بلاول بھٹو کی اقوام متحدہ میں فرانس کے مستقل مندوب سے ملاقات، ملاقات کے اختتام پر فرانس کے مستقل مندوب نے خطے میں امن و استحکام اور باہمی بات چیت کے عمل کی حمایت کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔
پاکستان کی جانب سے بھیجے گئے وفد کے سربراہ و سابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں فرانس کے مستقل مندوب، سفیر جیروم بونافوں سے اہم ملاقات کی۔اس موقع پر پاکستانی وفد بھی ان کے ہمراہ تھا۔ ملاقات میں بھارت کی جانب سے پاکستان کے خلاف حالیہ جارحانہ اقدامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
بلاول بھٹو زرداری نے فرانس کو سلامتی کونسل کے چوتھے اہم رکن ملک کی حیثیت سے مخاطب کرتے ہوئے پاکستان کا مؤقف پیش کیا اور بھارتی اقدامات کے خطے پر ممکنہ سنگین اثرات پر روشنی ڈالی۔
سابق وزیر خارجہ نے بھارتی فوج کی جانب سے پاکستانی شہریوں اور شہری انفرا اسٹرکچر پر کیے گئے یکطرفہ حملوں اور سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی جانب سے پہلگام حملے کا الزام بغیر کسی معتبر تحقیقات یا ثبوت کے پاکستان پر عائد کرنا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ اقدام ہے بلکہ اس کے سنگین نتائج بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔
بلاول بھٹو نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان دہشتگردی کا سب سے بڑا شکار ہے اور ملک اس ناسور کے خاتمے کے لیے پوری طرح پُرعزم ہے۔ دہشتگردی جیسے حساس مسئلے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا خطے کے امن کو مزید خطرے میں ڈال سکتا ہے۔
انھوں نے فرانس سے اپیل کی کہ وہ جنگ بندی کے تسلسل، سندھ طاس معاہدے کی بحالی اور پاکستان و بھارت کے درمیان مذاکرات کے آغاز کے لیے اپنا کردار ادا کرے۔ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے بین الاقوامی قوانین کا احترام، اور تمام تصفیہ طلب امور خصوصاً مسئلہ کشمیر کا پرامن حل ناگزیر ہے۔
ملاقات کے اختتام پر فرانس کے مستقل مندوب نے خطے میں امن و استحکام اور باہمی بات چیت کے عمل کی حمایت کے اپنے مؤقف کا اعادہ کیا۔






















