آئی ایم ایف کا وفد توسیع فنڈ پروگرام کے تحت تیسرے اقتصادی جائزے کے سلسلے کراچی میں موجود ہے جہاں جمعے تک اہم اجلاس شیڈول کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق وفد کے اراکین کی اسٹیٹ بینک کے حکام سےملاقات ہوئی جس میں اسٹیٹ بینک کی جانب سے معاشی اعشاریوں،زرمبادلہ ذخائر اور مالیاتی پالیسی پر تفصیلی بریفنگ دی۔آئی ایم ایف وفد کی آج اور کل مزید دو اہم ملاقاتیں بھی طے ہیں۔
وفد آج دوپہر اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس کے عہدیداران سے ملاقات کرے گا جبکہ جمعہ کو پاکستان بزنس کونسل کے نمائندوں سے مشاورت کرے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد ہفتے کے روزاسلام آباد روانہ ہوگا جہاں پیر سے وزارت خزانہ کے حکام کے ساتھ مذاکرات کا آغاز ہوگا،یہ مذاکرات تکنیکی سطح پر ہوں گے اور جاری پروگرام کے مختلف اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔
ذرائع کا کہناہے کہ آئی ایم ایف وفد مارچ کےپہلےہفتے میں خیبر پختونخوا حکومت کےساتھ بھی مذاکرات کرےگا،وفد اورخیبر پختونخواحکام کے درمیان یہ بات چیت بھی تکنیکی سطح پر ہوگی جس میں صوبائی مالی امور اور اصلاحاتی اقدامات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
ذرائع کےمطابق آئی ایم ایف وفد نے یو اے ای سے دو ارب ڈالر کے ڈیپازٹس ایک سال کیلئے رول اوور کرانے کا مطالبہ کیاجس کی اسٹیٹ بینک حکام نے یقین دہانی کرا دی۔ آئی ایم ایف وفد اگلے ہفتے اسلام آباد جائے گا جہاں آئندہ پیر سے وفاقی حکومت کے ساتھ مذاکرات ہوں گے۔
صوبائی حکومتوں کے نمائندوں سے بات چیت میں صوبوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے گا،آئندہ بجٹ پر بھی ابتدائی بات چیت ہوگی،آئی ایم ایف وفد دورے کےدوران ٹیکس وصولی میں کمی،بجلی شعبے کے مسائل،صوبائی مالی نظم و ضبط، ادارہ جاتی اصلاحات سمیت مختلف شعبوں کی کارکردگی کا جائزہ لےرہا ہے،اگرجائزہ کامیاب رہاتوپاکستان کو تقریباً ایک ارب بیس کروڑڈالرکی قسط ملےگی،پاکستان کو یہ رقم نئے بجٹ سے پہلے اپریل تک ملنےکا امکان ہے۔
حکومت کادعویٰ ہےکہ پاکستان نےزیادہ تراہداف حاصل کرلئے،معیشت میں استحکام آیا ہے،البتہ ریونیو شارٹ فال اب بھی مسئلہ ہے،توانائی شعبےسمیت کچھ اصلاحات سست ہیں،آئی ایم ایف مشن پاکستان میں 11 مارچ تک رہےگا،اس دوران مستقبل کے بجٹ اورمعاشی اصلاحات کا خاکہ بھی تیار ہو گا۔






















