وفاقی وزیرخزانہ کی زیرصدارت اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے کر لیئے گئے ، گاڑیوں کی درآمد سے متعلق طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دیدی گئی، اب گاڑیوں کی درآمد کیلئے مدت دو سال سے بڑھاکرتین سال کردی گئی، درآمدی گاڑی ایک سال تک ٹرانسفرنہیں ہوسکےگی۔
تفصیلات کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی کے اجلاس میں پاورسیکٹر کےمالی استحکام کیلئے سرکلر ڈیٹ مینجمنٹ پلان کا جائزہ لیا گیا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے فالو اپ میکانزم بنانے کی ہدایت کردی، ای سی سی نےگاڑیوں کی درآمد سے متعلق طریقہ کار میں ترامیم کی منظوری دیدی ہے، گاڑیوں کی درآمد کیلئےمدت 2 سےبڑھاکر3سال مقرر،ایک سال تک ٹرانسفر نہیں ہوگی، گاڑیوں کی درآمد میں صرف ٹرانسفرآف ریزیڈنس اور گفٹ اسکیمیں برقرار رہیں گی۔
اجلاس میں گاڑیوں کی درآمد سےمتعلق پرسنل بیگیج اسکیم ختم کرنے کی منظوری بھی دیدی گئی ہے جبکہ پاکستان ڈیجیٹل اتھارٹی کیلئے 1.28 ارب روپے کی گرانٹ منظور کر لی گئی ۔اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن اور ہاؤسنگ اینڈ ورکس ڈویژن کیلئے ترقیاتی فنڈز کے اجرا کی منظوری بھی دیدی گئی ۔
اجلاس میں ڈیلرز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے مارجن کو مہنگائی کے تناسب سے ایڈجسٹ کرنے کا فیصلہ کیا گیا، ای سی سی نے کہا کہ نصف اضافہ فوری جبکہ باقی ڈیجیٹلائزیشن سے مشروط ہو گا۔






















