سانحہ گل پلازہ سے متعلق درج کی گئی ایف آئی آر کی کاپی منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ایف آئی آر کے مطابق گل پلازہ میں آگ لگنے کا واقعہ غفلت اور لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مقدمہ سرکاری مدعیت میں نبی بخش تھانے میں انسپکٹر علی نواز زرداری کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ آگ گل پلازہ میں واقع گفٹ سینٹر کے اندر سے شروع ہوئی۔
متن کے مطابق ایمرجنسی اخراج کے راستے بند تھے جبکہ آگ لگنے کے دوران بجلی بھی منقطع ہو گئی، جس کے باعث لوگوں کو عمارت سے باہر نکلنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایف آئی آر میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ بجھانے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے مناسب انتظامات موجود نہیں تھے۔
ایف آئی آر کے مطابق آگ لگنے، جھلسنے اور دم گھٹنے کے باعث مجموعی طور پر 71 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے 20 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ واقعے کی اطلاع رات 10 بج کر 30 منٹ پر پولیس کو موصول ہوئی، جس کے بعد پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی تاہم اس وقت متعدد افراد عمارت کے اندر پھنسے ہوئے تھے۔
ایف آئی آر میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ فائر بریگیڈ اور ریسکیو ادارے امدادی کارروائیوں میں مصروف رہے۔ سانحہ گل پلازہ سے متعلق مزید تحقیقات جاری ہیں۔





















