فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) نے ٹیکس فراڈ میں ملوث افراد کی گرفتاری کا طریقہ کار وضع کرلیا۔
فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) نے جعلی اور فلائنگ انوائسز کے ذریعے قومی خزانے کو اربوں روپے کے نقصان کو روکنے کے لیے جامع طریقہ کار وضع کرلیا ہے اور اس سلسلے میں سیلز ٹیکس جنرل آرڈر جاری کیا گیا ہے جس کے تحت ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری اور ان کی سیلز ٹیکس رجسٹریشن معطل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ایف بی آر کے مطابق ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کو بلیک لسٹ کرنے کے لیے ثبوت کی بنیاد پر 7 روز کے اندر شوکاز نوٹس جاری کیا جائے گا جبکہ ملزمان کی خرید و فروخت کی ٹرانزیکشنز اور ٹیکس گوشواروں سمیت پورے ریکارڈ کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
لازمی پڑھیں۔ ایف بی آرنےسیلزٹیکس رولز 2006 میں ترمیم کانوٹیفکیشن جاری کردیا
اس کے علاوہ فراڈ میں سہولت کاری کے الزام میں ٹیکس مشینری کے افسران کے خلاف بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔
جنرل آرڈر کے تحت ٹیکس فراڈ میں ملوث تاجروں کی گرفتاری سے قبل متعلقہ تاجر تنظیم کے کم از کم دو نمائندوں سے مشاورت لازمی قرار دی گئی ہے۔
جعلی یا مشکوک انوائسز کی نشاندہی کے لیے ایف بی آر کا اسیسمنٹ اینڈ پراسیسنگ سیل ڈیٹا کا تجزیہ کرے گا جس میں دو افسران ٹرانزیکشنز اور گوشواروں کی جانچ پڑتال کریں گے۔
گرفتاری سے قبل کمشنر ان لینڈ ریونیو انکوائری شروع کرنے کی منظوری دے گا جبکہ انکوائری مکمل ہونے کے بعد گرفتاری کے لیے ایف بی آر کے ممبر ان لینڈ ریونیو آپریشنز سے اجازت لینا لازمی ہوگا۔
فراڈ سے فائدہ اٹھانے والوں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے گی۔
ایف بی آر کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات جعلی رسیدوں اور ریفنڈز کے ذریعے قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصانات کو روکنے کے مشن کا حصہ ہیں۔



















