میانوالی کے علاقے گلن خیل میں پولیس کی جانب سے شادی کی تقریب پر چھاپےاورگلوکارپر تشدد اور گرفتاری کا ڈی پی او نے نوٹس لیتے ہوئے رحمان علی کو رہا کرنے کا حکم دیدیا۔
عظمی بخاری نے کہا کہ سوشل میڈیا پر پولیس اہلکاروں کی جانب سے نوجوان سنگر پر تشدد کی ویڈیو دیکھی ہے جو افسوسناک ہے،واقعے کی تحقیقات کرکے ذمے داران کے خلاف کارروائی کی جائے گی،ان کا کہنا تھا کہ فنکار برادری پر اس طرح کا تشدد کرنا ناقابل قبول ہے۔
دلہےوالوں کے مطابق تقریب کی اجازت ڈی پی او آفس سے لےنے کے باوجود پولیس نے نہ صرف تقریب پر چھاپہ مارا،بلکہ ہمارے مہمانوں سمیت گلوکار رحمان علی اور کیمرہ مین محمد رفیق کو گرفتار کرلیا۔
View this post on Instagram
تشدد کی ویڈیو سامنے آنے پر ڈی پی اونے معاملے کا نوٹس لے لیا،جس کے بعد پولیس نے گلوکار کو تو رہا کردیا ہے،تاہم کیمرہ مین اب بھی زیر حراست ہے۔






















