سینیٹ کی قائمہ کمیٹی خزانہ نے پیٹرولیم مصنوعات پر کاربن لیوی کے نفاذ کو کثرت رائے سے مسترد کر دیا۔
جمعرات کو سینیٹر سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس میں حکام نے بتایا کہ اگلے سال پیٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے لیٹر لیوی سے 45 ارب ریونیو حاصل ہوگا جبکہ دوسرے سال لیوی کی شرح بڑھ کر 5 فیصد ہو جائے گی۔
اجلاس میں چیئرمین فیڈرل بورڈ آف ریونیو ( ایف بی آر ) نے بتایا کہ اس سے اگلے سال یہ ریونیو بڑھ کر 90 ارب روپے ہو جائے گا، لیوی آئی ایم ایف کے ایک ارب ڈالر سے زائد کے آر ایس ایف پروگرام کی شرط ہے، یہ لیوی پیٹرول ، ڈیزل اور فرنس آئل پر لگائی جائے گی، اس وقت پیٹرولیم لیوی کی شرح 77 روپے فی لیٹر ہے جبکہ اگلے سال کاربن لیوی بڑھ کر 5 روپے فی لیٹر ہو جائے گی اور اگلے مالی سال پیٹرولیم مصنوعات پر 2.5 روپے فی لیٹر کاربن لیوی لگائی جائے گی۔
تاہم، کمیٹی نے اس حوالے سے تجویز کو مؤخر کر دیا۔
چیئرمین کیمٹی سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ہمیں گردشی قرض ادائیگی کے پلان اور دیگر ضروریات پر بریفنگ چاہیے، اگر اجازت دی گئی تو آپ اپنی من مرضی کریں گے اور اگر بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے تو اجازت کیوں مانگی جا رہی ہے۔
جوائنٹ سیکرٹری نے موقف اختیار کیا کہ ایسا نہیں ہوگا صارفین سے 3 روپے 23 پیسے فی یونٹ وصولی جاری رہے گی۔
سینیٹر شیری رحمان نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کی تو اجازت نہیں دی جا سکتی جبکہ سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ اس کے تحت تو آپ کا جب دل کرے گا سرچارج بڑھ جائے گا۔
جوائنٹ سیکرٹری کا کہنا تھا کہ نیپرا کی ڈسکوز کی مجموعی ضروریات پر 10 فیصد سروس سرچارج کی حد عائد ہے، آئی ایم ایف نے ڈیٹ سروس سرچارج پر حد ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
جوائنٹ سیکرٹری پاورڈویژن کے مطابق حکومت 1275 ارب روپے کے قرض ادائیگی کیلئے سرچارج کو استعمال کرے گی، سرچارج کو گردشی قرض کے سود کی ادائیگی کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، اس وقت صارفین سے ڈیٹ سروس سرچارج 3 روپے 23 پیسے وصول کیا جارہا ہے۔
سینیٹر شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اگر لیوی کے پیسے سڑکوں پر خرچ ہوں گے تو موسمیاتی تبدیلی کہاں گئی، وزیراعظم کہتے ہیں فنڈز بلوچستان کی سڑکوں پر خرچ ہوں گے، حکومت پہلے اپنی ترجیحات کا تعین کرے۔



















