امریکا اور روس کے درمیان ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے کا معاہدہ ختم ہونے میں ایک ہفتہ باقی ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان مذاکرات نہ ہونے کے باعث دنیا میں ایک بار پھر ایٹمی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق روس نے امریکا کو ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے کے معاہدے میں ایک برس کی توسیع کی پیشکش کی ہے لیکن واشنگٹن سے ابھی تک کوئی جواب نہیں آیا۔ معاہدہ ختم ہونے کی صورت میں دونوں ملک ایٹمی ذخائرمیں اضافہ کرسکتے ہیں۔ امریکا روس کے ساتھ ساتھ چین کو بھی معاہدے میں شامل کرنے کا خواہاں ہے۔
آخری بار 2010 میں معاہدے میں توسیع ہوئی تھی جس کے تحت دونوں ملک 1550 سے زائد ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے کے پابند ہیں۔ دونوں ملکوں نے پہلی بار 1969 میں ایٹمی ہتھیاروں کو محدود رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔ روس کے ہائپر سونک میزائلز اور امریکی گولڈ ڈوم سسٹم 2010 کے معاہدے سے باہر ہیں۔




















