سینئر فائر آفیسر ظفر خان کا کہنا ہے کہ گل پلازہ سانحے کے بعد ملبے سے لاشیں نہیں صرف ہڈیاں مل رہی ہیں،لاشوں کی تلاش کے علاوہ آپریشن میں اب کوئی اور چیز باقی نہیں رہی۔
سانحہ گل پلازہ سےمتعلق ریسکیو اور فائربریگیڈحکام نےتشویشناک تفصیلات سے آگاہ کر دیا ہے۔فائرآفیسر ظفر خان کا کہنا ہےکہ گل پلازہ کے اسٹرکچرکی حالت دن بدن خراب ہوتی جارہی ہے،جس کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
گزشتہ روز تیزہوا چلنے کے باعث بیسمنٹ میں دوبارہ آگ بھڑک اٹھی تھی،جس پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی ٹیموں نے مسلسل چار گھنٹے جدوجہد کی، آگ پر مکمل طور پر قابو پا لیا گیا ہے
آئندہ مرحلےمیں فرسٹ فلور اور میزنائن فلور پر ملبہ ہٹانے کا کام شروع کیا جائے گا،عمارت کے کمزور ہوتے اسٹرکچر کے باعث ریسکیو اہلکار انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔
دوسری جانب گل پلازہ کو مسمار کرنے کے عمل میں کے ایم سی کی معاونت کے لیےسندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) کی چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں،
ایس بی سی اے کی تشکیل کردہ چار ٹیموں میں مجموعی طور پر 16 افسران اور ملازمین شامل ہیں، جو گل پلازہ کو گرانے کے عمل میں کے ایم سی کو تکنیکی اور انتظامی معاونت فراہم کریں گی






















