امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر نائیجیریا میں عیسائیوں کے بڑے پیمانے پر قتل عام کا دعویٰ کرتے ہوئے زمینی یا فضائی کارروائی کی دھمکی دی۔
ایئرفورس ون میں صحافیوں سے گفتگو میں ڈونلڈ ٹرمپ نے نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے مبینہ ’قتلِ عام‘ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ زمینی یا فضائی کارروائی کی دھمکی دی ہے تاہم نائیجیریا نے مسیحی شہریوں کے قتل عام کی تردید کرتے ہوئے مبینہ شدت پسندوں کےخلاف مشترکہ جدوجہد کی پیشکش کی۔ نائیجیرین صدر نے ٹرمپ سے اپنے ملک کی خود مختاری کے احترام پر زور دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بھی سوشل میڈٰیا پیغام میں ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نے نائیجیریا میں مسیحی برادری کے خلاف ہونے والے مبینہ ’قتلِ عام‘ پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ امریکا ’فوری طور پر نائیجیریا کو دی جانے والی تمام امداد اور تعاون بند کر دے گا، اور وہاں کی حکومت کو اقدامات کی وارننگ دی۔
ٹرمپ نے کہا کہ بہت ممکن ہے کہ امریکا اب اس بدنام شدہ ملک (نائیجیریا) میں بھرپور ہتھیاروں کے ساتھ داخل ہو جائے، تاکہ اُن دہشت گردوں کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے جو یہ ہولناک مظالم انجام دے رہے ہیں۔
ٹرمپ نے لکھا کہ میں اپنے محکمہ جنگ کو ممکنہ کارروائی کی تیاری کرنے کا حکم دے رہا ہوں، اگر ہم حملہ کریں گے تو وہ تیز، بے رحم اور مزے دار ہوگا۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے دنیا بھر میں 8 جنگیں رکوائی ہیں۔ حماس نے آج تین یرغمالیوں کی لاشیں واپس کی ہیں جن پر بہت خوشی ہے۔






















