سندھ حکومت نے 2000ء تک قائم گوٹھوں کو لیز دینے کی 26 نکاتی پالیسی تیار کرکے منظوری کیلئے سندھ کابینہ کو پیش کردی۔
سندھ حکومت نے صوبہ بھر میں قائم گوٹھوں کو لیز دینے کی پالیسی منظوری کیلئے سندھ کابینہ کو پیش کردی۔ جس کے مطابق کراچی، حیدرآباد، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیر آباد اور لاڑکانہ میں قائم ہونیوالے گوٹھوں کو اب نئی پالیسی کے تحت لیز دی جائے گی۔
رپورٹ کے مطابق دسمبر 2000ء سے پہلے قائم گوٹھ کو کم از کم 10 گھروں پر مشتمل ہونا چاہئے، گوٹھوں میں مسجد، مدرسہ، امام بارگاہ، چرچ، مندر، گردوارہ بھی لیز پر دیے جائیں گے۔
نئی پالیسی کے تحت 240 گز کے رہائشی پلاٹ کی 25 فیصد رقم جبکہ 500 گز کے پلاٹ کی 50 فیصد رقم فوری طور پر طے کرکے لی جائیگی، ڈپٹی کمشنر متعلقہ گوٹھ میں رہائش پذیر افراد کو زمین کی الاٹمنٹ کا چالان جاری کرے گا۔
رپورٹ کے مطابق لیز شدہ گوٹھ کی زمین 3 سال تک فروخت نہیں کی جاسکے گی، لیز کی زمین کو جس مقصد کیلئے لیا جائے گا اسی مقصد کیلئے استعمال کیا جائے گا، ڈپٹی کمشنر زمین کی 99 سال کیلئے متعلقہ رولز کے تحت الاٹمنٹ کرے گا۔
نئی گوٹھ پالیسی کے تحت فراڈ اور کرپشن سے بچنے کیلئے لیز لینے والے کا نادرا سے بایومیٹرک کرایا جائے گا، لیز کیلئے تمام وفاقی و صوبائی ٹیکس ادا کرنا لازمی قرار دیا گیا ہے۔



















