بین الاقوامی جریدے دی ڈپلومیٹ نے بھی پاکستان کی کامیاب سفارت کاری کی تعریف میں پل باندھ دیے۔
دی ڈپلومیٹ کےمطابق بھارت جو امریکاکا اتحادی سمجھا جاتا تھا،اب 50 فیصدامریکی ٹیرف اور صدارتی دورے سےمحرومی کا شکار ہے،مئی 2025 کے پاک بھارت تنازعہ پر امریکی ثالثی کے دعوے کو بھارت کی جانب سے مسترد کیے جانے کے بعد تعلقات گہری منجمد کیفیت میں داخل ہو گئے ہیں
دی ڈپلومیٹ کےمطابق اسی بحران کو پاکستان نےسفارتی موقع میں بدلا اورصدرٹرمپ کےثالثی کردار کو بھرپور انداز میں سراہا،چار روزہ پاک بھارت جنگ کے بعدصدرٹرمپ نے پاکستانی آرمی چیف کووائٹ ہاؤس میں مدعوکیا،ستمبر 2025 میں وزیراعظم شہبازشریف اورآرمی چیف عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس کا دورہ کیا،ٹرمپ اور عاصم منیر کے درمیان گفتگو سیکیورٹی سے آگے بڑھ کر تجارت اور سرمایہ کاری تک پھیل گئی
دی ڈپلومیٹ کا کہنا ہے کہ ثالثی کے دعوےکوخودمختاری کی توہین قرار دینے کے بعد بھارت کو نہ QUAD Summit ملی، نہ ٹرمپ کا دورہ اور نہ ہی تجارتی ریلیف حاصل ہو سکا،
پاک امریکا انسداد دہشت گردی تعاون دوبارہ بحال ہوگیا اورتعلقات کےپرانےستون کونئی زندگی ملی، جولائی 2025 میں پاکستان اور امریکا کےدرمیان ٹیرف میں کمی کا اہم تجارتی معاہدہ طے پائے دی ، معاہدے کےتحت امریکی کمپنیوں کی پاکستان کے وسائل میں طویل المدتی سرمایہ کاری شامل ہے
صدر ٹرمپ نےاعلان کیا کہ امریکا اور پاکستان مل کر بڑے تیل ذخائر کو ترقی دیں گے،دسمبر 2025 میں پاکستان نے ایف 16 طیاروں کے اپ گریڈ کے لیے امریکی منظوری حاصل کی،ایف 16 اپ گریڈ پیکج کی مجموعی مالیت 680 ملین ڈالر بتائی گئی، جنوری 2026 میں پاکستان نے چین کے ساتھ سفارتی تعلقات کی تجدید پر بھی زور دیا۔
دی ڈپلومیٹ کےمطابق امریکا نےبلوچ لبریشن آرمی اورمجید بریگیڈکودہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا،بھارت کےساتھ تجارتی معاہدہ نہ ہونے پرامریکا نےبھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائدکردیا،ٹرمپ اور ان کے قریبی مشیروں میں بھارتی حکومت کے خلاف شدید ناراضی پائی جاتی ہے
ماہرین کاکہنا ہے کہ پاکستان نے عالمی سطح پر اپنی اسٹریٹجک اہمیت اور اثر و رسوخ کو نئی بلندیوں پرپہنچایا، اسلام آباد کی دانشمندانہ سفارت کاری نےامریکا کےساتھ تعلقات کومضبوط اورپائیدار بنایا، پاکستان نےعلاقائی چیلنجزکو فائدےمیں بدل کراپنےعالمی کردارکو اجاگرکیا،واشنگٹن میں پاکستان کی مہارت اورحکمت عملی نےخطے میں اس کی سیاسی واقتصادی قوت کوبڑھایا،صدرٹرمپ کی ثالثی کو جھٹلاتےہوئےمودی نے بھارت کو سفارتی تنہائی، بھاری ٹیرف اور امریکی ناراضی کے حوالے کر دیا۔






















