حیدرآباد کی ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ نے معروف سندھی ادیب ڈاکٹر آکاش انصاری کے قتل کیس کا فیصلہ سنا دیا۔ عدالت نے ڈاکٹر آکاش انصاری کے پالک بیٹے شاہ لطیف کو جرم ثابت ہونے پر سزائے موت سنادی۔
ماڈل کرمنل ٹرائل کورٹ فرسٹ کے جج تصور راجپوت نے کیس کا تفصیلی فیصلہ سنایا۔ عدالت کے مطابق ملزم کے خلاف پیش کیے گئے شواہد اور گواہوں کے بیانات کی روشنی میں جرم ثابت ہوا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق ڈاکٹر آکاش انصاری کی لاش 15 فروری 2025 کو ان کی رہائش گاہ سے برآمد ہوئی تھی، جس کے بعد واقعے کا مقدمہ مقتول کے کزن کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔






















