقاتوں پر سیاست نہیں ہونی چاہیے۔ پورا سسٹم جب ساکت ہو جائے عدلیہ کام نہ کرے تو عوام باہر نکلیں گے ۔ اگر آٹھ فروری تک ملاقاتیں بند رہیں تو کیا نو فروری کو سیاست ختم ہو جائے گی ۔ بانی نےاچکزئی اور علامہ ناصر کو مینڈیٹ دیا ہے۔ دونوں اپوزیشن لیڈر اب فیصلہ کریں گے کس کےساتھ مذاکرات کرنے ہیں اور کب کرنے ہیں ۔ آٹھ فروری کی کال واپس لینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ کسی کا باپ کسی کی بہن جیسے الفاظ استعمال نہیں کیئے جانے چاہیے ۔ سب کو کہتا ہوں اپنی زبانوں پر قابو رکھیں ۔
سہیل آفریدی نے کہا ہے صوبائی حکومت وفاقی حکومت کے ساتھ بیٹھے گی ۔ جو ہمیں مار رہے ہیں ہم ان سے مذاکرات کی بات نہیں کرتے ۔ ضرورت ہے ایک بیانیہ بنا لیں اور صوبائی اسمبلی کو آن بورڈ لے لیں ۔ بیانیے کی جنگ سے وفاق اور صوبہ نہیں دہشت گردوں کا بیانیہ جیتے گا ۔ مجھے پچھلی دفعہ بھی لوگوں نے کہا شاید آپ کی ملاقات ہو جائے ۔ لیکن میں نے کہا اکیلا نہیں ملوں گا ۔






















