گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ ستارہ اقبال نے نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) لاہور میں اپنی فائنل تھیسس کے ذریعے خطۂ گلگت بلتستان کی قدیم تہذیب و ثقافت کو تخلیقی انداز میں اجاگر کر دیا۔
ستارہ اقبال کی تھیسس گلگت بلتستان میں قدیم زمانوں سے پتھر سے تیار کیے جانے والے روایتی برتن پر مبنی ہے، جسے بلتی زبان میں “روآہ (Roah)” کہا جاتا ہے۔ ان کی یہ تخلیق روایت اور جدت کا حسین امتزاج ہے، جو ماضی کی ثقافتی شناخت کو جدید فنی اظہار سے جوڑتی ہے۔
این سی اے لاہور میں منعقدہ ڈگری ڈسپلے کے دوران ستارہ اقبال کا کام شائقینِ فن، اساتذہ اور ماہرین کی خصوصی توجہ کا مرکز رہا۔ ماہرین نے ان کی تخلیق کو فنی پختگی، ثقافتی شعور اور تخلیقی بصیرت کی بہترین مثال قرار دیا، جو مقامی ثقافت کو عالمی تناظر میں پیش کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ ستارہ اقبال کا تعلق اسکردو سے ہے اور انہوں نے نیشنل کالج آف آرٹس لاہور سے پروڈکٹ ڈیزائن میں چار سالہ ڈگری کامیابی کے ساتھ مکمل کی۔ فن سے ان کا رشتہ محض تعلیم تک محدود نہیں بلکہ وراثت میں ملا ہے ان کے والد گلگت بلتستان کے نامور آرٹسٹ ہیں، جن کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی نے ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارا۔
ستارہ اقبال کی یہ کامیابی نہ صرف ان کے لیے باعثِ فخر ہے بلکہ گلگت بلتستان کی ثقافتی شناخت کے فروغ اور نئی نسل کو اپنی روایت سے جوڑنے کی ایک روشن مثال بھی ہے۔





















