اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا رواں سال 2026 کا پہلا اجلاس منعقد ہوا، جس میں پالیسی ریٹ ساڑھے 10 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔
اجلاس میں غذائی اجناس میں مہنگائی، مجموعی معاشی صورتحال اور دیگر اہم معاشی عوامل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ کمیٹی کو آگاہ کیا گیا کہ زرمبادلہ کے ذخائر میں بتدریج بہتری آ رہی ہے، جو معاشی استحکام کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے دوران اندرونی ایشوز پر بھی گفتگو کی گئی جبکہ آئندہ کی معاشی سمت اور مہنگائی کے دباؤ کو مدنظر رکھتے ہوئے محتاط پالیسی اپنانے پر اتفاق کیا گیا۔
مانیٹری پالیسی کمیٹی کے فیصلے کا اطلاق فوری طور پر ہوگا۔
گورنر سٹیٹ بینک جمیل احمد کا کہناتھا کہ درآمدات بڑھ رہی ہیں، اجلاس میں جی ڈی پی گروتھ کا تفصیلی جائزہ لیا، رواں مالی سال کےدوسری سہ ماہی میں مہنگائی 7 فیصد سے اوپر جا سکتی ہے، ایکسٹرنل اکاؤنٹس میں ہونے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا گیا، مانیٹری پالیسی نے مہنگائی کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا، ان تمام چیزوں کودیکھتےہوئےشرح سودکو10.5فیصدپر برقراررکھنےکافیصلہ کیا۔




















