بھارت میں مہلک نیپا وائرس کے پھیلاؤ نے ٹی 20 ورلڈ کپ 2026 کے انعقاد پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق نیپا وائرس کی نئی قسم ورلڈ کپ کے آغاز سے محض چند ہفتے قبل سامنے آئی ہے، جس نے ایونٹ کی تیاریوں، لاجسٹکس اور سفری انتظامات کو غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
بھارتی صحت حکام کے مطابق ریاست مغربی بنگال میں نیپا وائرس کے کم از کم 5 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ متاثرہ افراد میں 2 نرسیں اور ایک ڈاکٹر بھی شامل ہیں۔ تمام متاثرہ افراد کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ حکام کے مطابق 100 سے زائد افراد کو قرنطینہ منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ نگرانی اور حفاظتی اقدامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں۔
یہ عالمی کرکٹ ایونٹ 7 فروری 2026 سے بھارت میں شروع ہونا ہے، تاہم وائرس کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد کھلاڑیوں، آفیشلز اور شائقین کی سلامتی پر شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر وائرس مزید پھیلتا ہے تو یہ ورلڈ کپ کی تیاریوں، ٹیموں کی آمد و رفت، سیکیورٹی پلاننگ اور میچ شیڈول کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ بین الاقوامی سطح پر کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کے بھارت آنے پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔
نیپا وائرس بھارت کے علاوہ بنگلہ دیش، ملائشیا، فلپائن اور سنگاپور میں بھی پھیل چکا ہے۔ سب سے زیادہ متاثرہ ملک بنگلہ دیش ہے جہاں اب تک 341 کیسز اور 241 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
تھائی لینڈ، نیپال اور تائیوان میں اگرچہ کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا، تاہم وہاں وائرس ہائی الرٹ جاری کیا جاچکا ہے۔ ایئرپورٹ پر اسکریننگ ہورہی ہے۔ بھارت سے آنے والوں کی سخت جانچ کی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ نیپا وائرس ایک انتہائی مہلک بیماری ہے جو چمگادڑوں سے انسانوں میں منتقل ہوتی ہے۔ طبی رپورٹس کے مطابق اس وائرس کی اموات کی شرح 75 فیصد تک ہو سکتی ہے۔
تشویشناک بات یہ ہے کہ اس بیماری کا ابھی تک دنیا میں کوئی مستند علاج یا ویکسین موجود نہیں، جس کے باعث بڑے بین الاقوامی اجتماعات کے لیے خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔



















