پی ڈی ایم اے پنجاب نے دریائےچناب میں ہیڈ قادر آباد کےٹوٹنےکا خدشہ ظاہر کردیا۔
پی ڈی ایم اے پنجاب کےمطابق دریائےچناب میں ہیڈ قادر آباد کےٹوٹنےکا خدشہ ہے،قادرآباد ہیڈورکس کے ٹوٹنےسے حافظ آباد اورچنیوٹ کے علاقے شدید متاثرہوں گے،ڈپٹی کمشنرز کو شہریوں کے فوری انخلا کی ہدایات جاری کر دی ہیں،ضلعی انتظامیہ اورمحکمہ آبپاشی کی ٹیمیں موقع پر موجود ہیں،قادر آباد ہیڈ ورکس پر مسلسل پانی کا دباؤ ہے۔
دریائےچناب کی طغیانی کےباعث سیلابی پانی چنیوٹ کےدرجنوں دیہاتوں میں داخل ہوگیا ہے،سینکڑوں ایکڑ پرکھڑی قیمتی فصلیں زیر آب آنے سےتباہ ہوگئیں،ہنگامی صورتحال کےپیش نظرچنیوٹ میں حفاظتی بند کو ممکنہ طور پر توڑنے کے لئےمائنز نصب کردی گئی۔
یہ بھی پڑھیں؛ پنڈی بھٹیاں کے کچا گھنہ میں سیلابی پانی نے پورا گاؤں صفہ ہستی سے مٹا دیا
ڈپٹی کمشنرصفی اللہ گوندل کا کہنا ہے کہ کوٹ محمد یار کےمقام سےحفاظتی بند کو توڑنے کا فیصلہ سیلاب کی صورتحال کو دیکھ کر کیا جائے گا،ہیڈ قادر آباد سے 10 لاکھ 77 ہار کیوسک کا ریلا چنیوٹ سے مقام سے گزرے گا۔
ہیڈ قادرآباد پر پانی کا بہاؤ کم ہوکرنولاکھ چھیانوے ہزار چھ سوساٹھ ریکارڈ کیا جارہاہے،دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈاسنگھ والا پر اونچے درجے کا سیلاب ہے،گنڈا سنگھ والا پرپانی کا بہاؤ دولاکھ اکسٹھ ہزار اور ہیڈ سلیمانکی پر ایک لاکھ نوہزار تین سو ریکارڈ کیا جارہاہے۔
فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن کےتازہ ترین اعداد و شمار کےمطابق راوی میں لاہور شاہدرہ پر اس وقت ڈیڑھ لاکھ کیوسک کا ریلا گزررہا ہے،آئندہ 12 گھنٹوں میں شاہدرہ کےمقام پرپانی کے بہاؤ میں مزید اضافہ ہوگا، جبکہ جسڑ کےمقام پر بہاؤ ایک لاکھ انتالیس ہزار کیوسک پر آگیا ہے، بلوکی ہیڈورکس کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے،بلوکی کے مقام پر پانی کا بہاؤ 93 ہزار کیوسک ہے۔
اونچےدرجےکےسیلاب سے پنجاب کے سات اضلاع شدیدمتاثر ہوئے ہیں،گوجرانوالہ ڈویژن میں سیلاب کے باعث پندرہ افراد کےجاں بحق ہونے کی تصدیق کی گئی ہے،سمبڑیال میں ایک ہی خاندان کے پانچ افراد لقمہ اجل بن گئے۔



















