وزیردفاع خواجہ آصف نے کہاہے کہ برفباری کے دوران وادی تیراہ سے نقل مکانی ہرسال کا معمول ہے، اس کا آپریشن سے کوئی تعلق ہے نہ ہی فی الحال کوئی آپریشن کیا جا رہا ہے، خیبرپختونخوا حکومت اور اور جرگے میں معاملات طے پائے اور چار ارب روپے مختص کیے گئے، صوبائی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ وفاق پر ڈال رہی ہے۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ افغان سرحد کے ساتھ 6 سے 7 ویلیز ہیں، برف باری شروع ہوتے ہی نقل مکانی شروع ہو جاتی ہے، یہ کوئی کرائسز نہیں جسے کرائسز کی شکل دی جا رہی ہے، 11دسمبر کو ایک جرگہ ہوا جس میں 26 کے قریب مشران شامل تھے، جرگے نے ٹی ٹی پی سے ملاقات کی، صورت حال سے آگاہ کیا، مشران نے صوبائی حکومت سے مل کر صورت حال سے آگاہ کیا، جرگے اور صوبائی حکومت کے ساتھ ارجمنٹ ہوئی، ان علاقے میں آپریشن کئی سال پہلے ہوا، انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کا فیصلہ ہوا، فوج نے عرصہ دراز سے آپریشن کو ترک کر دیا، آپریشن کا وہاں پر سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس علاقے میں سویلین قانون نافذ کرنے والے اداروں سے غیرموجودگی ہے۔
اس ہیمپ میں ادویات اور دیگر اشیا کی کاشت ہوتی ہے، اس ہیمپ کی کاشت کا پیسہ ٹی ٹی پی کی جیب میں جاتا ہے،پاکستان میں بہت جگہوں پر ہمیپ کی کاشت ہو تی ہے، 12ہزارفی ایکڑ منافع کہیں نہیں ملا۔ 11دسمبر کوجرگے کا اگلا مرحلہ24اور پھر 31دسمبر کو ہوا، یہ جرگہ اس سے کئی سال پہلے تشکیل دیا گیا، اس نوٹیفکیشن اور جرگے کی موجودگی میں ریڈار پر فوج کہاں نظرآرہی ہے، کےپی حکومت اپنی ناکامی کا ملبہ ڈال رہی ہے، پی ٹی آئی کی حکومت نے اس ساری چیز کو انوکھا بنانے کی کوشش کی، لوگوں کو جن کیمپوں میں رکھا گیا، وہ ضروریات پوری نہیں کر رہے، کیمپوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجی آپریشنز سمیت تمام باتیں مفروضوں پر مبنی ہیں، صوبائی حکومت بتائے 4ارب روپے کہاں لگائے، صوبائی حکومت وہاں کے عوام کیلئے کوئی بہتری کرنا چاہتی ہے جو ہم تیار ہیں، کے پی کے عوام پاکستان کےعوام ہیں،ان کی بہتری کیلئے تیار ہیں۔






















