وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کمزور طبقے کو خوشخبری سناتے ہوئے کہاہے کہ بجٹ میں کمزور ترین طبقے کیلئے اقدامات کا اعلان کروں گا، ایک یا 2 کروڑ نوکریاں دینے کے نعروں کے حق میں نہیں ، کم از کم اجرت کے قانون پر عمل درآمد کیلئے کام کریں گے۔ وزیر خزانہ نے چیئرمین سینیٹ اور اسپیکر کی تنخواہوں میں اضافے کے سوال کا جواب دینے سے گریز کیا ۔
وزیر خزانہ نے اقتصادی سروے پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ عملدرآمد کا ایشو ہے،ہمارے ہاں قانون سازی بہت ہے، عالمی بینک کی پاکستان میں غربت کی رپورٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، آئی ایم ایف سے 1.4 ارب ڈالر کی کلائمیٹ فنانسنگ منظور ہو چکی، عالمی بینک بھی سالانہ 2 ارب ڈالر کی فنانسنگ کا اعلان کر چکا ہے، ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے کئی اصلاحات کرنا ہوں گی۔
انہوں نے کہا کہ این ایف سی پر اجلاس اگست میں بلایا جائے گا، حکومت کا کام روزگار کیلئے ایکو سسٹم پیدا کرنا ہے، ملک میں معاشی استحکام آیا ہے، پاکستان کو اصلاحات کیلئے آئی ایم ایف کی مکمل حمایت حاصل ہے، معاشی اصلاحات پر عمل درآمد جاری رکھنے کیلئے پرعزم ہیں، حاصل کردہ معاشی استحکام کو پائیدار ترقی میں تبدیل کرنا ہے، آنے والے برسوں میں فنانسنگ کی ضرورت کم ہوتی جائے گی، اگلے سال 4.2 فیصد ترقی کے ہدف کے حصول کیلئے درست سمت پر ہیں۔





















