سپریم کورٹ نے سرکاری ملازمین کی ترقی میں تاخیر سے متعلق اہم فیصلہ سنادیا۔
سپریم کورٹ نے پنجاب سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر اہل افسرکو پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے پروموشن کا حق بحال کردیا۔ جسٹس عائشہ ملک نے 7 صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ جسٹس عائشہ ملک ، جسٹس محمد ہاشم کاکڑ اور جسٹس اشتیاق ابراہیم نے کیس سنا۔
عدالت نے سرکاری ملازم فخر مجید کی پروموشن 21 جنوری 2012 سے مؤثر قرار دے دیا، پنجاب سروس ٹریبونل نے فخر مجید کی پروموشن کی اپیل مسترد کی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پنجاب سروس ٹریبونل کے مطابق ملازم کو خالی عہدے کے دن سے ترقی کاحق نہیں، ملازم فخر مجید کی استدعا تھی کہ پہلی محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی کے دن سے ترقی کا حق بحال کیا جائے، عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی غفلت یا تاخیر کی سزا ملازم پر نہیں ہوگی۔
عدالت نے حکم دیا کہ اہل سرکاری ملازم کو بروقت پروموشن کے لیے محکمہ جاتی پروموشن کمیٹی میں شامل کیا جائے، پروموشن میں تاخیر یا لاپروائی ملازم کے حق کو متاثر نہیں کرے گی، سرکاری ادارے بروقت پروموشن یقینی بنائیں۔ ملازمین کو انتظامی ناکامی کی سزا نہیں دی جا سکتی۔






















