فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے جنوری کے دوران ٹیکس وصولی میں اضافہ ریکارڈ کیا ہے، تاہم مقررہ ہدف حاصل نہیں کیا جا سکا۔
ایف بی آر کے مطابق جنوری میں مجموعی طور پر ایک ہزار 15 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 16 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ سال جنوری میں ٹیکس وصولی 873 ارب روپے رہی تھی۔
دوسری جانب اسلام آباد میں ذرائع کے مطابق رواں ماہ ٹیکس وصولی کا ہدف ایک ہزار 31 ارب روپے مقرر تھا، تاہم ہدف کے مقابلے میں 16 ارب روپے کم ٹیکس جمع ہو سکا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جنوری کے مقابلے میں اس سال 242 ارب روپے زیادہ ٹیکس وصول کیا گیا، جو ٹیکس نیٹ میں بہتری اور وصولیوں میں اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق جنوری کی وصولی گزشتہ 6ماہ کی اوسط وصولی سے 10 تا 11 فیصد سے زیادہ رہی، انکم ٹیکس وصولی381 ارب کی نسبت بڑھ کر 483 ارب روپے تک پہنچ گئی، رواں مالی سال کے پہلے 7ماہ میں 7 ہزار 176 ارب روپے ٹیکس جمع کیا، گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ وصولی 6,490 ارب روپے رہی تھی۔
جنوری میں سیلز ٹیکس کی وصولی 360 ارب روپے رہی، یہ گزشتہ سال کے 322 ارب روپے کے مقابلے میں 12 فیصد اضافہ ہے، یہ رجحان بڑی صنعتوں کابحالی کا عکاس ،نہایت مثبت اورحوصلہ افزا پیشرفت ہےجنوری میں براہِ راست ٹیکسوں میں خاطر خواہ اضافہ ہوا، محصولات میں یہ بہتری مؤثر انفورسمنٹ اقدامات کی وجہ سے ہوئی۔
موجودہ مالی سال کے پہلے 7 ماہ میں ٹیکس شارٹ فال 345 ارب روپے ہوگیا، مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں ٹیکس وصولی میں 329 ارب روپے کمی آئی تھی، سپر ٹیکس کی ریکوری کے پیش نظر آنے والے مہینوں میں محصولات میں بہتری متوقع ہے۔




















