ایران میں پرتشدد فسادات کو دو ہفتے مکمل،تہران سے شروع ہونے والے مظاہرے 31صوبوں میں پھیل گئے، کشیدگی کے باعث ملک بھر میں بلیک آوٹ،انٹرنیٹ اور موبائل سروس معطل ہے،غیر ملکی ایئرلائنز نے تہران کیلئے پروازیں منسوخ کردیں۔
تہران اور اصفہان میں مشتعل مظاہرین نےجلاؤ گھیراؤکیا،فردس شہر میں پولیس نے مظاہرین پر گولیاں برسادی،اموات کی تعداد 62 ہوگئی جن میں چودہ سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں،کشیدگی کے باعث کئی مقامات پرمکمل بلیک آؤٹ،انٹرنیٹ اورموبائل سروس معطل ہیں،ترک اور اماراتی ائیرلائنز نے ایران کیلئے پروازیں منسوخ کر دیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہےکہ ایران مظاہرین کو مارنا بند کرےہم نے ایکشن لیا تو انہیں تکلیف ہوگی۔ ایرانی سپریم لیڈر نے ڈونلڈ ٹرمپ کو ایرانیوں کا قاتل قراردیاکہا کرائے کے فوجیوں کو برداشت نہیں کریں گے,سابق ولی عہد رضا پہلوی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مداخلت کی اپیل کردی۔
مہنگائی کے خلاف احتجاج 28 دسمبر کو تہران کےتاجروں نےشروع کیا تھا،ایرانی حکومت کی جانب سے طاقت کا استعمال کرنے پر مظاہروں میں شدت آئی،ایران میں مہنگائی پچاس فیصد سے تجاوز کرگئی ہےجبکہ ایرانی کرنسی کی قیمت بھی کم ترین سطح پر ہے،جس سے عوام کو شدید معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔





















