سوشل میڈیا پر وائرل پینگوئن ویڈیو نے صارفین کی توجہ حاصل کر لی،جو آج کے دور میں بہت سے لوگوں کے احساسات کی عکاسی کر رہی ہے۔
یہ ٹرینڈ ایک مختصرویڈیو کلپ سےشروع ہوا،جس میں ایک پینگوئن اپنے پورے جھنڈ کو چھوڑ کر انٹارکٹکا کے اندرونی،سنسان پہاڑوں کی سمت بڑھتا دکھائی دیتا ہے،یہ وائرل ویڈیو دراصل معروف جرمن فلم ساز ورنرہرزوگ کی 2007 میں انٹارکٹکا پربنائی گئی ڈاکیو منٹری سےلی گئی ہے۔
View this post on Instagram
یہ ٹرینڈ اس وقت مزیدخبروں کی زینت بناجب وائٹ ہاؤس کے آفیشل اکاؤنٹ نےایک اےآئی تصویر شیئر کی،جس میں امریکی صدر ایک پینگوئن کے ساتھ کھڑے دکھائے گئے،تصویر میں پینگوئن امریکی پرچم تھامے تھا اور دور گرین لینڈ کا جھنڈا نظر آ رہا تھا، ساتھ کیپشن تھا: ”Embrace the Penguin“۔

سوشل میڈیا پر بننے والے میمز میں پینگوئن کو ایک ایسے کردار کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے جو سب کچھ پیچھے چھوڑ کر بغیر کسی واضح مقصد کے آگے بڑھ رہا ہے،بالکل ویسے ہی جیسے آج کا انسان اکثر خود کو محسوس کرتا ہے۔
یہی وجہ ہےکہ “ مایوس پینگوئن“ محض ایک وائرل ویڈیو نہیں بلکہ جدید دور کے اجتماعی جذبات کی نمائندگی بنتا جا رہا ہے۔
ماہرین کےمطابق تنہائی خاموشی سےذہنی اورجذباتی صحت کومتاثر کرسکتی ہے،جس کے نتیجے میں اسٹریس، اینزائٹی اورشدید تھکن جیسے مسائل جنم لیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ویڈیو کو صارفین اپنی موجودہ کیفیت سے جوڑ رہے ہیں۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہےکہ اپنے احساسات کے بارے میں بات کرنا اور بروقت مدد حاصل کرنا ذہنی صحت کے لیے نہایت اہم ہے۔ سوشل میڈیا پر بھی یہ پیغام دیا جا رہا ہے کہ مشکل حالات میں کوئی اکیلا نہیں ہوتا۔
یہ وائرل ویڈیو محض ایک کلپ نہیں بلکہ ایک پیغام ہےکہ تنہائی کے احساس میں بھی امید اور ساتھ موجود ہوتا ہے،بس اظہار ضروری ہے۔





















