این ڈی ایم اے نے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر الرٹ جاری کردیا،مارچ سے ستمبر تک ہیٹ ویو اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کا خدشہ ظاہر کرنے کے ساتھ ساتھ متعدد علاقوں میں ممکنہ سیلاب سے بھی خبردار کردیا
این ڈی ایم اے کے اعلامیے کے مطابق درجہ حرارت میں اضافے کےباعث ہیٹ ویو اورگلیشئر پگھلنے کے عمل میں تیزی کا خدشہ ہے،الرٹ میں کہاگیا ہےکہ مارچ سے ستمبر کےدوران گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوسکتی ہےجبکہ مارچ سے جون کے دوران تیزی سے پگھلتے گلیشئر بھی نچلے علاقوں کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔
ترجمان کےمطابق گلگت بلتستان اور بالائی خیبر پختونخوا کے متعدد علاقوں میں گلیشیائی جھیلوں کی مسلسل نگرانی جاری ہے،ممکنہ سیلاب کے باعث آبادیوں اور زرعی اراضی کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
گلگت بلتستان کے احمد آباد، فیض آباد، مجاور، وادی اشکومن، گلکن، گلمت اور بوہر کے علاقے متاثر ہوسکتے ہیں جبکہ خیبر پختونخوا کے ریشون، کمراٹ، یارخن ویلی، لشٹ، استاچ، ڈزق اور بریپ میں بھی سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔
این ڈی ایم اے نے ہدایت کی ہے کہ دریا کے کناروں اور گلیشیائی ندی نالوں کے قریب غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کیا جائے اور متعلقہ ادارے الرٹ رہیں۔






















