پنڈی بھٹیاں میں کچا گھنہ کے مقام پر سیلابی پانی نے تباہی مچا دی ہے، 300 سے زائد گھر پانی کی نظر ہو گئے ۔
تفصیلات کے مطابق سیلابی پانی نے دریائے چناب کے کنارے واقع 300 سے زائد گھروں پر مشتمل پورا گاؤں ہی صفہ ہستی سے مٹا دیا، پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ جاری ہے ، متاثرین کا کہناہے کہ کچھ نہیں بچا ان کا سب کچھ پانی کی نظر ہو گیا، قیمتی سامان بھی دریا میں بہہ گیا ۔
ریسکیو اداروں نے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیاہے جبکہ امدادی کارروائی جاری ہیں ۔
چیئرمین این ڈی ایم اے نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خانکی اور قادرآبادمیں اس وقت 10 لاکھ کیوسک کے قریب پانی کاریلا ہے، شاہدرہ میں 80ہزار کیوسک کا ریلا ہے، تمام صورتحال پر مزید نظر رکھیں گے، سیالکوٹ ،نارووال اورپسرور میں بارشیں متوقع ہیں، ان سے پانی کے بہاؤ اورمقدارمیں اضافہ ہوگا، تمام فیلڈ فارمیشن اپنےعلاقوں میں بھرپورکام کریں، راشن اورادویات کیلئےکیمپس قائم کر دئیے ہیں، پانی جمع ہوکر پنجند پر 5 سے 7 لاکھ کا ریلا بنےگا، وزیراعظم کل آفت زدہ علاقوں کا دورہ کریں گے، اگلے سال کے مون سون کی تیاری کرنا چاہتے ہیں، اگلے مون سون کی شدت 22 فیصد زیادہ ہوگی، پاکستان موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ پانچواں ملک ہے، این ڈی ایم اے کا این ای او سی 10ماہ قبل پیشگوئی کرسکتا ہے، مون سون 2025ء میں نیشنل کوارڈینیشن دیکھی، 370سے زائد موسمیاتی سیٹلائٹ کی رپورٹ آتی ہیں۔






















